Gallery

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے فاٹا کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے احتجاجی دھرنے کیمپ کا دورہ اور خطاب

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے فاٹا کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے احتجاجی دھرنے کیمپ کا دورہ اور خطاب،سراج الحق نے پریس کلب کے باہر سندھ سے آئے مظلوم خاندانوں اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کی خواتین اساتذہ کے احتجاجی کیمپ کا بھی دورہ کیا ،امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر آل ٹیچر ایسوسی ایشن فاٹا کے زیر اہتمام اساتذہ کے اپ گریڈیشن کے نوٹیفیکیشن جاری نہ کرنے کے خلاف گذشتہ تین روز سے لگائے گئے احتجاجی دھرنے کیمپ کا دورہ کیا اور دھرنے میں بیٹھے سیکڑوں اساتذہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اپ گریڈیشن کا مسئلہ سینیٹ میں اٹھانے کا اعلان کیا اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے وہاں پر اسلام آبادکے نظامت تعلیم کے ڈیلی ویجز خواتین اساتذہ کے احتجاجی کیمپ کا بھی دورہ کیا اور اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے لگائے گئے احتجاجی کیمپوں پر حکام کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا اس موقع پر اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک میں تعلیم کا یہ حال کردیا گیا ہے کہ حکمران دیہاڑی پر اساتذہ کی بھرتیاں کرتے ہیں جب اسلام آباد میں تعلیم کا یہ حال ہے تو پھر ملک کے باقی حصوں کا تو انتہائی ابتر صورتحال ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے سیکڑوں اساتذہ گذشتہ تین سال سے اپنے قبائلی علاقوں میں اپ گریڈیشن کیلئے احتجا ج کررہے ہیں اور اب گذشتہ تین دن سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا لگائے بیٹھے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ گونگے بہرے حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگی وہ ٹھس سے مس نہیں ہوئے انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے سرکاری ملازمین کے اپ گریڈیشن کے مسئلے کا فوری طور پر حل نکالیں اور یہ حل مستقل ہونا چاہئے ہم تعلیم پر کوئی سمجھوتے کیلئے تیار نہیں،تعلیم کو مزاق نہ بنایا جائے اور تعلیمی نظام اور خاص کر قبائلی علاقوں کے تعلیمی ادارے اور اساتذہ جوکہ پہلے سے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں کے مسائل فوری حل کئے جائیں انہوں نے کہا کہ فاٹا جب وفاق کے زیر انتظام ہے تو پھر وہاں کے اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کو بھی وفاقی ملازمین کا درجہ اور مراعات دئے جائیں تاکہ ملکی ترقی کے حوالے کام کرنے والے اداروں خصوصا اساتذہ یکسوئی کے ساتھ کام بھی کرسکیں اور ایک طرف ہوجائیں اب تو ان امتیازی قوانین کی وجہ سے فاٹا کے عوام ذلت و رسوائی کے شکار ہیں۔انہوں نے اساتذہ اور مظلوم سندھی خاندانوں کو یقین دلایاکہ وہ انکا مسئلہ سینیٹ میں اٹھائینگے ۔

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s