خالص منافع کی طرح صوبہ کے مالی حقوق کے حصول کے لئے تمام سیاسی جماعتیں ایکا کریں،مشتاق احمد خان پن بجلی کا خالص منافع ہمارا آئینی حق ہے،وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ایک ٹیم بن کر جدو جہد جاری رکھیں گے ،مظفر سید ایڈوکیٹ کی پریس کانفرنس

20151115_151229

خالص منافع کی طرح صوبہ کے مالی حقوق کے حصول کے لئے تمام سیاسی جماعتیں ایکا کریں،مشتاق احمد خان
پن بجلی کا خالص منافع ہمارا آئینی حق ہے،وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ایک ٹیم بن کر جدو جہد جاری رکھیں گے ،مظفر سید ایڈوکیٹ کی پریس کانفرنس

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے پن بجلی کے خالص منافع میں تقریباً13ارب روپے سالانہ اضافہ پر خیبر پختونخوا کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کی فوری ادائیگی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر سٹریٹیجی بنانے کا اعلان کیا ہے اور خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی قوتوں کو صوبے کے مالیاتی حقوق کے حصول کے لیے ایکا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اتوار کو المرکز اسلامی پشاور میں صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے کہا کہ پن بجلی کا خالص منافع خیبر پختونخوا کا دستوری حق ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ،صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ،پوری صوبائی حکومت اور ارکان اسمبلی اس کامیابی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک ڈیڑھ عشرہ سے ہمارے صوبہ میں دو بار ہلاکت خیز زلزلہ آیا دو بار تباہ کن سیلاب آئے اور دو ہی بار آئی ڈی پیز کے بہت بڑے مسائل کا سامنا رہا جب کہ پچھلے چالیس سال سے مسلسل لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ ہم برداشت کر رہے ہیں لیکن وزیر اعظم مالی امداد کے اعلانات لودھراں میں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ دراصل ہمارے صوبہ کو درپیش ہے اور کیری لوگر بل اصل میں ہمارے لیے ہے لیکن وفاقی حکومت نے پاکستان کو پنجابستان سمجھ لیا ہے اور خیبر پختونخوا کو اپنے آئینی حقوق سے محروم رکھا ہے۔اگر صوبہ کو اپنے حقوق آئینی طور پر نہ دیے گئے اور پن بجلی منافع میں اعلان کردہ منافع دینے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا تو اس سے آئینی یک جہتی کو زبردست نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کا اضافی پانی دوسرے صوبے استعمال کر رہے ہیں کہ قومی وسائل میں ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے اور ہمیں اپنے حصے سے بہت کم ملتا ہے۔اس طرح سابق سینئر وزیر سراج الحق نے پن بجلی منافع سے عوام اور میڈیا کوروشناس کرایا اور صوبہ کا مقدمہ کامیابی سے لڑ کر واپڈا سے110ارب روپے جیتنے میں کامیابی حاصل کی لیکن واپڈا نے اس کی ادائیگی میں روڑے اٹکائے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کے نام پر بیرونی دنیا سے امداد آتی ہے اور ہمیں محروم رکھا جاتا ہے۔اپنے صوبہ کے حقوق کے لیے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں وزیر خزانہ اور پوری صوبائی اسمبلی کے ساتھ صوبہ کی تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر جدو جہد کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں پارٹی ایجنڈے کو ایک طرف رکھ کر اس خالص صوبائی مسئلہ کے لیے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا نویں این ایف سی ایوارڈ کا نوٹیفیکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا ۔اس کو فوراً جاری کیا جائے اور خیبر پختونخوا کو اپنے حصے کی رقم دلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پن بجلی،پانی جنگلات اور معدنی وسائل کی وجہ سے ہمارا صوبہ سونے کی چڑیا ہے اگر اسے اپنے تمام حقوق ملیں تو ہمارے نوجوانوں کو عرب امارات میں مزدوری کے لیے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور کراچی و دیگر شہروں میں ڈرائیوری اور چوکیداری نہیں کریں گے۔یہاں پر روزگار،صحت اور تعلیم کا مستحکم انفراسٹرکچر بنے گا۔اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے کہاکہ سیاست سے بالا تر ہو کر صوبہ کے لیے اتنی بڑی رقم کا مقدمہ لڑنے پر میں پوری قوم کو مبار کباد دیتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ یہ بات ہم کسی لسانیت قومیت یا قوم پرستی کی بنیاد پر نہیں کررہے ہیں بلکہ آئین پاکستان کی دفعہ161بی کی ذیلی دفع دو کے تحت پن بجلی کا خالص منافع ہمارا حق بنتا ہے۔آئین میں یہ بات لکھ دی گئی تھی لیکن 1985ء تک اس پر عملدرآمد نہ کیا جا سکا۔طویل انتظار کے بعد اے جی این قاضی کمیشن اسکے لیے بنایا گیااور1991ء میں اسی کمیشن نے پن بجلی میں صوبے کا حصہ چھ ارب روپے مقرر کیا ۔بدقسمتی سے اس وقت سے لے کر دو روز پہلے تک اس حصہ کو منجمد رکھا گیا۔حالانکہ اس دوران بجلی کے نرخوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق جب وزیر خزانہ تھے تو انھوں نے یہ مسئلہ اٹھایا اور پوری قوم کو اس پر متفق کرکے اسے کامیابی سے لڑا مظفر سید نے کہا کہ جب سے مجھے وزارت خزانہ کا چارج ملا جماعت کی قیادت نے مسلسل مجھے اس جانب توجہ دلائی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں ہم نے پن بجلی منافع کا کیس مرکز اور واپڈا کے ساتھ لڑااور اللہ نے ہمیں
کامیابی دلائی۔اس پر میں پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو مبار کبادیتا ہوں۔ مشتاق احمد خان نے مظفر سید کو ہدایت کی کہ وزیر اعلیٰ سے مل کر پوری صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیں اور صوبہ کے مالیاتی حقوق کے لیے ہر فورم پر مشترکہ جدو جہد کریں۔صوبائی وزیر خزانہ نے ایک سوال کے جواب نے کہا کہ وزیر اعظم نوازشریف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ زلزلہ متاثرین کے لیے مرکز کی جتنی ذمہ داری بنتی ہے اس کو جلد سے جلد پورا کیا جائے گا انھوں نے امید ظاہر کی اور وزیر اعظم کا شکریہ اداکیا کہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کریں گے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حقوق کی جدوجہد میں کریڈیٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہم ایک ٹیم کے طور پر وزیر اعلیٰ کی قیادت میں جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s