کراچی آپریشن پر مرکز اور سندھ میں چپقلش نیک شگون نہیں ہے ،دونوں فریق اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کریں گے تو مسئلہ حل ہوگا ورنہ اب تک جو کچھ حاصل ہوا وہ بھی خاک میں مل جائے گا۔آپریشن کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

pic jip

لاہور31دسمبر2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن پر مرکز اور سندھ میں چپقلش نیک شگون نہیں ہے ،دونوں فریق اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کریں گے تو مسئلہ حل ہوگا ورنہ اب تک جو کچھ حاصل ہوا وہ بھی خاک میں مل جائے گا۔آپریشن کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس اور منصورہ میں ہونے والی مرکزی تربیت گاہ کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر حافظ محمد ادریس اور حافظ لطیف الرحمن شاہ بھی موجود تھے ۔تربیتی ورکشاپ میں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں غریب لوگ ،غربت اور بے روز گاری کے ہاتھوں پریشان ہوکربچوں سمیت اپنی زندگیوں کا خاتمہ کررہے ہیں ،نوجوان روز گار کے حصول کیلئے انسانی سمگلروں کے جھانسے میں آکر غیر قانونی طریقے سے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں ،جن میں سے اکثر سمندرکی لہروں کی نذر ہوجاتے ہیںاور بعض مغرب اور یورپ کے سرحدی علاقوں اور پاک ایران بارڈر پر سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جن کی لاشیں بھی ان کے گھروں تک نہیں پہنچتیں اور ان کے بچے اور والدین ساری عمر راہ تکتے رہتے ہیں ۔ہزاروں نوجوان گمنامی اور بے بسی کی موت مرجاتے ہیں اور جو بچتے ہیں وہ مختلف ملکوں کی جیلوں میں بند ابتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حکومتی بے حسی انتہا پر پہنچ گئی ہے ، ایک طرف اشرافیہ ہے جو ملک کے تمام وسائل پر قابض ہیں اورانہیں ہڑپ کررہی ہے اور دوسری طرف غریب عوام ہے ،جن پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد کران کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے ۔حکومت ہر سہ ماہی پر آئی ایم ایف اور غیر ملکی اور قومی بنکوںسے اربوں ڈالر قرض لے رہی ہے ،دوسری طرف حکومت ملکی اثاثے اور قومی ادارے کوڑیوں کے بھاﺅ بیچنے پر تیار بیٹھی ہے ،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اپنی انتہائی نچلی سطح پر آگئی ہیں لیکن عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت تیار نظر نہیں آتی،ایک ماہ معمولی کمی کرکے دوسرے ماہ قیمت دوبارہ بڑھا دی جاتی ہے ،سخت سردی میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری اور گیس نایاب ہے ۔یہ ظلم و جبر کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ،قومی اداروں کو یرغمال بنا کر انہیں اپنے ذاتی تصرف میں لانا بدترین کرپشن ہے جس سے ہر حکومت میں شامل لوگوں نے ہاتھ رنگے ہیں۔ملک میں آئین کی پامالی کو ان لوگوں نے وطیرہ بنا رکھا ہے ۔غریب جرم کرے تو اسے بدترین سزا کا مستحق سمجھا جاتا ہے اور اگر وہی جرم کوئی بااثر فرد یا حکومتی اہلکار کرے تو وہ صاف بچ نکلتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے اندر نفرت کا ایک لاوا پک رہا ہے جس دن یہ لاوا ابل پڑا تو بدیانت ٹولے کو بچ نکلنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم ملک سے وی آئی پی اور ہر قسم کے پروٹوکول کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔عوام کے نام نہاد نمائندے عوام کے درمیان آنے کو تیار نہیں ہوتے ،اشرافیہ اور حکمرانوں کے تعلیمی ادارے اورہسپتال الگ ہیں، جبکہ عوام کیلئے تعلیم اور صحت کے اداروں میں ضروری سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں ۔سینکڑوں سرکاری سکول چار دیواری کے بغیر ہیں او رہزاروں میں بیت الخلاءتک کی سہولت نہیں ،جبکہ سرکاری ہسپتالوںمیں غریب مریضوں معمولی دوائیں بھی بازار سے خرید کرلانا پڑتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے قومی صحت پروگرام کا اعلان خوش آئندہے مگراس پر عمل درآمد کیلئے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی ،اور شاید اس پروگرام کا بھی وہی حال ہوگا جو کسان پیکیج کا ہوا ہے ،جس پر کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ 

میری دشمنی جہالت ،غربت اور کرپشن سے ہے ۔قوم پر جہالت ،غربت اور کرپشن مسلط کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔نوجوان پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے میرا ساتھ دیں۔ظالم سرمایہ دار قومی دولت لوٹ کر درجنوں کارخانوں کے مالک بن بیٹھے ہیں اور مزدور کا بیٹا آج بھی تعلیم صحت اور روز گار سے محروم ہے ۔سینیٹر سراج الحق کا کنونشن سینٹراسلام آباد میں جماعت اسلامی یوتھ ونگ کنونشن سے خطاب

