مسلمان قوم کو اس وقت ایٹم بم سے زیادہ قومی وحدت کی ضرورت ہے ۔ ملک میں صرف مسلح دہشتگردی نہیں ، سیاسی و معاشی دہشتگردی بھی عروج پر ہے ۔ ہم نے کرپشن فری پاکستان کے لیے مہم کا آغاز کر دیاہے ۔ عوام ہمارا ساتھ دیں ۔ سینیٹر سراج الحق

pic sirajul haq 28  2nd

لاہور28 فروری 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مسلمان قوم کو اس وقت ایٹم بم سے زیادہ قومی وحدت کی ضرورت ہے ۔ ملک میں صرف مسلح دہشتگردی نہیں ، سیاسی و معاشی دہشتگردی بھی عروج پر ہے ۔ ہم نے کرپشن فری پاکستان کے لیے مہم کا آغاز کر دیاہے ۔ عوام ہمارا ساتھ دیں ۔ دشمن امت مسلمہ کو زبان ، نسل اور علاقائی تعصب کی بنیاد پر تقسیم کر نا چاہتاہے ۔ اس وقت امت مسلمہ کے اتحاد کی شدید ضرورت ہے ۔ انہوں نے یہ بات ایوان اقبال میں اتحاد امت کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا اہتمام ہدیة الہادی پاکستان لاہور نے کیا تھا ۔ پروگرام کی صدارت سید ہارون گیلانی نے کی ۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق ، سید ہارون گیلانی ، امیر حمزہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مسلمان ممالک میں اس وقت شدید انتشار ہے ۔ لیبیا ، عراق ، شام ، افغانستان ، فلسطین ، کشمیر اور کئی ممالک میں مسلمانوں کا خون ارزاں ہے ۔ ان کا قتل عام ہورہاہے ۔ خود پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے ۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہاہے کہ آئندہ دو عشروں تک ہمارا خطہ ڈسٹرب رہے گا اس سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ استعماری ممالک نے اس خطے کو ڈسٹرب رکھنے اور دہشتگردی میں مبتلا رکھنے کا منصوبہ بنایا ہواہے ۔ انہوں نے کہاکہ استعماری ممالک کا 70 فیصد اسلحہ مسلمان ممالک خریدتے ہیں اور ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ اسلحہ مسلمان ممالک کے آپس میں عوام پر استعمال ہوتاہے اور اسرائیل مزے لے رہاہے ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پنجاب حکومت نے خواتین کے تحفظ کا جو بل منظور کرایاہے ، اسے خود خواتین نے مسترد کر دیاہے ۔ یہ بل ہمارے خاندانی نظام پر قدغن لگانے کے مترادف ہے اس سے ماں ، بہن ، شوہر کے مابین عزت و احترام کے رشتے متاثر ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک تو یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا خاندانی نظام اور تہذیب و تمدن کو تباہ کر دیا جائے ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سب لوگ آئین و قانون کی حکمرانی کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے پہلا آئین تو قرآ ن و سنت ہے اور پھر آئین پاکستان ہے جو 1973 ءمیں متفقہ طور پر بنایا گیا تھا ۔ پھر ہماری تہذیب وتمدن ہے جسے ہم نے ہر حال میں قائم رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1973 ءکے آئین پر عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ اگر اس پر عمل ہوتا تو اتنے بڑے پیمانے پر ملک میں کرپشن نہ ہوتی ۔ کرپشن سے ہی سارے نظام میں خرابیاں ہیں ۔ ملکی وسائل اور قومی خزانے کو حکمرانوں نے بری طرح لوٹا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن پر قابو پالیا جائے تو ہمارے تمام ادارے ٹھیک اور مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کرپشن ختم کرنے اور کرپشن فری پاکستان کی تحریک میں ہمارا ساتھ دےں ۔ ہم اسلامی پاکستان بنا کر ہی خوشحال پاکستان بناسکتے ہیں ۔ 
قبل ازیں سینیٹر سراج الحق نے جامع منصورہ میں جماعت اسلامی لاہور کے اجتماع ارکا ن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کرپشن فری پاکستان حکمرانوں کی دکھتی رگ ہے ۔ کرپشن ہی اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ ہم نے اس کے خلاف جو تحریک شروع کی ہے اس کو کامیابی تک جاری رکھیں گے ۔ 
Advertisements

تبلیغی جماعت کے ان اکابرین کے بستر انسانیت کے خلاف نہیں بلکہ یہ بسترے شیطان کے خلاف ایٹم بم ہیں۔ نیب نے بڑے بڑے مگر مچھوں سے مک مکا کیا ہواہے احتساب کے ادارے کرپٹ عناصر کےلئے سہولت کاروں کاکردار ادا کررہے ہیں ،چورچور کا احتساب نہیں کرسکتا کوئی بھی کرپٹ حکومت آج تک دوسری کرپٹ حکومت کا احتساب نہ کرسکی بلکہ احتساب کی بجائے آج تک ہر حکومت نے ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کیا ہے۔سینیٹر سراج الحق کا کرک میںکرپشن فری پاکستان تحریک کے آغاز پر بڑے جلسہ سے خطاب 

