بنگلہ دیش میں اسلا م پسندوں کے عدالتی قتل کے خلاف سراج الحق کی اپیل پر یوم دعا منایا گیا

1
لاہور20نومبر2015ء     
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر بنگلہ دیش میں بھارت کی ایماءپر اسلام پسندوں کے عدالتی قتل کے خلاف جمعہ کے روز ملک بھر میں یوم دعا منایا گیا ۔مساجد میں علماءو خطیب حضرات نے خطبات جمعہ میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت کے بڑھتے ہوئے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری کو اس ظلم و جبر کو فوری رکوانے کا مطالبہ کیا اور حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی پر بھی سخت احتجاج کیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آبا د سمیت کراچی ،لاہور ،اسلام آباد اور کوئٹہ میں بنگلہ دیش میں جاری ظلم و جبر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ جامع مسجد منصورہ میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے ،بنگلہ دیش میں جس دن پہلے فرد کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا اگر اسی دن حکومت پاکستان عالمی ادارہ انصاف سے رجوع کرتی تو شاید اب تک پھانسیوں کا سلسلہ رک چکا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ حکمران ملک میں قرآن و سنت کے نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور امریکی احکامات پر ملک میں لبرل ازم اور سیکولر ازم کی باتیں کررہے ہیں ۔ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی اور بے راہ روی پر حکومتی خاموشی معنی خیز ہے ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمران خود ملک میں ہندوانہ اور مغربی کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں ۔ملک میں بدی کا بول بالا ہے اور ملک کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے میں استعمار کے غلاموں نے رات دن ایک کررکھا ہے ۔سود ختم کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف حکمرانوں نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کررکھی ہے ،حالانکہ ملک کا آئین حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ ملک میں قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق عوام کو زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران قوم میں اتحاد و اتفاق اور یک جہتی پیدا کرنے کے بجائے عوام کو رنگ و نسل ،مسلکوں اور قومیتوں کے نام پر تقسیم کررہے ہیں تاکہ اپنے مغربی آقاﺅں کو خوش کرسکیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں کرپشن اور اسٹیٹس کو کے خاتمہ کیلئے فیصلہ کن تحریک کا آغاز کررہی ہے ،بڑھتی ہوئی کرپشن اور کمیشن کلچر سے قومی وحدت کو خطرہ پیدا ہوچکا ہے ،ملک پر 68سال سے انگریز کے غلام وڈیرے اور جاگیردارقابض ہیں جنہوں نے عوام کو شودر بنارکھا ہے اور ان سے زندگی کی تمام خوشیاں چھین لی ہیں ،انہوں نے کہا کہ ظالم جاگیردار اورسرمایہ دار اب اپنی تیسری چوتھی نسل کو اقتدار منتقل کررہے ہیں جبکہ عام آدمی فاقوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ،انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو تعلیم ،صحت اور روز گار کی سہولتیں دستیاب ہیں نہ اسے عدل وانصاف تک رسائی حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کی ساری عمر حصول انصاف کیلئے عدالتوں اور کچہریوں کے چکر لگانے میں گزر جاتی ہے ،انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے انصاف حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ،عدالتوں کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں ،جو غریب آدمی اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتا وہ وکیلوں کی فیسوں اور کیس لڑنے کیلئے لاکھوں روپے کہاں سے لا سکتا ہے ۔سراج الحق نے کہا کہ ملک میں کاشتکار اور مزدور کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں ،کاشتکاروں کے پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہور ہے ،دھان کی حالیہ فصل نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے ،انہوں نے کہا کہ جب تک کسانوں کوجاگیروں اور مزدوروں کو کارخانوں کی پیداوار میں حصہ دار نہیں بنایا جاتا ،غربت اور افلاس سے ان کی جان نہیں چھوٹے گی ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s