کراچی آپریشن پر مرکز اور سندھ میں چپقلش نیک شگون نہیں ہے ،دونوں فریق اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کریں گے تو مسئلہ حل ہوگا ورنہ اب تک جو کچھ حاصل ہوا وہ بھی خاک میں مل جائے گا۔آپریشن کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

pic jip

لاہور31دسمبر2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن پر مرکز اور سندھ میں چپقلش نیک شگون نہیں ہے ،دونوں فریق اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کریں گے تو مسئلہ حل ہوگا ورنہ اب تک جو کچھ حاصل ہوا وہ بھی خاک میں مل جائے گا۔آپریشن کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس اور منصورہ میں ہونے والی مرکزی تربیت گاہ کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر حافظ محمد ادریس اور حافظ لطیف الرحمن شاہ بھی موجود تھے ۔تربیتی ورکشاپ میں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں غریب لوگ ،غربت اور بے روز گاری کے ہاتھوں پریشان ہوکربچوں سمیت اپنی زندگیوں کا خاتمہ کررہے ہیں ،نوجوان روز گار کے حصول کیلئے انسانی سمگلروں کے جھانسے میں آکر غیر قانونی طریقے سے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں ،جن میں سے اکثر سمندرکی لہروں کی نذر ہوجاتے ہیںاور بعض مغرب اور یورپ کے سرحدی علاقوں اور پاک ایران بارڈر پر سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جن کی لاشیں بھی ان کے گھروں تک نہیں پہنچتیں اور ان کے بچے اور والدین ساری عمر راہ تکتے رہتے ہیں ۔ہزاروں نوجوان گمنامی اور بے بسی کی موت مرجاتے ہیں اور جو بچتے ہیں وہ مختلف ملکوں کی جیلوں میں بند ابتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حکومتی بے حسی انتہا پر پہنچ گئی ہے ، ایک طرف اشرافیہ ہے جو ملک کے تمام وسائل پر قابض ہیں اورانہیں ہڑپ کررہی ہے اور دوسری طرف غریب عوام ہے ،جن پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد کران کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے ۔حکومت ہر سہ ماہی پر آئی ایم ایف اور غیر ملکی اور قومی بنکوںسے اربوں ڈالر قرض لے رہی ہے ،دوسری طرف حکومت ملکی اثاثے اور قومی ادارے کوڑیوں کے بھاﺅ بیچنے پر تیار بیٹھی ہے ،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اپنی انتہائی نچلی سطح پر آگئی ہیں لیکن عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت تیار نظر نہیں آتی،ایک ماہ معمولی کمی کرکے دوسرے ماہ قیمت دوبارہ بڑھا دی جاتی ہے ،سخت سردی میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری اور گیس نایاب ہے ۔یہ ظلم و جبر کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ،قومی اداروں کو یرغمال بنا کر انہیں اپنے ذاتی تصرف میں لانا بدترین کرپشن ہے جس سے ہر حکومت میں شامل لوگوں نے ہاتھ رنگے ہیں۔ملک میں آئین کی پامالی کو ان لوگوں نے وطیرہ بنا رکھا ہے ۔غریب جرم کرے تو اسے بدترین سزا کا مستحق سمجھا جاتا ہے اور اگر وہی جرم کوئی بااثر فرد یا حکومتی اہلکار کرے تو وہ صاف بچ نکلتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے اندر نفرت کا ایک لاوا پک رہا ہے جس دن یہ لاوا ابل پڑا تو بدیانت ٹولے کو بچ نکلنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم ملک سے وی آئی پی اور ہر قسم کے پروٹوکول کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔عوام کے نام نہاد نمائندے عوام کے درمیان آنے کو تیار نہیں ہوتے ،اشرافیہ اور حکمرانوں کے تعلیمی ادارے اورہسپتال الگ ہیں، جبکہ عوام کیلئے تعلیم اور صحت کے اداروں میں ضروری سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں ۔سینکڑوں سرکاری سکول چار دیواری کے بغیر ہیں او رہزاروں میں بیت الخلاءتک کی سہولت نہیں ،جبکہ سرکاری ہسپتالوںمیں غریب مریضوں معمولی دوائیں بھی بازار سے خرید کرلانا پڑتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے قومی صحت پروگرام کا اعلان خوش آئندہے مگراس پر عمل درآمد کیلئے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی ،اور شاید اس پروگرام کا بھی وہی حال ہوگا جو کسان پیکیج کا ہوا ہے ،جس پر کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ 
Advertisements

