حکومت پٹرول کی قیمتوں میں حقیقی کمی کرے ( سینیٹر سراج الحق )

ppp

لاہور31جنوری2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں انتہائی کم سطح پر آ گئی ہیں ۔ فی بیرل 23 ڈالر تک پٹرولیم مصنوعات فروخت ہورہی ہیں لیکن وزیراعظم نے اوگرا کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے صرف 5 روپے فی لٹر قیمت کم کی ہے اس لحاظ سے حکومت پٹرول کی تین گنا قیمت وصول کر رہی ہے ۔ یہ انتہائی ظلم و زیادتی ہے ۔ حقیقی اپوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے حکومت من مانی پر اتر آئی ہے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسجد قبا فیڈرل بی ایریا میں جماعت اسلامی ضلع وسطی کے اجتماع ارکان اور ادارہ نور حق میں حلقہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران کے خصوصی اجلاس سے خطاب اور سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر مرکزی نائب امراءاسد اللہ بھٹو،راشد نسیم ، مرکزی ڈپٹی سکریٹری محمد اصغر ،صوبائی امیر ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی ،صوبائی نائب امیر محمد حسین محنتی ،امیر کراچی ،حافظ نعیم الرحمن ودیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
  سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صرف 5روپے کی کمی کا اعلان صرف عوام کے ساتھ مذاق ہی نہیں بلکہ ظلم وزیادتی ہے ۔ انہوں نے پیٹرول قیمتوں میں نہ ہونے کے برابر کمی پر گہری تشویش کا اظہار اورحکومت کی عوام دشمنی پر مبنی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا نے قیمتوں میں کمی کی تقریباً 11روپے کی سفارش کی تھی اور یہ کمی بھی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے تناسب سے بہت کم ہے کیونکہ تیل کی قیمت گزشتہ 15سال کی کم ترین سطح پر آچکی ہے لیکن وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے عوام دشمن مشیروں کی سفارشات پر عمل کیا اور اوگرا کی سفارش کو بھی مسترد کر کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ حکمران طبقے کو عوام کی مشکلات وپریشانیوں اور مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ا نہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام اسلام سے گہری اور والہانہ وابستگی رکھتے ہیں ۔ملک میں سیکولرازم کو پروان چڑھانے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔مارچ میں سود،کرپشن اور اسٹیٹس کو کے خلاف بھر پور مہم شروع کریں گے۔جماعت اسلامی آئینی اور جمہوری طریقوں کے مطابق تبدیلی کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے ۔2018ملک میں الیکشن اور تبدیلی کا سال ہوگا ۔کارکنا ن،ارکان اور ذمہ داران بھرپور طریقے سے الیکشن کی تیاری شروع کردیں۔کراچی باصلاحیت افرادی قوت کا حامل شہر ہے۔ جماعت اسلامی کا اسلامی اور فلاحی ایجنڈا ہی کراچی کے مسائل کا حل اور عوام کے دکھوں کا مداوا بن سکتا ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کراچی کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنے ایجنڈے کو عوام کے سامنے پیش کریں ۔عبد الستار افغانی اورنعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے اربوں روپے کے بجٹ کو کرپشن فری طریقے سے کراچی کی تعمیر و ترقی پر لگایا تھا اور خدمت اور دیانت کی اعلیٰ مثال قائم کی تھی ۔عوام کی خادم اوردیانت دار قیادت ہی کراچی کے عوام کے مسائل حل کرسکتی ہے ۔انہو ں نے کہاکہ خواتین کو وراثت سے محروم نہ کیا جائے اور معاشرے میں خواتین کو ان کا جائز مقام ملے ۔ریاست اور حکومت مظلوموں اور بے سہاروں کی مدد گار اور کفیل ہو ۔یہ ہی ہمارا مشن اور وژن ہے اور جماعت اسلامی کا ایجنڈا ہے۔ارکان جماعت اسلامی کی تنظیم اور تحریک میں حیثیت بہت اہم ہے اور ان پر بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔ جماعت اسلامی کے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے ۔دعوت اور تبلیغ کے میدان میں اور عوام سے رابطے اور ان کے مسائل کے
Advertisements

