گڈ گورننس کی بات کو منفی لینا دانشمندی نہیں گڈ گورننس کامشورہ اور اصلاح کی کوئی تجویزخیرخواہ ہی دے سکتا ہے اصلاح کی بات کو بےجا ایشو بنایا گیاہے ۔پی کے ۵۹ کے حوالے سے الیکش کمیشن ہائی کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہوئے نوٹیفیکیشن جاری کردے ۔کتاب قلم اور تحقیق مسلمانوں کا زیور و اسلحہ تھا جسے انکے ہاتھوں سے چھیناگیا ،تعلیمی جہاد کے ذریعے ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائینگے۔سینیٹر سراج الحق

02
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں مرکزی حکومت چند مخصوص علاقوں کوترجیح دے رہی ہے ،ایک بڑے عوامی اقتصادی منصوبے کو ایک ضلع یا صوبے تک محدود کرنے کی بجائے دیگر صوبوں کو بھی شامل کیا جائے ،گڈ گورننس کی بات کو منفی لینا دانشمندی نہیں گڈ گورننس کامشورہ اور اصلاح کی کوئی تجویزخیرخواہ ہی دے سکتا ہے اصلاح کی بات کو بےجا ایشو بنایا گیاہے ۔پی کے ۵۹ کے حوالے سے الیکش کمیشن ہائی کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہوئے نوٹیفیکیشن جاری کردے ۔کتاب قلم اور تحقیق مسلمانوں کا زیور و اسلحہ تھا جسے انکے ہاتھوں سے چھیناگیا ،تعلیمی جہاد کے ذریعے ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائینگے،نیشنل کوریڈور اقتصادی راہداری منصوبے میں قبائلی علاقوں اور ملاکنڈ ڈویژن کو بھی شامل کیا جائے ،قبائلی علاقوں میں بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے اور ان علاقوں میں صنعتیں لگائے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا،قبائلی عوام کو اگر روزگار فراہم نہیں کیا جاتا تو وہاں امن ایک خواب ہی رہیگااور جب تک عوام ترقی نہیں کریں گے تو ملک کیسے ترقی کریگا۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز جندول ماڈل سکول اینڈ کالج طور قلعہ منڈہ میں ادارہ کے پرنسپل سعید اللہ سعد کی سربراہی میں یوم والدین اور سکول کیلئے دونئے بسوں کی افتتاحی تقریب کے دوران طلبہ کے والدین اور علاقائی مشران خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آج جس بین الاقوامی ٹیکنالوجی کے مسلمان محتاج ہےں وہ ایک وقت میںمسلمانوں کا اثاثہ تھا مگر حکمرانوں کی نااہلی کرپشن اقرباءپروری اور لا پرواہی نے مسلمانوں کو اس ڈگر پر لا کھڑا کیا کہ اب ایجادات کیلئے انگریزوں کا منہ دیکھتے ہیںان کا کہنا تھاکہ اپنے دور حکومت میں انہوں نے جندول کے عوام کیلئے میٹھے پانی کی نہریں نہیں بہائیں البتہ تعمیر و ترقی میں کردار داد کیا جس کی وجہ سے جماعت اسلامی نا قابل تسخیر قوت بن کر ابھری ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر جماعت اسلامی کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور آئی تو کوئی جوان سعودی عرب محنت مزدوری کیلئے نہیں جائے گا ہم پاکستان کو تجارت کا سب سے بڑا مرکز اور امن کا گہوارہ بنائےں گے اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کو وہ شرعی نظام دینگے جس میں کسی کو دوسرے پر فوقیت نہیں ہوگی انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاک چائینہ کوریڈور اور راہداری منصوبہ میں خیبر پختونخواہ کو بائی پاس نہ کریں ورنہ جماعت اسلامی میدان میں ہوگی۔
سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو اور اور ضلعی دفتر جماعت اسلامی دیر پائین میں علاقے کے منتخب کونسلرزکے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد اب کونسلرز اور ناظمین عوام کی خدمت کیلئے کمر بستہ ہوجائیں اور عوامی خدمت کیلئے اپنی مساجد کو مراکز بنائیں اور عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنالیں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کو نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے مثبت اثرات اب براہ راست عوام کوپہنچنے چاہیئں،انہوں نے کہا کہ پی کے 95 کے منتخب ممبر اسمبلی اعزاز الملک افکاری کے نوٹیفیکیشن کے اجراءکی تاخیر الیکشن کمیشن پر سوالیہ نشان ہے اور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے بعد بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری نہ کرنا عدالتی احکامات کی توہین بھی ہے اور حلقے کے عوام کو اسمبلی میں نمائندگی سے محروم رکھنے کا باعث بھی۔ یہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں لوئر دیر میں جتنے بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں ان کا کریڈٹ جماعت اسلامی اور سراج الحق کو جاتا ہے انہوں نے کہا کہ لوئر دیر کے تعلیمی اداروں کو مثالی بنانے کیلئے وہ اپنا کردار خوب نبھائیںگے ۔اس موقع پر سراج الحق نے جندول ماڈل سکول اینڈ کالج کیلئے 20لاکھ کی گرانٹ کا اعلان بھی کر دیاپروگرام میں صوبائی امیر جماعت اسلامی مشتاق احمد خان اور ضلعی امیر اعزاز الملک افکاری بھی موجود تھے صوبائی امیر جماعت کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تبدیلی ڈھول باجوں عورتوں کو نکالنے بے حیائی اور عریانی سے نہیں آتی بلکہ تبدیلی کیلئے شفاف نظریہ اور اسلامی افکار کا ہونا ضروری ہے ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی وہ قابل فخر قیادت ہے جو عالم اسلام کے غلبہ اورتعمیر و ترقی کیلئے فکر مند ہے اور کہا کہ جماعت اسلامی کا اقتدار آئے گا تو اسلامی اور خوشحال پاکستان میں امن انصاف برابری آزادی اور دنیوی و اخروی کامیابی کیلئے اقدامات ہونگے پروگرام کے دوران سکول کے طلبہ نے نظمیں نعتیں حمد تقاریر ملی نغمے وغیرہ پیش کئے جس سے ناظرین کافی محظوظ ہوئے ۔اس موقع پر تحصیل ناظم ثمر باغ سعید احمد پاچہ تحصیل ناظم منڈہ ہمایون میونسپل آفیسر سمیع اللہ بھی موجود تھے۔ 
Advertisements

