مسلمان قوم کو اس وقت ایٹم بم سے زیادہ قومی وحدت کی ضرورت ہے ۔ ملک میں صرف مسلح دہشتگردی نہیں ، سیاسی و معاشی دہشتگردی بھی عروج پر ہے ۔ ہم نے کرپشن فری پاکستان کے لیے مہم کا آغاز کر دیاہے ۔ عوام ہمارا ساتھ دیں ۔ سینیٹر سراج الحق

pic sirajul haq 28  2nd

لاہور28 فروری 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مسلمان قوم کو اس وقت ایٹم بم سے زیادہ قومی وحدت کی ضرورت ہے ۔ ملک میں صرف مسلح دہشتگردی نہیں ، سیاسی و معاشی دہشتگردی بھی عروج پر ہے ۔ ہم نے کرپشن فری پاکستان کے لیے مہم کا آغاز کر دیاہے ۔ عوام ہمارا ساتھ دیں ۔ دشمن امت مسلمہ کو زبان ، نسل اور علاقائی تعصب کی بنیاد پر تقسیم کر نا چاہتاہے ۔ اس وقت امت مسلمہ کے اتحاد کی شدید ضرورت ہے ۔ انہوں نے یہ بات ایوان اقبال میں اتحاد امت کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا اہتمام ہدیة الہادی پاکستان لاہور نے کیا تھا ۔ پروگرام کی صدارت سید ہارون گیلانی نے کی ۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق ، سید ہارون گیلانی ، امیر حمزہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مسلمان ممالک میں اس وقت شدید انتشار ہے ۔ لیبیا ، عراق ، شام ، افغانستان ، فلسطین ، کشمیر اور کئی ممالک میں مسلمانوں کا خون ارزاں ہے ۔ ان کا قتل عام ہورہاہے ۔ خود پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے ۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہاہے کہ آئندہ دو عشروں تک ہمارا خطہ ڈسٹرب رہے گا اس سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ استعماری ممالک نے اس خطے کو ڈسٹرب رکھنے اور دہشتگردی میں مبتلا رکھنے کا منصوبہ بنایا ہواہے ۔ انہوں نے کہاکہ استعماری ممالک کا 70 فیصد اسلحہ مسلمان ممالک خریدتے ہیں اور ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ اسلحہ مسلمان ممالک کے آپس میں عوام پر استعمال ہوتاہے اور اسرائیل مزے لے رہاہے ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پنجاب حکومت نے خواتین کے تحفظ کا جو بل منظور کرایاہے ، اسے خود خواتین نے مسترد کر دیاہے ۔ یہ بل ہمارے خاندانی نظام پر قدغن لگانے کے مترادف ہے اس سے ماں ، بہن ، شوہر کے مابین عزت و احترام کے رشتے متاثر ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک تو یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا خاندانی نظام اور تہذیب و تمدن کو تباہ کر دیا جائے ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سب لوگ آئین و قانون کی حکمرانی کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے پہلا آئین تو قرآ ن و سنت ہے اور پھر آئین پاکستان ہے جو 1973 ءمیں متفقہ طور پر بنایا گیا تھا ۔ پھر ہماری تہذیب وتمدن ہے جسے ہم نے ہر حال میں قائم رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1973 ءکے آئین پر عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ اگر اس پر عمل ہوتا تو اتنے بڑے پیمانے پر ملک میں کرپشن نہ ہوتی ۔ کرپشن سے ہی سارے نظام میں خرابیاں ہیں ۔ ملکی وسائل اور قومی خزانے کو حکمرانوں نے بری طرح لوٹا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن پر قابو پالیا جائے تو ہمارے تمام ادارے ٹھیک اور مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کرپشن ختم کرنے اور کرپشن فری پاکستان کی تحریک میں ہمارا ساتھ دےں ۔ ہم اسلامی پاکستان بنا کر ہی خوشحال پاکستان بناسکتے ہیں ۔ 
قبل ازیں سینیٹر سراج الحق نے جامع منصورہ میں جماعت اسلامی لاہور کے اجتماع ارکا ن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کرپشن فری پاکستان حکمرانوں کی دکھتی رگ ہے ۔ کرپشن ہی اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ ہم نے اس کے خلاف جو تحریک شروع کی ہے اس کو کامیابی تک جاری رکھیں گے ۔ 
Advertisements