JI 0

  لاہور27دسمبر2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ میری دشمنی جہالت ،غربت اور کرپشن سے ہے ۔قوم پر جہالت ،غربت اور کرپشن مسلط کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔نوجوان پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے میرا ساتھ دیں۔ظالم سرمایہ دار قومی دولت لوٹ کر درجنوں کارخانوں کے مالک بن بیٹھے ہیں اور مزدور کا بیٹا آج بھی تعلیم صحت اور روز گار سے محروم ہے ۔قوم سے غداری کے عوض جاگیریں لینے والوں کی جاگیریں ضبط کرکے غریب کاشتکاروں اور کسانوں میں تقسیم کریں گے ۔ میرٹ کے قتل عام سے قوم کے ذہین نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجودبے روز گار اور حکمرانوں کے نااہل شہزادے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں ۔جس کی جیب میں پاکستان کا شناختی کارڈ ہے وہ ہماری نظر میں وی آئی پی ہے ۔ملک سے اسٹیٹس کو ،اور وی آئی پی سسٹم کا خاتمہ ہماری جدوجہد کا مرکزی نقطہ ہے ۔جنوری میں کرپشن کے خلاف بڑی تحریک کا آغاز کریں گے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے زیر اہتمام کنونشن سینٹراسلام آباد میں نوجوانوں کے بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔یوتھ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم اور صدر جماعت اسلامی یوتھ زبیر احمد گوندل نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قوم کے اصل مجرم وہ حکمران ہیںجنہوں نے ملک و قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے غلام بنایا ہے ۔ملکی اقتدار پر قابض رہنے والوں نے68سال میں پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ،ان کی کرپشن کے اربوں ڈالر بیرونی بنکوں میں پڑے ہیں اور میرے ملک کا نوجوان بیروز گاری کی چکی میں پس رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملت سے غداری کرکے انگریز سے جاگیریں حاصل کرنے والوں کی تیسری نسل عوام کی گردنوں پر سوار ہے ،انہیں صرف اپنے جاہ و جلال اور پروٹوکول سے غرض ہے ۔ وی آئی پی کلچرنے عام آدمی کی زندگی اجیرن کررکھی ہے ۔معصوم بچے سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں اور ملک کی ظالم اشرافیہ بے حسی کی آخری حد کراس کرچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹس کو ،کی حامی قوتیں عوام کے خلاف متحد ہوچکی ہیں اور اپنے اسٹیٹس کو کے تحفظ کیلئے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں مگر ہم نے بھی تہیہ کرلیا ہے کہ ان قوتوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور جب تک پاکستان کو ان کے پنجہ استبداد سے آزاد نہیں کروالیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ایٹمی پاکستان کو گداگربنا کر قومی وقار کو صیہونی ساہو کاروں کے ہاتھ فروخت کردیا ہے ۔آج قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے اور قرضے لینے والے عالی شان محلوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد میں لاکھوں شہداءکا خون ہے ۔ کلمہ کے نام پر اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے خاندان پسماندگی اور بے چارگی کی زندگی کزارنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں جبکہ قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب تک اس ظلم و جبر کا خاتمہ نہیں ہوجاتا ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بیش بہا قدرتی خزانوں سے مالا مال کررکھا ہے مگر حکمران ہاتھ ہلانے والے نہیں ہاتھ پھیلانے والے ہیں اس لئے آج خو دانحصاری کا قابل عزت رستہ اپنانے کی بجائے قرضوںپر گزارہ کررہے ہیں ۔پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اپنے وقار کا دفاع کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہماری وقعت نہیں ۔  

رینجرز اختیارات پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو تنازعہ کھڑا نہیں کرنا چاہئے ۔رینجرز کے حوالے سے شرائط سے خود سندھ حکومت کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے ۔گورنر راج لگا تو یہ صرف سندھ تک محدود نہیں رہے گا۔عوام کسی غیر جمہوری اقدام کو قبول نہیں کریں گے ۔سینیٹر سراج الحق

23.12.15 Siraj ul haq123

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ رینجرز اختیارات پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو تنازعہ کھڑا نہیں کرنا چاہئے ۔رینجرز کے حوالے سے شرائط سے خود سندھ حکومت کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے ۔گورنر راج لگا تو یہ صرف سندھ تک محدود نہیں رہے گا۔عوام کسی غیر جمہوری اقدام کو قبول نہیں کریں گے ۔ حکومت کو تمام جماعتوں نے دہشت گردی کے خاتمہ کا مینڈیٹ دیا تھا مگر حکومت اپنے مینڈیٹ پر پورا نہیں اتر سکی ۔مسلح دہشت گردی معاشی دہشت گردی کی پیداوار ہے ۔حکومت قوم کو بتائے کہ ایک سال میں اس نے سیاسی معاشی اور اخلاقی دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے کیا کیا ہے ۔حکومت کو اپنا احتساب کرنا چاہئے ۔ان خیالات اظہار انہوں نے منصورہ ہسپتال کے 33ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ہسپتال کے نگر ان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،ایم ایس ڈاکٹر محمد انوار بگوی اور پورا عملہ بھی موجودتھا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جو حکومت اپنے شہریوں کو صحت اور تعلیم کی سہولت نہ دے سکے اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔آئین کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں مہیا کی جائیں ۔منصورہ ہسپتال مشنری ہسپتال ہے جہاں افغان مہاجرین کا مفت علاج شروع کیا گیا اور آج لاہور کی غریب آبادیوں کے ہزاروں لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں 98 فیصد لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں ۔ چلڈرن ہسپتال سمیت لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں گزشتہ ہفتہ میں 38بچے ٹیکے اور وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ۔لاہور کے ہسپتالوں کا یہ حال ہے تو پھر پنجاب کے دور دراز شہروں کے ہسپتالوں کا کیا حال ہوگا۔اورنج لائن ٹرین پر 200ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔وزیر آباد کا کارڈیالوجی ہسپتال 7سالوں سے آپریشنل نہیں ہوسکا۔لاہور میں میو ہسپتال کا سرجیکل ٹاور ساڑھے سات سالوں میں آپریشنل نہیں ہوسکا۔پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال میں دل کے مریضوں کو آپریشن کیلئے 9تا 10ماہ کی تاریخ دے دی جاتی ہے اور مریض تاریخ ملنے کے اگلے دن انتقال کرجاتا ہے ۔ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں بھی ادویات باہر سے منگوانے کیلئے کہا جاتا ہے ۔وزیروں کے دانت کے علاج پر بیرون ملک 36لاکھ روپیہ خرچ کردیاجا تا ہے اور غریب کوسرکاری ہسپتالوں سے ڈسپرین تک نہیں ملتی۔ہماری حکومت آئی تو سرکاری ہسپتالوں میں غریب کا مفت علاج ہوگااور کینسر ،یرقان ،دل اور گردے کی بیماری اور بچوں کی تھیلیسیمیا سمیت پانچ بڑی بیماریوں کا علاج مفت کریں گے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جنوری میں مالی اور سیاسی کرپشن کے خلاف بڑی تحریک شروع کریں گے ۔ملک سے غربت ،مہنگائی ،جہالت اور بے روز گاری کے خاتمہ کیلئے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ۔عوام اپنا انتخابی رویہ بدلیں اور بار بار سانپوں اور بچھوؤں کو دودھ پلانے اور چوروں اور لٹیروں کو گردنوں پر سوار کرنے کے بجائے دیانتدار قیادت کا انتخاب کریں ۔انہوں نے کہا کہ عوام اپنے ووٹ سے کرپٹ حکمرانوں کا احتساب کریں ۔ایم کیو ایم کے نامزد میئر پر قتل سمیت مختلف پرچوں اور رینجرز کی طرف سے پچاس کروڑ روپے ہرجانے کے دعویٰ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ سیاست اورجرائم کو الگ ہونا چاہئے ،غیر جمہوری طریقوں سے نفرتیں پھیلتی ہیں ،ہم کسی بھی غیر جمہوری راستے کے حق میں نہیں ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کراچی کے شہریوں نے ووٹ دیئے ہیں اب انہیں اختیارات سے محروم رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہوگی ۔ کراچی میں پولیس اور سویلین عدالتوں کی ناکامی کے بعد امن کی بحالی کیلئے رینجرز کو طلب کیا گیا ۔رینجرز نے ایک سال کے اندر امن بحال کردیا مگر آج اس کے راستے میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں ۔سراج الحق نے کہا کہ وفاق اورسندھ کی حکومتوں کو اپنی خراب کارکردگی کے الزام سے بچنے کا شاید اور کوئی طریقہ نظر نہیں آیا اور انہوں نے رینجرز آپریشن پر سیاست شروع کردی ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے منصورہ ہسپتال کے سٹاف میں تعریفی اسناد اور نقد انعامات بھی تقسیم کئے اوردو عمرہ ٹکٹوں کے قرعہ اندازی بھی کی ۔ ڈاکٹر زلیخہ اور ڈاکٹر مشتاق احمد کے نام قرعہ اندازی میں نکلے۔ امیر جماعت اسلامی نے دونوں خوش نصیبوں کو مبارک باد دی ۔

