قوم کو اصل خطرہ اقتدار میں بیٹھی ہوئی داعش سے جس کی وجہ سے غریب کا بری طرح استحصال ہورہاہے اور اس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہاہے ۔ قوم پاکستان کو کرپشن سے پاک خوشحال ملک دیکھنا چاہتی ہے ،کرپشن فری پاکستان کی تحریک کا آغاز لاہور سے کیا جائے گا۔سینیٹر سراج الحق کی ٹاﺅن شپ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو 

pic sirajul haq123

لاہور15فروری2016ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ قوم کو اصل خطرہ اقتدار میں بیٹھی ہوئی داعش سے جس کی وجہ سے غریب کا بری طرح استحصال ہورہاہے اور اس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہاہے ۔ قوم پاکستان کو کرپشن سے پاک خوشحال ملک دیکھنا چاہتی ہے ،کرپشن فری پاکستان کی تحریک کا آغاز لاہور سے کیا جائے گا۔عوام عزت کی دال روٹی ،کپڑا اور چھت چاہتے ہیں ،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر غریب کے چہرے پر رونق دیکھنے میں نہیں آتی ۔عوام چاہتے ہیں کہ ان کو تعلیم صحت اور روز گار کی جائز سہولتوں کے لئے کسی کی سفارش یا رشوت دینے کی ضرورت نہ پڑے ۔ کرپشن اور بدیانتی کی وجہ سے بازار سے خالص ادویات کا ملنا بھی مشکل ہے ۔ملک میں اسی لاکھ نوجوان بے روز گار ہیں جن میں سے 60فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں ،حکومت بتائے کہ ان نوجوانوں کو روز گار دینے کیلئے حکومت نے کیا پالیسی بنائی ہے ۔امراءکے نااہل بیٹے سرکاری محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان جبکہ غریب کا اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹا میرٹ کے قتل عام کی وجہ سے ریڑھی لگانے پر مجبورہے۔ظلم و جبر اور کرپشن کے اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہا را نہوں نے لاہور میں ٹاﺅن شپ مین مارکیٹ کے دورہ کے دوران تاجروں سے ملاقاتوں کے موقع پر بات چیت اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد ،چوہدری شوکت اور تاجر رہنماوسیم اسلم قریشی بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم سے پٹواری تک آئین میں درج اپنے لئے سہولیات کی دفعات پر تو فوری عمل کرتے ہیں لیکن آئین کی جن دفعات میں عوام کے حقوق کی بات ہوتی ہے اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کو داعش سے ڈرا رہے ہیں مگر خود عوام کو جان و مال کا تحفظ دینے کیلئے تیار نہیں اور اپنی حفاظت کے لیے بڑے بڑے سیکیورٹی فلیٹ رکھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اصل خطرہ اقتدار کے ایوانوںاور دفاتر میں بیٹھی داعش سے ہے جس کی وجہ سے غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مررہے ہیں۔سب سے بڑی دہشت گردی ہے یہ کہ ملک میں دوائی مہنگی اور موت سستی ہے ۔عام آدمی سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا ہے ۔ حکمران سکولوں کے معصوم بچوں کا تحفظ کرنے کی بجائے انہیں اپنی حفاظت خود کرنے کے مشورے دے ر ہے ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ احتساب میں پسند اور ناپسند کا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ،کرپشن غریب نہیں ہمیشہ صاحب اقتدار اور بااثر لوگ کرتے ہیں ،لیکن احتساب کے ادارے مچھلیوں کو پکڑلیتے ہیں اور مگر مچھوں کو چھوڑ دیتے ہیں اس لئے قوم چاہتی ہے کہ ایک کڑا اور بے رحم احتساب ہو جس میں آج تک پاکستان کا خون چوسنے والی جونکوں کو پکڑ ا جائے ۔انہوں نے کہا کہ قوم کی امانتوں کو ہڑپ کرنے والوں کی جگہ اقتدار کے ایوان نہیں اڈیالہ جیل ہے اور جب تک ایسے لٹیروں اور ڈاکوﺅں کو پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے بند نہیں کیا جاتا ملک سے کرپشن کا بازار ختم نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہم مارچ میں کرپشن کے خلاف بہت بڑی تحریک کا آغاز کررہے ہیں ۔ہم ملک کے ہر طبقہ زندگی سے اپیل کرتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، یہ پاکستان کو بچانے کی تحریک ہے ،اس تحریک کے مقاصد سیاسی نہیں بلکہ قومی ہیں اور جس طرح تحریک پاکستان میں برصغیر کے مسلمانوں نے عظیم الشان قربانیاں دی تھیں اور اپنے لئے ایک علیحدہ اسلامی مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اسی طرح آج اس پاکستان کو بچانے کیلئے تحریک کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر لوٹی گئی قومی دولت ملکی بنکوں میں آ جائے تو ہمیں کسی بیرونی قرضے کی ضرورت نہ رہے اور پاکستان حقیقی معنوں میںایک خوشحال اورآزاد ملک بن جائے ۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستا ن کا بچہ بچہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا مقروض ہے اور نااہل حکمرانوں نے قوم کے ہاتھوں میں غلامی کی ہتھکڑیا ں اور پاﺅں میں زنجیریں ڈال دی ہیں ۔ کرپٹ اور بدیانت لوگوں سے آزادی کے لئے قوم کو ایک بڑی تحریک کیلئے اٹھنا چاہئے ۔  
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s