تبلیغی جماعت کے ان اکابرین کے بستر انسانیت کے خلاف نہیں بلکہ یہ بسترے شیطان کے خلاف ایٹم بم ہیں۔ نیب نے بڑے بڑے مگر مچھوں سے مک مکا کیا ہواہے احتساب کے ادارے کرپٹ عناصر کےلئے سہولت کاروں کاکردار ادا کررہے ہیں ،چورچور کا احتساب نہیں کرسکتا کوئی بھی کرپٹ حکومت آج تک دوسری کرپٹ حکومت کا احتساب نہ کرسکی بلکہ احتساب کی بجائے آج تک ہر حکومت نے ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کیا ہے۔سینیٹر سراج الحق کا کرک میںکرپشن فری پاکستان تحریک کے آغاز پر بڑے جلسہ سے خطاب 

S04
لاہور27فروری 2016ء
امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ نیب نے بڑے بڑے مگر مچھوں سے مک مکا کیا ہواہے احتساب کے ادارے کرپٹ عناصر کےلئے سہولت کاروںکاکردار ادا کررہے ہیں ،چورچور کا احتساب نہیں کرسکتا کوئی بھی کرپٹ حکومت آج تک دوسری کرپٹ حکومت کا احتساب نہ کرسکی بلکہ احتساب کی بجائے آج تک ہر حکومت نے ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کیا ہے۔جماعت اسلامی نے کرپشن کے خلاف بھرپور انداز سے ملک بھر میں کرپشن فری پاکستان تحریک کا آغازخیبرپختونخواکے جنوبی ضلع کرک سے کردیا ہے اور یہ تحریک پورے ملک میں کرپشن کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ اس تحریک کا اختتام ایک ترقی یافتہ اسلامی اور خوشحال پاکستان پر ہوگا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرک سے کرپشن فری پاکستان تحریک کے آغاز کے موقع پر منعقدہ بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جبکہ اس موقع پر جلسہ گاہ میں موجود ہزاروں لوگوں نے کرپشن فری پاکستان تحریک کا حصہ بننے اور اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بننے کا امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق کے ساتھ کھڑے ہوکر وعدہ کیا اس موقع پر جماعت اسلامی کرک کے امیر مولانا تسلیم اقبال ،ضلع بنوں کے امیر ڈاکٹر ناصر خان اور جماعت اسلامی یوتھ کے نائب صوبائی صدر محمد ظہور خٹک اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ تعلیم و صحت کی سہولتیں شہریوں کو دیناحکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکمرانوں کو آئین میں اختیارات کی دفعات تویادہیں مگر عوام کے حقوق اور مسائل پر اندھے بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں حکمران آئین سے وفاداری کی بجائے بے وفائی اور غداری کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھاکہ تین بار حکومتیں کرنے کے بعد میاں نواز شریف اچھی حکمرانی کریں گے ۔میں جب رمضان میں مسجد نبوی میں اعتکاف میں تھا تو میاں نوازشریف بھی وہاں گئے ہوئے تھے ، میں نے انہیں کہا تھاکہ ملک کو سود سے پاک کردیں تو ہمارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ تین سال انہیں اب حکمرانی کرتے ہوئے ہوگئے ہیں مگر ایسا نہیں ہوسکا ۔ ان تین سالوں میں سود ی نظام کو تقویت ملی اور پاکستان کو اسلامی ریاست کی بجائے لبرل پاکستان بنانے کا باقاعدہ اعلان کیاسینیٹر سراج الحق کاکہنا تھاکہ پنجاب حکومت نے تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی اور یہ بتایا گیا کہ انکے بستروں میں بم ہوتے ہیں لیکن میں ان حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ توبہ تائب ہوکر اللہ سے معافی مانگیں ،تبلیغی جماعت کے ان اکابرین کے بستر انسانیت کے خلاف نہیںبلکہ یہ بسترے شیطان کے خلاف ایٹم بم ہیںانہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایسے قانون کی منظوری دی گئی ہے جس میں خواتین بااختیار ہونگی والد اپنی بیٹی سے جبکہ شوہر اپنی بیوی سے اونچی آواز میں بات کرنے پر حوالات میں ہوگا انہوں نے میاں شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف صاحب آپ پیرس یالندن کے وزیر اعلیٰ نہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں اس قانون کے نتیجے میں آپ نے امریکہ اور یورپ کو خوش کیا ہوگا اور یقینا وہاں سے آپ کو اچھے نمبر ملے ہونگے مگر آپ نے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو ناراض کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران ملک کو کس طرف لے جارہے ہیں کیا اس ملک کو امریکہ کی 52ویں سٹیٹ بنانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کرپشن فری پاکستان تحریک اسلئے شروع کی ہے کیونکہ پاکستان میں روزانہ بارہ ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے اور اس کرپشن میں حکمران ،بڑے بڑے آفیسرز اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد ملوث ہیں ،انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس دو لاکھ سے زیادہ درخواستیں جمع ہوچکی ہیں مگر نیب نے بھی بڑے بڑے مگر مچھوں سے مک مکا کرلیا ہے۔ کرپشن میں ملوث ایک شخص اربوں روپے کی کرپشن کرتاہے اس سے چند کروڑ وصول کرکے باقی معاف کریے جاتے ہیں کیا یہ پیسے انکے باپ کے ہیں کہ وہ معاف کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق کے لئے ہم آخری حد تک جائینگے اور ملک سے کرپشن کے ناسو ر کو ختم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کسی وزیر یا عہدیدار پر کرپشن کا الزام تک نہیں اسلئے کرپشن کے خلاف جہاد صرف جماعت 
اسلامی ہی کرسکتی ہے اسلئے کرپشن کے خلاف ہم میدان میں ہیں اور ملک بھر میں کرپشن فری پاکستان مہم جاری رکھیں گے۔

