جب تک حکمران اپنا سرمایہ ملک میں لے کر نہیں آتے نہ تو یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔قومی دولت لو ٹ کر بیرونی بینکوں میں جمع کروانے والوں کو گردن سے پکڑنا ہوگا۔سینیٹر سراج الحق کا منصورہ میں انجینئرنگ فورم کے ذمہ داران سے خطاب 

pic ji meeting (2)

لاہور08اکتوبر2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جب تک حکمران اپنا سرمایہ ملک میں لے کر نہیں آتے نہ تو یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔قومی دولت لو ٹ کر بیرونی بینکوں میں جمع کروانے والوں کو گردن سے پکڑنا ہوگا۔احتساب کے ادارے اپنی کارکردگی سے عوام کو مطمئن نہیں کر سکے۔جب تک کڑا اور بے رحم احتساب نہیں ہوتا لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کو روکنا ممکن نہیں۔حکومت کے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے تمام دعوے نقش بر آب ثابت ہوئے ہیں۔سردی بڑھنے اور بجلی کی کھپت کم ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ دیانت دار قیادت ہی ملک و قوم کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے منصورہ میں ہونے والے پاکستان انجینئرنگ فورم کے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امراءراشد نسیم ،حافظ ادریس ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اور محمد اصغر بھی موجود تھے۔اجلاس سے پاکستان انجینئرنگ فورم کے صدر حماد رشید نے بھی خطاب کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کو توانائی کی کمی سمیت بہت سے بحرانوں کا سامنا ہے۔حکمران لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ بجلی کی قیمتوں میں کمی اورتوانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے ڈیمز کی تعمیر سمیت کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کر سکے۔توانائی بحران نے ملکی صنعت اور زراعت کو شدید متاثر کیا ہے۔مزدوراور کسان حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ہرطرف ایک مایوسی کی کیفیت ہے۔مگر حکمران آئے روز نئے دعوے کرتے رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی اورپانی کے بحران سے نکلنے کے لیے پانی کے نئے ذخائز کی تعمیر از حد ضروری تھی مگر حکمرانوں نے اس طرف کوئی دھیا ن نہیں دیا۔ملک میں اکنامک کوریڈور اور میٹروٹرین سمیت نئے منصوبوں میں پاکستانی انجینئرز کے کردارکو نہایت محدود کردیاگیا ہے جس کی وجہ سے انجینئر ز میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے
سینیٹرسرا ج الحق نے کہا کہ تعلیم صحت اور بے روزگاری ختم کرنے کے مواقع پیداکرنے میں بھی حکومت ناکام رہی ہے۔میڈیکل اورانجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں صرف اسی کو داخلہ ملتا ہے۔جس کے پاس لاکھوں اور کروڑوںروپے ہوں کسی غریب کے لیے اپنے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوانا ممکن نہیں رہا۔انہوںنے کہا کہ ملک میں ایک استحصالی اور ظالمانہ نظام ہے جس میں عام آدمی کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ضروری ہے کہ قوم کی درست سمت میں رہنمائی کرنے کے لیے پڑھا لکھا اور سنجیدہ طبقہ آگے بڑھے تاکہ آئندہ انتخابات میں کرپٹ بددیانت اور استعما ر کے غلام حکمرانوں سے نجات مل سکے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے 2018ءکے انتخابات پر فوکس کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ہم نے کسانوں، مزدوروں،ڈاکٹرزاور انجینئرز سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں افراد کے فورمز بنا دیے ہیں جو اپنے اپنے شعبوں میں بہتری اور دیانت دار لوگوں کو آگے لانے کے لیے جدوجہد کریں گے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عالمی استعماری قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عالم اسلام کو متحد ہونا چاہیے۔عالم اسلام کو متحد کرنے کے لیے پاکستان مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے مگرنااہل اور بددیانت حکمرانوں کی وجہ سے پاکستا ن اپنا وہ نمایان مقام حاصل نہیں کر سکا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر فلسطین اور برما سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کے لیے بھی ہم اس وقت کچھ کر سکتے ہیں جب ہم اندرونی طور پرمضبوط ہونگے۔انہوں نے کہا کہ مستحکم اور مضبوط پاکستان کے لیے امن و امان کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام ضروری ہے جس کی طرف حکومت بالکل توجہ نہیں دے رہی اور قومی اداروں کی بہتری کی بجائے انہیں فروخت کرنے اور آئی ایم ایف سے قرض لے کر ملک کو چلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s