آج کا دن پاکستان کے لئے یوم سیاہ ہے۔ ڈھاکہ جیل میں پاکستان سے محبت کے جرم میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل علی حسن مجاہد کو پھانسی دیدی گئی۔ ان کا جرم پاکستان ، پاک فوج اور پاکستان کے نظرئیے سے وفاداری تھا۔ لیکن وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف اس پر بالکل خاموش ہیں۔بنگلہ دیش میں پھانسیوں کی سزائیں معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عوام کا مطالبہ لبرل پاکستان ہے ، جبکہ قائد اعظم نے سینکڑوں بار عوام سے اسلامی ریاست کا وعدہ کیا۔ اگر وزیر اعظم کو لبرل ازم اور سیکولر ازم پسند ہے تو ہندوستان چلے جائیں۔ جان دے سکتے ہیں لیکن لبرل ازم اور سیکولر ازم قبول نہیں۔ یورپ ، امریکہ ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی غلامی نظریہ پاکستان سے غداری ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق

2 (1)

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ آج کا دن پاکستان کے لئے یوم سیاہ ہے۔ ڈھاکہ جیل میں پاکستان سے محبت کے جرم میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل علی حسن مجاہد کو پھانسی دیدی گئی۔ ان کا جرم پاکستان ، پاک فوج اور پاکستان کے نظرئیے سے وفاداری تھا۔ لیکن وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف اس پر بالکل خاموش ہیں۔بنگلہ دیش میں پھانسیوں کی سزائیں معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عوام کا مطالبہ لبرل پاکستان ہے ، جبکہ قائد اعظم نے سینکڑوں بار عوام سے اسلامی ریاست کا وعدہ کیا۔ اگر وزیر اعظم کو لبرل ازم اور سیکولر ازم پسند ہے تو ہندوستان چلے جائیں۔ جان دے سکتے ہیں لیکن لبرل ازم اور سیکولر ازم قبول نہیں۔ یورپ ، امریکہ ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی غلامی نظریہ پاکستان سے غداری ہے۔ قرضے حکمران لیتے ہیں اور بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان کی عزت ہے۔ سیاسی قیادتوں اور حکومتوں نے امریکہ کے دوروں میں ان کی رہائی کا کوئی بھی مطالبہ نہیں کیا۔ اگر وہ عافیہ صدیقی کو بھی جہاز میں اپنے ساتھ واپس لاتے تو پوری قوم ان کا استقبال کرتی۔ خیبر پختونخوا کے وسائل پر مرکز قابض ہے ۔ ہمارے پانی اور بجلی پر بھی مرکز کا قبضہ ہے اور ابھی تک منافع نہیں دیا ۔ہم صوبے کے حقوق پرکبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ عدالت کا دروازہ سونے کی چابی سے کھلتا ہے ۔ غریب آدمی کو ان عدالتوں سے انصاف نہیں مل سکتا۔ چیف جسٹس کے ہاتھ میں انگریز کی کتاب کے بجائے قرآن مجید تھمائیں گے۔ اگر حکومت ملی تو طبقاتی نظام تعلیم ختم کردیں گے ۔ صدر پاکستان اور عام آدمی کے بچے کے لئے ایک کتاب اور ایک نصاب ہوگا۔ سکولوں اور مدارس میں آغاز سے میٹرک تک ایک نصاب رائج کریں گے۔ اگر صدر ، وزیر اعظم اور وزراء کا علاج مفت ہے تو غریب کا علاج بھی مفت ہوگا۔ پاکستان میں صرف جماعت اسلامی ہی حقیقی جمہوری پارٹی ہے اور ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت رائج کرسکتی ہے۔ 2018ء پاکستان میں اسلامی انقلاب کا سال ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈان پارک بنوں میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔ جلسے سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان، مرکزی رہنما پروفیسر محمد ابراہیم خان، صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی ضلع بنوں کے امیر ڈاکٹر ناصر خان اور جماعت اسلامی ضلع لکی مروت کے امیر مفتی عرفان اللہ نے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کی بیٹی شیخ حسینہ واجد نظریہ پاکستان کے حامیوں کو چن چن کر ختم کررہی ہے۔ جماعت اسلامی کے صف اول کے قائدین کو پھانسی کی سزائیں دی گئی ہیں، لیکن حکومت پاکستان نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ ان لوگوں کو پاکستان سے محبت اور نظریہ پاکستان سے وفاداری کی سزا دی جارہی ہے۔ ان رہنماؤں نے اپنی جانیں تو قربان کردیں لیکن ہندوستان کے ایجنٹوں سے رحم کی اپیل نہیں کی ۔ ان کی قربانیوں نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے لئے مرنا اور خون بہانا جنت کی کنجی ہے۔ ان رہنماؤں نے حضرت امام حسینؓ کی سنت کو زندہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے اس بیان سے پوری قوم کی دل آزاری ہوئی ہے کہ پاکستان کے عوام لبرل پاکستان چاہتے ہیں ۔ایسے الفاظ نظریہ پاکستان سے غداری کے مترادف ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران لاکھوں افراد نے اسلامی پاکستان کی خاطر قربانیاں دی تھیں ۔ بابائے قوم قائد اعظم نے باربار اسلامی پاکستان کی بات کی ہے۔ ہم وزیر اعظم سے پوچھتے ہیں کہ قائد اعظم سچے تھے یا آپ سچے ہیں۔ پاکستان کو لبرل ازم کی طرف دھکیلنا شہدا کے خون سے غداری ہے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ آئی ڈی پیز کے ساتھ سخت ظلم ہوا ہے۔ انہیں 24گھنٹوں کے نوٹس پر اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ لیکن حکومت ابھی تک آپریشن کے ختم ہونے کی آخری تاریخ نہیں دے سکی۔ خود حکومت کا دعویٰ ہے کہ 85فیصد علاقہ کلئیرہوچکا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے علاقوں میں واپس بھیجا جائے اور ترقی کے تمام اقدامات وہاں کے عوام کے مشورے سے کئے جائیں کیونکہ یہ زمین قبائلیوں کی ہے اور یہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری حکومت قائم ہوئی تو یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے۔ غریبوں اور مہلک بیماریوں کا علاج مفت کریں گے۔ بے گھر افراد کو گھر مہیا کئے جائیں گے۔ ستر سال سے زائد عمر کے مرد ، خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کو وظیفہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں پراپرٹیاں بن چکی ہیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں بار بار قائم ہوتی رہی ہیں ۔ ان دونوں جماعتوں نے ملک کی آزادی کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ نیب اور دوسرے ادارے احتساب نہیں کرسکتے ، اصل احتساب ہم کریں گے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا ایک ایک پیسہ واپس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بدامنی کا شکار ہے لیکن اس بدامنی کے بدلے تجارت کی گئی اور بین الاقوامی سازش کھیلی گئی اور پختونوں کو اس سازش کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت اسلامی ممالک کو اتحاد اور اتفاق کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن موجودہ حکمران یہ اتحاد قائم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عوام اسلامی انقلاب کی راہ تک رہے ہیں۔ 2018ء تبدیلی کا سال ہوگا ۔ ہمارے سامنے نمونہ مدینہ کی اسلامی ریاست کا ہے۔ اسلامی پاکستان سے ہی ہمارے تمام مسائل حل ہوں گے ۔ ہم ظالم کے خلاف جنگ کرنے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کے لئے اٹھے ہیں ۔ قوم اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کی اس تحریک میں ہمارا ساتھ دے۔ حکمران بش اور اوبامہ سے ملاقات کو قبول شدہ حج سے زیادہ ثواب سمجھتے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s