S04
لاہور27فروری 2016ء
امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ نیب نے بڑے بڑے مگر مچھوں سے مک مکا کیا ہواہے احتساب کے ادارے کرپٹ عناصر کےلئے سہولت کاروںکاکردار ادا کررہے ہیں ،چورچور کا احتساب نہیں کرسکتا کوئی بھی کرپٹ حکومت آج تک دوسری کرپٹ حکومت کا احتساب نہ کرسکی بلکہ احتساب کی بجائے آج تک ہر حکومت نے ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کیا ہے۔جماعت اسلامی نے کرپشن کے خلاف بھرپور انداز سے ملک بھر میں کرپشن فری پاکستان تحریک کا آغازخیبرپختونخواکے جنوبی ضلع کرک سے کردیا ہے اور یہ تحریک پورے ملک میں کرپشن کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ اس تحریک کا اختتام ایک ترقی یافتہ اسلامی اور خوشحال پاکستان پر ہوگا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرک سے کرپشن فری پاکستان تحریک کے آغاز کے موقع پر منعقدہ بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جبکہ اس موقع پر جلسہ گاہ میں موجود ہزاروں لوگوں نے کرپشن فری پاکستان تحریک کا حصہ بننے اور اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بننے کا امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق کے ساتھ کھڑے ہوکر وعدہ کیا اس موقع پر جماعت اسلامی کرک کے امیر مولانا تسلیم اقبال ،ضلع بنوں کے امیر ڈاکٹر ناصر خان اور جماعت اسلامی یوتھ کے نائب صوبائی صدر محمد ظہور خٹک اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ تعلیم و صحت کی سہولتیں شہریوں کو دیناحکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکمرانوں کو آئین میں اختیارات کی دفعات تویادہیں مگر عوام کے حقوق اور مسائل پر اندھے بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں حکمران آئین سے وفاداری کی بجائے بے وفائی اور غداری کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھاکہ تین بار حکومتیں کرنے کے بعد میاں نواز شریف اچھی حکمرانی کریں گے ۔میں جب رمضان میں مسجد نبوی میں اعتکاف میں تھا تو میاں نوازشریف بھی وہاں گئے ہوئے تھے ، میں نے انہیں کہا تھاکہ ملک کو سود سے پاک کردیں تو ہمارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ تین سال انہیں اب حکمرانی کرتے ہوئے ہوگئے ہیں مگر ایسا نہیں ہوسکا ۔ ان تین سالوں میں سود ی نظام کو تقویت ملی اور پاکستان کو اسلامی ریاست کی بجائے لبرل پاکستان بنانے کا باقاعدہ اعلان کیاسینیٹر سراج الحق کاکہنا تھاکہ پنجاب حکومت نے تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی اور یہ بتایا گیا کہ انکے بستروں میں بم ہوتے ہیں لیکن میں ان حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ توبہ تائب ہوکر اللہ سے معافی مانگیں ،تبلیغی جماعت کے ان اکابرین کے بستر انسانیت کے خلاف نہیںبلکہ یہ بسترے شیطان کے خلاف ایٹم بم ہیںانہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایسے قانون کی منظوری دی گئی ہے جس میں خواتین بااختیار ہونگی والد اپنی بیٹی سے جبکہ شوہر اپنی بیوی سے اونچی آواز میں بات کرنے پر حوالات میں ہوگا انہوں نے میاں شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف صاحب آپ پیرس یالندن کے وزیر اعلیٰ نہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں اس قانون کے نتیجے میں آپ نے امریکہ اور یورپ کو خوش کیا ہوگا اور یقینا وہاں سے آپ کو اچھے نمبر ملے ہونگے مگر آپ نے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو ناراض کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران ملک کو کس طرف لے جارہے ہیں کیا اس ملک کو امریکہ کی 52ویں سٹیٹ بنانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کرپشن فری پاکستان تحریک اسلئے شروع کی ہے کیونکہ پاکستان میں روزانہ بارہ ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے اور اس کرپشن میں حکمران ،بڑے بڑے آفیسرز اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد ملوث ہیں ،انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس دو لاکھ سے زیادہ درخواستیں جمع ہوچکی ہیں مگر نیب نے بھی بڑے بڑے مگر مچھوں سے مک مکا کرلیا ہے۔ کرپشن میں ملوث ایک شخص اربوں روپے کی کرپشن کرتاہے اس سے چند کروڑ وصول کرکے باقی معاف کریے جاتے ہیں کیا یہ پیسے انکے باپ کے ہیں کہ وہ معاف کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق کے لئے ہم آخری حد تک جائینگے اور ملک سے کرپشن کے ناسو ر کو ختم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کسی وزیر یا عہدیدار پر کرپشن کا الزام تک نہیں اسلئے کرپشن کے خلاف جہاد صرف جماعت 
اسلامی ہی کرسکتی ہے اسلئے کرپشن کے خلاف ہم میدان میں ہیں اور ملک بھر میں کرپشن فری پاکستان مہم جاری رکھیں گے۔

جس ملک کا ایک وزیرقوم کے462ارب روپے ڈکار جاتا ہے ،وہاں کی حکومتیں قومی خزانے کے ساتھ کیا کھلواڑ کرتی ہونگی ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔اگر چھت صاف ہو تو پرنالے سے گندا پانی نہیں آسکتا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا لاہور میں اجتماع ارکان سے خطاب

pic ameer ji (1)

لاہور26فروری2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جس ملک کا ایک وزیرقوم کے462ارب روپے ڈکار جاتا ہے ،وہاں کی حکومتیں قومی خزانے کے ساتھ کیا کھلواڑ کرتی ہونگی ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔اگر چھت صاف ہو تو پرنالے سے گندا پانی نہیں آسکتا۔ دونوں بڑی پارٹیوں نے حکومت میں آنے کے لیے ایک دوسرے کی باریاں مقرر کر رکھی ہیں وہ ایک دوسرے کی کرپشن کو بھی تحفظ دیتی چلی آ رہی ہیں ۔احتساب کے اداروں کودونوں پارٹیوں کی حکومتوں نے ناکام بنایا ہے۔وزیر موصوف کی نیب کے ہاتھوںگرفتاری پرواویلا کرنے والے بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں۔سابق چیئرمین نیب نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھاکہ روزانہ 12ارب کی کرپشن ہوتی ہے اسے روک کر ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نجات دلائی جاسکتی ہے ۔عالمی استعمار امداد کے نام پر اپنے ایجنٹوں کو قرضوں کے جال میں پھنساتا ہے اور پھر ان کے ذریعے مقروض ممالک پر حکومت کرتا ہے ۔عوام کی محرومیوں کے ذمہ دار استعماری ایجنڈے پر کام کرنے والے حکمران ہیں ۔جب تک پاکستان کو کرپشن کے ناسور سے نجات نہیں دلالیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ مرکزی تربیت گاہ کے اختتامی سیشن اور بعد ازاں جامع مسجد میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 68سال سے قوم پر مسلط حکمران عالمی استعمار کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ،امریکہ اور مغرب نے اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کیلئے اپنے زرخرید غلاموں کوہمارے اقتدار کے اداروں پرمسلط کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے لوٹی گئی اربوں ڈالر ز کی رقم آئی ایم ایف ،ورلڈبنک سے لئے گئے قرضوں اور امریکہ سے امداد کے نام پرملنے والی بھیک کے مجموعی حجم سے کئی گنازیادہ ہے ۔سالانہ ہونے والی 4380ارب روپے کی کرپشن کو روک کر اور بیرونی بنکوں میں پڑی قومی دولت کو واپس لا کرہم نہ صرف تمام قرضے اتار سکتے ہیں بلکہ بڑے ڈیموں سمیت ملک میں درجنوںڈیم اور توانائی کے منصوبے مکمل کئے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور کرپٹ نظام کو زندگی اور بقا کرپٹ سیاستدانوں اور نوکر شاہی نے دی ہے۔ کرپشن کے خلاف بنائے گئے اداروں نے بھی ہمیشہ ان کو چھتری فراہم کی ہے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپشن” ام الخبائث “ہے ،اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ پھیلتی جائے گی اور ملک وقوم اسی طرح مصیبتوں اور پریشانیوں کے بھنور میں غوطے کھاتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کرپشن کے خلاف تحریک کو جہاد سمجھ کراس میں شامل ہوں ،منبر و محراب سے اس کے خلاف آواز بلند ہونی چاہئے اور علماءو صحافی برادری سمیت وکلائ،اساتذہ ،طلبائ، کسان اور مزدوراس تحریک میں شامل ہوجائیں ۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم کرپشن کے خلاف جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کردم لیں گے ،یہ پاکستان کے تحفظ کا مقدس مشن ہے جسے پورا کرنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور جب تک ملک سے کرپشن کے ناسور کا قلع قمع نہیں ہوجاتا ،عوام اس تحریک کو جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ انتخابی کرپشن کے خاتمہ کیلئے آئندہ انتخابات میں الیکشن کمیشن آئین کی دفعہ 62/63پر عمل درآمدکو یقینی بنائے تاکہ الیکشن میں دولت کے اس کھیل کو روکا اور عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا جاسکے ۔   

