حکومت اور ادارے ایک پیج پر آئیں اور قوم کی پریشانیوں کا حل تلاش کریں۔ادارے حکومت بناتی ہے اور حکومت ہی کی نگرانی میںادارے کام کرتے ہیں۔سینیٹر سراج الحق کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو

12237957_1084435108241664_6997985444150726340_o

لاہور 11فروری 2016 ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت اور ادارے ایک پیج پر آئیں اور قوم کی پریشانیوں کا حل تلاش کریں۔ادارے حکومت بناتی ہے اور حکومت ہی کی نگرانی میںادارے کام کرتے ہیں ،دونوں مشترکہ لائحہ عمل بنائیں تاکہ ملک میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوسکے ۔دینی جماعتیں آئین اور جمہوریت کا احترام کرتی ہیں اور آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے نظام کی اصلاح چاہتی ہیں ،ہم دینی اداروں اور مدارس کے نظام تعلیم کی اصلاح کے حامی ہیں ،حکومت دیگر تعلیمی اداروں کی طرح دینی اداروں کو بھی سہولیات دے اور سرپرستی کرے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عوام کو جان ومال اور عزت کا تحفظ دینا اور قومی مسائل کاحل تلاش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اگر حکومت اپنے اس فرض کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے توپھر اسے خود ہی عوام کے سامنے اپنی نا اہلی کا اعتراف کرلینا چاہئے ۔حکومت کا اپنے اداروں پر الزام لگانا درست اقدام نہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ دینی جماعتیں پاکستان کو ایک مضبوط اور باوقار ملک بنانے کیلئے آئینی اور جمہوری جدوجہد کررہی ہیں وہ نظا م کی اصلاح کیلئے کسی غیر آئینی اور پرتشدد طریقے پر یقین نہیں رکھتیں ،آئین اور جمہوریت کا احترام کرتی ہیں ۔حکومت کا فرض ہے کہ وہ دینی تعلیم کے اداروں کی بھی اسی طرح سرپرستی کرے جس طرح دیگر تعلیمی اداروں کی کرتی ہے اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے تیس لاکھ سے زائد طلباءکو بھی وہی سہولتیں دی جائیں جو ملک کے سرکاری سکولوں ،کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباءکو دی جارہی ہیں۔سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر کے اختلافات کو کچھ لوگ اپنے مذموم مقاصد کیلئے بڑھاچڑھا کر پیش کرتے ہیں ،جس سے قومی یکجہتی اور اتحا د کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے حالانکہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان اختلاف کی نوعیت ہمیشہ علمی رہی ہے اس کو پرتشدد اور قابل نفرت انداز میں حل نہیں کیا جاسکتا۔جماعت اسلامی جمہوری طریقے سے مسائل حل کرنے کی حامی ہے،قانون کو ہاتھ میںلیکر مسائل سلجھائے نہیں جاسکتے بلکہ مزید الجھ جاتے ہیں۔
سینیٹر سراج الحق نے ایل پی جی کی درآمد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گیس پائپ لائن کی مد میں عوام پر ایک سو ایک بلین روپے کا بوجھ ڈالا جارہا ہے ۔حکومت قومی وسائل کی طرف توجہ نہیں دے رہی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کررکھا ہے ۔انہوںنے کہا کہ حکومت ہمیشہ سہاروں کی تلاش میں رہتی ہے اور خود انحصاری کا باعزت راستہ اپنانے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کی بد حالی کو دور کرنےکی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ،پوری دنیا میں کسانوں کو سہولتیںدی جاتی ہیں ،زرعی مداخل بیج ،کھاد اور زرعی ادویات اور بجلی تیل اور گیس کی قیمتوںمیں سبسڈی دی جاتی ہے مگر ہماری حکومت کسانوں او رمزدوروں کا معاشی قتل اور استحصال کررہی ہے ۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s