آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی قبول نہیں ۔جن لوگوں نے قرضے لیکر ملک و قوم کو صیہونی اداروں کے غلام بنایا ہے وہی یہ قرضے ادا کریں گے ۔جب تک آئینی بنیادوں پر ان قرضوں کی شفافیت اور جانچ پڑتال نہیں ہوتی قومی خزانے سے ان قرضوں کی ادائیگیاں بھی کرپشن کے زمرے میں آتی ہیں۔جن لوگوں نے اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے ہیں ، وہ غریب نہیں تھے ۔ ان کے اثاثوں کو نیلام کر کے ان کے ذمے واجب الوصول رقم واپس لی جائے ۔سینیٹر سراج الحق کا اسلام آباد میں کسان راج تحریک کے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب

12108045_999024040143895_5751755373052545526_n

لاہور9اکتوبر2015ء    
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی قبول نہیں ۔جن لوگوں نے قرضے لیکر ملک و قوم کو صیہونی اداروں کے غلام بنایا ہے وہی یہ قرضے ادا کریں گے ۔جب تک آئینی بنیادوں پر ان قرضوں کی شفافیت اور جانچ پڑتال نہیں ہوتی قومی خزانے سے ان قرضوں کی ادائیگیاں بھی کرپشن کے زمرے میں آتی ہیں۔جن لوگوں نے اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے ہیں ، وہ غریب نہیں تھے ۔ ان کے اثاثوں کو نیلام کر کے ان کے ذمے واجب الوصول رقم واپس لی جائے ۔قومی مالیاتی اداروں کوکنگال کرنے کے بعدعالمی اداروں سے شرمناک شرائط پر قرضے لینے والوں کو ملک وقوم کے خیر خواہ نہیں کہا جاسکتا ۔ 68سال سے ملکی اقتدار پر قابض اشرافیہ کو لوٹی گئی ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا۔ملک بھر کے کسان ایک خاندان ہے اس خاندان نے متحد ہوکراپنا بچاﺅ نہ کیا تو سرمایہ دار وں اور جاگیر داروں کا ٹولہ ان کی آئندہ نسلوں کو بھی غلام بنالے گا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کسان راج تحریک کے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صدر کسان بورڈ پاکستان صادق خان خاکوانی ،ارسلان خان خاکوانی ،محمد رمضان روہاڑی و دیگر بھی موجود تھے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کا عبرت ناک انجام بہت جلد سامنے آنے والا ہے ،ایک دوسرے کی کرپشن کو چھپانے والے آزاد میڈیا کے سامنے چوہے بلی کا یہ کھیل جاری نہیں رکھ سکیں گے ،انہوں نے کہا کہ چہرے بدل بدل کر اقتدار پر قابض ہونے والے اب عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں ،ان کے سیاہ کرتوتوںکو لوگ اچھی طرح جان چکے ہیں ،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مخلص اور دیانتدار لوگ آگے آئیں اور ملک کو ان لیٹروں کے چنگل سے نجات دلائیں ۔انہوں نے کہا کہ وڈیرے اور جاگیر دار غریبوں کے مسائل کو نہیں جانتے وہ اپنی دولت ،بنگلوں اور خارکانوں میں اضافے کے بارے میں سوچتے ہیں ،غریب کے مسائل کو غریب ہی سمجھ سکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ مزدوروں ،تانگہ ،ریڑھی اور رکشہ والوں کی مشکلات جہازوں اور پراڈو میں سفر کرنے والے نہیں سمجھ سکتے ،یہ لوگ اپنے شہزادوں کو نئے ماڈل کی قیمتی گاڑیاںتحفہ میں دیتے ہیں جبکہ محنت کش اور غریب اپنے بچوں کو دووقت کی روٹی اور قلم اور کتاب تک نہیں دے سکتے ۔انہوں نے کہا کہ ان ظالموں نے ہمارے معصوم بچوں اور ضعیف و ناتواں بزرگوں کو بھی محنت مزدوری پر مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس استحصالی اور ظالمانہ نظام کے خلاف لاکھوں کسان متحد ہوچکے ہیں، جماعت اسلامی نے ملک بھر کے کسانوں اور مزدوروں کو اسلامی و خوشحال پاکستان کے ایجنڈے پر جمع کیا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس میں عام آدمی کو بھی تعلیم ،صحت روز گارکی وہی سہولتیں مل سکیں جو وزیروں اور مشیروں کے بچوں کو حاصل ہیں ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل سے مالا مال کررکھا ہے ،محنتی اور جفاکش عوام اور زرخیز زمین سے نواز اہے ،سونے چاندی کوئلے اور تانبے اور کوئلے کے ذخائر ہماری سینکڑوں سال تک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں مگر کاسہ لیس حکمرانوں نے اپنے وسائل اور عوام پر بھروسہ کرنے کی بجائے غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے شروع کردیئے جس سے آج تک ملکی معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی نہیں ہوسکی اور جب تک حکمران سودی نظام اور قرضوں کے جال میں پھنسے رہیں گے اقتصادی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s