 چیف جسٹس اور عوام بری حکمرانی پر پریشان ہیں، حکمرانوںنے سب اچھا کی رٹ لگا رکھی ہے سینیٹر سراج الحق کی جماعت اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو

pic sirajul haq-

لاہور14دسمبر 2015
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ چیف جسٹس اور عوام بری حکمرانی پر پریشان ہیں۔ آئی ایس پی آربھی حکمرانوں کو توجہ دلاچکا ہے مگراس کے باوجود حکمرانوںنے سب اچھا کی رٹ لگا رکھی ہے ۔انتظامی طور پر حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔نیب کے خلاف پیپلز پارٹی کی شکایت دور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ نیب کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف بھی آزادانہ کاروائی کا موقع دیا جائے اور صفائی کا عمل اسلام آباد سے شروع کیا جائے۔ اسٹیٹس کو کے غلام تبدیلی کی بات سن کر سیخ پاہوجاتے ہیں ،علامہ اقبال ؒاورقائداعظم ؒ کے پاکستان کو دریابرد کردیا گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس اور منصورہ میں جاری پانچ روزہ تربیت گاہ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ گزشتہ چالیس سال سے اقتدار پر مسلط پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے ایک بار پھر 90کی دہائی کی سیاست شروع کردی ہے اور عوام کو دھوکہ دینے کیلئے ایک دوسرے پر الزامات کے تابڑ توڑ حملے کئے جارہے ہیں مگر عوام جان چکے ہیں کہ یہ مصنوعی لڑائی اور عوام کو فریب دینے کا دونوں جماعتوں کا آزمودہ نسخہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کا احتساب نہیں چاہتیں بلکہ ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ دیتی ہیں لیکن جب کوئی ادارہ ان کے گلے میں رسی ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو الزامات کو سیاسی انتقام کا نام دیدیا جاتا ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے واویلہ شروع کردیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چور چور کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتا ،یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کا اپنا دامن ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہو ۔انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے سینکڑوں لوگوں پر کرپشن کے مختلف الزامات ہیں مگر وہی لوگ بار بار اسمبلیوں اور سینیٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضوں کی ادائیگی قومی خزانے سے نہیںحکومتوں میں رہنے والوں کے بیرونی بنکوں میں موجود اکاﺅنٹس سے کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے سینکڑوں ارب ڈالر کا سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا گیا ہے۔حکمران اپنی دولت بیرونی بنکوں سے قومی بنکوں میں لانے پر تیار نہیں ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اقتدار سے علیحدگی پر پکڑے جانے کا خوف ہے ، انہیں ملک کی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے سے کوئی غرض نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام تعلیم ،صحت ،روز گار اور چھت جیسی بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی سے سخت پریشان ہیں ،بجلی اور گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیر ن کردی ہے ۔دنیابھر میں تیل کی قیمتیں اپنی انتہائی نچلی سطح پر آگئی ہیں مگر پاکستان میں نہ صرف قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی بلکہ عوام پر 40ارب ڈالر کا ٹیکسوں کا کوہ ہمالیہ لاد دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑے چوروں نے چوری کو عام کیا ہے جس سے دس بیس کروڑ کے فراڈ کو معمولی قرار دیکر نظر انداز کردیا جاتا ہے جبکہ عام آدمی کو پہلے تو قرضہ ملتا نہیں اور اگر کوئی دوچار لاکھ روپے کا قرضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو بنک اس کا جینا حرام کردیتے ہیں اور کئی گنا سود دینے کے باوجود اس کی گلو خلاصی نہیں ہوتی ۔سراج الحق نے کہا کہ کہ یہ استحصالی اور طبقاتی نظام ہے جس کا عام آدمی گزشتہ 68سال سے اسیر ہے، جب تک ہر شعبہ زندگی میں یکساں نظام رائج نہیں ہوتا یہ ظلم و جبر ختم نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا قبلہ و کعبہ مکہ مکرمہ نہیں، واشنگٹن اور لند ن ہے ،آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے جو احکامات ملتے ہیں حکمران آنکھیں بند کرکے ان پر عمل درآمد کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام کرپٹ اور بدیانت حکمرانوں سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں ۔جب تک بڑے مگر مچھوں کا بے رحم اور کڑااحتساب نہیں ہوتا ملک کی حالت نہیں سدھرے گی ۔  

