پشاور یونیورسٹی میں دس ہزار طلباء وطالبات نے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بنے کا عہد کیا اور حلف اٹھالیا۔ سراج الحق نے مستحق طلبہ وطالبات کے تعلیم جاری رکھنے کیلئے ایک ملین روپے کا اعلان کردیا۔

S2

پشاور10دسمبر 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مسائل فریادوں اور سسکیوں سے نہیں اقتدار پر مسلط ظالم جاگیرداروں ،سرمایہ داروں اور وڈیروں کے خلاف اٹھنے سے حل ہونگے ۔قومی خزانہ لوٹنے والے ایوانوں میں بیٹھے ہیں ۔حکمران لوٹ مار اور کرپشن کے سپیشلسٹ ہیں ۔بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود عام آدمی تعلیم ،صحت ،روز گار اور چھت سے محروم ہے اور بے حس حکمرانوں نے ہماری آئندہ نسلوں کو بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی میں جکڑ دیا ہے ۔پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ دفاع کے بعدسے زیادہ بجٹ تعلیم پر خرچ ہو۔حکمران جان بوجھ کر عوام کو جہالت کے اندھیروں میں رکھنا چاہتے تاکہ ان کے اقتدار کو کوئی چیلنج نہ کرسکے ۔آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر پالیسیاں بنانے والوں نے ثابت کردیا ہے کہ انہیں ملک وقوم کی بجائے صیہونی اداروں کے مفادات کا تحفظ زیادہ عزیز ہے ۔اسلام آباد میں بیٹھی ظالم اشرافیہ عوام کی پریشانیوں اور دکھوں کی اصل ذمہ دار ہے جو بیرونی اشاروں پر ان کا معاشی قتل عام کررہی ہے ۔شہریوں کو تعلیم ،صحت ،روزگار اور چھت مہیا کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے میں حکمران ناکام ہوچکے ہیں ۔عوام اپنا انتخابی رویہ بدلیں اور جبر کے اس نظام سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ہمارے دور میں صدر اور وزیر اعظم نہیں عام آدمی وی آئی پی ہوگا۔سالانہ ہونے والی چار ہزارارب روپے کی کرپشن اور غیر ترقیاتی اخراجات کو ختم کرکے اور بیرونی بنکوں میں پڑی قومی دولت ملک میں لاکر عوام کی بنیادی ضروریات پر خرچ کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام منعقدہ ٹیلنٹ ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں پشاور یونیورسٹی سمیت تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔اس موقع پر دس ہزار طلبہ و طالبات نے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بننے کا عہد کیا اور حلف اٹھایا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان ،ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان زبیر احمد ،صوبائی ناظم شاہ زمان خان درانی نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مستحق طلباء کے تعلیم جاری رکھنے کیلئے ایک ملین روپے کا اعلان بھی کیا ،اور ذہین طلباء و طالبات میں ایوارڈ تقسیم کئے،
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جس طرح فوج ملک میں امن کے قیام اور سرحدوں کے دفاع کیلئے جہاد کررہی ہے اسی طرح جمعیت جہالت کے خلاف جہاد کرکے ملک کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنا رہی ہے ۔پاکستان کے لیے جینا بہترین زندگی اور اس پر جان قربان کرنا اعلیٰ ترین شہادت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں جس سے قوم کے اتحاد اور یکجہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے اور عوام مختلف گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا اور عوام نے ہماراانتخاب کیا تو سب سے پہلے یکساں نظام اور نصاب تعلیم رائج کریں گے ،انہوں نے کہا کہ دولت کے پجاریوں نے معصوم بچوں کو بھی مال اور دولت کی بنیاد پر تقسیم کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک تعلیم کے وفاقی اورصوبائی وزراء کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہونگے سرکاری سکولوں اور کالجوں کی حالت نہیں سدھرے گی ۔انہوں نے کہا کہ ملک کا اصل سرمایہ طلبہ ہیں ۔
سراج الحق نے کہا کہ ہمیں امریکہ یا برطانیہ سے نہیں اللہ اور رسول ﷺ سے راہنمائی کے مطابق اپنا نظام تعلیم بنانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایک صوبے میں امریکی اور دوسرے میں برطانوی ماہر تعلیم لاکر بٹھا دیا گیا ہے جو ہماری آئندہ نسلوں کو اسلام سے دور کررہے ہیں اور ہمارے ہیروز کے کارنامے نصاب تعلیم سے نکال کر ناچ گانے اور مخرب اخلاق فلموں کی کہانیاں شامل کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کواسلامی تہذیب و تمدن سے دورکرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کے بعد ایک انسان لٹیرااور ڈاکو بن جائے اور اپنے ہی لوگوں کو دھوکہ اور فریب دینے کو اپنی کامیابی سمجھتا ہو۔ہم ایسا نظام تعلیم چاہتے ہیں جس میں ایک اچھا ڈاکٹر اور سائنسدان ایک اچھا مسلمان بھی ہو ،اس لئے ہم دینی مدارس اور کالجز اور یونیوسٹیوں میں ایک نصاب رائج کریں گے تاکہ ملت کو متحارب گروپوں میں تقسیم کرنے کے اسلام مخالف قوتوں کے عزائم کو ناکام بناسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنا ن سینیٹ ،قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبر اور کراچی جیسے بڑے شہر کے میئر اور ناظم رہے مگر ان کے دامن پر کرپشن کا ایک بھی داغ تلاش نہیں کیا جاسکا ،اس لئے کہ ان کی تربیت جمعیت جیسی منظم اور اللہ کی رضا اور خوشنودی کیلئے کام کرنے والی تنظیم نے کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں اسلامی جمعیت طلبہ نے دیں ۔آج بھی بنگلہ دیش میں اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلیٰ مطیع الرحمن نظامی جیل میں بند ہیں اور کئی سابق ذمہ داران کو پھانیسوں پر لٹکایا گیا ہے ۔ملک و ملت کیلئے اس سے بڑی قربانی کیا ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت پسندی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہے کہ بانی جماعت سید مودودیؒ سمیت ہمارے سابق امرائے جماعت میاں طفیل محمد ،قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کے بیٹے جماعت کے امیر نہیں ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s