سینیٹر سراج الحق نے مارچ سے کرپشن و غربت ناانصافی اور ظلم و جبر کے خلاف فیصلہ کن احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا، پاکستان کو دنیا کا ایک جدیدترین اور محفوظ ترین ملک بنائینگے اور ظلم و جبر و ناانصافی سے عوام کو نجات دلائینگے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

PI IJT

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مارچ سے کرپشن و غربت ناانصافی اور ظلم و جبر کے خلاف فیصلہ کن احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ہم پاکستان کو دنیا کا ایک جدیدترین اور محفوظ ترین ملک بنائینگے اور ظلم و جبر و ناانصافی سے عوام کو نجات دلائینگے۔اداروں کی نجکاری کی بجائے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور میریٹ کے مطابق اداروں کو چلایا جائے تو پاکستان کے اداروں سے منافع بخش ادارے پوری دنیا میں نہیں لیکن کرپشن نے ملکی اداروں کو کوکھلاکرکے رکھ دیا ہے۔ حکومت فرعون کی اور نظام موسیٰ علیہ السلام کا یہ ناممکن ہے ،پاکستان میں جمہوریت اور سیاست کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ایک مخصوص ٹولے نے ملکی سیاست و جمہوریت کو پیسوں کا کھیل بنا رکھا ہے ۔یہاں ووٹوں کا نہیں نوٹو ں کا مقابلہ ہوتا ۔ایک عام شہری کیلئے سیاست میں حصہ لینا کواب بناہوا ہے۔ملکی اداروں اور اہم شخصیات نے آئین کو بھی اپنے پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔آئین کے دفعہ 37کے تحت حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ملک سے عصمت فروشی ،فحاشی ،جوئے بازی سمیت دیگر جرائم کا خاتمہ کرے لیکن یہاں پر تو فحاشی حدیں کراس کررہی ہیں ،میڈیا پر اشتہارات کے ذرئعے جو فحاشی پھیلائی جارہی اسکی تو یورپ کے قانون میں بھی اجازت نہیں ،ملک کو نااہل حکمرانوں نے تماشا بنا رکھا ان خیالات کا اظہار انہوں اٹک میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام تین روزہ کل پاکستان اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ نو جوان اٹھیں اور پاکستان کو ایک اسلامی اور خوشحال پاکستان بنائیں وہ پاکستان جس کے آئین میں درج ہے کہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کردیں ،ہسپتال میں فری علاج،چھت کی فراہمی ،صاف پانی اور تعلیم یہ عوام کے آئینی حقوق ہیںآئین کے مطابق وہ لوگ جو جیلوں میں ہونے چاہئیں بدقسمتی سے ہمارے حکمران بن بیٹھے ہیں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں اگر 1973کے آئین پر عملدراد ہوجائے تو عوام کو ایک فلاحی و اسلامی ریاست مل جائیگی انہوں نے کہا کہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں لیکن ہمارے اشرافیہ حکمرانوں کے جانور بھی پلاؤ کھاتے ہیں انہوں نے کہا کہ جس ملک میں صدر پاکستانآئین کے خلاف مطالبہ کرتے ہوئے سود کو جائز قرار دلوانے کی درخواست کرے جہاں سودی نظام رائج ہو وہاں کبھی عوام کو سکون و ترقی نہیں مل سکتی انہوں نے کہا کہ ہم سودی نظام کو اس ملک سے اکھاڑ پھینکیں گے کیونکہ سودی نظام اپنے ہی ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہے انہوں نے آئین پاکستان کی کاپی لہراتے ہوئے کہاکہ ہمارے پاس ایسا آئین ہے جس میں عوام کو تحفظ دیا گیا ہے اور حکمرانوں کو خادم بنایا گیا ہے لیکن آئین اور قانون تو دراصل اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال ہے اس لئے آئین کو اور قانون کو لاگو کرنے کیلئے عوام کو اٹھنا ہوگا انہوں نے طلبہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے سفیر بن جائیں اور ملک کو ایک جدیدی ترین اسلامی ریاست بنانے کیلئے بنیادی جدوجہد کا حصہ بن جائیں اس موقع پر ہزاروں طلبہ نے ہاتھ اٹھاکر اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کا سفیر بننے کا عہد بھی کیا۔قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم پی آئی اے ملازمین کی تجاویز کے مطابق ادارے کا وزیر نامزد کردیں اور دیانتدار انتظامیہ دے دیں ، ملازمین ایک سال کے اندر قومی ایئر لائن کو خود خسارے سے نکالنے کی پیش کش کر چکے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں مسلم لیگ(ن) نے اس کا ساتھ دیا۔اب پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلم لیگ(ن) کا ساتھ دے رہی ہے تاکہ کرپٹ عناصر پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکے۔ انتخابی،اخلاقی،مالی کرپشن کی موجودگی میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی ۔ قومی حکومت یا ٹینکو کریٹس کی حکومت کی تجاویز کے شوشے مایوس ذہنوں کی پیداوارہیں ۔