ریاست ، فوج اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مظالم کا سلسلہ رکوائیں، سینیٹر سراج الحق و دیگر رہنماﺅں کا لاہور میں حسینہ واجد کے مظالم کے خلاف سیمینار سے خطاب

00001
لاہور 13دسمبر 2015 ء
لاہور پریس کلب میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے مظالم کے خلاف اور پھانسیوں کی سزا پانے والے پاکستان کے وفادار وں کے حق میںمنعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ وہ بنگلہ دیش کی جعلی عدالتوں سے سزا پانے والے متحدہ پاکستان کے حامی قائدین اور کارکنان کا مقدمہ لڑنے کے لیے مدعی بنے اور عالمی ادارہ انصاف میں سہ فریقی معاہدہ کو اٹھایا جائے ۔ ریاست ، فوج اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مظالم کا سلسلہ رکوائیں۔یہ مسئلہ صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ اٹھارہ کروڑ عوام اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی صدارت میں ہونے والے سیمینار سے سینئر صحافی عطاءالرحمن ، سجاد میر ، اکرم چوہدری ، جماعت اسلامی کے ڈائریکٹر امور خارجہ عبدالغفار عزیز ، سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم اور امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ اگر پاکستان عالمی ادارہ انصاف میں بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والوں کا معاملہ اٹھائے تو پورا عالم اسلام پاکستان کے موقف کی حمایت کرے گا ۔ حکومت پھانسی پر لٹکائے جانے والوں کو تو نہیں بچاسکی مگر جو لوگ جیلوں میں بند ہیں اور جنہیں سزائے موت سنائی جاچکی ہے ،ان کو بچانے کے لیے تو آواز بلند کرے ۔ انہوں نے کہاکہ 25 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے اور 25 ہزار سے زائد کارکنان جیلوں میں بند ہیں ۔ وہ ہزاروں نوجوان بھی قید ہیں جو 1971 ءمیں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں میں اگر کوئی غیرت و حمیت ہوتی تو وہ پہلی پھانسی کے موقع پر ہی اس کے خلاف عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش کرتے مگر افسوس ہے کہ اسلام آباد کا ضمیر مردہ ہوچکاہے اور اب ان میں زندگی کی کوئی رمق نظر نہیں آتی ۔ انہوں نے کہاکہ مودی نے ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر اعتراف جرم کیاتھا کہ اس نے پاکستان کو توڑنے کی جنگ میں حصہ لیا تھا اس کو بنیاد بنا یا جاسکتا ہے ۔ حسینہ واجد آج ان لوگوں کو تختہ دار پر لٹکا رہی ہے جو بنگلہ دیش کو بھارت کی کالونی بنائے جانے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
سراج الحق نے کہاکہ میری آواز اسلام آباد کے قبرستان میں دب کر رہ گئی ہے ۔ شیر چڑیا گھر کا شیرثابت ہورہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن مودی سے عشق کی بجائے ملک و قوم سے محبت اور وفاداری کا ثبوت دے ، دہلی کے سامنے جھکنے کی بجائے جرا ¿ت کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ نہ صرف بھارت کے 20 کروڑ سے زائد مسلمان پاکستان کو ایک باوقار اور جرا ¿ت مند اسلامی پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک نیپال ، سری لنکا اور بھوٹان بھی بھارت سے اپنی آزادی اور خود مختاری کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن پاکستان کھڑا ہونے کی بجائے مودی کے قدموں پر جھکا ہواہے اور حکمران ذہنی طور پر بھارتی بالادستی قبول کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بناناچاہتاہے تاکہ وہ ایک طرف پاکستان کو اپنی غلامی پر مجبور اور دوسری طرف چین پر دباﺅ ڈال سکے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران آزادی اور خود مختاری کا سبق بھول چکے ہیں ۔ حکمران نہیں جانتے کہ دشمن کے سامنے جھکنے سے نہ تو عزت ملتی ہے اور نہ زندگی ۔ انہوں نے قومی میڈیا سے بھی گلہ کیا کہ وہ پاکستان کے وفاداروں اور نظریہ پاکستان پر جانیں نچھاور کرنے والوں کو اتنی اہمیت بھی نہیں دے رہا جتنی کسی ماڈل ملزمہ کو دیتا ہے ۔ 
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سجاد میرنے کہاکہ بھارت میں مودی کی انتہا پسندی کے خلاف بڑے بڑے ہندو دانشوروں نے بھی اپنے اعزازت واپس کر دیے ہیں مگر ہمارے ہاں کچھ لوگ آج بھی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ آج اگر وارث میر زندہ ہوتے تو وہ بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد سے ایوارڈ لینا اپنی توہین سمجھتے ۔ انہوںنے کہاکہ حامد میر کو حسینہ واجد سے ملنے والا ایوارڈ واپس کر کے قومی عزت کا ثبوت دیناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست فوج اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مظالم کا سلسلہ رکوائیں ۔ سینئر صحافی عطاءالرحمن نے کہاکہ بنگلہ دیش میں تختہ دار پر چڑھنے والوں نے ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کیاہے ۔ چالیس سال قبل جنہوں نے پاکستان کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کیں وہ آج بھی اپنی زندگیاں نچھاور کر رہے ہیں ۔ حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا جماعت اسلامی کے عمر رسیدہ بزرگوں کو سہنا پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں نے بنگلہ دیش میں اپنے خیر خواہوں کو تنہا چھوڑ کر ملک کے دفاع کا حق ادا نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ سراج الحق پاکستان کے تحفظ ، نظریاتی تشخص ، اسلام اور جمہوریت کی بقا کے لیے پوری قوم کی طرف سے کفارہ ادا کررہے ہیں ۔