میری دشمنی جہالت ،غربت اور کرپشن سے ہے ۔قوم پر جہالت ،غربت اور کرپشن مسلط کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔نوجوان پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے میرا ساتھ دیں۔ظالم سرمایہ دار قومی دولت لوٹ کر درجنوں کارخانوں کے مالک بن بیٹھے ہیں اور مزدور کا بیٹا آج بھی تعلیم صحت اور روز گار سے محروم ہے ۔سینیٹر سراج الحق کا کنونشن سینٹراسلام آباد میں جماعت اسلامی یوتھ ونگ کنونشن سے خطاب

JI 0

  لاہور27دسمبر2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ میری دشمنی جہالت ،غربت اور کرپشن سے ہے ۔قوم پر جہالت ،غربت اور کرپشن مسلط کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔نوجوان پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے میرا ساتھ دیں۔ظالم سرمایہ دار قومی دولت لوٹ کر درجنوں کارخانوں کے مالک بن بیٹھے ہیں اور مزدور کا بیٹا آج بھی تعلیم صحت اور روز گار سے محروم ہے ۔قوم سے غداری کے عوض جاگیریں لینے والوں کی جاگیریں ضبط کرکے غریب کاشتکاروں اور کسانوں میں تقسیم کریں گے ۔ میرٹ کے قتل عام سے قوم کے ذہین نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجودبے روز گار اور حکمرانوں کے نااہل شہزادے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں ۔جس کی جیب میں پاکستان کا شناختی کارڈ ہے وہ ہماری نظر میں وی آئی پی ہے ۔ملک سے اسٹیٹس کو ،اور وی آئی پی سسٹم کا خاتمہ ہماری جدوجہد کا مرکزی نقطہ ہے ۔جنوری میں کرپشن کے خلاف بڑی تحریک کا آغاز کریں گے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے زیر اہتمام کنونشن سینٹراسلام آباد میں نوجوانوں کے بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔یوتھ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم اور صدر جماعت اسلامی یوتھ زبیر احمد گوندل نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قوم کے اصل مجرم وہ حکمران ہیںجنہوں نے ملک و قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے غلام بنایا ہے ۔ملکی اقتدار پر قابض رہنے والوں نے68سال میں پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ،ان کی کرپشن کے اربوں ڈالر بیرونی بنکوں میں پڑے ہیں اور میرے ملک کا نوجوان بیروز گاری کی چکی میں پس رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملت سے غداری کرکے انگریز سے جاگیریں حاصل کرنے والوں کی تیسری نسل عوام کی گردنوں پر سوار ہے ،انہیں صرف اپنے جاہ و جلال اور پروٹوکول سے غرض ہے ۔ وی آئی پی کلچرنے عام آدمی کی زندگی اجیرن کررکھی ہے ۔معصوم بچے سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں اور ملک کی ظالم اشرافیہ بے حسی کی آخری حد کراس کرچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹس کو ،کی حامی قوتیں عوام کے خلاف متحد ہوچکی ہیں اور اپنے اسٹیٹس کو کے تحفظ کیلئے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں مگر ہم نے بھی تہیہ کرلیا ہے کہ ان قوتوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور جب تک پاکستان کو ان کے پنجہ استبداد سے آزاد نہیں کروالیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ایٹمی پاکستان کو گداگربنا کر قومی وقار کو صیہونی ساہو کاروں کے ہاتھ فروخت کردیا ہے ۔آج قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے اور قرضے لینے والے عالی شان محلوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد میں لاکھوں شہداءکا خون ہے ۔ کلمہ کے نام پر اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے خاندان پسماندگی اور بے چارگی کی زندگی کزارنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں جبکہ قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب تک اس ظلم و جبر کا خاتمہ نہیں ہوجاتا ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بیش بہا قدرتی خزانوں سے مالا مال کررکھا ہے مگر حکمران ہاتھ ہلانے والے نہیں ہاتھ پھیلانے والے ہیں اس لئے آج خو دانحصاری کا قابل عزت رستہ اپنانے کی بجائے قرضوںپر گزارہ کررہے ہیں ۔پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اپنے وقار کا دفاع کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہماری وقعت نہیں ۔  

