پرویز مشرف نے 1999میں جمہوریت پر شب خون مارااور جو سات نکاتی ایجنڈا پیش کیااس سے پاکستانی عوام کو دہشت گردی ،بدامنی اور عالمی جارحیت کے مقابلے میں سرنڈر ہونا پڑا اور ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے طویل جنگ سے گزرنا پڑا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے

MMMM

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے 12اکتوبر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1958 ء 1977 ئاور 1999میں لگنے والے مارشل لاؤں نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالا دستی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا ۔پرویز مشرف نے 1999میں جمہوریت پر شب خون مارااور جو سات نکاتی ایجنڈا پیش کیااس سے پاکستانی عوام کو دہشت گردی ،بدامنی اور عالمی جارحیت کے مقابلے میں سرنڈر ہونا پڑا اور ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے طویل جنگ سے گزرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ مشرف کا دور فساد کا دور تھا جس میں عدلیہ پر شب خون ماراگیا۔انہو ں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آئین کو تلپٹ کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ آئین کو توڑنے کی سزا پر کسی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہئے اور قومی قیادت کو اس پر ایک واضح موقف اختیار کرنا چاہئے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اگر غریب سے کوئی جرم سرزد ہوجائے تو اسے سزا ملتی ہے جبکہ امراء کو سزا سے بچانے کیلئے قوانین بنائے جاتے ہیں ۔امیر وں اور غریبوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی امتیازی رویہ اپنایاجاتا ہے ،امیروں اور غریبوں کیلئے الگ الگ قوانین ہیں ۔تمام وسائل اور تعیشات کا رخ امیروں کی طرف جبکہ تمام پریشانیوں اور مصیبتوں کو غریبوں پر مسلط کردیا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ امیروں کیلئے ہر شہر میں عالی شان ہاؤسنگ سوسائٹی اور غریبوں کیلئے اسلام آباد اور لاہور سمیت ہر جگہ وہی جھونپڑیا ں ہوتی ہیں جہاں بجلی گیس اور ذرائع آمدو رفت سمیت بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس اونچ نیچ اور چھوت اچھوت کے نظام کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔جب تک ہر شہری کو برابر کے حقوق نہیں مل جاتے ملک میں ترقی و خوشحالی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔
این اے 122کے انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ انتخابی عمل کو قابل اعتماد بنانے کیلئے الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کی تجویز کردہ اصلاحات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔سیاسی جماعتیں ارب پتی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں پر جھنڈے اور نعرے لگانے والے غریب کارکنوں کو ترجیح دیتے ہوئے آئندہ انتخابات میں انہیں ٹکٹ دیں تاکہ کروڑوں روپے لگا کر الیکشن لڑنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوسکے ۔غریب سیاسی ورکروں کا حق ہے کہ انہیں اقتدار میں حصہ دار بنایا جائے ۔الیکشن کمیشن کو مٹی کا مادھو بننے کے بجائے ایک بااختیار ادارے کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ لاہور کے معرکے میں دونوں امیدوار جیت گئے اور دونوں ہار گئے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ الیکشن اخراجات کی مانیٹرنگ اور آڈٹ کا کوئی نظام وضع کیا جائے تاکہ اقتدار کے ایوانوں میں غریب سیاسی کارکنوں کو بھی آنے کا موقع مل سکے ۔انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں خاص طور پر این اے 122میں جس طرح انتخابی مہم کو پیسہ پانی کی طرح بہانے کا ذریعہ بنایا گیا اس سے عام آدمی کو یقین ہوگیا ہے کہ الیکشن لڑنا صرف سرمایہ داروں کے بس کی بات ہے اور وہ ساری زندگی نعرے ہی لگاتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہر گلی محلے میں انتخابی دفاتر،جہازی سائز ہورڈنگز،روڈ کراس بینرز کو دیکھ کر ایک بچہ بھی سمجھ جاتا ہے کہ یہ لاکھوں کا نہیں کروڑوں اور اربوں کے اخراجات کا معاملہ ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s