پشاور یونیورسٹی میں دس ہزار طلباء وطالبات نے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بنے کا عہد کیا اور حلف اٹھالیا۔ سراج الحق نے مستحق طلبہ وطالبات کے تعلیم جاری رکھنے کیلئے ایک ملین روپے کا اعلان کردیا۔

S2

پشاور10دسمبر 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مسائل فریادوں اور سسکیوں سے نہیں اقتدار پر مسلط ظالم جاگیرداروں ،سرمایہ داروں اور وڈیروں کے خلاف اٹھنے سے حل ہونگے ۔قومی خزانہ لوٹنے والے ایوانوں میں بیٹھے ہیں ۔حکمران لوٹ مار اور کرپشن کے سپیشلسٹ ہیں ۔بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود عام آدمی تعلیم ،صحت ،روز گار اور چھت سے محروم ہے اور بے حس حکمرانوں نے ہماری آئندہ نسلوں کو بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی میں جکڑ دیا ہے ۔پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ دفاع کے بعدسے زیادہ بجٹ تعلیم پر خرچ ہو۔حکمران جان بوجھ کر عوام کو جہالت کے اندھیروں میں رکھنا چاہتے تاکہ ان کے اقتدار کو کوئی چیلنج نہ کرسکے ۔آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر پالیسیاں بنانے والوں نے ثابت کردیا ہے کہ انہیں ملک وقوم کی بجائے صیہونی اداروں کے مفادات کا تحفظ زیادہ عزیز ہے ۔اسلام آباد میں بیٹھی ظالم اشرافیہ عوام کی پریشانیوں اور دکھوں کی اصل ذمہ دار ہے جو بیرونی اشاروں پر ان کا معاشی قتل عام کررہی ہے ۔شہریوں کو تعلیم ،صحت ،روزگار اور چھت مہیا کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے میں حکمران ناکام ہوچکے ہیں ۔عوام اپنا انتخابی رویہ بدلیں اور جبر کے اس نظام سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ہمارے دور میں صدر اور وزیر اعظم نہیں عام آدمی وی آئی پی ہوگا۔سالانہ ہونے والی چار ہزارارب روپے کی کرپشن اور غیر ترقیاتی اخراجات کو ختم کرکے اور بیرونی بنکوں میں پڑی قومی دولت ملک میں لاکر عوام کی بنیادی ضروریات پر خرچ کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام منعقدہ ٹیلنٹ ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں پشاور یونیورسٹی سمیت تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔اس موقع پر دس ہزار طلبہ و طالبات نے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بننے کا عہد کیا اور حلف اٹھایا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان ،ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان زبیر احمد ،صوبائی ناظم شاہ زمان خان درانی نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مستحق طلباء کے تعلیم جاری رکھنے کیلئے ایک ملین روپے کا اعلان بھی کیا ،اور ذہین طلباء و طالبات میں ایوارڈ تقسیم کئے،
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جس طرح فوج ملک میں امن کے قیام اور سرحدوں کے دفاع کیلئے جہاد کررہی ہے اسی طرح جمعیت جہالت کے خلاف جہاد کرکے ملک کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنا رہی ہے ۔پاکستان کے لیے جینا بہترین زندگی اور اس پر جان قربان کرنا اعلیٰ ترین شہادت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں جس سے قوم کے اتحاد اور یکجہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے اور عوام مختلف گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا اور عوام نے ہماراانتخاب کیا تو سب سے پہلے یکساں نظام اور نصاب تعلیم رائج کریں گے ،انہوں نے کہا کہ دولت کے پجاریوں نے معصوم بچوں کو بھی مال اور دولت کی بنیاد پر تقسیم کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک تعلیم کے وفاقی اورصوبائی وزراء کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہونگے سرکاری سکولوں اور کالجوں کی حالت نہیں سدھرے گی ۔انہوں نے کہا کہ ملک کا اصل سرمایہ طلبہ ہیں ۔
سراج الحق نے کہا کہ ہمیں امریکہ یا برطانیہ سے نہیں اللہ اور رسول ﷺ سے راہنمائی کے مطابق اپنا نظام تعلیم بنانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایک صوبے میں امریکی اور دوسرے میں برطانوی ماہر تعلیم لاکر بٹھا دیا گیا ہے جو ہماری آئندہ نسلوں کو اسلام سے دور کررہے ہیں اور ہمارے ہیروز کے کارنامے نصاب تعلیم سے نکال کر ناچ گانے اور مخرب اخلاق فلموں کی کہانیاں شامل کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کواسلامی تہذیب و تمدن سے دورکرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کے بعد ایک انسان لٹیرااور ڈاکو بن جائے اور اپنے ہی لوگوں کو دھوکہ اور فریب دینے کو اپنی کامیابی سمجھتا ہو۔ہم ایسا نظام تعلیم چاہتے ہیں جس میں ایک اچھا ڈاکٹر اور سائنسدان ایک اچھا مسلمان بھی ہو ،اس لئے ہم دینی مدارس اور کالجز اور یونیوسٹیوں میں ایک نصاب رائج کریں گے تاکہ ملت کو متحارب گروپوں میں تقسیم کرنے کے اسلام مخالف قوتوں کے عزائم کو ناکام بناسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنا ن سینیٹ ،قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبر اور کراچی جیسے بڑے شہر کے میئر اور ناظم رہے مگر ان کے دامن پر کرپشن کا ایک بھی داغ تلاش نہیں کیا جاسکا ،اس لئے کہ ان کی تربیت جمعیت جیسی منظم اور اللہ کی رضا اور خوشنودی کیلئے کام کرنے والی تنظیم نے کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں اسلامی جمعیت طلبہ نے دیں ۔آج بھی بنگلہ دیش میں اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلیٰ مطیع الرحمن نظامی جیل میں بند ہیں اور کئی سابق ذمہ داران کو پھانیسوں پر لٹکایا گیا ہے ۔ملک و ملت کیلئے اس سے بڑی قربانی کیا ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت پسندی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہے کہ بانی جماعت سید مودودیؒ سمیت ہمارے سابق امرائے جماعت میاں طفیل محمد ،قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کے بیٹے جماعت کے امیر نہیں ہے