ہمارادشمن بچوں کوٹارگٹ بنارہاہے۔ سراج الحق

OLYMPUS DIGITAL CAMERA
OLYMPUS DIGITAL CAMERA
لاہور29جنوری 2016ء
امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ ہٹلر نے بھی تعلیمی اداروں کو بخش دیا تھامگر ہمارادشمن تعلیمی اداروںاور معصوم بچوں کوٹارگٹ بنارہاہے۔ نیب کادائرہ بڑھناچاہیے اگراس کافائدہ نہیں توختم کردیناچاہیے۔ کرپشن اورپاکستان اب ایک ساتھ نہیں چل سکتے جماعت اسلامی مارچ میں کرپشن کے خلاف ڈبل مارچ کریگی ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل منصورہ سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کااظہارانھوں نے حیدرآبادکے ایک روزہ دورے میں مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے حیدرآبادمیں سندھ ہائی کورٹ بار،صحافیوں کے ساتھ ظہرانے،برادرتنظیموں کے ساتھ نشست ،معززین شہرکے ساتھ عشائیے اور شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کیا۔ نائب امراءجماعت اسلامی پاکستان اسداللہ بھٹوایڈوکیٹ ،راشدنسیم ،امیرجماعت اسلامی سندھ ڈاکٹرمعراج الہدیٰ صدیقی ، صوبائی جنرل سیکریٹری ممتازحسین سہتو،عبدالوحیدقریشی ،عظیم بلوچ،امیرجماعت اسلامی ضلع حیدرآبادحافظ طاہرمجید،ڈاکٹرسیف الرحمن ودیگر رہنماءبھی ان تقاریب میں شریک تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے صحافیوں کو دیئے گئے ظہرانہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد میں حکومت ناکام ہوچکی ہے ،لیکن ہم نہیں چاہتے کہ حکومت اپنی مدت پوری کئے بغیر چلتی بنے اور اسے سیاسی شہادت کاانتظار کئے بغیر عوامی مینڈیٹ پر پورا اترنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ نیب کے کردارکومحدودکرنااورچندمحکموں کورعایت دیکر انہیں چھوڑدیناچوروں اورلٹیروںکی سرپرستی کے مترادف ہے، سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر لوٹ مارکرنے والوں کا بلاامتیاز احتساب ہوناچاہیے اور نیب کو بھی لوٹی گئی قومی دولت کا محض تیس چالیس فی صد وصول کرکے لٹیروںکو کلین چٹ دے دینادرست نہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پیسے کوملک میں لاناچاہیے اگرحکمران نیب سے مطمئن نہیںتواسے ختم کردیں ۔انہوں نے کہا کہ کرپشن معاشرے میں بری طرح سرایت کرچکی ہے اورسیاست تجارت بن گئی ہے، اقتدار کے ایوانوں میں صرف وہی جاسکتاہے جس کے پاس کروڑوں اور اربوں روپے ہیں ،غریب ان ایوانوںمیں جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہونے والے انتخابات میں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کانہیں نوٹوں کامقابلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ اقتدار میں رہنے والی پارٹیاں ہمیشہ ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ دیتی رہی ہیں،اقتدار کے ایوانوں پر قابض نام نہاد سیاسی جماعتیں اسٹیٹس کو کی حامی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمدحکومت کی ذمہ داری ہے جس میں حکومت ناکام نظرآتی ہے، ایکشن پلان پر پولیس کے ذریعے مساجداور مدارس پر ایکشن ہواہے ۔انھوں نے کہاکہ مسلم ممالک کی آپس میں لڑائی کاسوفیصدفائدہ اسرائیل کوہورہاہے، اسلام دشمن قوتیں مسلم ممالک کوآپس میں لڑاکر عالم اسلام کے وسائل ہڑپ کرنے کے درپے ہیں،دشمن نے عالم اسلام کے خلاف تیسری غیراعلانیہ عالمی جنگ شروع کررکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کوآنکھیں کھول اپنے اصل دشمن کو پہچاننا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام میں مسلح جدوجہدحرام ہے،انہوں نے کہا کہ امہ کے جید علماءکا اس پراجماع ہے کہ مسلم تنظیمیں تبدیلی کیلئے دعوت و تبلیغ اور جمہوری راستہ اختیارکرسکتی ہیں۔باچاخان یونی ورسٹی پر حملہ افسوس ناک ہے اللہ کرے یہ آخری حملہ ثابت ہو،انہوں نے کہا کہ پٹھان کوٹ پرحملے کی ازخودتحقیقات کی باتیں کرنااور باچاخان یونی ورسٹی کوبھول جاناوزیراعظم کوزیب نہیں دیتا۔
سینیٹرسراج الحق نے اپنے دورہ حیدر آباد کے دوران مرحوم کارکنان کے گھروں پرجاکران کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

 سانحات کا ازسر نو جائزہ لینے اور قومی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے قومی کمیشن فار ٹروتھ تشکیل دےا جائے ۔ (سینیٹر سراج الحق)