رینجرز اختیارات پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو تنازعہ کھڑا نہیں کرنا چاہئے ۔رینجرز کے حوالے سے شرائط سے خود سندھ حکومت کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے ۔گورنر راج لگا تو یہ صرف سندھ تک محدود نہیں رہے گا۔عوام کسی غیر جمہوری اقدام کو قبول نہیں کریں گے ۔سینیٹر سراج الحق

23.12.15 Siraj ul haq123

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ رینجرز اختیارات پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو تنازعہ کھڑا نہیں کرنا چاہئے ۔رینجرز کے حوالے سے شرائط سے خود سندھ حکومت کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے ۔گورنر راج لگا تو یہ صرف سندھ تک محدود نہیں رہے گا۔عوام کسی غیر جمہوری اقدام کو قبول نہیں کریں گے ۔ حکومت کو تمام جماعتوں نے دہشت گردی کے خاتمہ کا مینڈیٹ دیا تھا مگر حکومت اپنے مینڈیٹ پر پورا نہیں اتر سکی ۔مسلح دہشت گردی معاشی دہشت گردی کی پیداوار ہے ۔حکومت قوم کو بتائے کہ ایک سال میں اس نے سیاسی معاشی اور اخلاقی دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے کیا کیا ہے ۔حکومت کو اپنا احتساب کرنا چاہئے ۔ان خیالات اظہار انہوں نے منصورہ ہسپتال کے 33ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ہسپتال کے نگر ان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،ایم ایس ڈاکٹر محمد انوار بگوی اور پورا عملہ بھی موجودتھا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جو حکومت اپنے شہریوں کو صحت اور تعلیم کی سہولت نہ دے سکے اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔آئین کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں مہیا کی جائیں ۔منصورہ ہسپتال مشنری ہسپتال ہے جہاں افغان مہاجرین کا مفت علاج شروع کیا گیا اور آج لاہور کی غریب آبادیوں کے ہزاروں لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں 98 فیصد لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں ۔ چلڈرن ہسپتال سمیت لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں گزشتہ ہفتہ میں 38بچے ٹیکے اور وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ۔لاہور کے ہسپتالوں کا یہ حال ہے تو پھر پنجاب کے دور دراز شہروں کے ہسپتالوں کا کیا حال ہوگا۔اورنج لائن ٹرین پر 200ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔وزیر آباد کا کارڈیالوجی ہسپتال 7سالوں سے آپریشنل نہیں ہوسکا۔لاہور میں میو ہسپتال کا سرجیکل ٹاور ساڑھے سات سالوں میں آپریشنل نہیں ہوسکا۔پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال میں دل کے مریضوں کو آپریشن کیلئے 9تا 10ماہ کی تاریخ دے دی جاتی ہے اور مریض تاریخ ملنے کے اگلے دن انتقال کرجاتا ہے ۔ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں بھی ادویات باہر سے منگوانے کیلئے کہا جاتا ہے ۔وزیروں کے دانت کے علاج پر بیرون ملک 36لاکھ روپیہ خرچ کردیاجا تا ہے اور غریب کوسرکاری ہسپتالوں سے ڈسپرین تک نہیں ملتی۔ہماری حکومت آئی تو سرکاری ہسپتالوں میں غریب کا مفت علاج ہوگااور کینسر ،یرقان ،دل اور گردے کی بیماری اور بچوں کی تھیلیسیمیا سمیت پانچ بڑی بیماریوں کا علاج مفت کریں گے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جنوری میں مالی اور سیاسی کرپشن کے خلاف بڑی تحریک شروع کریں گے ۔ملک سے غربت ،مہنگائی ،جہالت اور بے روز گاری کے خاتمہ کیلئے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ۔عوام اپنا انتخابی رویہ بدلیں اور بار بار سانپوں اور بچھوؤں کو دودھ پلانے اور چوروں اور لٹیروں کو گردنوں پر سوار کرنے کے بجائے دیانتدار قیادت کا انتخاب کریں ۔انہوں نے کہا کہ عوام اپنے ووٹ سے کرپٹ حکمرانوں کا احتساب کریں ۔ایم کیو ایم کے نامزد میئر پر قتل سمیت مختلف پرچوں اور رینجرز کی طرف سے پچاس کروڑ روپے ہرجانے کے دعویٰ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ سیاست اورجرائم کو الگ ہونا چاہئے ،غیر جمہوری طریقوں سے نفرتیں پھیلتی ہیں ،ہم کسی بھی غیر جمہوری راستے کے حق میں نہیں ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کراچی کے شہریوں نے ووٹ دیئے ہیں اب انہیں اختیارات سے محروم رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہوگی ۔ کراچی میں پولیس اور سویلین عدالتوں کی ناکامی کے بعد امن کی بحالی کیلئے رینجرز کو طلب کیا گیا ۔رینجرز نے ایک سال کے اندر امن بحال کردیا مگر آج اس کے راستے میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں ۔سراج الحق نے کہا کہ وفاق اورسندھ کی حکومتوں کو اپنی خراب کارکردگی کے الزام سے بچنے کا شاید اور کوئی طریقہ نظر نہیں آیا اور انہوں نے رینجرز آپریشن پر سیاست شروع کردی ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے منصورہ ہسپتال کے سٹاف میں تعریفی اسناد اور نقد انعامات بھی تقسیم کئے اوردو عمرہ ٹکٹوں کے قرعہ اندازی بھی کی ۔ ڈاکٹر زلیخہ اور ڈاکٹر مشتاق احمد کے نام قرعہ اندازی میں نکلے۔ امیر جماعت اسلامی نے دونوں خوش نصیبوں کو مبارک باد دی ۔