Gallery

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے فاٹا کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے احتجاجی دھرنے کیمپ کا دورہ اور خطاب

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے فاٹا کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے احتجاجی دھرنے کیمپ کا دورہ اور خطاب،سراج الحق نے پریس کلب کے باہر سندھ سے آئے مظلوم خاندانوں اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کی خواتین اساتذہ کے احتجاجی کیمپ کا بھی دورہ کیا ،امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر آل ٹیچر ایسوسی ایشن فاٹا کے زیر اہتمام اساتذہ کے اپ گریڈیشن کے نوٹیفیکیشن جاری نہ کرنے کے خلاف گذشتہ تین روز سے لگائے گئے احتجاجی دھرنے کیمپ کا دورہ کیا اور دھرنے میں بیٹھے سیکڑوں اساتذہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اپ گریڈیشن کا مسئلہ سینیٹ میں اٹھانے کا اعلان کیا اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے وہاں پر اسلام آبادکے نظامت تعلیم کے ڈیلی ویجز خواتین اساتذہ کے احتجاجی کیمپ کا بھی دورہ کیا اور اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے لگائے گئے احتجاجی کیمپوں پر حکام کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا اس موقع پر اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک میں تعلیم کا یہ حال کردیا گیا ہے کہ حکمران دیہاڑی پر اساتذہ کی بھرتیاں کرتے ہیں جب اسلام آباد میں تعلیم کا یہ حال ہے تو پھر ملک کے باقی حصوں کا تو انتہائی ابتر صورتحال ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے سیکڑوں اساتذہ گذشتہ تین سال سے اپنے قبائلی علاقوں میں اپ گریڈیشن کیلئے احتجا ج کررہے ہیں اور اب گذشتہ تین دن سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا لگائے بیٹھے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ گونگے بہرے حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگی وہ ٹھس سے مس نہیں ہوئے انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے سرکاری ملازمین کے اپ گریڈیشن کے مسئلے کا فوری طور پر حل نکالیں اور یہ حل مستقل ہونا چاہئے ہم تعلیم پر کوئی سمجھوتے کیلئے تیار نہیں،تعلیم کو مزاق نہ بنایا جائے اور تعلیمی نظام اور خاص کر قبائلی علاقوں کے تعلیمی ادارے اور اساتذہ جوکہ پہلے سے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں کے مسائل فوری حل کئے جائیں انہوں نے کہا کہ فاٹا جب وفاق کے زیر انتظام ہے تو پھر وہاں کے اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کو بھی وفاقی ملازمین کا درجہ اور مراعات دئے جائیں تاکہ ملکی ترقی کے حوالے کام کرنے والے اداروں خصوصا اساتذہ یکسوئی کے ساتھ کام بھی کرسکیں اور ایک طرف ہوجائیں اب تو ان امتیازی قوانین کی وجہ سے فاٹا کے عوام ذلت و رسوائی کے شکار ہیں۔انہوں نے اساتذہ اور مظلوم سندھی خاندانوں کو یقین دلایاکہ وہ انکا مسئلہ سینیٹ میں اٹھائینگے ۔

 

 

قومی اثاثوں کو بیچنے والے کل اسلام آباد کو فروخت کرنے سے باز نہیں آئیں گے ۔حکمران آئی ایم ایف کو خوش کرنے کیلئے مزدوروں سے روزگار چھین رہے ہیں ۔غریبوں کے ٹیکسوں پر پلنے والی اشرافیہ ان کے منہ سے نوالہ چھین کر خدا کے غضب کو دعوت دے رہی ہے۔قومی اثاثے ملک دشمنوں کے ہاتھوںمیں نہیں جانے دیں گے ۔پی آئی اے سمیت قومی اداروں کا تحفظ ہر پاکستانی کا فریضہ ہے۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے غلاموں کوقومی سلامتی سے کھیلنے کا موقع نہیں دیا جاناچاہیے ۔سراج الحق

0
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ قومی اثاثوں کو بیچنے والے کل اسلام آباد کو فروخت کرنے سے باز نہیں آئیں گے ۔حکمران آئی ایم ایف کو خوش کرنے کیلئے مزدوروں سے روزگار چھین رہے ہیں ۔غریبوں کے ٹیکسوں پر پلنے والی اشرافیہ ان کے منہ سے نوالہ چھین کر خدا کے غضب کو دعوت دے رہی ہے۔قومی اثاثے ملک دشمنوں کے ہاتھوںمیں نہیں جانے دیں گے ۔پی آئی اے سمیت قومی اداروں کا تحفظ ہر پاکستانی کا فریضہ ہے۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے غلاموں کوقومی سلامتی سے کھیلنے کا موقع نہیں دیا جاناچاہیے ۔نجکاری کے خلاف سینیٹ اورقومی اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے اور عوام کو بھی سڑکوں پر لائیں گے ۔قومی اداروں کی بندر بانٹ کو کسی صورت برداشت نہیں کرکیا جاسکتا ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام ٹیلنٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ زبیر صفدر بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران نجکاری کی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا واحد علاج مزدوروں کے پاس ہے ،مزدور متحد ہوکر اقتدار کے ایوانوں کا گھیراﺅ کرنا چاہیے اور جب تک حکومت قومی اثاثوں کی فروخت کا فیصلہ واپس نہیں لیتی وہ اسلام آباد سے اٹھ کر نہ جائیں ۔ ۔انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال کیلئے حکومتی کرپشن ختم ہوجائے تو قومی اداروں کی فروخت کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔سالانہ چار ہزار ارب روپے کی کرپشن نے تمام اداروں کو کھوکھلا کردیا ہے مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے اور آئی ایم ایف کے حکم پر ملک و قوم سے ان کے خون پسینہ کی محنت سے بنائے گئے ادارے چھین لینا چاہتے ہیں ۔ملک و قوم آج جن پریشانیوں ،مشکلات اور بدامنی کا شکار ہے اس کے ذمہ دار حکمران ہیں ،ٹیکس غریب دیتا ہے اور عیش حکمران کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ،ریلوے ،سٹیل ملز جیسے اداروں میں خسارے کی اصل وجہ نااہل انتظامیہ، کرپشن اور اس کے سرپرست حکمران ہیں ،جنہوں نے قومی اداروں کوذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اورملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ کر لاکھوں مزدوروں کو بے روز گارکرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کو منافع بخش بنانے کیلئے کرپشن کمیشن اور اقربا پروری کے ناسور کو ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر مزدوروں کو کارخانوں اور کاشتکاروں اور کسانوں کو کھیتوں کی پیداوار میں حصہ دار بنالیا جائے تو صنعت اور زراعت میں انقلاب لایا جاسکتا ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جس طرح فوج ملک میں امن کے قیام اور سرحدوں کے دفاع کیلئے جہاد کررہی ہے اسی طرح جمعیت جہالت کے خلاف جہاد کرکے ملک کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنا رہی ہے ۔پاکستان کے لیے جینا بہترین زندگی اور اس پر جان قربان کرنا اعلیٰ ترین شہادت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں جس سے قوم کے اتحاد اور یکجہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے اور عوام مختلف گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا اور عوام نے ہماراانتخاب کیا تو سب سے پہلے یکساں نظام اور نصاب تعلیم رائج کریں گے ،انہوں نے کہا کہ دولت کے پجاریوں نے معصوم بچوں کو بھی مال اور دولت کی بنیاد پر تقسیم کردیا ہے ،غریب کے بچے کیلئے ٹاٹ ،ٹائیلٹ اور ٹیچر کے بغیر سکول اور امیروں کے شہزادوں کیلئے دودھ ڈبل روٹی اور پنیر دینے والے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے ہیں جہاں شہزادوں کو گھوڑوں کی سواری بھی کروائی جاتی ہے
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم افغان صدر اشرف غنی کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں،پاکستان اور افغانستان اسلام کے رشتے میں بندھے دو بھائی ہیں جن کی خوشیاں اور غم ایک ہیں ،دونوں کا مستقبل ایک ہے ،دونوں ملکوں کی ترقی و خوشحالی اور امن کا ضامن اسلام ہے ،انہوں نے کہا کہ خطے میں قیام امن کیلئے افغانستان اور پاکستان موثر کردار ادا کرسکتے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ مختلف تنظیموں کی بجائے افغان عوام کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنائے ۔ 