12247109_1087302511288257_5754884491655763417_n

لاہور22جنوری 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ اب تک پیش آنے والے قومی سانحات پر ایک ایسے قومی کمیشن فار ٹروتھ کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا ہے جوان سانحات کا ازسر نو جائزہ لے اور مکمل تحقیق کے بعد سربستہ رازوں سے پردہ اٹھائے او ر قوم کو اعتماد میں لے۔حکومت فوری طور پر بااعتماد لوگوں پر مشتمل یہ قومی کمیشن لیاقت علی خان کی شہادت ،پاکستان کے دولخت ہونے ،ضیاءالحق کے طیارہ حادثے سمیت اوجڑی کیمپ ، لال مسجد آپریشن اورسوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیوجیسے واقعات کے متعلق واضح اور دو ٹوک انداز میں حقائق قوم کے سامنے رکھے ۔ اے پی سی بلا کر حکومت امن کے قیام کیلئے اپنی اب تک کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرے ۔ برسراقتدار رہنے والوں نے عوام کو اندھیرے میں رکھ کراپنے مینڈیٹ کی توہین کی ہے جس سے عوام کے اندر ایک بے چینی اور مایوسی نے جنم لیا ہے ۔جھوٹ اگر ایک فرد کیلئے ناجائز ہے تو وہ حکمرانوں ،سیاستدانوں،میڈیا اور ریاست کیلئے کیسے جائز ہوسکتا ہے ۔ ایکشن پلان کو ایک سال گزر گیا ہے مگر حکومت نے قومی قیادت کے سامنے کئے گئے وعدوں پر ابھی تک عمل درآمد کا آغاز بھی نہیں کیا،۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل کے موقع پر قومی قیادت کے سامنے فاٹا میں اصلاحات لانے ،کریمنل کورٹس میں اصلاحات لانے ،بلوچستان حکومت کو مکمل اختیارات دینے ،مدارس کی رجسٹریشن اور کراچی آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا تھا مگر اب تک کی حکومتی کارکردگی سے حکمرانوں کے سوا کوئی بھی مطمئن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض تھا کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو کو جعلی قرار دیئے جانے کے بعد اس کے پس پردہ مقاصد کو قوم کے سامنے لاتی اور اسلام کو بدنام کرنے کے مکروہ کھیل کے مجرموں کو بے نقاب کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جاتی،اس ویڈیو نے ملکی سیاست اور امن و امان پر بے پناہ اثرات چھوڑے اور عالمی برادری میں پاکستان کی بدنامی ہوئی مگر حکومت نے اتنے بڑے واقعہ پر بالکل چپ سادھ رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر مکتبہ فکر کے علماءکرام کی طر ف سے بار بار مطالبہ کیا جارہا ہے اور درخواستیں بھی دی جارہی ہیں کہ ان کے مدارس کو رجسٹرڈ کیا جائے۔ حکومت آئے روز مدارس اور علماءکرام پر الزامات لگاتی رہتی ہے مگر مدارس کی رجسٹریشن نہیں کی جارہی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نیکٹا بننے کے بعد حکومت نے اب تک اس کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا ۔اگر حکمران اسی طرح ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی پر گامزن رہے تو عوام کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ دشمن ہمارے حال اور مستقبل کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے ،مرکزی و صوبائی حکومتوں اور سیکورٹی اداروں کو مل بیٹھ کر ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینا اور اس پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہئے ۔اسلام دشمن قوتیں عالم اسلام کو انتشار کا شکار کرکے تقسیم کرنا چاہتی ہیں ،عراق ،افغانستان یمن اور شام پر جنگ مسلط ہے جبکہ دشمن کی نظریں پاکستان پر بھی لگی ہوئی ہیں ۔بھارتی وزیر داخلہ کا بیان اس کی ذاتی رائے نہیں تھی بلکہ بھارت کی طرف سے پالیسی بیان تھا ۔بھارت نے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ذہن نشین رکھناچاہئے کہ راہداری منصوبے کو سبو تاژ کرنے کیلئے بھارت تمام حدوں کو پار کرسکتا ہے ۔ سیکورٹی اداروں اور حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ موجودہ چیلنجز سے کیسے عہدہ برآہوتے ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عوام کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ،باچا خان یونیوسٹی اور آرمی پبلک سکول جیسے سانحات ناقابل برداشت ہیں ۔

داعش سے بھی بڑا خطرہ کرپشن ہے ۔باڑ کھیت کو کھا رہی ہے جو ادارہ کرپشن پکڑنے اور تحقیقات کیلئے بنایا ، وہ خود کرپشن میں ملوث پایا گیا ہے اور اس کے آٹھ افسروںکو معطل کرکے ان کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کی خبریں شائع ہورہی ہیں روزانہ ہونے والی 12ارب روپے کی کرپشن پر قابو پالیا جائے تو غربت ،مہنگائی ،بدامنی سمیت اندرونی و بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے ۔سینیٹر سراج الحق