 چیف جسٹس اور عوام بری حکمرانی پر پریشان ہیں، حکمرانوںنے سب اچھا کی رٹ لگا رکھی ہے سینیٹر سراج الحق کی جماعت اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو

pic sirajul haq-

لاہور14دسمبر 2015
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ چیف جسٹس اور عوام بری حکمرانی پر پریشان ہیں۔ آئی ایس پی آربھی حکمرانوں کو توجہ دلاچکا ہے مگراس کے باوجود حکمرانوںنے سب اچھا کی رٹ لگا رکھی ہے ۔انتظامی طور پر حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔نیب کے خلاف پیپلز پارٹی کی شکایت دور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ نیب کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف بھی آزادانہ کاروائی کا موقع دیا جائے اور صفائی کا عمل اسلام آباد سے شروع کیا جائے۔ اسٹیٹس کو کے غلام تبدیلی کی بات سن کر سیخ پاہوجاتے ہیں ،علامہ اقبال ؒاورقائداعظم ؒ کے پاکستان کو دریابرد کردیا گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس اور منصورہ میں جاری پانچ روزہ تربیت گاہ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ گزشتہ چالیس سال سے اقتدار پر مسلط پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے ایک بار پھر 90کی دہائی کی سیاست شروع کردی ہے اور عوام کو دھوکہ دینے کیلئے ایک دوسرے پر الزامات کے تابڑ توڑ حملے کئے جارہے ہیں مگر عوام جان چکے ہیں کہ یہ مصنوعی لڑائی اور عوام کو فریب دینے کا دونوں جماعتوں کا آزمودہ نسخہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کا احتساب نہیں چاہتیں بلکہ ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ دیتی ہیں لیکن جب کوئی ادارہ ان کے گلے میں رسی ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو الزامات کو سیاسی انتقام کا نام دیدیا جاتا ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے واویلہ شروع کردیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چور چور کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتا ،یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کا اپنا دامن ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہو ۔انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے سینکڑوں لوگوں پر کرپشن کے مختلف الزامات ہیں مگر وہی لوگ بار بار اسمبلیوں اور سینیٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضوں کی ادائیگی قومی خزانے سے نہیںحکومتوں میں رہنے والوں کے بیرونی بنکوں میں موجود اکاﺅنٹس سے کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے سینکڑوں ارب ڈالر کا سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا گیا ہے۔حکمران اپنی دولت بیرونی بنکوں سے قومی بنکوں میں لانے پر تیار نہیں ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اقتدار سے علیحدگی پر پکڑے جانے کا خوف ہے ، انہیں ملک کی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے سے کوئی غرض نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام تعلیم ،صحت ،روز گار اور چھت جیسی بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی سے سخت پریشان ہیں ،بجلی اور گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیر ن کردی ہے ۔دنیابھر میں تیل کی قیمتیں اپنی انتہائی نچلی سطح پر آگئی ہیں مگر پاکستان میں نہ صرف قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی بلکہ عوام پر 40ارب ڈالر کا ٹیکسوں کا کوہ ہمالیہ لاد دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑے چوروں نے چوری کو عام کیا ہے جس سے دس بیس کروڑ کے فراڈ کو معمولی قرار دیکر نظر انداز کردیا جاتا ہے جبکہ عام آدمی کو پہلے تو قرضہ ملتا نہیں اور اگر کوئی دوچار لاکھ روپے کا قرضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو بنک اس کا جینا حرام کردیتے ہیں اور کئی گنا سود دینے کے باوجود اس کی گلو خلاصی نہیں ہوتی ۔سراج الحق نے کہا کہ کہ یہ استحصالی اور طبقاتی نظام ہے جس کا عام آدمی گزشتہ 68سال سے اسیر ہے، جب تک ہر شعبہ زندگی میں یکساں نظام رائج نہیں ہوتا یہ ظلم و جبر ختم نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا قبلہ و کعبہ مکہ مکرمہ نہیں، واشنگٹن اور لند ن ہے ،آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے جو احکامات ملتے ہیں حکمران آنکھیں بند کرکے ان پر عمل درآمد کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام کرپٹ اور بدیانت حکمرانوں سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں ۔جب تک بڑے مگر مچھوں کا بے رحم اور کڑااحتساب نہیں ہوتا ملک کی حالت نہیں سدھرے گی ۔  