حکومت پاکستان مودی اور بنگلہ دیش میں پھانسیوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے۔سراج الحق

Siraj Ul Haq 6 Dec copy
کوٹلی۔۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آزادی کشمیر کے حوالے سے حکمرانوں کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے ۔پاکستان کی سلامتی اور بقا کی ضمانت صرف آزادی کشمیر سے دی جاسکتی ہے ۔وزیر اعظم بیرونی سرمائے کے حصول کیلئے روزانہ بیرونی دوروں پر ہوتے ہیںاگر اتنی تگ و دو کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پراجاگر کرنے کیلئے کرتے توآج ملک کو کسی بیرونی امداد اور سرمائے کی ضرورت نہ ہوتی ۔وزیر اعظم جس طرح جہاز بھر کر سرمایہ ڈھونڈنے جاتے ہیں کبھی اوآئی سی اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو بھی ساتھ بٹھا کر اقوام متحدہ میں جائیں اور کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بنیں ۔لاکھوں کشمیری پاکستان پر قربان ہوچکے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں نے ان کی قربانیوں کو ضائع کرکے مودی کی گود میں بیٹھنے کیلئے بے چین ہیں۔خطے میں قیام امن کیلئے مسئلہ کا فوری حل ہونا ضروری ہے ،بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی خطے کے امن پر لٹکتی تلوار ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوٹلی آزاد کشمیر میں بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ سے امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبد الرشید ترابی ،محمود الحسن گیلانی ،حبیب الرحمن آفاقی اور ارشد ندیم نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ خطے میں اس وقت تک امن کے قیام کی ضمانت نہیں دی جاسکتی جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا ،پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل تنازعہ کشمیر کا مسئلہ ہے ،جسے حل کئے بغیر تعلقات کی بحالی کے مصنوعی اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوسکتی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی قومی ایجنڈا ہے جس سے انحراف کرنے والے کو قوم ایک لمحہ کیلئے برداشت نہیں کرے گی اس لئے حکمرانون کو چاہئے کہ آلو پیاز ٹماٹر کی تجارت اور فنکاروں اور اداکاروں کے طائفوں اور کرکٹ ڈپلومیسی کی باتیں چھوڑ کر سنجیدگی سے اس مسئلہ کے حل کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی حکمران مودی جیسے قاتل سے ہاتھ ملاتے ہیں تو کشمیر ی شہداءکے والدین کے سینے چھلنی ہوجاتے ہیں ،بھارت کو پسندیدہ ملک قراردیکراور دوستی کی پینگیں بڑھاکرحکمران کشمیر یوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں ۔کشمیری مسلمانوں نے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے اور وہ آج بھی پاکستان کی تکمیل کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں ،لیکن ہمارے حکمرانوں کو امریکہ بھارت کی خوشنودی اور اپنے سرمائے میں اضافہ کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی کام نہیں سوجھتا۔انہوں نے کہا کہ ملک پر ایک استحصالی اور ظالمانہ نظام مسلط کردیا گیا ہے ،امیر اورغریب کے درمیان خلیج روز بروز وسیع ہورہی ہے ،امیروں کے بنگلوں میں شہزادے اور غریب کی جھونپڑی میں غریب اگتے ہیں ،جو ساری عمر غربت سے لڑتے مر جاتے ہیں ہیں موت سے ابترزندگی گزارتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں ایسے ظلم و جبر کے نظام کا باغی ہوں ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ امریکہ برطانیہ اور بھارت پر الزام لگانے سے پہلے ہمارے عوام کو بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ انہوں نے آج تک اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی آزادی کیلئے کیا کیا ہے ،عوام نے آج تک ایسی مخلص قیادت کا انتخاب نہیں کیا جو کشمیر کی آزادی کو اپنا ہدف بناتی بلکہ ہم نے اپنی گردنوں پر ہمشیہ ایسے لوگوں کوسوار کیا جنہوں نے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کو پروان چڑھایا اور قومی دولت کو لوٹ کر بیرونی بنکوںمیں جمع کروایا ۔انہوں نے کہا کہ سالانہ چار ہزار ارب روپے کی کرپشن کو روک کر ہم اپنے عوام کو تعلیم ،صحت ،روز گاراور چھت کی سہولتیں دے سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے چالیس ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے سے مہنگائی کا نیا سیلاب آئے گا جس سے عام آدمی کی قوت خرید جو پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے اس میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔بہتر یہ تھا کہ حکمران عوام پر ترس کھاتے اور ٹیکس لگانے کے بجائے کرپشن اور غیر ترقیاتی اخراجات کو روکتے اور بیرون ملک پڑا ہوا قومی سرمایہ ملک میں لاتے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے ،اگر انہوں نے اپنے منشور پر عمل اور اپنے وعدوں کو پورانہ کیا تو بلدیاتی انتخابات میں ملنے والی کامیابی ان کے کسی کام نہیں آسکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن چپ سادھ کر بیٹھنے کے بجائے آئندہ قومی انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائے تاکہ ایک بار پھر لٹیروں اور کرپٹ مافیا کو قوم کی گردنوں پر سوار ہونے کا موقع نہ مل سکے ۔۔