جس ملک کا ایک وزیرقوم کے462ارب روپے ڈکار جاتا ہے ،وہاں کی حکومتیں قومی خزانے کے ساتھ کیا کھلواڑ کرتی ہونگی ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔اگر چھت صاف ہو تو پرنالے سے گندا پانی نہیں آسکتا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا لاہور میں اجتماع ارکان سے خطاب

pic ameer ji (1)

لاہور26فروری2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جس ملک کا ایک وزیرقوم کے462ارب روپے ڈکار جاتا ہے ،وہاں کی حکومتیں قومی خزانے کے ساتھ کیا کھلواڑ کرتی ہونگی ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔اگر چھت صاف ہو تو پرنالے سے گندا پانی نہیں آسکتا۔ دونوں بڑی پارٹیوں نے حکومت میں آنے کے لیے ایک دوسرے کی باریاں مقرر کر رکھی ہیں وہ ایک دوسرے کی کرپشن کو بھی تحفظ دیتی چلی آ رہی ہیں ۔احتساب کے اداروں کودونوں پارٹیوں کی حکومتوں نے ناکام بنایا ہے۔وزیر موصوف کی نیب کے ہاتھوںگرفتاری پرواویلا کرنے والے بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں۔سابق چیئرمین نیب نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھاکہ روزانہ 12ارب کی کرپشن ہوتی ہے اسے روک کر ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نجات دلائی جاسکتی ہے ۔عالمی استعمار امداد کے نام پر اپنے ایجنٹوں کو قرضوں کے جال میں پھنساتا ہے اور پھر ان کے ذریعے مقروض ممالک پر حکومت کرتا ہے ۔عوام کی محرومیوں کے ذمہ دار استعماری ایجنڈے پر کام کرنے والے حکمران ہیں ۔جب تک پاکستان کو کرپشن کے ناسور سے نجات نہیں دلالیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ مرکزی تربیت گاہ کے اختتامی سیشن اور بعد ازاں جامع مسجد میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 68سال سے قوم پر مسلط حکمران عالمی استعمار کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ،امریکہ اور مغرب نے اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کیلئے اپنے زرخرید غلاموں کوہمارے اقتدار کے اداروں پرمسلط کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے لوٹی گئی اربوں ڈالر ز کی رقم آئی ایم ایف ،ورلڈبنک سے لئے گئے قرضوں اور امریکہ سے امداد کے نام پرملنے والی بھیک کے مجموعی حجم سے کئی گنازیادہ ہے ۔سالانہ ہونے والی 4380ارب روپے کی کرپشن کو روک کر اور بیرونی بنکوں میں پڑی قومی دولت کو واپس لا کرہم نہ صرف تمام قرضے اتار سکتے ہیں بلکہ بڑے ڈیموں سمیت ملک میں درجنوںڈیم اور توانائی کے منصوبے مکمل کئے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور کرپٹ نظام کو زندگی اور بقا کرپٹ سیاستدانوں اور نوکر شاہی نے دی ہے۔ کرپشن کے خلاف بنائے گئے اداروں نے بھی ہمیشہ ان کو چھتری فراہم کی ہے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپشن” ام الخبائث “ہے ،اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ پھیلتی جائے گی اور ملک وقوم اسی طرح مصیبتوں اور پریشانیوں کے بھنور میں غوطے کھاتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کرپشن کے خلاف تحریک کو جہاد سمجھ کراس میں شامل ہوں ،منبر و محراب سے اس کے خلاف آواز بلند ہونی چاہئے اور علماءو صحافی برادری سمیت وکلائ،اساتذہ ،طلبائ، کسان اور مزدوراس تحریک میں شامل ہوجائیں ۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم کرپشن کے خلاف جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کردم لیں گے ،یہ پاکستان کے تحفظ کا مقدس مشن ہے جسے پورا کرنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور جب تک ملک سے کرپشن کے ناسور کا قلع قمع نہیں ہوجاتا ،عوام اس تحریک کو جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ انتخابی کرپشن کے خاتمہ کیلئے آئندہ انتخابات میں الیکشن کمیشن آئین کی دفعہ 62/63پر عمل درآمدکو یقینی بنائے تاکہ الیکشن میں دولت کے اس کھیل کو روکا اور عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا جاسکے ۔   