ریاست ، فوج اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مظالم کا سلسلہ رکوائیں، سینیٹر سراج الحق و دیگر رہنماﺅں کا لاہور میں حسینہ واجد کے مظالم کے خلاف سیمینار سے خطاب

00001
لاہور 13دسمبر 2015 ء
لاہور پریس کلب میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے مظالم کے خلاف اور پھانسیوں کی سزا پانے والے پاکستان کے وفادار وں کے حق میںمنعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ وہ بنگلہ دیش کی جعلی عدالتوں سے سزا پانے والے متحدہ پاکستان کے حامی قائدین اور کارکنان کا مقدمہ لڑنے کے لیے مدعی بنے اور عالمی ادارہ انصاف میں سہ فریقی معاہدہ کو اٹھایا جائے ۔ ریاست ، فوج اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مظالم کا سلسلہ رکوائیں۔یہ مسئلہ صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ اٹھارہ کروڑ عوام اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی صدارت میں ہونے والے سیمینار سے سینئر صحافی عطاءالرحمن ، سجاد میر ، اکرم چوہدری ، جماعت اسلامی کے ڈائریکٹر امور خارجہ عبدالغفار عزیز ، سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم اور امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ اگر پاکستان عالمی ادارہ انصاف میں بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والوں کا معاملہ اٹھائے تو پورا عالم اسلام پاکستان کے موقف کی حمایت کرے گا ۔ حکومت پھانسی پر لٹکائے جانے والوں کو تو نہیں بچاسکی مگر جو لوگ جیلوں میں بند ہیں اور جنہیں سزائے موت سنائی جاچکی ہے ،ان کو بچانے کے لیے تو آواز بلند کرے ۔ انہوں نے کہاکہ 25 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے اور 25 ہزار سے زائد کارکنان جیلوں میں بند ہیں ۔ وہ ہزاروں نوجوان بھی قید ہیں جو 1971 ءمیں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں میں اگر کوئی غیرت و حمیت ہوتی تو وہ پہلی پھانسی کے موقع پر ہی اس کے خلاف عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش کرتے مگر افسوس ہے کہ اسلام آباد کا ضمیر مردہ ہوچکاہے اور اب ان میں زندگی کی کوئی رمق نظر نہیں آتی ۔ انہوں نے کہاکہ مودی نے ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر اعتراف جرم کیاتھا کہ اس نے پاکستان کو توڑنے کی جنگ میں حصہ لیا تھا اس کو بنیاد بنا یا جاسکتا ہے ۔ حسینہ واجد آج ان لوگوں کو تختہ دار پر لٹکا رہی ہے جو بنگلہ دیش کو بھارت کی کالونی بنائے جانے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
سراج الحق نے کہاکہ میری آواز اسلام آباد کے قبرستان میں دب کر رہ گئی ہے ۔ شیر چڑیا گھر کا شیرثابت ہورہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن مودی سے عشق کی بجائے ملک و قوم سے محبت اور وفاداری کا ثبوت دے ، دہلی کے سامنے جھکنے کی بجائے جرا ¿ت کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ نہ صرف بھارت کے 20 کروڑ سے زائد مسلمان پاکستان کو ایک باوقار اور جرا ¿ت مند اسلامی پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک نیپال ، سری لنکا اور بھوٹان بھی بھارت سے اپنی آزادی اور خود مختاری کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن پاکستان کھڑا ہونے کی بجائے مودی کے قدموں پر جھکا ہواہے اور حکمران ذہنی طور پر بھارتی بالادستی قبول کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بناناچاہتاہے تاکہ وہ ایک طرف پاکستان کو اپنی غلامی پر مجبور اور دوسری طرف چین پر دباﺅ ڈال سکے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران آزادی اور خود مختاری کا سبق بھول چکے ہیں ۔ حکمران نہیں جانتے کہ دشمن کے سامنے جھکنے سے نہ تو عزت ملتی ہے اور نہ زندگی ۔ انہوں نے قومی میڈیا سے بھی گلہ کیا کہ وہ پاکستان کے وفاداروں اور نظریہ پاکستان پر جانیں نچھاور کرنے والوں کو اتنی اہمیت بھی نہیں دے رہا جتنی کسی ماڈل ملزمہ کو دیتا ہے ۔ 
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سجاد میرنے کہاکہ بھارت میں مودی کی انتہا پسندی کے خلاف بڑے بڑے ہندو دانشوروں نے بھی اپنے اعزازت واپس کر دیے ہیں مگر ہمارے ہاں کچھ لوگ آج بھی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ آج اگر وارث میر زندہ ہوتے تو وہ بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد سے ایوارڈ لینا اپنی توہین سمجھتے ۔ انہوںنے کہاکہ حامد میر کو حسینہ واجد سے ملنے والا ایوارڈ واپس کر کے قومی عزت کا ثبوت دیناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست فوج اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مظالم کا سلسلہ رکوائیں ۔ سینئر صحافی عطاءالرحمن نے کہاکہ بنگلہ دیش میں تختہ دار پر چڑھنے والوں نے ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کیاہے ۔ چالیس سال قبل جنہوں نے پاکستان کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کیں وہ آج بھی اپنی زندگیاں نچھاور کر رہے ہیں ۔ حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا جماعت اسلامی کے عمر رسیدہ بزرگوں کو سہنا پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں نے بنگلہ دیش میں اپنے خیر خواہوں کو تنہا چھوڑ کر ملک کے دفاع کا حق ادا نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ سراج الحق پاکستان کے تحفظ ، نظریاتی تشخص ، اسلام اور جمہوریت کی بقا کے لیے پوری قوم کی طرف سے کفارہ ادا کررہے ہیں ۔