آئین اور جمہوری طریقوں سے ہی حکومت کو لا یا اورختم کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا ۔ تفصیلات جمع کرنا شروع ہوگئی ہیں، مارچ 2016سے کرپشن کے خلاف قومی تحریک میں بڑے بڑے چوروں کو بے نقاب کریں گے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پی آئی اے کی ہڑتال کی وجہ سے ساری قوم پریشان اور ہزاروں مسافر متاثر ہورہے ہیں۔ قومی معیشت اسی وجہ سے برباد ہورہی ہے۔ کئی دن گزر گئے ہوائی اڈوں پر جوتماشا ہو رہا ہے اس پر دشمن خوش ہے۔ صورتحال دنیا کے لیے تماشا بن گئی ہے حکومت خود کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی میں دشمن کا ہاتھ ہے تو ہوائی اڈوں پر ایسے ماحول کی وجہ سے سنگین حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ دونوں جاں بحق ملازمین کے حوالے سے عدالتی حکم کے باوجود حکومت ایف آئی آر کے لیے لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ لگتا ہے کہ ملک کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔جمہوری ملک میں حکمرانوں کی سوچ بادشاہوں کی ہے ایسے قومی اداروں کوجنہوں نے نصف صدی سفر طے کرلیا ہے، حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر بیچ رہی ہے ۔ حکمران عوام کو دھوکہ دینے کے لیے کہہ رہے ہیں کہ نجکاری نہیں شراکت داری کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ ایسے فیصلوں کے لیے حکومت کو چاروں صوبوں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے ۔ عوام کے مستقبل کے فیصلوں پر وسیع تر مشاورت ہونی چاہیے۔کروڑوں عوام کو کسی ٹھیکیدار کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی طرح بھارتی ،جاپانی،امریکن ایئر لائن بھی خسارے میں ہیں ،انہوں نے اپنی ایئر لائنز فروخت کرنے کی تو بات نہیں کی ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گر کر 33 ڈالر فی بیرل ہونے سے پی آئی اے میں اچھے دنوں کی واپسی کی توقعات ہوئیں تو اس کو بیچنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ایک مخصوص طبقہ کی مالی مفادات کے حوالے سے حکومت میں لابی ہوتی ہے جو اداروں کو پہلے ناکام بناتی ہے کرپشن اور بد انتظامی پیدا کی جاتی ہے اور ناکام بنا کر ٹھیکیدار کے حوالے کرنے کا جواز بنایا جاتا ہے اگر جواز یہی رہا تو شاید کوئی ادارہ بھی نجکاری سے نہ بچ پائے ۔ برباد کیا گیا ہے ذمہ داران کا ضرور احتساب ہونا چاہیے۔ لوٹ مار کا حساب لیا جانا چاہیے۔ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو 9 ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہیں اس کی نجکاری کی بھی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ پھر واپڈا،اسلام آباد پھر پاکستان کی باری ہے۔ حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ۔ ریلویز میں بہتری آئی ہے بہترین انتظامیہ اور دیانتدار عملے کی موجودگی میں کوئی ادارے کو برباد نہیں کر سکتا ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ جس نے بھی قومی دولت کو لوٹا ہے اس سے ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے ۔ انتخابی،اخلاقی،مالی کرپشن کی موجودگی میں جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سیاسی وجماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس تحریک میں شریک ہو ں تاکہ ہم کرپشن فری ماڈل پاکستان بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ہی کلب کے لوگوں کے گرد گھومتی ہے یہ ظالم جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کاوہی کلب ہے جس کے ذریعے حکومتوں میں آنے والوں کو سپورٹ ملتی ہے اور پھر یہ کلب اپنے سرمائے اور جاگیر کو بڑھانے کے لیے حکومت کو استعمال کرتا ہے پاکستان کے مجبور مقہور مظلوم عوام ہمارے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بد امنی اور کرپشن کی وجہ سے غربت اور محرومیوں میں اضافہ ہوتا ہے دہشت گردی بڑھتی ہے ملک کے تمام بڑے اداروں میں کرپشن کینسر کی طرح پھیل گئی ہے۔ واپڈا میں دس کھرب سے زیادہ کی کرپشن ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پر 70 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کا بوجھ ہے قوم کا ہر بچہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جرائم کے بادشاہ جس جماعت میں بھی ہیں ان پر ہاتھ ڈالا جائے ان کے چہروں سے نقاب اٹھایا جائے۔ کرپشن میں بڑے بڑے لوگ ملوث ہوتے ہیں اور ملک سے باہر چلے جاتے ہیں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s