پاکستان کے لئے قربانیاں اس لئے نہیں دی گئیں کہ یہاں زرداری لوٹ مار کرے اور نواز شریف قوم کی دولت لوٹ کر لے جائے۔ اشرافیہ نے ملک کو اپنا غلام بنا لیا ہے ۔ یہی طبقہ انگریزوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ حکمرانوں نے پاکستان کی آزادی امریکہ ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس گروی رکھ دی ہے۔امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان

m1
امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے قربانیاں اس لئے نہیں دی گئیں کہ یہاں زرداری لوٹ مار کرے اور نواز شریف قوم کی دولت لوٹ کر لے جائے۔ اشرافیہ نے ملک کو اپنا غلام بنا لیا ہے ۔ یہی طبقہ انگریزوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ حکمرانوں نے پاکستان کی آزادی امریکہ ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس گروی رکھ دی ہے۔ آئی ایم ایف کے حکم پر لگایا جانے والا 40ارب کا ٹیکس کسی صورت منظور نہیں ۔ لوٹ مار ختم کی جائے ، ملک خود بخود خوشحال بن جائے گا۔ جنوبی اضلاع پاکستان کا سعودی عرب ہیں۔ جو تیل ، گیس، کوئلہ اور معدنیات سے مالامال ہیں۔ان وسائل کی رائلٹی فوری طور پر جنوبی اضلاع کو دی جائے۔ حکومت این ایف سی ایوارڈ کا فوری اعلان کرے اور صوبہ خیبر پختونخوا کو اپنا حق دے۔ بجلی کے خالص منافع کے چار سو ارب فوری طور پر صوبے کو اد اکئے جائیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری میں اگر خیبر پختونخوا کو نظر انداز کیا گیا تو اسے بننے نہیں دیں گے۔ 2018ء میں جماعت اسلامی ہی صوبے میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔جماعت اسلامی فقیر ایپی اور سپینہ تنگی کے شہداء کے مشن کی تکمیل کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈان پارک بنوں میں جلسہ نوید اسلامی انقلاب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ اس وقت ملک امن و امان سے محروم ہے ۔ اس ملک میں تیل ، غلہ ، پانی ، موسموں اور قدرتی وسائل کی بہتات ہے لیکن حکمران اسے لوٹ رہے ہیں۔ بیس کروڑ پر مشتمل بہادر قوم کی حکمرانی بزدل اور نااہل لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ عوام کو اشرافیہ کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی۔ جس نے انہیں امن اور آزادی سے محروم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے پاکستان کو ترقی سے محروم رکھا ہے۔ انہوں نے تمام توجہ اپنے بینک بیلنس میں اضافے ، پلازے اور کوٹھیاں بنانے اور امریکہ کے احکامات کی تعمیل میں صرف کی ہے۔ اس وقت قوم کا مستقبل اسلامی انقلاب سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں قوم کا ساتھ دیا ہے ۔سیلاب اور زلزلے کے وقت جماعت اسلامی کے کارکن اپنے گھروں کو چھوڑ کر متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے زلزلہ متاثرین کے لئے بیس کروڑ کی فوری مدد کی ہے۔ موجودہ حکمرانوں سے خیر کی کوئی توقع نہیں ۔ یہ قوم کی آزادی ، ترقی اور عزت کے دشمن ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنوبی اضلاع کو فوری طور پر تیل اور گیس کی رائلٹی کی رقم ادا کی جائے اور اس سے سکول ، ہسپتال ،پانی اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک حکمرانوں کا نہیں عوام کا ہے ۔ جماعت اسلامی نے نظریہ پاکستان کے عملی نفاذ کے لئے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ یہی تحریک ملک کو حقیقی جمہوریت ، آزادی اور ترقی سے ہمکنار کرے گی۔

آج کا دن پاکستان کے لئے یوم سیاہ ہے۔ ڈھاکہ جیل میں پاکستان سے محبت کے جرم میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل علی حسن مجاہد کو پھانسی دیدی گئی۔ ان کا جرم پاکستان ، پاک فوج اور پاکستان کے نظرئیے سے وفاداری تھا۔ لیکن وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف اس پر بالکل خاموش ہیں۔بنگلہ دیش میں پھانسیوں کی سزائیں معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عوام کا مطالبہ لبرل پاکستان ہے ، جبکہ قائد اعظم نے سینکڑوں بار عوام سے اسلامی ریاست کا وعدہ کیا۔ اگر وزیر اعظم کو لبرل ازم اور سیکولر ازم پسند ہے تو ہندوستان چلے جائیں۔ جان دے سکتے ہیں لیکن لبرل ازم اور سیکولر ازم قبول نہیں۔ یورپ ، امریکہ ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی غلامی نظریہ پاکستان سے غداری ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق

2 (1)