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیلئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کردی،رٹ میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی فی بیرل قیمت کے تناسب سے پاکستان میں فی لٹرپٹرول کی قیمت40روپے سے مقرر کرنے کی درخواست کی گئی ہے

pic2

26فروری 2016ء
پشاور( )امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیلئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کردی،رٹ میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی فی بیرل قیمت کے تناسب سے پاکستان میں فی لٹرپٹرول کی قیمت40روپے سے مقرر کرنے کی درخواست کی گئی ہے،گذشتہ کئی سالوں سے عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہورہی ہے لیکن حکومت پاکستان عالمی مارکیٹ کے اس بڑے فائدے سے عوام کو محروم رکھ رہی ہے ،احاطہ عدالت میں امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان کی میڈیا سے گفتگو ،عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی اور پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کے خلاف جمعہ کے روز امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان نے باقاعدہ طور پر پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور گذشتہ پانچ چھ سال میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ کمی ہوئی لیکن حکومت پاکستان عالمی مارکیٹ کے اس بڑے فائدے سے پاکستانی عوام کو محروم رکھ رہی ہے ہم نے اب عدلیہ سے اس لئے روجوع کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے اس فائدے کو عوام تک منتقل کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ اس وقت جو قیمتیں عالمی مارکیٹ میں مقرر ہیں ریفائنری سمیت تمام ٹیکسزملاکر بھی اسکی یہاں 40روپے فی لٹر قیمت ہونی چاہئے تھی لیکن یہاں کی اشرافیہ حکومت اپنی تجوریاں بھرنے اورعیاشیوں کیلئے عوام سے 75اور76 روپے فی لٹر وصول کررہی ہے جو ظلم ، استحصال اور سب سے بڑی کرپشن ہے اس میگا کرپشن کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی نے ملک بھر میں کرپشن فری پاکستان تحریک بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ عدلیہ سے بھی رجوع کرلیا ہے ،انہوں نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے عوام کو ان تمام مسائل کا سامنا ہے اور ہم اس کرپشن کو پاکستان کی سالمیت اور بقاء کیلئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں یہ امریکہ اور ہندوستان سے بھی ملک کیلئے بڑا خطرہ ہے اسلئے ملک بچانے کیلئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ بہت جلد ہم ادویات کی قیمتوں میں نچلی سطح تک کمی کیلئے بھی عدلیہ سے رجوع کرینگے کیونکہ ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے لگ رہا ہے کہ حکومت فارماسوئٹیکل کمپنیوں کی کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہے یا فارماسوئٹیکل کمپنیوں کے سامنے بے بس ہے ادویات کی قیمتوں میں 120فیصد اضافہ عوام سے زندگی چھیننے کے مترادف ہے اور ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پاکستان میں زندگی مہنگی اور موت سستی ہوگئی ہے یہ مسائل پاکستان کیلئے سنگین خطرہ اور آئین کے آرٹیکل 37کی خلاف ورزی ہے ،انہوں نے کہا کہ حکمران مسلسل آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور آئین کی خلاف ورزی دہشت گردی اور ملک سے غداری کے زمرے میں آتی ہے یہ غداری اور حکومتی دہشت گردی صرف اور صرف اپنے اکاؤنٹس بھرنے، اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے اوراور اپنے میگا کرپشن کو تحفظ دینے کیلئے کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے جو ادارے قائم ہیں وہ گونگے بہرے بن چکے ہیں اور حکومت کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ سوارب ڈالرکا قطر سے معاہدہ حکمران ڈیل میگا کرپشن پراجیکٹ ہے ہر میگا پراجیکٹ میگا کرپشن کا ذرئعہ ہے اور اس میگا کرپشن کی وجہ سے پاکستان پر 70 ارب ڈالر کا قرضہ ہے پاکستان کے ایلیٹ اشرافیہ کے375ارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کرپشن کی وجہ سے آج پاکستان میں بجلی نہیں ادھیرے چھائے ہوئے ہیں اس کرپشن کی وجہ سے پاکستان کی اپنی پیداوار گیس کی سہولت سے عوام محروم ہیں،اس کرپشن کی وجہ سے 2کروڑ 20لاکھ بچے ہوٹلوں اور ورکشاپوں میں مزدوری پر مجبور ہیں اور تعلیم جیسے بنیادی سہولت اور حق سے محروم ہیں،کرپشن کی ناسور کی وجہ سے پاکستان کے تعلیم یافتہ نوجوان روزگار سے محروم ہیں پی آئی اے ،سٹیل مل،واپڈاور ریلوے جیسے اہم ادارے خسارے میں ہیں اور ان اداروں پر برائے فروخت کے بورڈ لگ گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ اب یہ کرپشن پاکستان کیلئے اندرونی و بیرونی خطرات،ملیٹینسی،امریکہ اور ہندوستان سے زیادہ خطرناک ہوچکا ہے ،اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس وجہ سے اب ملک کی سالمیت و بقاء خطرے میں ہے،انہوں نے کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے،پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے، تو ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو آئینی بنیادی حقوق جو آئین کے آرٹیکل37نے عوام کو دئے ہیں وہ حقوق حکومت عوام کو دینے میں ناکام ہوچکی ہے اور وجہ حکمرانوں کی کرپشن ہے انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی کا کرپشن فری پاکستان تحریک کا 27 فروری بروز ہفتہ کرک سے باقاعدہ آغاز ہوگا اور کرپشن کے خاتمے کیلئے اس کرپشن فری پاکستان تحریک کے تحت ہم قوم کے نو جوانوں ،طالب علموں ،علمائے کرام ،ہرطبقہ ہائے فکر سے بھی رجوع کرینگے اور اس وقت تک چھین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ملک میں کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتاانہوں نے کہا کہ اب وہ وقت دور نہیں جب ملکی خزانہ لوٹنے اور قوم کا استحصال کرنے والے بڑے بڑے چوروں اور لٹیروں کوعوام احتساب کے کٹہرے میں لائینگے اور ان کو آنے والی نسلوں کیلئے عبرت کا نشان بنایں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کی انتہا ہو گئی ہے ۔ کشمیری مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں ۔ بھارتی حکومت بنیادی انسانی حقوق کو بری طرح پامال کر رہی ہے ۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارتی حکومت روزانہ کوئی نہ کوئی ڈرامہ کھڑا کر دیتی ہے ۔ پٹھانکوٹ کے واقعہ میں کسی پاکستانی کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں لیکن پاکستانی حکمرانوں نے مدعی سست گواہ چست کے مصداق اپنے ملک میں اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔سینیٹر سراج الحق کا چک سواری میں جلسہ عزم انقلاب سے خطاب

pic Siraj ul Haq (3)