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیلئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کردی،رٹ میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی فی بیرل قیمت کے تناسب سے پاکستان میں فی لٹرپٹرول کی قیمت40روپے سے مقرر کرنے کی درخواست کی گئی ہے

pic2

26فروری 2016ء
پشاور( )امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیلئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کردی،رٹ میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی فی بیرل قیمت کے تناسب سے پاکستان میں فی لٹرپٹرول کی قیمت40روپے سے مقرر کرنے کی درخواست کی گئی ہے،گذشتہ کئی سالوں سے عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہورہی ہے لیکن حکومت پاکستان عالمی مارکیٹ کے اس بڑے فائدے سے عوام کو محروم رکھ رہی ہے ،احاطہ عدالت میں امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان کی میڈیا سے گفتگو ،عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی اور پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کے خلاف جمعہ کے روز امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان نے باقاعدہ طور پر پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور گذشتہ پانچ چھ سال میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ کمی ہوئی لیکن حکومت پاکستان عالمی مارکیٹ کے اس بڑے فائدے سے پاکستانی عوام کو محروم رکھ رہی ہے ہم نے اب عدلیہ سے اس لئے روجوع کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے اس فائدے کو عوام تک منتقل کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ اس وقت جو قیمتیں عالمی مارکیٹ میں مقرر ہیں ریفائنری سمیت تمام ٹیکسزملاکر بھی اسکی یہاں 40روپے فی لٹر قیمت ہونی چاہئے تھی لیکن یہاں کی اشرافیہ حکومت اپنی تجوریاں بھرنے اورعیاشیوں کیلئے عوام سے 75اور76 روپے فی لٹر وصول کررہی ہے جو ظلم ، استحصال اور سب سے بڑی کرپشن ہے اس میگا کرپشن کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی نے ملک بھر میں کرپشن فری پاکستان تحریک بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ عدلیہ سے بھی رجوع کرلیا ہے ،انہوں نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے عوام کو ان تمام مسائل کا سامنا ہے اور ہم اس کرپشن کو پاکستان کی سالمیت اور بقاء کیلئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں یہ امریکہ اور ہندوستان سے بھی ملک کیلئے بڑا خطرہ ہے اسلئے ملک بچانے کیلئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ بہت جلد ہم ادویات کی قیمتوں میں نچلی سطح تک کمی کیلئے بھی عدلیہ سے رجوع کرینگے کیونکہ ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے لگ رہا ہے کہ حکومت فارماسوئٹیکل کمپنیوں کی کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہے یا فارماسوئٹیکل کمپنیوں کے سامنے بے بس ہے ادویات کی قیمتوں میں 120فیصد اضافہ عوام سے زندگی چھیننے کے مترادف ہے اور ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پاکستان میں زندگی مہنگی اور موت سستی ہوگئی ہے یہ مسائل پاکستان کیلئے سنگین خطرہ اور آئین کے آرٹیکل 37کی خلاف ورزی ہے ،انہوں نے کہا کہ حکمران مسلسل آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور آئین کی