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ آج کا دن پاکستان کے لئے یوم سیاہ ہے۔ ڈھاکہ جیل میں پاکستان سے محبت کے جرم میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل علی حسن مجاہد کو پھانسی دیدی گئی۔ ان کا جرم پاکستان ، پاک فوج اور پاکستان کے نظرئیے سے وفاداری تھا۔ لیکن وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف اس پر بالکل خاموش ہیں۔بنگلہ دیش میں پھانسیوں کی سزائیں معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عوام کا مطالبہ لبرل پاکستان ہے ، جبکہ قائد اعظم نے سینکڑوں بار عوام سے اسلامی ریاست کا وعدہ کیا۔ اگر وزیر اعظم کو لبرل ازم اور سیکولر ازم پسند ہے تو ہندوستان چلے جائیں۔ جان دے سکتے ہیں لیکن لبرل ازم اور سیکولر ازم قبول نہیں۔ یورپ ، امریکہ ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی غلامی نظریہ پاکستان سے غداری ہے۔ قرضے حکمران لیتے ہیں اور بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان کی عزت ہے۔ سیاسی قیادتوں اور حکومتوں نے امریکہ کے دوروں میں ان کی رہائی کا کوئی بھی مطالبہ نہیں کیا۔ اگر وہ عافیہ صدیقی کو بھی جہاز میں اپنے ساتھ واپس لاتے تو پوری قوم ان کا استقبال کرتی۔ خیبر پختونخوا کے وسائل پر مرکز قابض ہے ۔ ہمارے پانی اور بجلی پر بھی مرکز کا قبضہ ہے اور ابھی تک منافع نہیں دیا ۔ہم صوبے کے حقوق پرکبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ عدالت کا دروازہ سونے کی چابی سے کھلتا ہے ۔ غریب آدمی کو ان عدالتوں سے انصاف نہیں مل سکتا۔ چیف جسٹس کے ہاتھ میں انگریز کی کتاب کے بجائے قرآن مجید تھمائیں گے۔ اگر حکومت ملی تو طبقاتی نظام تعلیم ختم کردیں گے ۔ صدر پاکستان اور عام آدمی کے بچے کے لئے ایک کتاب اور ایک نصاب ہوگا۔ سکولوں اور مدارس میں آغاز سے میٹرک تک ایک نصاب رائج کریں گے۔ اگر صدر ، وزیر اعظم اور وزراء کا علاج مفت ہے تو غریب کا علاج بھی مفت ہوگا۔ پاکستان میں صرف جماعت اسلامی ہی حقیقی جمہوری پارٹی ہے اور ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت رائج کرسکتی ہے۔ 2018ء پاکستان میں اسلامی انقلاب کا سال ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈان پارک بنوں میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔ جلسے سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان، مرکزی رہنما پروفیسر محمد ابراہیم خان، صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی ضلع بنوں کے امیر ڈاکٹر ناصر خان اور جماعت اسلامی ضلع لکی مروت کے امیر مفتی عرفان اللہ نے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کی بیٹی شیخ حسینہ واجد نظریہ پاکستان کے حامیوں کو چن چن کر ختم کررہی ہے۔ جماعت اسلامی کے صف اول کے قائدین کو پھانسی کی سزائیں دی گئی ہیں، لیکن حکومت پاکستان نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ ان لوگوں کو پاکستان سے محبت اور نظریہ پاکستان سے وفاداری کی سزا دی جارہی ہے۔ ان رہنماؤں نے اپنی جانیں تو قربان کردیں لیکن ہندوستان کے ایجنٹوں سے رحم کی اپیل نہیں کی ۔ ان کی قربانیوں نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے لئے مرنا اور خون بہانا جنت کی کنجی ہے۔ ان رہنماؤں نے حضرت امام حسینؓ کی سنت کو زندہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے اس بیان سے پوری قوم کی دل آزاری ہوئی ہے کہ پاکستان کے عوام لبرل پاکستان چاہتے ہیں ۔ایسے الفاظ نظریہ پاکستان سے غداری کے مترادف ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران لاکھوں افراد نے اسلامی پاکستان کی خاطر قربانیاں دی تھیں ۔ بابائے قوم قائد اعظم نے باربار اسلامی پاکستان کی بات کی ہے۔ ہم وزیر اعظم سے پوچھتے ہیں کہ قائد اعظم سچے تھے یا آپ سچے ہیں۔ پاکستان کو لبرل ازم کی طرف دھکیلنا شہدا کے خون سے غداری ہے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ آئی ڈی پیز کے ساتھ سخت ظلم ہوا ہے۔ انہیں 24گھنٹوں کے نوٹس پر اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ لیکن حکومت ابھی تک آپریشن کے ختم ہونے کی آخری تاریخ نہیں دے سکی۔ خود حکومت کا دعویٰ ہے کہ 85فیصد علاقہ کلئیرہوچکا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے علاقوں میں واپس بھیجا جائے اور ترقی کے تمام اقدامات وہاں کے عوام کے مشورے سے کئے جائیں کیونکہ یہ زمین قبائلیوں کی ہے اور یہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری حکومت قائم ہوئی تو یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے۔ غریبوں اور مہلک بیماریوں کا علاج مفت کریں گے۔ بے گھر افراد کو گھر مہیا کئے جائیں گے۔ ستر سال سے زائد عمر کے مرد ، خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کو وظیفہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں پراپرٹیاں بن چکی ہیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں بار بار قائم ہوتی رہی ہیں ۔ ان دونوں جماعتوں نے ملک کی آزادی کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ نیب اور دوسرے ادارے احتساب نہیں کرسکتے ، اصل احتساب ہم کریں گے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا ایک ایک پیسہ واپس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بدامنی کا شکار ہے لیکن اس بدامنی کے بدلے تجارت کی گئی اور بین الاقوامی سازش کھیلی گئی اور پختونوں کو اس سازش کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت اسلامی ممالک کو اتحاد اور اتفاق کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن موجودہ حکمران یہ اتحاد قائم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عوام اسلامی انقلاب کی راہ تک رہے ہیں۔ 2018ء تبدیلی کا سال ہوگا ۔ ہمارے سامنے نمونہ مدینہ کی اسلامی ریاست کا ہے۔ اسلامی پاکستان سے ہی ہمارے تمام مسائل حل ہوں گے ۔ ہم ظالم کے خلاف جنگ کرنے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کے لئے اٹھے ہیں ۔ قوم اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کی اس تحریک میں ہمارا ساتھ دے۔ حکمران بش اور اوبامہ سے ملاقات کو قبول شدہ حج سے زیادہ ثواب سمجھتے ہیں۔

