سانحات کا ازسر نو جائزہ لینے اور قومی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے قومی کمیشن فار ٹروتھ تشکیل دےا جائے ۔ (سینیٹر سراج الحق)

12247109_1087302511288257_5754884491655763417_n

لاہور22جنوری 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ اب تک پیش آنے والے قومی سانحات پر ایک ایسے قومی کمیشن فار ٹروتھ کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا ہے جوان سانحات کا ازسر نو جائزہ لے اور مکمل تحقیق کے بعد سربستہ رازوں سے پردہ اٹھائے او ر قوم کو اعتماد میں لے۔حکومت فوری طور پر بااعتماد لوگوں پر مشتمل یہ قومی کمیشن لیاقت علی خان کی شہادت ،پاکستان کے دولخت ہونے ،ضیاءالحق کے طیارہ حادثے سمیت اوجڑی کیمپ ، لال مسجد آپریشن اورسوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیوجیسے واقعات کے متعلق واضح اور دو ٹوک انداز میں حقائق قوم کے سامنے رکھے ۔ اے پی سی بلا کر حکومت امن کے قیام کیلئے اپنی اب تک کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرے ۔ برسراقتدار رہنے والوں نے عوام کو اندھیرے میں رکھ کراپنے مینڈیٹ کی توہین کی ہے جس سے عوام کے اندر ایک بے چینی اور مایوسی نے جنم لیا ہے ۔جھوٹ اگر ایک فرد کیلئے ناجائز ہے تو وہ حکمرانوں ،سیاستدانوں،میڈیا اور ریاست کیلئے کیسے جائز ہوسکتا ہے ۔ ایکشن پلان کو ایک سال گزر گیا ہے مگر حکومت نے قومی قیادت کے سامنے کئے گئے وعدوں پر ابھی تک عمل درآمد کا آغاز بھی نہیں کیا،۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل کے موقع پر قومی قیادت کے سامنے فاٹا میں اصلاحات لانے ،کریمنل کورٹس میں اصلاحات لانے ،بلوچستان حکومت کو مکمل اختیارات دینے ،مدارس کی رجسٹریشن اور کراچی آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا تھا مگر اب تک کی حکومتی کارکردگی سے حکمرانوں کے سوا کوئی بھی مطمئن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض تھا کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو کو جعلی قرار دیئے جانے کے بعد اس کے پس پردہ مقاصد کو قوم کے سامنے لاتی اور اسلام کو بدنام کرنے کے مکروہ کھیل کے مجرموں کو بے نقاب کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جاتی،اس ویڈیو نے ملکی سیاست اور امن و امان پر بے پناہ اثرات چھوڑے اور عالمی برادری میں پاکستان کی بدنامی ہوئی مگر حکومت نے اتنے بڑے واقعہ پر بالکل چپ سادھ رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر مکتبہ فکر کے علماءکرام کی طر ف سے بار بار مطالبہ کیا جارہا ہے اور درخواستیں بھی دی جارہی ہیں کہ ان کے مدارس کو رجسٹرڈ کیا جائے۔ حکومت آئے روز مدارس اور علماءکرام پر الزامات لگاتی رہتی ہے مگر مدارس کی رجسٹریشن نہیں کی جارہی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نیکٹا بننے کے بعد حکومت نے اب تک اس کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا ۔اگر حکمران اسی طرح ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی پر گامزن رہے تو عوام کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ دشمن ہمارے حال اور مستقبل کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے ،مرکزی و صوبائی حکومتوں اور سیکورٹی اداروں کو مل بیٹھ کر ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینا اور اس پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہئے ۔اسلام دشمن قوتیں عالم اسلام کو انتشار کا شکار کرکے تقسیم کرنا چاہتی ہیں ،عراق ،افغانستان یمن اور شام پر جنگ مسلط ہے جبکہ دشمن کی نظریں پاکستان پر بھی لگی ہوئی ہیں ۔بھارتی وزیر داخلہ کا بیان اس کی ذاتی رائے نہیں تھی بلکہ بھارت کی طرف سے پالیسی بیان تھا ۔بھارت نے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ذہن نشین رکھناچاہئے کہ راہداری منصوبے کو سبو تاژ کرنے کیلئے بھارت تمام حدوں کو پار کرسکتا ہے ۔ سیکورٹی اداروں اور حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ موجودہ چیلنجز سے کیسے عہدہ برآہوتے ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عوام کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ،باچا خان یونیوسٹی اور آرمی پبلک سکول جیسے سانحات ناقابل برداشت ہیں ۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s