خلاف ورزی دہشت گردی اور ملک سے غداری کے زمرے میں آتی ہے یہ غداری اور حکومتی دہشت گردی صرف اور صرف اپنے اکاؤنٹس بھرنے، اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے اوراور اپنے میگا کرپشن کو تحفظ دینے کیلئے کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے جو ادارے قائم ہیں وہ گونگے بہرے بن چکے ہیں اور حکومت کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ سوارب ڈالرکا قطر سے معاہدہ حکمران ڈیل میگا کرپشن پراجیکٹ ہے ہر میگا پراجیکٹ میگا کرپشن کا ذرئعہ ہے اور اس میگا کرپشن کی وجہ سے پاکستان پر 70 ارب ڈالر کا قرضہ ہے پاکستان کے ایلیٹ اشرافیہ کے375ارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کرپشن کی وجہ سے آج پاکستان میں بجلی نہیں ادھیرے چھائے ہوئے ہیں اس کرپشن کی وجہ سے پاکستان کی اپنی پیداوار گیس کی سہولت سے عوام محروم ہیں،اس کرپشن کی وجہ سے 2کروڑ 20لاکھ بچے ہوٹلوں اور ورکشاپوں میں مزدوری پر مجبور ہیں اور تعلیم جیسے بنیادی سہولت اور حق سے محروم ہیں،کرپشن کی ناسور کی وجہ سے پاکستان کے تعلیم یافتہ نوجوان روزگار سے محروم ہیں پی آئی اے ،سٹیل مل،واپڈاور ریلوے جیسے اہم ادارے خسارے میں ہیں اور ان اداروں پر برائے فروخت کے بورڈ لگ گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ اب یہ کرپشن پاکستان کیلئے اندرونی و بیرونی خطرات،ملیٹینسی،امریکہ اور ہندوستان سے زیادہ خطرناک ہوچکا ہے ،اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس وجہ سے اب ملک کی سالمیت و بقاء خطرے میں ہے،انہوں نے کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے،پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے، تو ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو آئینی بنیادی حقوق جو آئین کے آرٹیکل37نے عوام کو دئے ہیں وہ حقوق حکومت عوام کو دینے میں ناکام ہوچکی ہے اور وجہ حکمرانوں کی کرپشن ہے انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی کا کرپشن فری پاکستان تحریک کا 27 فروری بروز ہفتہ کرک سے باقاعدہ آغاز ہوگا اور کرپشن کے خاتمے کیلئے اس کرپشن فری پاکستان تحریک کے تحت ہم قوم کے نو جوانوں ،طالب علموں ،علمائے کرام ،ہرطبقہ ہائے فکر سے بھی رجوع کرینگے اور اس وقت تک چھین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ملک میں کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتاانہوں نے کہا کہ اب وہ وقت دور نہیں جب ملکی خزانہ لوٹنے اور قوم کا استحصال کرنے والے بڑے بڑے چوروں اور لٹیروں کوعوام احتساب کے کٹہرے میں لائینگے اور ان کو آنے والی نسلوں کیلئے عبرت کا نشان بنایں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کی انتہا ہو گئی ہے ۔ کشمیری مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں ۔ بھارتی حکومت بنیادی انسانی حقوق کو بری طرح پامال کر رہی ہے ۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارتی حکومت روزانہ کوئی نہ کوئی ڈرامہ کھڑا کر دیتی ہے ۔ پٹھانکوٹ کے واقعہ میں کسی پاکستانی کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں لیکن پاکستانی حکمرانوں نے مدعی سست گواہ چست کے مصداق اپنے ملک میں اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔سینیٹر سراج الحق کا چک سواری میں جلسہ عزم انقلاب سے خطاب

pic Siraj ul Haq (3)