 بنگلہ دیش میں اسلا م پسندوں کے عدالتی قتل کے خلاف سراج الحق کی اپیل پر یوم دعا منایا گیا

1
لاہور20نومبر2015ء     
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر بنگلہ دیش میں بھارت کی ایماءپر اسلام پسندوں کے عدالتی قتل کے خلاف جمعہ کے روز ملک بھر میں یوم دعا منایا گیا ۔مساجد میں علماءو خطیب حضرات نے خطبات جمعہ میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت کے بڑھتے ہوئے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری کو اس ظلم و جبر کو فوری رکوانے کا مطالبہ کیا اور حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی پر بھی سخت احتجاج کیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آبا د سمیت کراچی ،لاہور ،اسلام آباد اور کوئٹہ میں بنگلہ دیش میں جاری ظلم و جبر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ جامع مسجد منصورہ میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے ،بنگلہ دیش میں جس دن پہلے فرد کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا اگر اسی دن حکومت پاکستان عالمی ادارہ انصاف سے رجوع کرتی تو شاید اب تک پھانسیوں کا سلسلہ رک چکا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ حکمران ملک میں قرآن و سنت کے نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور امریکی احکامات پر ملک میں لبرل ازم اور سیکولر ازم کی باتیں کررہے ہیں ۔ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی اور بے راہ روی پر حکومتی خاموشی معنی خیز ہے ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمران خود ملک میں ہندوانہ اور مغربی کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں ۔ملک میں بدی کا بول بالا ہے اور ملک کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے میں استعمار کے غلاموں نے رات دن ایک کررکھا ہے ۔سود ختم کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف حکمرانوں نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کررکھی ہے ،حالانکہ ملک کا آئین حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ ملک میں قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق عوام کو زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران قوم میں اتحاد و اتفاق اور یک جہتی پیدا کرنے کے بجائے عوام کو رنگ و نسل ،مسلکوں اور قومیتوں کے نام پر تقسیم کررہے ہیں تاکہ اپنے مغربی آقاﺅں کو خوش کرسکیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں کرپشن اور اسٹیٹس کو کے خاتمہ کیلئے فیصلہ کن تحریک کا آغاز کررہی ہے ،بڑھتی ہوئی کرپشن اور کمیشن کلچر سے قومی وحدت کو خطرہ پیدا ہوچکا ہے ،ملک پر 68سال سے انگریز کے غلام وڈیرے اور جاگیردارقابض ہیں جنہوں نے عوام کو شودر بنارکھا ہے اور ان سے زندگی کی تمام خوشیاں چھین لی ہیں ،انہوں نے کہا کہ ظالم جاگیردار اورسرمایہ دار اب اپنی تیسری چوتھی نسل کو اقتدار منتقل کررہے ہیں جبکہ عام آدمی فاقوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ،انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو تعلیم ،صحت اور روز گار کی سہولتیں دستیاب ہیں نہ اسے عدل وانصاف تک رسائی حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کی ساری عمر حصول انصاف کیلئے عدالتوں اور کچہریوں کے چکر لگانے میں گزر جاتی ہے ،انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے انصاف حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ،عدالتوں کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں ،جو غریب آدمی اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتا وہ وکیلوں کی فیسوں اور کیس لڑنے کیلئے لاکھوں روپے کہاں سے لا سکتا ہے ۔سراج الحق نے کہا کہ ملک میں کاشتکار اور مزدور کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں ،کاشتکاروں کے پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہور ہے ،دھان کی حالیہ فصل نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے ،انہوں نے کہا کہ جب تک کسانوں کوجاگیروں اور مزدوروں کو کارخانوں کی پیداوار میں حصہ دار نہیں بنایا جاتا ،غربت اور افلاس سے ان کی جان نہیں چھوٹے گی ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭

(بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کے علی احسن مجاہداورصلاح الدین قادر چوہدری کو ”وارکرائم ٹربیونل “ کے پھانسی دینے کے فیصلے کی توثیق کی شدید مذمت ۔ وزارت خارجہ بے گناہ اپوزیشن قائدین کی پھانسی رکوانے کی کوشش کرے (سینیٹر سراج الحق