لاہور25فروری 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کی انتہا ہو گئی ہے ۔ کشمیری مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں ۔ بھارتی حکومت بنیادی انسانی حقوق کو بری طرح پامال کر رہی ہے ۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارتی حکومت روزانہ کوئی نہ کوئی ڈرامہ کھڑا کر دیتی ہے ۔ پٹھانکوٹ کے واقعہ میں کسی پاکستانی کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں لیکن پاکستانی حکمرانوں نے مدعی سست گواہ چست کے مصداق اپنے ملک میں اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت کے ذمہ دار پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ پاکستانی حکمران کشمیریوں کے ساتھ بے وفائی کر رہے ہیں ۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کےخلاف بھارت سے کوئی احتجاج کیا جاتا ہے اور نہ دنیا میں ان مظالم اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آوازاٹھائی جاتی ہے ۔ جماعت اسلامی کرپشن فری پاکستان کے لیے با قاعدہ مہم شروع کر رہی ہے ۔ عوام ہمارا ساتھ دیں ، انشا ءاللہ ہم اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوں گے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق انہوں نے ان خیالات کااظہار جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چک سواری میں جلسہ عزم انقلاب سے خطاب کرتے ہوئے کیا 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کرپشن کی دلدل میں دھنستا چلا جارہاہے ۔ جو بھی برسراقتدار آتاہے اپنی تجوریاں بھرتاہے ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹ کر بیرونی بنکوں میں جمع کراتاہے ملک کا کاروبار چلانے کے لیے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر کا قرض ان کی شرائط پر حاصل کیا جاتاہے ۔ آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں ہمارا بجٹ بنتاہے ۔ بجلی ، گیس ، پٹرولیم مصنوعات اور زرعی مداخل کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں ۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود آلو پیاز اور ٹمائر وغیرہ بھارت سے منگوائے جاتے ہیں ۔ نواز حکومت بھارت کے ساتھ تجارت کے حق میں ہے ۔ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے زراعت تباہ ہورہی ہے ۔ ٹیکسٹائل بند ہورہی ہے اور معاشی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جارہاہے ۔ لوگ بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت خود کشیوں پر مجبور کر دیے گئے ہیں ۔ پورا نظام کرپٹ ہوچکا ہے ۔ رشوت کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتا ۔ حکومت ایک خاندان کے پاس ہے ملک میں جمہوریت ہے ، پارلیمنٹ اور ادارے موجود ہیں لیکن فیصلے اور معاہدے پارلیمنٹ کے باہر طے پاجاتے ہیں ۔ اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ حکومت کو من مانی کرنے کی کھلی آزادی ہے ۔ 
سینیٹر سراج الحق قوم سے اپیل کی کہ وہ کرپشن فری پاکستان تحریک میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ جماعت اسلامی کے ارکان پارلیمنٹ میںرہے ، میئر کراچی رہے ہیں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت میں دوسری بار شریک ہے لیکن آج تک اس کے کسی ذمہ دار پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں ہے ۔ اگر ملک سے کرپشن ختم کرنی ہے اور دیانتدار اور جمہوری حکومت بنانی ہے تو اس کے لیے جماعت اسلامی کے لوگوں کو اسمبلیوں میں لانا پڑے گا ۔ جماعت اسلامی ملک کواسلام کا عادلانہ نظام اور کرپشن فری پاکستان دے گی ۔ 
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سراج الحق مظلوم کشمیریوں کے پشتی بان اور ترجمان ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر میرٹ پر میڈل تقسیم کیے جائیں تو اہل میر پو ر کا سب سے پہلے حق ہے جنہوں نے دو مرتبہ اپنے آباﺅ اجداد کی قبریں پانی میں ڈبوئی ہیں اور منگلا ڈیم کی تعمیر اور اپ ریزنگ میں کوئی ایک آواز بھی احتجاج میں نہیں اٹھی ،جبکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں ، اٹھارہ ارب ڈالر زر مبادلہ جو پاکستان میں آتا ہے اس میں بڑی مقدار کشمیری بھیجتے ہیں ،اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ ، معاوضہ جات کا نہ دیا جانا ، یہ استحصال اور اس قیادت کی نا اہلی ہے ، میر پور ہو یا انگلینڈ جس جگہ بھی گئے لوگوں نے اپنے مسائل بیان کیے ، اس لیے انقلاب کی ضرورت ہے، جو کئی باریاں لے چکے وہ ایک بار پھر ہماری گردنوں پر مسلط ہونا چاہتے ہیں ، اگر کشمیر آزاد کرانا ہے اور مسائل حل کرانے ہیں تو جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ، جب جماعت اسلامی کی حکومت بنے گی تو متاثرین کے مسائل بھی حل ہوں گے اور کشمیر کی آزادی کی منزل بھی قریب ہوگی۔ اس نظام کو بدلنا ہے تو جماعت اسلامی کے امیدواروں کی جیت یقینی بنائیں۔

کرپشن میں سیاستدان ،بیوروکریٹس ،ٹھیکیدار، لینڈ مافیا ،سرمایہ دارحتی کہ قوم کے محبوب ترین ادارے فوج کے بھی بعض سابق افسران شامل ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان یکم مارچ سے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کر رہی ہے ۔سینیٹر سراج الحق کی منصورہ میں پریس کانفرنس

pic sirajul haq (1)