لاہور25فروری 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کی انتہا ہو گئی ہے ۔ کشمیری مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں ۔ بھارتی حکومت بنیادی انسانی حقوق کو بری طرح پامال کر رہی ہے ۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارتی حکومت روزانہ کوئی نہ کوئی ڈرامہ کھڑا کر دیتی ہے ۔ پٹھانکوٹ کے واقعہ میں کسی پاکستانی کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں لیکن پاکستانی حکمرانوں نے مدعی سست گواہ چست کے مصداق اپنے ملک میں اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت کے ذمہ دار پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ پاکستانی حکمران کشمیریوں کے ساتھ بے وفائی کر رہے ہیں ۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کےخلاف بھارت سے کوئی احتجاج کیا جاتا ہے اور نہ دنیا میں ان مظالم اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آوازاٹھائی جاتی ہے ۔ جماعت اسلامی کرپشن فری پاکستان کے لیے با قاعدہ مہم شروع کر رہی ہے ۔ عوام ہمارا ساتھ دیں ، انشا ءاللہ ہم اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوں گے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق انہوں نے ان خیالات کااظہار جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چک سواری میں جلسہ عزم انقلاب سے خطاب کرتے ہوئے کیا 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کرپشن کی دلدل میں دھنستا چلا جارہاہے ۔ جو بھی برسراقتدار آتاہے اپنی تجوریاں بھرتاہے ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹ کر بیرونی بنکوں میں جمع کراتاہے ملک کا کاروبار چلانے کے لیے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر کا قرض ان کی شرائط پر حاصل کیا جاتاہے ۔ آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں ہمارا بجٹ بنتاہے ۔ بجلی ، گیس ، پٹرولیم مصنوعات اور زرعی مداخل کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں ۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود آلو پیاز اور ٹمائر وغیرہ بھارت سے منگوائے جاتے ہیں ۔ نواز حکومت بھارت کے ساتھ تجارت کے حق میں ہے ۔ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے زراعت تباہ ہورہی ہے ۔ ٹیکسٹائل بند ہورہی ہے اور معاشی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جارہاہے ۔ لوگ بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت خود کشیوں پر مجبور کر دیے گئے ہیں ۔ پورا نظام کرپٹ ہوچکا ہے ۔ رشوت کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتا ۔ حکومت ایک خاندان کے پاس ہے ملک میں جمہوریت ہے ، پارلیمنٹ اور ادارے موجود ہیں لیکن فیصلے اور معاہدے پارلیمنٹ کے باہر طے پاجاتے ہیں ۔ اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ حکومت کو من مانی کرنے کی کھلی آزادی ہے ۔ 
سینیٹر سراج الحق قوم سے اپیل کی کہ وہ کرپشن فری پاکستان تحریک میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ جماعت اسلامی کے ارکان پارلیمنٹ میںرہے ، میئر کراچی رہے ہیں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت میں دوسری بار شریک ہے لیکن آج تک اس کے کسی ذمہ دار پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں ہے ۔ اگر ملک سے کرپشن ختم کرنی ہے اور دیانتدار اور جمہوری حکومت بنانی ہے تو اس کے لیے جماعت اسلامی کے لوگوں کو اسمبلیوں میں لانا پڑے گا ۔ جماعت اسلامی ملک کواسلام کا عادلانہ نظام اور کرپشن فری پاکستان دے گی ۔ 
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سراج الحق مظلوم کشمیریوں کے پشتی بان اور ترجمان ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر میرٹ پر میڈل تقسیم کیے جائیں تو اہل میر پو ر کا سب سے پہلے حق ہے جنہوں نے دو مرتبہ اپنے آباﺅ اجداد کی قبریں پانی میں ڈبوئی ہیں اور منگلا ڈیم کی تعمیر اور اپ ریزنگ میں کوئی ایک آواز بھی احتجاج میں نہیں اٹھی ،جبکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں ، اٹھارہ ارب ڈالر زر مبادلہ جو پاکستان میں آتا ہے اس میں بڑی مقدار کشمیری بھیجتے ہیں ،اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ ، معاوضہ جات کا نہ دیا جانا ، یہ استحصال اور اس قیادت کی نا اہلی ہے ، میر پور ہو یا انگلینڈ جس جگہ بھی گئے لوگوں نے اپنے مسائل بیان کیے ، اس لیے انقلاب کی ضرورت ہے، جو کئی باریاں لے چکے وہ ایک بار پھر ہماری گردنوں پر مسلط ہونا چاہتے ہیں ، اگر کشمیر آزاد کرانا ہے اور مسائل حل کرانے ہیں تو جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ، جب جماعت اسلامی کی حکومت بنے گی تو متاثرین کے مسائل بھی حل ہوں گے اور کشمیر کی آزادی کی منزل بھی قریب ہوگی۔ اس نظام کو بدلنا ہے تو جماعت اسلامی کے امیدواروں کی جیت یقینی بنائیں۔

کرپشن میں سیاستدان ،بیوروکریٹس ،ٹھیکیدار، لینڈ مافیا ،سرمایہ دارحتی کہ قوم کے محبوب ترین ادارے فوج کے بھی بعض سابق افسران شامل ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان یکم مارچ سے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کر رہی ہے ۔سینیٹر سراج الحق کی منصورہ میں پریس کانفرنس

pic sirajul haq (1)