abc
لاہور18نومبر2015ء
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کی طرف سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل علی احسن مجاہداور بی این پی کے رہنما صلاح الدین قادر چوہدری کو نام نہاد ”وارکرائم ٹربیونل “ کی طرف سے سنائے جانے والے پھانسی دینے کے فیصلے کی توثیق کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں اسلام پسند قیادت اور اپنے سیاسی مخالفین کے عدالتی قتل کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ۔انسانی حقوق کے عالمی اداروں خصوصا اقوام متحدہ اور او آئی سی کو کینگرو عدالت کے اس فیصلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس ظلم کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ خاموش تماشائی بننے کی بجائے اس ظلم کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اورعالم اسلام کو متحد کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان ،بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان ہونے والے سہ فریقی معاہدے کو دنیا کے سامنے لانا چاہئے جس میں فریقین نے جنگی جرائم کے نام پر کسی بھی قسم کی انتقامی کاروائی نہ کرنے اور پکڑ دھکڑ اورسزائیں دینے کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ علی احسن مجاہد نے بھارت کی طرف سے مسلط کردہ جنگ میں اپنے ملک کو بیرونی حملہ آوروںسے بچانے کیلئے ایک محب وطن شہری کا فرض پورا کیاجو دنیا کے کسی بھی آئین میں جرم نہیں۔ حسینہ واجد حکومت ان پر قتل و غارت گری کا کوئی الزام بھی ثابت نہیں کرسکی۔ بھارت کے انتہاپسند ہندو وزیرا عظم نریندر مودی نے ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ پاکستان توڑنے اور بنگلا دیش بنانے میں بھارتی فوج کا کردار تھا ۔ اسی طرح تمام تردستاویزات سے ثابت ہے کہ صلاح الدین قادر چوہدری پرجن دنوں میں قتل عام کرنے کا الزام ہے وہ اس وقت مغربی پاکستان میں تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت آج بھی پاکستان سے محبت اور دفاع کیلئے قربانیاں پیش کررہی ہے جبکہ نظریہ پاکستان کے وارث ہونے کے دعویدار قیام پاکستان کے مقاصد کو فراموش کربیٹھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کو اس فیصلے کے خلاف فوری طور پر عالمی عدالت سے رجوع کرکے علی احسن مجاہد ، صلاح الدین قادر چوہدری اور دیگر بے گناہ اپوزیشن قائدین کی پھانسی رکوانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

سینیٹر سراج الحق نے فرانسیسی سفارتخانے جاکر فرانسیسی سفیر سے اظہار افسوس کیا

pic sirajul haq-17
لاہور17نومبر 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے آج فرانسیسی سفارتخانے جا کر پیرس دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والے بڑے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ۔ فرانسیسی سفیرمارٹن ڈورانس Mrs, Martine Dorance سے گفتگو اور تعزیتی کتاب پر تعزیتی نوٹ میں سراج الحق نے کہاکہ اسلام ہر طرح کی دہشگردی اور خون ریزی کے خلاف ہے ۔ 
سراج الحق نے کہاکہ دہشتگردی کوئی فرد کرے ، گروہ کرے یا کوئی ریاست ، ہم اس کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کا کسی مذہب یا قومیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام امن اور محبت کا پیغام اور پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا ہے ۔ ہم پوری دنیا سے ظلم کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ فرانس میں ہونے والی دہشتگردی کو بنیاد بنا کر کسی مسلمان یا کسی مسجد اور اسلامی مرکز کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ یورپ میں مقیم مسلمانوں اور ان کے حقوق کا تحفظ بھی عالمی برادری کا فرض ہے ۔ 
اس موقع پر تعزیت کے لیے آئے ہوئے بوسنیا اور فلپائن سمیت مختلف ممالک کے سفراءاور پاکستانی سیاسی رہنماﺅں سلیم ضیاءاور سلیم سیف اللہ نے بھی امیر جماعت سے ملاقات کی ۔جماعت اسلامی کے ڈائریکٹر امور خارجہ عبدالغفار عزیز بھی ملاقات میں موجود تھے۔

قبائلی عوام اپنا حق اور عزت مانگتے ہیں جسطرح کے حقوق اسلام آباد اور ملک کے دوسرے عوام کو حاصل ہیں قبائل کو بھی ملنے چاہیں قبائلیوں کا بھی ملکی وسائل پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے کا قبائل اب کسی بھی صورت ایف سی آر کے کالے قانون کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق

DSC_1449

اسلام آباد16نومبر2015ء
ملک کی نو بڑی سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر فاٹا سے ایف سی آر کے کالے قانون کو ختم کر کے قبائلی عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے قبائلی عوام پر کسی قسم کی تجویز مسلط نہیں کرنے دیں گے قبائلیوں کو ملک کے دوسرے عوام کی طرح حقوق دیے جائیں ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن ، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان پیپلز پارٹی ، نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ ق، جمعیت علماء اسلام ف اور قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں نے ڈی چوک اسلام آباد میں قبائل کے حقوق کے لیے نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ریلی میں قبائلی علاقوں سے آئے ہوئے عوام نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی ریلی کے شرکاء نے نامنظور نامنظور ایف سی آر نامنظور گو ایف سی آر گو اور قبائل کو حقوق دو کے نعرے لگائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ میں قبائل کو اس کامیاب ریلی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں قبائلی عوام کے مستقبل کا فیصلہ کسی اور نے نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کے عوام نے کرنا ہے انہوں نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کسی سیاسی جماعت کی کوئی تجویز نہیں ہے ہم صرف قبائلی عوام کی حمایت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں سراج الحق نے کہا کہ قبائلی عوام اپنا حق اور عزت مانگتے ہیں جسطرح کے حقوق اسلام آباد اور ملک کے دوسرے عوام کو حاصل ہیں قبائل کو بھی ملنے چاہیں قبائلیوں کا بھی ملکی وسائل پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے کا قبائل اب کسی بھی صورت ایف سی آر کے کالے قانون کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے قبائل کی نئی نسل اس قانون کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے حکومت کوئی فیصلہ قبائل پر مسلط نہ کرے انہوں نے کہا کہ قبائلی اراکین پارلیمینٹ کی طر ف سے پارلیمینٹ میں جو بل پیش کیا گیا ہے جماعت اسلامی کے اراکین اسکی حمایت کریں گے انہوں نے کہا کہ میں قبائلی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آپس میں تقسیم نہ ہوں کچھ عناصر ان کو آپس میں لڑوا کر تقسیم کرنا چاہتے ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو وہی حل قبول ہو گا جو قبائلی عوام چاہیں گے قبائلی عوام کے بچے مزید چوکیداری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ہم چاہتے ہیں کہ قبائلی عوام بھی باقی ملک کی طرح ترقی کرے قبائل کے حقوق کی جنگ ایک لمبی لڑائی ہے ہم نے جسطرح پاکستان کے لیے جنگ کی اسی طرح اپنے حقوق کے لیے بھی جنگ کریں گے عوامی نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کو جسطرح تقسیم کیا گیا ہے ہم اسکو نہیں مانتے ہم انگریزوں کی طرف سے کھینچی گئی اس لکیر کا خاتمہ چاہتے ہیں اور انگریز کے کالے قانون ایف سی آر کو نہ پہلے مانا نہ اب مانیں گے کچھ لوگ ہماری اس کوشش کے راستے میں روڑے اٹکا نا چاہتے ہیں کہ پختون ایک نہ ہوں جو پختونوں کے دشمن ہیں انہوں نے کہا ہم صدر وزیر اعظم اور پارلیمینٹ کو پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کو جلد از جلد ایک کیا جائے جو پارٹیاں آج اس ریلی میں موجود نہیں ہیں وہ اس تحریک میں شامل ہوں یہ قومی مسئلہ ہے کسی ایک پارٹی کا سیاسی مسئلہ نہیں ہے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں قبائلی عوام کے ساتھ ہیں ہم قبائل کو بااختیار دیکھنا چاہتے ہیں قبائل کے عوام کو پورا پاکستانی مانا جائے پورے پاکستان کے عوام ان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا ہے کہ آج کا دن ایک تاریخی دن ہے قبائل نے پاکستان کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ان قربانیوں کی ملکی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی وقت آگیا ہے کہ فاٹا میں قوانین کو تبدیل کیا جائے اور عوام کی منشاء کے مطابق وہاں کا فیصلہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ قبائلی علاقے کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جائے یہی وقت کا تقاضا ہے فاٹا اراکین پارلیمینٹ کے لیڈر شاہ جی گل نے کہا کہ قبائلیوں نے پاکستان کو بچایا تھا اور اسے بنانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں آج قبائل اپنے حقوق کے لیے ایک ہو چکے ہیں پاکستانی عوام ہمارا ساتھ دیں ہمیں ہمارا حق اور اختیار دیا جائے ۔

سینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی کے ”یوتھ ونگ کا اعلان کردیا، کراچی میں یوتھ ریلی سے خطاب

Pic 02
لاہور 15نومبر 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے آج یوتھ ونگ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آج مزار قائد کے سائے تلے جماعت اسلامی پاکستان کی یوتھ ونگ کا آغاز کررہے ہیں جس کا پیغام ملک بھرکے نوجوانوں کو پہنچایا جائے گا ۔جماعت اسلامی کا یوتھ ونگ پاکستا ن کے نوجوانوں کا ترجمان ثابت ہوگا اور نوجوانوں کو مایوسیوں سے نکال کر روشن مستقبل کی شاہراہ پر گامزن کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوان اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ اس ملک کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق اور اس مملکت خداداد کو پوری قوم کے لیے جنت بنایا جائے گا ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز مزار قائد پر جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ یوتھ ریلی سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے زبیر گوندل کو جماعت اسلامی پاکستان کے یوتھ ونگ کا صدر بنانے کا بھی اعلان کیا ۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امراءمظفر احمد ہاشمی ، ڈاکٹر اسامہ رضی ،مسلم پرویز ،سکریٹری کراچی عبد الوہاب ضلعی امراءعبد الرزاق خان ،یونس بارائی سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری صدر یوتھ ونگ پاکستان زبیر گوندل ،صدر یوتھ ونگ کراچی بلال رمضان اور دیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پر سراج الحق نے پرچم کشائی کی اور شرکاءنے قومی ترانہ پڑھا ،مارشل آرٹ کے نوجوانوں نے کراٹے کا مظاہرہ پیش کیا ، آتش بازی بھی کی گئی اور ایک ہزار پاو ¿نڈ کا کیک بھی کاٹا گیا۔
سراج الحق نے کہا کہ آج ہم پاکستان اور عالم اسلام کے عظیم رہنما اور بانی پاکستان قائد اعظم کے مزار پر جمع ہیں۔ میں نے 9نومبر کو میں نے علامہ اقبال کے مزار پربھی حاضری دی تھی۔آج ہم نے اس لیے نوجوانوں کو مزار قائد پر بلایا ہے کہ ہمیں عزم کرنا ہے کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا ہم اسی کی خاطر جیئں گے اوراسی کی خاطر مریںگے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چند صوبوں اور قوموں کا نام نہیں بلکہ عقیدے نظریے اور فلسفے کا نام ہے ۔قائد اعظم نے اپنی مختلف تقاریر میں 114مرتبہ فرمایا تھا ہمارے لیے مدینہ کی ریاست ماڈل ہے ۔ان کاکہنا تھا کہ ہمارا منشور وہی ہے جو 14سو سال پہلے نبی کریم نے دیا تھا۔نظریہ پاکستان کی حفاظت کرنا نوجوانوں کی ذمہ داری ہے ۔کراچی سے چترال تک 65فیصد نوجوان ہیں لیکن وہ پریشان اور مایوس ہیں ۔ ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ہمیں ان نوجوانوں کو مایوسی سے نکالنا ہے۔ ،ہمیں اس ملک کو پوری قوم کے لیے جنت بنانا ہے ۔سراج الحق نے کہا کہ محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ہم پاکستان کو دنیا کے لیے ماڈل بنائیں گے ۔ہمار عزم ہے کہ ہم اس ملک کو ایسا ملک بنائیں گے جہاں کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا ،خواتین کو حقوق ملیںگے ،اقلیتیں محفوظ ہوں گی اور ہر شہری کو اس کا حق ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ظلم اور جبر سے نجات کے لیے یوتھ کو جمع کیا ہے ۔اس ملک کو اللہ نے معدنیات اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔یہ ملک ایٹمی طاقت ہے ۔ یہاں باصلاحیت نوجوان ہیں لیکن کرپٹ اشرافیہ اورناہل حکمرانوں کی وجہ سے ملک ظلم اور استحصال کا شکا رہے ہم” اسٹیٹس کو “کو ختم کرکے اس ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ہی عوام کو مسائل سے نجات دلاسکتی ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ کراچی کے حالات ماضی میں خراب رہے ہیں ۔بھتہ خوری اور دہشت گردی سے عوام متاثر ہوئے ہیں ۔کراچی کے عوام کو میں یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے ساتھ دیانت دار قیادت ہے ۔عوام مایوس نہ ہو ںجماعت اسلامی شہر قائد کو عالم اسلام اور پوری دنیا کے لیے ماڈل بنائے گی۔ہم قائد کے مشن کے مطابق ملک کی تعمیر کریں گے اور قائد سے عہد کرتے ہیں کہ ان کے مشن کو جاری رکھیں گے۔#