لاہور23فروری 2016ء
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اور چاروں صوبائی امراءکے ہمراہ منصورہ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاشی ،سیاسی ،انتخابی اور اخلاقی کرپشن کے خاتمہ کیلئے ملک گیر ”کرپشن فری پاکستان تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کا ناسور قومی سلامتی ،جمہوریت ،انتخابی عمل اور پوری قوم کی اخلاقی قدروں کیلئے خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے ۔پاکستان میں 12ارب روپے روزانہ کرپشن ہورہی ہے گویا 4320ارب روپے سالانہ کی کرپشن ہورہی ہے ۔اس کرپشن کے باعث مہنگائی ،بے روزگاری ،بدامنی اور غربت قوم کی جان نہیں چھوڑ رہیں ۔ کرپشن میں سیاستدان ،بیوروکریٹس ،ٹھیکیدار، لینڈ مافیا ،سرمایہ دارحتی کہ قوم کے محبوب ترین ادارے فوج کے بھی بعض سابق افسران شامل ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان یکم مارچ سے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کر رہی ہے ۔ کرپشن اور کرپٹ نظام کو زندگی اور بقا کرپٹ سیاستدانوں اور نوکر شاہی نے دی ہے۔ کرپشن کے خلاف بنائے گئے اداروں نے بھی ہمیشہ ان کو چھتری فراہم کی ہے ۔ ملک میں بے انتہا غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کی ماں موجودہ کرپٹ سسٹم ہے۔ ہماری تحریک کا ہدف کرپٹ نظام اورکرپٹ اشرافیہ ہے۔یہ ایک قومی تحریک ہے جس کے لیے ہم تمام نیک نام اور باضمیر شخصیات اور جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس تحریک میں ہماری رہنمائی کریں اوراس تحریک کا حصہ بنیں ۔ کرپشن فری پاکستان قومی تحریک ملک سے ہر طرح کی کرپشن کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ انتخابی نظام وڈیروں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کا محافظ بنا ہوا ہے اور جو اربوں روپے خرچ کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے ہیں وہ کھربوں کی کرپشن کرتے ہیں ۔سیاسی جماعتیں پیسہ لگانے والے کرپٹ لوگوں کو ٹکٹیں بانٹتی ہیں ۔الیکشن سرمائے کا کھیل بن چکا ہے۔ انتخابی کرپشن کا حال یہ ہے کہ آئین کی دفعہ 62-63 کی سیاہی الیکشن کمیشن کا منہ چڑا رہی ہے ۔ حرام خوروں نے کھادوں سے لے کر ادویات تک میں ایسی گراوٹ کے ساتھ ملاوٹ کی ہے کہ پاکستانی دنیا میں سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے ۔ پہلے ہم دودھ میں پانی ملاتے تھے اور اب پانی سے دودھ بنانے کے گھٹیا ترین موجد بن گئے ہیں ۔اخلاقی کرپشن کا حال یہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے ادارے فحاشی روکنے کے بجائے فحاشی کی تعریف کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں جو ظاہر ہے کہ اللہ رب العزت کے غضب کو بھڑکا نے والی بات ہے ۔یہ قوم ناموس رسالت پر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتی ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کو خود پامال کر رہی ہے ” جو خون اور گوشت حرام رزق پر پرورش پائے گا وہ جنت میں نہ جائے گا “ کرپشن ختم کرنے کے لیے حکمرانوں کو اعلیٰ کردار کا نمونہ بننا پڑے گا کیونکہ حکومت ہی خرابیوں کی اصل جڑ ہوتی ہے ۔ اگر حکومتی اہلکار حج اور عمرے پر پیسے بنائیں گے تو بازار میں پکوڑے بیچنے والے سے خیر کی امید نہیں رکھ سکتے ، حتیٰ کہ زکوة و عشر فنڈ سے بھی اربوں روپے خورد برد ہوتے ہیں ۔ حکومتیں کس کس طرح لوٹ مار کرتی ہیں قوم کے لیے تو ناقابل تصور ہے لیکن اس کا بار بار مظاہرہ ہورہاہے ،حتیٰ کہ ماضی کی حکومت کے ایک وزیر نے اہم ٹاک شو میں بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اظہار کیا ” کرپشن پر ہماری پارٹی کا بھی حق ہے “۔ پیلی ٹیکسیاں ، روزگار سکیم، پڑھا لکھا پنجاب ، تیل ، گیس اور معدنی ذخائر جیسے منصوبوں میں سو سو ارب روپے ڈکار لیے جاتے ہیں۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستا ن کے قومی اثاثے مثلاً پی ٹی سی ایل اور بنکوں کو اس طرح فروخت کیا گیاہے جیسے کمہار بھی اپنے گدھے کو نہیں بیچتا ۔ ان اداروں پر پہلے غیر ترقیاتی اخراجات کا بوجھ ڈالا جاتاہے پھر اس کی بیلنس شیٹ میں اثاثوں کی قیمت کم کی جاتی ہے ۔ایوب خان سے لے کر میاں نوازشریف تک اقتدار میں آنے کے لیے اعلان کرتے ہیں کہ سب کا احتساب ہوگا اور سر عام ہوگا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد انسداد کرپشن کے لیے نت نئے ادارے بھی بناتے ہیں ۔ پولیس کے بعد اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے ، پروڈا (PRODA) ۔ پوڈو (PODO) ، ایبڈو (EBDO) ، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ، احتساب کمیشن اور نیب جیسے درجن بھر ادارے جن پر سرمایہ توقوم کا خرچ ہوتاہے لیکن یہ ادارے زیادہ تر مخالفین کو ڈرانے ، دبانے اور اپنے ساتھ ملانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ آج بھی منظور نظر لوگوں کے کیس کھولنے پر حکومت تلملا اٹھی ہے ۔ نیب کے پاس 150 میگا کرپشن کیس فائلوں میں بند پڑے ہیں ۔ ہر کرپٹ چاہتا ہے کہ اس کے بجائے دوسرے کا احتساب ہو۔آڈیٹر جنرل نے 4.2 ٹریلین روپے کے حسابات پر اعتراضات لگائے ہیں جو کئی سالوں سے غیر حل شدہ (Unsettelled) ہیں ۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قومی اثاثوں کی کرپشن کو قانونی طور پر دہشتگردی اور غداری قرار دے ۔
جنگ اور دہشتگردی کسی بھی ملک کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیتی ہے جبکہ کرپشن تو انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کو شروع ہی نہیں ہونے دیتی ۔ قومی خزانہ لوٹنے کے باعث تعلیم ، صحت ، قوانین اور دیگر میدانوں میں ہماری سماجی ترقی شروع ہی نہیں ہوسکی بلکہ نوبت تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان 145 کھرب روپے کا مقروض ہے ۔ وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ ملک اب قرضے کے بغیر نہیں چل سکتا اور اب تو قرضہ بھی اس لیے لیا جاتاہے کہ سابقہ قرضوں کی قسط ادا ہو سکے ۔جماعت اسلامی اس پوری صورتحال کو بدلنے کے لیے متواتر جدوجہد کرے گی ۔ ہم اس تحریک کے دوران عوام کو باشعور (Educate) کریں گے ۔ بڑے جلسے اور دھرنے دیے جائیں گے ۔ رابطہ عوام کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ اس تحریک کے دوران ہم کرپشن کے خلاف گلوبل آپریشن بھی شروع کریں گے ۔ لوٹی ہوئی دولت کا بڑا حصہ ترقی یافتہ ممالک میں موجود ہے ۔ بالخصوص سوئٹزرلینڈ ، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے لیے ٹھوس اقدامات شرو ع کرے ۔لوٹی ہوئی دولت کا سراغ لگانے اور ملک میں واپس لانے کے لیے جماعت اسلامی ممتاز اور باکردارلوگوں پر مشتمل ایک قومی جرگہ بنائے گی جو بیرونی ممالک میں پوشیدہ لوٹی ہوئی دولت کا پتہ لگائے گا اور اس کی واپسی کیلئے کوششیں کرےگا۔ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ اب حکومتوں کا کامیابی کا معیار ناپنے کا یہ پیمانہ بن گیا ہے کہ کونسی حکومت زیادہ قرضہ لیتی ہے ۔ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے نمائندے آکر اسلام آباد میں بیٹھ جاتے ہیں اور مزید قرضہ نہ دینے کے طعنے دیتے ہیں ۔عالمی مالیاتی اداروں کے اہلکار غربت کی ماری عوام پر ٹیکسوں اور بلوں کا بوجھ بڑھانے کی شرائط لگاتے ہیں جنہیں پورا کرنے کیلئے حکمران قوم کے تن مردہ سے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ ملک میں اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اور غلط کام کرنے والوں کی سرپرستی کی جاتی ہے اور انہیں تعریفی اسناد اور تمغوں سے نوازا جاتا ہے ۔ 