پاکستان بنانے میں وکلاء کا کردار اہمیت کا حامل ہے وکیل ہی نے پاکستان کا تصور دیا ،وکیل ہی نے پاکستان بنایا ،وکیل ہی نے پاکستان کو ایک اسلامی ٹریک پر ڈالااور وکیل نے ہی اس ملک کو آمریت کے چنگل سے آزاد کرایا اس لئے یہ ملک وکلاء کی ملکیت ہے ،حکمران مغرب سے قانون کی بالادستی ، گڈ گورننس اور ٹرانسپرنسی کے بجائے لبرل ازم اور سیکولرازم سیکھتے ہیں۔مشتاق احمد خان

Pic Mushtaq Ahmad Khan3, 06-12-2015

پشاور6دسمبر2015 
امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ تحریک پاکستان کے خلاف انگریز سامراج کاساتھ دینے والا ٹولہ گذشتہ 68 سال سے مختلف ناموں اورصورتوں سے پاکستان پر قابض ہے اور اسی اشرافیہ نے ہر ادارے کو یرغمال بنایا ہوا ، پاکستان بنانے میں وکلاء کا کردار اہمیت کا حامل ہے وکیل ہی نے پاکستان کا تصور دیا ،وکیل ہی نے پاکستان بنایا ،وکیل ہی نے پاکستان کو ایک اسلامی ٹریک پر ڈالااور وکیل نے ہی اس ملک کو آمریت کے چنگل سے آزاد کرایا اس لئے یہ ملک وکالاء کی ملکیت ہے ،محنت کشن اور ذہین ترین افرادی قوت ،قدرتی وسائل سے مالا مال ملک اشرافیہ کی لوٹ کھسوٹ اورکرپشن کی وجہ مشکلات کا شکار اور مقروض ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامک لائرز مومنٹ کی جانب سے المرکز الاسلامی میں انکے اعزاز میں دئے گئے استقببالئے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما پروفیسر محمد ابراہیم خان ،اسلامک لائرز مومنٹ کے مرکزی صدر چوہدری خالد فاروق،سپریم کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری اسد منظور بٹ ،اسلامک لائرز مومنٹ کے صوبائی صدر خان افضل خان ایڈوکیٹ ،اور اسلامک لائرز مومنٹ کے سابق صدر جسٹس(ر)عالم انصاری نے بھی خطاب کیا۔امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا کہ پاکستان اسلامی وفلاحی معاشرے کے قیام کیلئے بنا تھا اور اس وقت ہمارے اسلاف نے اس ملک کیلئے انگریز سامراج کے خلاف تاریخی جدوجہد کی تھی عجیب اتفاق ہے کیونکہ اس جدوجہد کا منبع بھی وکلاء تھے ،تصور،قیام اورقرارداد مقاصد کی صورت میں اسلامی پٹڑی پر ڈالنے میں پھر آمریت کے چنگل سے ملک کو آزادکرنے میں وکیل کا ہی نام آتا ہے انہوں نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگو ں کا اس ملک بنانے میں ایک جوہری کردار ہے اس لئے ہم آج یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ وکلاء ہی اس ملک کے مالک اور پاکستان اور وکلاء لازم و ملزوم ہیں ہیں انہوں نے کہا کہ اسلامک لائرزمومنٹ کی تشکیل بھی اس مقصد کیلئے ہوئی تھی کہ وکلاء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے انہیں معاشرے میں وہی اہمیت دی جائے جو انکا حق بھی ہے اور فرض بھی ہے تاکہ وہ مقاصد حاصل کئے جائیں جو مقاصد اس ملک کے قیام کیلئے تھے انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں سالانہ 4 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے اس کرپشن کی وجہ سے آج ملک کے عوام مشکلات کے شکار ہیں ،بجلی ،گیس اور تیل اور کوئلہ پیدا کرنے والا ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے سرسبز و شاداب اور مختلف النوع موسموں سے مالامال ملک اناج کی قلت کا شکار ہے اور بیرونی ملکوں سے امداد لینے کا محتاج ہے اتنے سارے وسائل کے باوجود ہماری حکومت آج انڈیا کے ساتھ پیاز آلو اور لبرل ازم کی ڈپلومیسی لگی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اسلامی پاکستان اور خوشحال پاکستان ایک انقلابی وژن ہے اس وژن میں عدل و انصاف کی فوری فراہمی بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور ترقیافتہ اور خود مختار پاکستان بنانا ہے انہوں نے کہا کہ اس اہم اور نتیجہ خیز مرحلے پر بھی ہمیں وکلاء برادری کی اسی جذبے کے ساتھ تعاون درکار ہے جس جذبے سے پاکستان کے تصور ،بنانے ،اسلامی ٹریک پر ڈالنے اور آمریت کے چنگل سے آزاد کرانے میں وکیل کا نام آتا ہے۔