پشاور یونیورسٹی میں دس ہزار طلباء وطالبات نے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بنے کا عہد کیا اور حلف اٹھالیا۔ سراج الحق نے مستحق طلبہ وطالبات کے تعلیم جاری رکھنے کیلئے ایک ملین روپے کا اعلان کردیا۔

S2

پشاور10دسمبر 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مسائل فریادوں اور سسکیوں سے نہیں اقتدار پر مسلط ظالم جاگیرداروں ،سرمایہ داروں اور وڈیروں کے خلاف اٹھنے سے حل ہونگے ۔قومی خزانہ لوٹنے والے ایوانوں میں بیٹھے ہیں ۔حکمران لوٹ مار اور کرپشن کے سپیشلسٹ ہیں ۔بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود عام آدمی تعلیم ،صحت ،روز گار اور چھت سے محروم ہے اور بے حس حکمرانوں نے ہماری آئندہ نسلوں کو بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی میں جکڑ دیا ہے ۔پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ دفاع کے بعدسے زیادہ بجٹ تعلیم پر خرچ ہو۔حکمران جان بوجھ کر عوام کو جہالت کے اندھیروں میں رکھنا چاہتے تاکہ ان کے اقتدار کو کوئی چیلنج نہ کرسکے ۔آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر پالیسیاں بنانے والوں نے ثابت کردیا ہے کہ انہیں ملک وقوم کی بجائے صیہونی اداروں کے مفادات کا تحفظ زیادہ عزیز ہے ۔اسلام آباد میں بیٹھی ظالم اشرافیہ عوام کی پریشانیوں اور دکھوں کی اصل ذمہ دار ہے جو بیرونی اشاروں پر ان کا معاشی قتل عام کررہی ہے ۔شہریوں کو تعلیم ،صحت ،روزگار اور چھت مہیا کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے میں حکمران ناکام ہوچکے ہیں ۔عوام اپنا انتخابی رویہ بدلیں اور جبر کے اس نظام سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ہمارے دور میں صدر اور وزیر اعظم نہیں عام آدمی وی آئی پی ہوگا۔سالانہ ہونے والی چار ہزارارب روپے کی کرپشن اور غیر ترقیاتی اخراجات کو ختم کرکے اور بیرونی بنکوں میں پڑی قومی دولت ملک میں لاکر عوام کی بنیادی ضروریات پر خرچ کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام منعقدہ ٹیلنٹ ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں پشاور یونیورسٹی سمیت تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔اس موقع پر دس ہزار طلبہ و طالبات نے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بننے کا عہد کیا اور حلف اٹھایا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان ،ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان زبیر احمد ،صوبائی ناظم شاہ زمان خان درانی نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مستحق طلباء کے تعلیم جاری رکھنے کیلئے ایک ملین روپے کا اعلان بھی کیا ،اور ذہین طلباء و طالبات میں ایوارڈ تقسیم کئے،