ضمنی انتخابات میں کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ انقلاب کی ہوائیں چل پڑیں ہیں ،رف دیراپراور دیر لوئرہی نہیں بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا جماعت اسلامی کا مضبوط گڑھ ہے ۔مشتاق احمد خان

pppppp

پشاور21فروری2016 ؁ء
امیرجماعت اسلامی خیبرپختونخوامشتاق احمدخان  نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں دیر اور مردان میں کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ انقلاب کی ہوائیں چل پڑیں ہیں ،صرف دیراپراور دیر لوئرہی نہیں بلکہ خیبرپختونخواجماعت اسلامی کا گڑھ مضبوط گڑہے ،جماعت اسلامی کے نمائندوں پر بھرپور اعتماد پر عوام کاشکریہ ادا کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ 2015کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی یہ چاروں سیٹیں ہار چکی تھی اور یہ سیٹیں دوسری پارٹیوں کے امیدواروں نے جیتیں تھیں اب کوٹکی صاحب آباد اور لقمان بانڈہ میں جماعت اسلامی نے ضمنی انتخابات میں یہ سیٹیں جیت کر اپنی مقبولیت کا ثبوت دیا ہے انہوں نے کہا کہ مردان میں بھی تین سیٹیں جماعت اسلامی کے امیدواروں نے جیتیں ہیں جس سے ثابت ہورہا ہے کہ خیبرپختونخوا جماعت اسلامی کا مضبوط گڑھ ہے،انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کی کامیابی عوام کا جماعت اسلامی کے وزراء ،ضلعی ناظمین،اور دیگر منتخب نمائندوں پر اعتماد کا مظہر ہے اور انتخابات میں کامیابی ثابت کرتا ہے کہ انقلاب کی ہوائیں چل پڑیں ہیں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیدواروں پر بھرپور اعتماد پر ہم دیر کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ۔ حکمرانوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں ۔ بلوچستان کو حقوق دینے کے دعویدار ہی عوام کی محرومیوں کے ذمہ دار ہیں ۔سینیٹر سراج الحق کا ڈیرہ الہ یار خان میں عوامی جلسہ سے خطاب 

pic sirajul haq (9)

ڈیرہ الہ یار21فروری 2016ء

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ۔ حکمرانوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں ۔ بلوچستان کو حقوق دینے کے دعویدار ہی عوام کی محرومیوں کے ذمہ دار ہیں ۔ تعلیم ، صحت اور بنیادی ضروریات زندگی کی عوام کو فراہمی کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ ظالم وڈیرے اورسردار جو ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں اور قومی اداروں پر قابض رہے ہیں ، اپنے مفادات سمیٹے ہیں اورعوام کے مسائل حل کرنے سے دانستہ چشم پوشی کرتے ہیں ۔ انہیں تعلیم سے محروم رکھا تاکہ وہ ان پڑھ رہ کر ان کی غلامی کرتے رہیں ، پڑھ لکھ کر ترقی نہ کرسکیں ۔پاکستان کو کسی بیرونی دشمن سے زیادہ اندر کے دشمنوں سے خطرہ ہے ،اقتدار میں رہنے والوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ اور عوام کو دھوکہ دیا۔ظلم و جبر کے شکار عوام خاموشی سے ظلم سہتے رہے تو ان کی آئندہ نسلیں بھی دو وقت کی روٹی ،تعلیم صحت اور روز گار کیلئے ترستی رہیں گی ۔ظلم و استحصال کے نظام کو خاموشی سے برداشت کیے جانا اور اس کے خلاف بغاوت نہ کرنا ظالموں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے ۔بلوچستان کو اللہ نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے مگر سب سے زیادہ محرومیوں کا شکار بھی یہی صوبہ ہے ۔جعفر آباد میں 990کلوواٹ کا پاور پلانٹ ہے مگر یہاں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ۔حکمران عالی شان بنگلوں میں اقتدار کے نشے میں گم ہیں جنہیں عوام کی محرومیوں کا کوئی احساس نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ الہ یار خان میں بڑے عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی ،ضلعی امیر جعفر آباد حافظ محمد امین نے بھی خطاب کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 40سال سے اقتدار پر قابض پارٹیوں نے نہ پہلے ایک دوسرے کاا حتساب کیا نہ آئندہ کریں گی ۔ان پارٹیوں میں ایک ہی کلب کے لوگ ہیں ۔نیب کے ادارے کو آزادی سے کام کرنے سے روکا جارہاہے اور اس پر کمیشن بٹھایا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک بے لاگ احتساب نہ ہوگا کرپشن ختم نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ،سیاسی اور انتخابی دہشت گردوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ،غریب کے بچے سے تعلیم صحت اور روزگار انہی دہشت گردوں نے چھینا ہے جبکہ ان کے اپنے بچوں کیلئے تعلیم اور صحت کے علیحدہ ادارے ہیں جہاں شہزادوں کی طرح ان کے ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اشرافیہ اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتی ہے اور عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنا چاہتی ہے ،عام آدمی کوبھی کرپٹ اور لٹیرے حکمرانوں سے لا تعلقی کا اعلان کرکے ان سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کے لیے متحد ہو جانا چاہئے اور آئندہ انتخابات میں انہیں مسترد کر دیناچاہیے۔ عوام کو اپنا انتخابی رویہ تبدیل کرکے ان ظالموں کے چنگل سے نکلنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کے بڑوں نے انگریز سے وفاداری اور ملت سے غداری کے عوض بڑی بڑی جاگیریں حاصل کیں ،جن کے بل بوتے پر وہ اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوئے ،قیام پاکستان کے بعد اسی ٹولے نے بنکوں سے اربوں روپے لیکر فیکٹریاں اور کارخانے لگائے اور سرمایہ دار بن گئے ،یہی جاگیر دار اور سرمایہ دار ٹولہ انتخابی کرپشن کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں پر قابض چلاآرہا ہے اور عوام کا مسلسل استحصال کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان لٹیروں کے قومی خزانے سے لوٹے گئے 375ارب ڈالر بیرونی بنکوں میں پڑے ہیں اگر یہ دولت ملک میں آجائے تو نہ صرف سارے قرضوں سے جان چھوٹ جائے گی بلکہ عوام کو تعلیم اور صحت کی مفت سہولتیں بھی فراہم کی جاسکتی ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ احتساب صرف وہ جماعت کرسکتی ہے جس کا اپنا دامن ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہو۔جماعت اسلامی کے سینکڑوں لوگ قومی و صوبائی اسمبلیوں ،بلدیاتی اداروں اور سینیٹ کے ممبر رہے اور پوری دیانتدار ی سے قوم کی خدمت کی ۔ہمارے دامن پر کرپشن کا ایک بھی داغ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام ساتھ دیںتو ایک ایک لٹیرے کو گریبان سے پکڑ کر قومی دولت نکلوائی جاسکتی ہے اور ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نجات مل سکتی ہے ۔جماعت اسلامی کی کرپشن فری پاکستان کی تحریک دراصل پاکستان کے تحفظ ،سلامتی اور وحدت کی تحریک ہے ۔ اس تحریک میں ملک بھر سے عوام لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوکر اسٹیٹس کو کی قوتوں کو عبرت ناک شکست دینے میں ہمارا ساتھ دیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم کرپشن کے خلاف جنگ ملک دشمنوں کے خلاف آخری معرکہ سمجھ کر لڑ رہے ہیں ۔ 