لاہور23فروری 2016ء
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اور چاروں صوبائی امراءکے ہمراہ منصورہ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاشی ،سیاسی ،انتخابی اور اخلاقی کرپشن کے خاتمہ کیلئے ملک گیر ”کرپشن فری پاکستان تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کا ناسور قومی سلامتی ،جمہوریت ،انتخابی عمل اور پوری قوم کی اخلاقی قدروں کیلئے خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے ۔پاکستان میں 12ارب روپے روزانہ کرپشن ہورہی ہے گویا 4320ارب روپے سالانہ کی کرپشن ہورہی ہے ۔اس کرپشن کے باعث مہنگائی ،بے روزگاری ،بدامنی اور غربت قوم کی جان نہیں چھوڑ رہیں ۔ کرپشن میں سیاستدان ،بیوروکریٹس ،ٹھیکیدار، لینڈ مافیا ،سرمایہ دارحتی کہ قوم کے محبوب ترین ادارے فوج کے بھی بعض سابق افسران شامل ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان یکم مارچ سے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کر رہی ہے ۔ کرپشن اور کرپٹ نظام کو زندگی اور بقا کرپٹ سیاستدانوں اور نوکر شاہی نے دی ہے۔ کرپشن کے خلاف بنائے گئے اداروں نے بھی ہمیشہ ان کو چھتری فراہم کی ہے ۔ ملک میں بے انتہا غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کی ماں موجودہ کرپٹ سسٹم ہے۔ ہماری تحریک کا ہدف کرپٹ نظام اورکرپٹ اشرافیہ ہے۔یہ ایک قومی تحریک ہے جس کے لیے ہم تمام نیک نام اور باضمیر شخصیات اور جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس تحریک میں ہماری رہنمائی کریں اوراس تحریک کا حصہ بنیں ۔ کرپشن فری پاکستان قومی تحریک ملک سے ہر طرح کی کرپشن کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ انتخابی نظام وڈیروں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کا محافظ بنا ہوا ہے اور جو اربوں روپے خرچ کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے ہیں وہ کھربوں کی کرپشن کرتے ہیں ۔سیاسی جماعتیں پیسہ لگانے والے کرپٹ لوگوں کو ٹکٹیں بانٹتی ہیں ۔الیکشن سرمائے کا کھیل بن چکا ہے۔ انتخابی کرپشن کا حال یہ ہے کہ آئین کی دفعہ 62-63 کی سیاہی الیکشن کمیشن کا منہ چڑا رہی ہے ۔ حرام خوروں نے کھادوں سے لے کر ادویات تک میں ایسی گراوٹ کے ساتھ ملاوٹ کی ہے کہ پاکستانی دنیا میں سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے ۔ پہلے ہم دودھ میں پانی ملاتے تھے اور اب پانی سے دودھ بنانے کے گھٹیا ترین موجد بن گئے ہیں ۔اخلاقی کرپشن کا حال یہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے ادارے فحاشی روکنے کے بجائے فحاشی کی تعریف کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں جو ظاہر ہے کہ اللہ رب العزت کے غضب کو بھڑکا نے والی بات ہے ۔یہ قوم ناموس رسالت پر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتی ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کو خود پامال کر رہی ہے ” جو خون اور گوشت حرام رزق پر پرورش پائے گا وہ جنت میں نہ جائے گا “ کرپشن ختم کرنے کے لیے حکمرانوں کو اعلیٰ کردار کا نمونہ بننا پڑے گا کیونکہ حکومت ہی خرابیوں کی اصل جڑ ہوتی ہے ۔ اگر حکومتی اہلکار حج اور عمرے پر پیسے بنائیں گے تو بازار میں پکوڑے بیچنے والے سے خیر کی امید نہیں رکھ سکتے ، حتیٰ کہ زکوة و عشر فنڈ سے بھی اربوں روپے خورد برد ہوتے ہیں ۔ حکومتیں کس کس طرح لوٹ مار کرتی ہیں قوم کے لیے تو ناقابل تصور ہے لیکن اس کا بار بار مظاہرہ ہورہاہے ،حتیٰ کہ ماضی کی حکومت کے ایک وزیر نے اہم ٹاک شو میں بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اظہار کیا ” کرپشن پر ہماری پارٹی کا بھی حق ہے “۔ پیلی ٹیکسیاں ، روزگار سکیم، پڑھا لکھا پنجاب ، تیل ، گیس اور معدنی ذخائر جیسے منصوبوں میں سو سو ارب روپے ڈکار لیے جاتے ہیں۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستا ن کے قومی اثاثے مثلاً پی ٹی سی ایل اور بنکوں کو اس طرح فروخت کیا گیاہے جیسے کمہار بھی اپنے گدھے کو نہیں بیچتا ۔ ان اداروں پر پہلے غیر ترقیاتی اخراجات کا بوجھ ڈالا جاتاہے پھر اس کی بیلنس شیٹ میں اثاثوں کی قیمت کم کی جاتی ہے ۔ایوب خان سے لے کر میاں نوازشریف تک اقتدار میں آنے کے لیے اعلان کرتے ہیں کہ سب کا احتساب ہوگا اور سر عام ہوگا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد انسداد کرپشن کے لیے نت نئے ادارے بھی بناتے ہیں ۔ پولیس کے بعد اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے ، پروڈا (PRODA) ۔ پوڈو (PODO) ، ایبڈو (EBDO) ، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ، احتساب کمیشن اور نیب جیسے درجن بھر ادارے جن پر سرمایہ توقوم کا خرچ ہوتاہے لیکن یہ ادارے زیادہ تر مخالفین کو ڈرانے ، دبانے اور اپنے ساتھ ملانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ آج بھی منظور نظر لوگوں کے کیس کھولنے پر حکومت تلملا اٹھی ہے ۔ نیب کے پاس 150 میگا کرپشن کیس فائلوں میں بند پڑے ہیں ۔ ہر کرپٹ چاہتا ہے کہ اس کے بجائے دوسرے کا احتساب ہو۔آڈیٹر جنرل نے 4.2 ٹریلین روپے کے حسابات پر اعتراضات لگائے ہیں جو کئی سالوں سے غیر حل شدہ (Unsettelled) ہیں ۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قومی اثاثوں کی کرپشن کو قانونی طور پر دہشتگردی اور غداری قرار دے ۔
جنگ اور دہشتگردی کسی بھی ملک کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیتی ہے جبکہ کرپشن تو انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کو شروع ہی نہیں ہونے دیتی ۔ قومی خزانہ لوٹنے کے باعث تعلیم ، صحت ، قوانین اور دیگر میدانوں میں ہماری سماجی ترقی شروع ہی نہیں ہوسکی بلکہ نوبت تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان 145 کھرب روپے کا مقروض ہے ۔ وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ ملک اب قرضے کے بغیر نہیں چل سکتا اور اب تو قرضہ بھی اس لیے لیا جاتاہے کہ سابقہ قرضوں کی قسط ادا ہو سکے ۔جماعت اسلامی اس پوری صورتحال کو بدلنے کے لیے متواتر جدوجہد کرے گی ۔ ہم اس تحریک کے دوران عوام کو باشعور (Educate) کریں گے ۔ بڑے جلسے اور دھرنے دیے جائیں گے ۔ رابطہ عوام کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ اس تحریک کے دوران ہم کرپشن کے خلاف گلوبل آپریشن بھی شروع کریں گے ۔ لوٹی ہوئی دولت کا بڑا حصہ ترقی یافتہ ممالک میں موجود ہے ۔ بالخصوص سوئٹزرلینڈ ، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے لیے ٹھوس اقدامات شرو ع کرے ۔لوٹی ہوئی دولت کا سراغ لگانے اور ملک میں واپس لانے کے لیے جماعت اسلامی ممتاز اور باکردارلوگوں پر مشتمل ایک قومی جرگہ بنائے گی جو بیرونی ممالک میں پوشیدہ لوٹی ہوئی دولت کا پتہ لگائے گا اور اس کی واپسی کیلئے کوششیں کرےگا۔ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ اب حکومتوں کا کامیابی کا معیار ناپنے کا یہ پیمانہ بن گیا ہے کہ کونسی حکومت زیادہ قرضہ لیتی ہے ۔ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے نمائندے آکر اسلام آباد میں بیٹھ جاتے ہیں اور مزید قرضہ نہ دینے کے طعنے دیتے ہیں ۔عالمی مالیاتی اداروں کے اہلکار غربت کی ماری عوام پر ٹیکسوں اور بلوں کا بوجھ بڑھانے کی شرائط لگاتے ہیں جنہیں پورا کرنے کیلئے حکمران قوم کے تن مردہ سے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ ملک میں اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اور غلط کام کرنے والوں کی سرپرستی کی جاتی ہے اور انہیں تعریفی اسناد اور تمغوں سے نوازا جاتا ہے ۔