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جس طرح فوج ملک میں امن کے قیام اور سرحدوں کے دفاع کیلئے جہاد کررہی ہے اسی طرح جمعیت جہالت کے خلاف جہاد کرکے ملک کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنا رہی ہے ۔پاکستان کے لیے جینا بہترین زندگی اور اس پر جان قربان کرنا اعلیٰ ترین شہادت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں جس سے قوم کے اتحاد اور یکجہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے اور عوام مختلف گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا اور عوام نے ہماراانتخاب کیا تو سب سے پہلے یکساں نظام اور نصاب تعلیم رائج کریں گے ،انہوں نے کہا کہ دولت کے پجاریوں نے معصوم بچوں کو بھی مال اور دولت کی بنیاد پر تقسیم کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک تعلیم کے وفاقی اورصوبائی وزراء کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہونگے سرکاری سکولوں اور کالجوں کی حالت نہیں سدھرے گی ۔انہوں نے کہا کہ ملک کا اصل سرمایہ طلبہ ہیں ۔
سراج الحق نے کہا کہ ہمیں امریکہ یا برطانیہ سے نہیں اللہ اور رسول ﷺ سے راہنمائی کے مطابق اپنا نظام تعلیم بنانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایک صوبے میں امریکی اور دوسرے میں برطانوی ماہر تعلیم لاکر بٹھا دیا گیا ہے جو ہماری آئندہ نسلوں کو اسلام سے دور کررہے ہیں اور ہمارے ہیروز کے کارنامے نصاب تعلیم سے نکال کر ناچ گانے اور مخرب اخلاق فلموں کی کہانیاں شامل کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کواسلامی تہذیب و تمدن سے دورکرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کے بعد ایک انسان لٹیرااور ڈاکو بن جائے اور اپنے ہی لوگوں کو دھوکہ اور فریب دینے کو اپنی کامیابی سمجھتا ہو۔ہم ایسا نظام تعلیم چاہتے ہیں جس میں ایک اچھا ڈاکٹر اور سائنسدان ایک اچھا مسلمان بھی ہو ،اس لئے ہم دینی مدارس اور کالجز اور یونیوسٹیوں میں ایک نصاب رائج کریں گے تاکہ ملت کو متحارب گروپوں میں تقسیم کرنے کے اسلام مخالف قوتوں کے عزائم کو ناکام بناسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنا ن سینیٹ ،قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبر اور کراچی جیسے بڑے شہر کے میئر اور ناظم رہے مگر ان کے دامن پر کرپشن کا ایک بھی داغ تلاش نہیں کیا جاسکا ،اس لئے کہ ان کی تربیت جمعیت جیسی منظم اور اللہ کی رضا اور خوشنودی کیلئے کام کرنے والی تنظیم نے کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں اسلامی جمعیت طلبہ نے دیں ۔آج بھی بنگلہ دیش میں اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلیٰ مطیع الرحمن نظامی جیل میں بند ہیں اور کئی سابق ذمہ داران کو پھانیسوں پر لٹکایا گیا ہے ۔ملک و ملت کیلئے اس سے بڑی قربانی کیا ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت پسندی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہے کہ بانی جماعت سید مودودیؒ سمیت ہمارے سابق امرائے جماعت میاں طفیل محمد ،قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کے بیٹے جماعت کے امیر نہیں ہے