خالص منافع کی طرح صوبہ کے مالی حقوق کے حصول کے لئے تمام سیاسی جماعتیں ایکا کریں،مشتاق احمد خان پن بجلی کا خالص منافع ہمارا آئینی حق ہے،وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ایک ٹیم بن کر جدو جہد جاری رکھیں گے ،مظفر سید ایڈوکیٹ کی پریس کانفرنس

20151115_151229

خالص منافع کی طرح صوبہ کے مالی حقوق کے حصول کے لئے تمام سیاسی جماعتیں ایکا کریں،مشتاق احمد خان
پن بجلی کا خالص منافع ہمارا آئینی حق ہے،وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ایک ٹیم بن کر جدو جہد جاری رکھیں گے ،مظفر سید ایڈوکیٹ کی پریس کانفرنس

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے پن بجلی کے خالص منافع میں تقریباً13ارب روپے سالانہ اضافہ پر خیبر پختونخوا کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کی فوری ادائیگی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر سٹریٹیجی بنانے کا اعلان کیا ہے اور خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی قوتوں کو صوبے کے مالیاتی حقوق کے حصول کے لیے ایکا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اتوار کو المرکز اسلامی پشاور میں صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے کہا کہ پن بجلی کا خالص منافع خیبر پختونخوا کا دستوری حق ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ،صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ،پوری صوبائی حکومت اور ارکان اسمبلی اس کامیابی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک ڈیڑھ عشرہ سے ہمارے صوبہ میں دو بار ہلاکت خیز زلزلہ آیا دو بار تباہ کن سیلاب آئے اور دو ہی بار آئی ڈی پیز کے بہت بڑے مسائل کا سامنا رہا جب کہ پچھلے چالیس سال سے مسلسل لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ ہم برداشت کر رہے ہیں لیکن وزیر اعظم مالی امداد کے اعلانات لودھراں میں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ دراصل ہمارے صوبہ کو درپیش ہے اور کیری لوگر بل اصل میں ہمارے لیے ہے لیکن وفاقی حکومت نے پاکستان کو پنجابستان سمجھ لیا ہے اور خیبر پختونخوا کو اپنے آئینی حقوق سے محروم رکھا ہے۔اگر صوبہ کو اپنے حقوق آئینی طور پر نہ دیے گئے اور پن بجلی منافع میں اعلان کردہ منافع دینے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا تو اس سے آئینی یک جہتی کو زبردست نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کا اضافی پانی دوسرے صوبے استعمال کر رہے ہیں کہ قومی وسائل میں ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے اور ہمیں اپنے حصے سے بہت کم ملتا ہے۔اس طرح سابق سینئر وزیر سراج الحق نے پن بجلی منافع سے عوام اور میڈیا کوروشناس کرایا اور صوبہ کا مقدمہ کامیابی سے لڑ کر واپڈا سے110ارب روپے جیتنے میں کامیابی حاصل کی لیکن واپڈا نے اس کی ادائیگی میں روڑے اٹکائے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کے نام پر بیرونی دنیا سے امداد آتی ہے اور ہمیں محروم رکھا جاتا ہے۔اپنے صوبہ کے حقوق کے لیے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں وزیر خزانہ اور پوری صوبائی اسمبلی کے ساتھ صوبہ کی تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر جدو جہد کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں پارٹی ایجنڈے کو ایک طرف رکھ کر اس خالص صوبائی مسئلہ کے لیے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا نویں این ایف سی ایوارڈ کا نوٹیفیکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا ۔اس کو فوراً جاری کیا جائے اور خیبر پختونخوا کو اپنے حصے کی رقم دلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پن بجلی،پانی جنگلات اور معدنی وسائل کی وجہ سے ہمارا صوبہ سونے کی چڑیا ہے اگر اسے اپنے تمام حقوق ملیں تو ہمارے نوجوانوں کو عرب امارات میں مزدوری کے لیے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور کراچی و دیگر شہروں میں ڈرائیوری اور چوکیداری نہیں کریں گے۔یہاں پر روزگار،صحت اور تعلیم کا مستحکم انفراسٹرکچر بنے گا۔اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے کہاکہ سیاست سے بالا تر ہو کر صوبہ کے لیے اتنی بڑی رقم کا مقدمہ لڑنے پر میں پوری قوم کو مبار کباد دیتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ یہ بات ہم کسی لسانیت قومیت یا قوم پرستی کی بنیاد پر نہیں کررہے ہیں بلکہ آئین پاکستان کی دفعہ161بی کی ذیلی دفع دو کے تحت پن بجلی کا خالص منافع ہمارا حق بنتا ہے۔آئین میں یہ بات لکھ دی گئی تھی لیکن 1985ء تک اس پر عملدرآمد نہ کیا جا سکا۔طویل انتظار کے بعد اے جی این قاضی کمیشن اسکے لیے بنایا گیااور1991ء میں اسی کمیشن نے پن بجلی میں صوبے کا حصہ چھ ارب روپے مقرر کیا ۔بدقسمتی سے اس وقت سے لے کر دو روز پہلے تک اس حصہ کو منجمد رکھا گیا۔حالانکہ اس دوران بجلی کے نرخوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق جب وزیر خزانہ تھے تو انھوں نے یہ مسئلہ اٹھایا اور پوری قوم کو اس پر متفق کرکے اسے کامیابی سے لڑا مظفر سید نے کہا کہ جب سے مجھے وزارت خزانہ کا چارج ملا جماعت کی قیادت نے مسلسل مجھے اس جانب توجہ دلائی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں ہم نے پن بجلی منافع کا کیس مرکز اور واپڈا کے ساتھ لڑااور اللہ نے ہمیں
کامیابی دلائی۔اس پر میں پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو مبار کبادیتا ہوں۔ مشتاق احمد خان نے مظفر سید کو ہدایت کی کہ وزیر اعلیٰ سے مل کر پوری صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیں اور صوبہ کے مالیاتی حقوق کے لیے ہر فورم پر مشترکہ جدو جہد کریں۔صوبائی وزیر خزانہ نے ایک سوال کے جواب نے کہا کہ وزیر اعظم نوازشریف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ زلزلہ متاثرین کے لیے مرکز کی جتنی ذمہ داری بنتی ہے اس کو جلد سے جلد پورا کیا جائے گا انھوں نے امید ظاہر کی اور وزیر اعظم کا شکریہ اداکیا کہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کریں گے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حقوق کی جدوجہد میں کریڈیٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہم ایک ٹیم کے طور پر وزیر اعلیٰ کی قیادت میں جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لبرل پاکستان کی باتیں آئین پاکستان سے بے وفائی اور غداری کے زمرے میں آتی ہیں۔آئین پاکستان میں لبرل پاکستان کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،ہم ملک کو لبرل نہیں بنانے دیںگے بلکہ ملک آئین کے روح کے مطابق ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنا کر دم لیں گے۔۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق

Siraj 12 nov

لاہور12نومبر2015ء
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے خبردار کیا ہے کہ لبرل پاکستان کی باتیں آئین پاکستان سے بے وفائی اور غداری کے زمرے میں آتی ہیں۔آئین پاکستان میں لبرل پاکستان کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،ہم ملک کو لبرل نہیں بنانے دیںگے بلکہ ملک آئین کے روح کے مطابق ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنا کر دم لیں گے ،قبائلی عوام نے ملک کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں ہیں ہم انکی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں قبائل نے ہر سخت مرحلے میں جان و مال کی بازی لگا کر ملک سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے ،قبائل کو اپنے فیصلے کرنے کا حق دیا جائے ہم کسی کو بھی قبائل پر زبردستی اپنا فیصلہ نہیں ٹھونسنے دیں گے،وقت کا تقاضا ہے کہ علما ئے کرام اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر ملک میں آئین کی بالادستی قائم کریں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں معروف مذہبی سکالر مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 
سراج الحق نے ڈاکٹر شیر علی شاہ مرحوم کی دینی و سیاسی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ انکے لاکھوں شاگرد دین اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں ،سراج الحق نے آئین پاکستان کی کاپی لہراتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ آئین پاکستان جس پر ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں متفق ہیں اور انکے دستخط ثبت ہیں اس میں لبرل پاکستان کا کوئی ذکر نہیں بلکہ اس آئین میں واضح الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ یہ ملک اسلامی اور فلاحی مملکت ہوگا ،آج جو لوگ استعماری قوتوں کو خوش کرنے کیلئے ملک کو لبرل پاکستان کی باتیں کررہے ہیں وہ آئین پاکستان سے غداری اور بے وفائی کے مرتکب ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام ہمارے سردار ہیں اور جو لوگ آج یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ قبائل کا مستقبل کیا ہوگا تو میں اس بات کا واضح الفاط میں جواب دینا چاہتا ہوں کہ قبائلی عوام کا جو بھی اپنا فیصلہ ہوگا وہی ہمارا فیصلہ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو بیرونی اور اندرونی خطرات لاحق ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے تمام مسائل کا حل اس آئین میں موجود ہے جس آئین پر مولانا عبد الحق ،مفتی محمود،پروفیسر غفور احمد ،خان عبد الولی خان ،ذوالفقار علی بھٹو سمیت ملک کی تمام دینی وسیاسی جماعتوں کے سربراہان نے دستخط کیے تھے لیکن بدقسمتی سے اس آئین پر آج تک عمل درامد نہیں کیا گیا آئین اور قانون کی بالادستی کے قیام اور ملک کو ایک فلاحی و اسلامی ریاست بنانے کیلئے علمائے کرام اور سیاسی قائدین متحد ہوجائیں اس ملک کو ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کیلئے جو بھی ایک قدم اٹھائیگا ہم دس قدم اٹھائیں گے اورہم انکے شانہ بشانہ ہونگے ۔