اقتدار کے ایوانوںمیں بیٹھے کرپٹ افراد کے خلا ف شدید احتساب کی ضرورت ہے ۔غریب قوم کے 375بلین ڈالر لوٹ کر بیرونی بنکوں میں جمع کروانے والے عوام کی خوشیوں کے قاتل ہیں ۔ملک میں بھوک اور خوف نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف آپر یشن کو ایک سال ہوگیا مگر اب مزید دس سال تک اس آپریشن کو جاری رکھنے کی ضرورت کا اظہار کیا جارہا ہے ۔سینیٹر سراج الحق کا ڈیرہ مراد جمالی میں شمولیتی اجتماع سے خطاب سبی میں میڈیا سے گفتگو

pic ameer ji (5)
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اقتدار کے ایوانوںمیں بیٹھے کرپٹ افراد کے خلا ف شدید احتساب کی ضرورت ہے ۔غریب قوم کے 375بلین ڈالر لوٹ کر بیرونی بنکوں میں جمع کروانے والے عوام کی خوشیوں کے قاتل ہیں ۔ملک میں بھوک اور خوف نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف آپر یشن کو ایک سال ہوگیا مگر اب مزید دس سال تک اس آپریشن کو جاری رکھنے کی ضرورت کا اظہار کیا جارہا ہے ۔دہشت گردی کا ایک ہی علاج ہے کہ سیاسی معاشی اخلاقی اور انتخابی دہشت گردی کے سوتے بند کئے جائیں ۔سکولوں کی دیواریں اونچی کرکے کانٹے دار تاریں لگانے اور استاد کے ہاتھ میں کلاشنکوف پکڑاکر معصوم بچوں کو خوف زدہ کرنے سے دہشتگردی ختم نہیں ہوگی ۔بلوچستان میں 100ڈیم بنائے جاسکتے ہیں مگر کوئی حکومت اس طرف توجہ دینے کو تیار نہیں جس کا خمیازہ عوام کو اندھیروں اور توانائی کے بحران کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے ۔مرکزی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کے نوجوانوں کو روز گار دینے کیلئے ہنگامی اقدامات کرےں۔بلوچستان کا مسئلہ طاقت سے نہیں مذاکرات سے حل ہوگا اور حکومت کو جلد ازجلد مذاکرات کی میز بچھانا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیر ہ مراد جمالی میں شمولیت تقریب سے خطاب اور سبی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صوبائی امیر مولانا عبد الحق ہاشمی بھی موجود تھے ۔قبل ازیں ڈیرہ مراد جمالی کی معروف سیاسی و سماجی شخصیات یا ر محمد سوسالی ،محمد عظیم گورشانی ،رئیس عبدلستار سہتو،میر خان ثرخانی ،محمد یعقوب قلندرانی ،خیربخش مینگل ،مختار قاسم ،ڈاکٹر منٹھار ،ڈاکٹر عبد الطیف اور محمد رمضان مینگل سمیت سینکڑوں لوگوں نے اپنے خاندانوں اور قبیلوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے جماعت میں شامل ہونے والوں کا استقبال کیا اور انہیں مبارک باد دی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بلوچستان کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے کے ذمہ دار وہ وڈیرے ،نواب اور سردار ہیں جنہیں مرکزی حکومت کی طرف سے کھربوں روپے فنڈ ملا مگر اسے عوام پر خرچ نہیں کیا گیا ،عوام کو آج بھی پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں اور ہماری مائیں بہنیں میلوں دور سے گھڑوں میں پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں ،بلوچستان کے نواجوانوں کو تعلیم ،صحت اور روز گار کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہوئی ۔ڈیرہ مراد جمالی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر 990میگا واٹ کا پراجیکٹ چل رہا ہے مگر یہاں کی بستیاں اندھیروں میں ڈوبی ہوئی کسی ویرانے کا منظر پیش کررہی ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کی اس صورتحال کے مجرم وہ لوگ ہیں جو بار بار حکومت میں رہنے کے باوجود عوام کو درپیش مسائل سے لاتعلق رہے ۔انہوں نے کہا کہ بھٹو خاندان اور میاں برادران سمیت ملک پر 40سال سے حکومت کرنے والوں نے عوام کی قسمت سنوارنے کے بلند و بانگ دعوے کئے مگر ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوسکا ۔بلوچستان کے مسائل بلوچ وزیر اعظم ،سندھ کے مسائل کو سندھی وزیر اعظم اور پختونوں کے مسائل کو پختون وزیر اعظم اور پنجاب کے مسائل کو پنجابی وزیر اعظم حل نہیں کرسکے ۔ملک پر آج بھی وہی اشرافیہ قابض ہے جن کے بڑے انگریزوں کی پارلیمنٹ میں ان کے وزیر مشیر تھے ۔فوجی حکومت ہو یا نام نہاد جمہوری دور انہی کے وارے نیارے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے وسائل لوٹ کر بیرونی بنکوں میں جمع کروانے والوں نے ملک و قوم کو بدترین تباہی سے دوچار کیا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ عوام اس ظلم و جبر کے نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جس کی وجہ سے آج ماں اپنے بچوں سمیت خود کشی کرنے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریوں کو جلا کر اپنے گردے فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوں سے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے لوگوں کو معمولی بیماریوں کا علاج کرانے کیلئے کراچی جانا پڑتا ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی 69سال سے ملک پر مسلط لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کے نظام کو بدلنے کیلئے میدان میں آئی ہے ۔ملک میں مالی ،اخلاقی اور انتخابی کرپشن کی جڑیں کاٹنے کیلئے عوام اٹھ کھڑے ہوں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے ،مجبور اور محروم عوام ملک سے کرپشن کے خاتمہ اور نظام مصطفے ٰﷺ کے نفاذ کیلئے جماعت اسلامی کی اس تحریک میںجوق در جوق شریک ہوں تاکہ اقتدار کے ایوانوں سے بدیانت اور کرپٹ مافیا کو نکال باہر کیا جائے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میری دشمنی کسی فرد سے نہیں بلکہ عوام پر مسلط کی گئی جہالت ،مہنگائی ،کرپشن ،اسٹیٹس کواور طبقاتی و استحصالی نظام سے ہے ۔میں ملک کو تعصب ،جہالت اور بے روز گاری اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نجات دلانا چاہتاہوں جس کیلئے عوام کو میرے قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہوگا۔

