وفاقی حکومت زیر انتظام قبائلی علاقوں کو پاٹا کا درجہ دیکر اسے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کی حمایت میں 29 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل فاٹا سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام عظیم الشان مظاہرہ مظاہرہوگا، جس میں فاٹا کی آٹھوں ایجنسیوں کے قبائلی عوام ہزروں کی تعداد میں شریک ہونگے۔امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق

03

اسلام آباد19اکتوبر2015ء
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت زیر انتظام قبائلی علاقوں کو پاٹا کا درجہ دیکر اسے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کی حمایت میں 29 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل فاٹا سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام عظیم الشان مظاہرہ مظاہرہوگا، جس میں فاٹا کی آٹھوں ایجنسیوں کے قبائلی عوام ہزروں کی تعداد میں شریک ہونگے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس عظیم الشان مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ جبکہ مورخہ 02 نومبر کو اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اسلام آباد میں نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان میاں محمد السم کی رہائش گاہ پر فاٹا سیاسی اتحاد کے قائدین کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فاٹا سیاسی اتحاد کے صدر اخوند زادہ چٹان (پی پی پی پی)، صاحبزادہ ہارون الرشید (امیرجماعتِ اسلامیقبائل)،،بریگیڈیئر قیوم شیرپاکستان تحریک انصاف،نثار مہمند عوامی نیشنل پارٹی ،فضل سبحان جماعت اسلامی مہمند ایجنسی،محمد اصغر ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان ،محترمہ انیتا محسود ساحبہ پاکستان تحریک انصاف،سراج الدین جماعت اسلامی ،مولانا عین الدین شاکرجمعیت علماء اسلام،ذرنور آفریدی جماعت اسلامی فاٹا ،آفتاب خانپاکستان مسلم لیگ ق،ظاہر شاہ قومی وطن پارٹی،ڈاکٹر منصف خان جماعت اسلامی،اسرار اللہ خان ایڈوکیٹ جماعت اسلامی ،تفہیم الرحمان جماعت اسلامی،حاجی لاہور خان تحریک انصاف، شاہد خان تحریک انصاف،شاہد شمسی ،سیف اللہ ،اور میاں عطاؤالرحمان بھی موجود تھے۔امیر جماعِت اسلامی سراج الحق نے اس موقع پر کہا کہ وقت آگیا ہے کہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لایا جائے اور قبائلی عوام کو بھی آئینی میں دیے گئے وہ تمام بنیادی حقوق دیے جائیں جو ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کو حاصل ہیں، اور انہیں انگریز کے مسلط کردہ بدنامِ زمانہ ایف سی آر سے نجات دلائی جائے۔ انہوں ںے کہا کہ وہ فاٹا سیاسی اتحاد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اُس کے قائدین نے انتہائی دانشمندی، دور اندیشی اور بے مثال اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے طویل جرگوں اور مشاورت کے بعد فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے کا متفقہ فیصلہ اور مطالبہ کیا ہے۔ اب ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ادروں کا فرض ہے کہ وہ انہیں تقسیم کرنے کی بجائے اُن کی حمایت کریں۔امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ قبائلی عوام نے قائد اعظم سے کیے گئے تمام معاہدوں کی پاسداری کی ہے اور اُنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ملک کے لیے اپنا خون تک نچھاور کیا ہے۔ لیکن گزشتہ 69 برسوں میں قبائلی عوام کو ہمیشہ ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، اور وہ ترقی کی دوڑ میں لک کے دیگر حصوں میں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اس وقت سیاسی خلا ہے، جسے پُر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرکے اسے مالاکنڈ ڈویژن کی طرح پاٹا کا درجہ دیکر قبائلی علاقوں میں موجود سیاسی خلا کو بہترین طریقے سے پُرکیا جاسکتا ہے اور قبائلی علاقوں میں دیرپا امن کے لیے یہ بہترین تجویز ہے۔ فاٹا سیاسی اتحاد کے تمام سیاسی قائدین کو ایک ہی موقف پر متفق کرنے کا جو کارنامہ سرانجام دیا گیا ہیوہ ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک سبق ہے کہ قومی ایشوز پر متفقہ اختیار کی اجاسکتا ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا کہ قبائلی علاقوں کے لیے ایک بڑے مالیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے اور ان علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو، تعلیم، صحت سے متعلق سہولتوں کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔
امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے ایک سوال کے جوا میں کہا کہ ڈی چوک اسلام آباد میں 29 اکتوبر کو ہونے والے مظاہرے کا مقصد قبائلی عوام کی طرف سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ اور اس مظاہرے کا بنیادی مقصد قومی اسمبلی میں فاٹا پارلیمینٹیرینز کی طرف سے پیش کردہ بل کی حمایت کرنا ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے آئی ڈی پیز کی حالت زار کی طرف حکومت کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ موسمِ سرما شروع ہوچکا ہے لیکن وعدے کے مطچابق آئی ڈی پیزکو باعزت طور پر اپنے گھروں کی واپسی کے لیے اقسامات نہیں کیے گئے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ڈی پیز کے اپنے گھروں کو باعزت واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے ایکا ور سوال کے جواب میں کہا کہ قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ دراصل ایجنسی کا بادشاہ ہوتا ہے، جسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ اسے تمام تر انتظامی، سیاسی اور قانونی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔موجودہ فرسودہ اور ظالمانہ نظام سے نجات حاصل کرنے کیلئے میدان عمل میں اتر آئے ہیں اور جماعت اسلامی انکا بھرپور ساتھ دیگی ،فاٹا سیاسی اتحاد کے صدر اخونزادہ چٹاننے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ فاٹا کے عوام کیلئے آواز اٹھائی ہے انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس پر ہم انکے مشکور ہیں انہوں نے کہا کہ29اکتوبر کو اسلام آباد کا جلسہ کسی کی کرسی گرانے کیلئے نہیں بلکہ قبائلی عوام کے حقوق کیلئے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s