سراج الحق کی زیر صدارت کسان راج تحریک کا آغاز سراج الحق کا ماچھی گوٹھ میں کسانوں کے جلسہ سے خطاب

pic sirajul haq (4)

 
لاہور5اکتوبر 2015ئ
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکمرانوں کو خبر دار کیا ہے کہ اس سے پہلے کہ کسان اور مزدور اسلام آباد کا گھیراﺅ کر لیں ان کے مطالبات تسلیم کرکے انہیں باعزت زندگی گزارنے کی سہولتیں مہیا کی جائیں ۔ شوگر ملز مالکان کسانوں کو ان کے بقایا جات فی الفور ادا کریں ۔ شوگر ملز مالکان نے مظلوم کسانوں کو ان کا حق نہ دیا تو وہ ان کی ملیں نہیں چلنے دیں گے ۔ ملک میں 70 فیصد کسان اور مزدور بستے ہیں مگر آج تک ان پر حکومت سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی رہی ہے ۔ محنت کسان اور مزدور کرتے ہیں جبکہ اس کا پھل اسلام آباد کے بنگلوں میں بیٹھی اشرافیہ کھاتی ہے ۔ حکومتی پالیسیوں نے 70 فیصد دیہاتی آبادی کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیاہے ۔ دیہاتوں میں سکول ہے نہ ہسپتال ،سینکڑوں دیہات تک کوئی پکی سڑک نہیں جاتی ۔ حکمرانوں کا کسانوں کے ساتھ سلوک سوتیلی ماں جیسا ہے ۔ وقت آگیاہے کہ غریب کاشتکاروں اور مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی پر پلنے والوں سے اقتدار چھین کر عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کیا جائے ۔کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے سینکڑوں میل پیدا سفر کرنے کو تیار ہوں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیاسیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے ماچھی گوٹھ ،صادق آباد میں کسان راج تحریک کے آغاز پر بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جلسہ میں ہزاروں کسانوں نے شرکت کی ۔ کسان دور دراز کے دیہات سے ٹرالیوں ، اونٹ ، بیل و گدھا گاڑیوں پر سفر کر کے جلسہ گاہ پہنچے۔ کسان راج تحریک میں شریک ہزاروں کسانوں میں جوش و خروش عروج پر تھا۔ جلسہ سے کسان راج تحریک کے قائدین صادق خان خاکوانی ، نائب امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب چوہدری عزیر لطیف ، حاجی احمد یاراور ارسلان خاکوانی نے بھی خطاب کیا ۔
    سراج الحق نے کہاکہ میں اسلام آباد کے بنگلوں میں رہنے والوں سے جھونپڑیوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کسانوں کا حق مانگتاہوں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں سیاست اور حکومت ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں کا کھیل بنادیا گیاہے نام نہاد جمہوریت میں کسانوں اور مزدوروں کی بات کرنے والا کوئی نہیں ۔ جو لوگ کسانوں کی نمائندگی کے دعویدار ہیں انہیں کاشتکاروں اور مزدوروں کی مشکلات کا سرے سے علم ہے نہ ان سے کوئی سروکار ۔ وہ اپنے اقتدار کو طو ل دینے کے لیے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 68 سال سے ملک پر لٹیروں کے ٹولے کی حکومت ہے ۔ یہ ایک ہی کلب کے لوگ ہیں جو بار بار چہرے بدل کر کبھی کسی پارٹی اور کبھی کسی سیاسی جماعت کی صفوں میں گھس جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اسی کلب نے قومی دولت لوٹ کر ملک کو کنگال کیا اور پھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے شرمناک شرائط پر قرضے لے کر ملک و قوم کو صہیونی مالیاتی اداروں کا غلام بنایا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ بنک ان لوگوں کو قرضے دیتے ہیں جن کے پاس کروڑوں اور اربوں روپے ہوتے ہیں جبکہ غریب محنت کش اور کسان کو زرعی ادویات ، بیج اور کھاد کے لیے بھی قرضہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے زرعی پیداوار شدید متاثر ہوتی ہے ۔
    سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی کسانوں کو بھی وہی حقوق دیے جائیں جو بھارتی کسان کو حاصل ہیں ۔ کسانوں کو بنجرزمینیں آباد کرنے کے لیے سرکاری طور پر زرعی مشینری اور آلات دیے جائیں ، شور زدہ زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے نمکیاتی کھادیں مفت مہیا کی جائیں اور کھاد ، بیج و آبپاشی کے لیے ٹیوب ویل لگانے کے لیے بلاسودقرضے دیے جائیں ،چولستان کے کاشتکاروں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں ، آئندہ سیزن کے لیے گنے کی فی من قیمت 250 روپے اور کپاس کی 4ہزار روپے فی من مقرر کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو ملیں لگانے کے لیے کروڑوں روپے قرضہ مل جاتاہے جبکہ غریب کسان اور مزدوروں کو بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے چند ہزار قرضہ بھی نہیں ملتا۔
    سراج الحق نے کہاکہ کسان اب اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ظالم سیاسی برہمنوں اور پنڈتوں کے چنگل سے نجات حاصل نہیں کر لیتے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی غریبوں کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔ ہم کسانوں اور مزدوروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی حکومت میں آ کر کاشتکاروں مزدوروں ، طلبہ اور خواتین کو بلاسود قرضے دے گی اور پانچ بڑی بیماریوں کینسر ، دل ، گردے ، تھلیسیمیاکا تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہوگا اور تیس ہزار سے کم آمدنی والے خاندانوں کو آٹا ،چاول ، گھی ، چائے اور چینی کی قیمتوں میں سبسڈی دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عوام ملک سے استحصالی اور ظالمانہ نظام کے خاتمہ کے لیے نام نہاد جمہوری جماعتوں کے فریب سے نکل کرجماعت اسلامی کی صفوں میں آ کر ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کی جدوجہد کریں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s