12247109_1087302511288257_5754884491655763417_n

لاہوریکم جنوری2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ داعش سے بھی بڑا خطرہ کرپشن ہے ۔باڑ کھیت کو کھا رہی ہے جو ادارہ کرپشن پکڑنے اور تحقیقات کیلئے بنایا ، وہ خود کرپشن میں ملوث پایا گیا ہے اور اس کے آٹھ افسروںکو معطل کرکے ان کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کی خبریں شائع ہورہی ہیں روزانہ ہونے والی 12ارب روپے کی کرپشن پر قابو پالیا جائے تو غربت ،مہنگائی ،بدامنی سمیت اندرونی و بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے ۔بجلی اور گیس کے محکموں میں 10کھرب سے زیادہ کی کرپشن ہوئی مگر نیب صرف پانچ ارب روپے کی وصولی کرسکا ۔کرپشن روکنے کیلئے کسی ٹینک اور توپ کی نہیں درست معلومات اکٹھی کرکے مجرموں کے خلاف سخت ترین ایکشن لینے کی ضرورت ہے ۔مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپنا آدھے سے زیادہ وقت گزار چکی ہیں مگر ابھی تک عام آدمی کے مسائل کے حل کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔حکومت پاک چین راہداری منصوبے پر چھوٹے صوبوں کے تحفظات دور کرے اور قومی ترقی اور خوشحالی کے اس بڑے منصوبے کو متنازعہ نہ بنایا جائے ۔کراچی آپر یشن پر وفاق اور سندھ کے درمیان انا کا مسئلہ ہے جس سے آپریشن کے ثمرات ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔کرپشن کے خلاف بہت جلد ملک گیر تحریک شروع کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جاری مرکزی مجلس شوری کے سہ روزہ اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں کرپشن کا بازار گرم ہے ۔کرپشن روکنے والے حکومتی اداروں کے ارباب اختیار اپنی ناکامیوں پر مسلسل چیخ چیخ کر روزانہ اربوں روپے کی کرپشن کی نشاندہی کررہے ہیں ، حتیٰ کہ یہ ادارے اپنے اندر ہونے والی کرپشن کو روکنے میں بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں ۔ کرپشن روکنے کیلئے جہاں سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے وہیں قانون بنانے اور اس پر عمل کروانے والوں کو بھی نمونہ بننا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکے ہیں۔جو کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بل دیکھ کر عام آدمی کابلڈ پریشر شوٹ کرجاتا ہے ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پورا انتخابی نظام پیسے نے ہائی جیک کرلیا ہے ۔پارلیمنٹ کی ایک سیٹ جیتنے کیلئے کروڑوں اور اربوں روپے کھلی آزادی سے خرچ کرکے انتخابی قوانین کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔الیکشن کمیشن اگر پہلے سے موجود اپنے قانونی ضابطوں پر عمل درآمد نہیں کرواسکتا تو نئی اصلاحات بھی تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہوجائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کی صدارت کیلئے اربوں روپے کی بولی لگانے کی خبریں چھپ رہی ہیں مگر احتساب کے ادارے ٹس سے مس نہیں ہورہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عالمی طاقتیں افغانستان میں قلم کتاب اور روٹی دینے کی بجائے اسلحہ کے انبار لگارہی ہیں ،پہلے ایک دو کھلاڑی تھے اب پوری عالمی ٹیم افغانستان کے امن کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے افغانستان کے دورے سے دونوں ممالک میں امن کی کوششوں کو تقویت ملے گی اور امید ہے کہ خطے میں قیام امن کیلئے پاک افغان مذاکرات کامیاب ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ اگر افغان طالبان اور افغان حکومت میں مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں پاکستان میں بھی امن ہوگاجو خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بہت سی بیرونی قوتیں پاک چین کوریڈور کو ناکام بنانے کیلئے سرگرم ہوچکی ہیں ،اب حکومت کا امتحان ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے اس بڑے منصوبہ کو تنازعات سے بچا کر کس طرح کامیاب بناتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ راہ داری منصوبے پر چھوٹے صوبوں کے تحفظات کو دور کیا جائے ۔اگر خیبر پختونخواہ کے عوام کہتے ہیں کہ انہیں ایک سڑک نہیں بلکہ انڈسٹریل زونز کی ضرورت ہے تو حکومت کو بھی اپنی ضد چھوڑکرترقی و خوشحالی کے اس سفر میں خیبر پختونخواہ کو بھی شریک سفر کرنا چاہئے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگر سندھ میں گورنر راج لگا تو یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا بلکہ آگے تک جائے گا۔کراچی آپر یشن کو مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی انا کا مسئلہ بنارکھا ہے جس سے کراچی کے شہریوں کو فائدہ کی بجائے نقصان ہورہا ہے اور آپریشن کے ثمرات بھی ضائع ہورہے ہیں