کرپشن فری پاکستان ہر فرد کی ضرورت ہے ۔ بلوچستان میں طبقاتی نظام کی وجہ سے احساس محرومی پایا جاتاہے، ملک میں نظام مصطفےٰ چاہتے ہیں۔ بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہےجو بدامنی اور بےروزگاری کانقشہ پیش کررہاہے ۔سینیٹر سراج الحق کا کوئٹہ میں کنونشن اور استقبالیہ تقریب سے خطاب

 000
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کرپشن فری پاکستان ہر فرد کی ضرورت ہے ۔ بلوچستان میں طبقاتی نظام کی وجہ سے احساس محرومی پایا جاتاہے، ملک میں نظام مصطفےٰ چاہتے ہیں۔ بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے جو بدامنی اور بے روزگاری کا نقشہ پیش کر رہاہے ۔ پاکستان اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہے ۔ لوگوں کے اندر احساس محرومی ہے ۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ۔ ملک پر کرپٹ اشرافیہ مسلط ہے ۔ چوہدریوں ، نوابوں اور سرداروں نے عوام کا استحصال کیاہے ۔ ہر طرف کرپشن ہے ۔ پاکستان اسلامی نظام کے لیے حاصل کیا گیا تھا لیکن سازش کے تحت عوامی راج اور اسلامی نظام نافذ نہ ہونے دیا گیا جس کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا ۔ اسلام کا راستہ روک کر مارشل لاءاور جمہوریت کے نام پر استحصالی نظام نافذ کیا گیا ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں جمعیت طلبہ عربیہ کے زیراہتمام کنونشن اور جماعت اسلامی کوئٹہ کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام ملک کی ترقی و استحکام پر اس وقت یقین کریں گے جب یہاں قانون اور انصاف کی حکمرانی ہوگی ۔ کرپشن کا خاتمہ ہوگا ، لوٹ مار ختم ہو گی ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں وسائل اور معدنیات کی کمی نہیں ہے ۔ معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے ۔ اشرافیہ نے وسائل پر قبضہ کر رکھاہے ۔ سیاست اور معیشت کویرغمال بنارکھاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں مسلح دہشتگردی کے ساتھ معاشی دہشتگردی بھی ہے ۔ قومی اداروں کو حکمرانوں نے لوٹ کھایا ہے ۔ ریلوے ، پی آئی اے ، سٹیل ملز خسارے میں ہیں انہیں کسی غریب اور عام آدمی نے نہیں لوٹا ، اشرافیہ نے لوٹاہے ۔ وزیر خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ دو سو ارب ڈالر بیرون ملک بنکوں میں جمع کرائے گئے ہیں ۔ مجموعی طور پر 345 ارب ڈالر بیرونی ملکوں میں پاکستانیوں کے جمع ہیں یہ رقم ملک میں آ جائے تو قرضے بھی اتر جائیں گے وار ملک بھی خوشحال ہو جائے گا ۔ حکمران ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے مسلسل قرض لیتے چلے جارہے ہیں اور عوام کی حالت روز بروز مہنگائی کی وجہ سے خراب ہوتی جارہی ہے ۔وزیروں ومشیروں کے بیٹے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرتے ، وزرا علاج کے لیے بیرون ملک چلے جاتے ہیں ، غریب کا بچہ تعلیم اور دوائی کے لیے دھکے کھاتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام جن کو ووٹ دیتے ہیں وہ سات پشتوں کے لیے ڈکار لیے بغیر اربوں روپے لوٹ کر جمع کر لیتے ہیں ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ اپنی جماعت میں الیکشن کروائیں ورنہ انہیں قومی انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا ۔ الیکشن کمیشن کو دستور کی دفعہ 62-63 پر سختی سے عمل کراناچاہیے ۔ غریب عوام کے مسائل اس وقت حل ہوں گے جب عام پاکستانی اسمبلی میں جائے گا جو موجودہ سسٹم میں ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم برسراقتدار آئے تو ایسا سسٹم بنائیں گے کہ عام آدمی بھی کروڑوں خرچ کیے بغیر اسمبلی میں پہنچ سکے گا ۔ ہم اقلیتوں کو خوشحال رکھیں گے انہیں ہندو ، عیسائی کے بجائے پاکستانی کہا جائے گا ۔ میں بلوچستان کے عوام کا حامی ہوں یہاں کے وسائل پر بلوچستان کے لوگوں کا حق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی پاکستان کو ترقی کی طرف لے جاسکتی ہے ۔ جماعت اسلامی ہی ملک میں عدل و انصاف کا نظام لاسکتی ہے ۔ عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ استقبالیہ تقریب میں درجنوں قبائلی عمائدین اور نوجوانوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