مرکز اور پنجاب کے حکمران چاہتے ہیں کہ نیب سندھ میں جو چاہے کرتا رہے ، ہمارے صوبے کو تنگ نہ کریں ، ہم پنجاب میں نیب کوکوئی کاروائی نہیں کرنے دیں گے ۔ وزیراعظم کے نزدیک قومی بنکوں کو لوٹ کر اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے والے معصوم لوگ ہیں تو پھر بتایا جائے مجرم کون ہیں ۔سینیٹر سراج الحق کا ایوان اقبال میں جمعیت طلبہ عربیہ کی نفاذ اسلام کانفرنس سے خطاب

pic sirajul haq- (1)

لاہور18 فروری2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مرکز اور پنجاب کے حکمران چاہتے ہیں کہ نیب سندھ میں جو چاہے کرتا رہے ، ہمارے صوبے کو تنگ نہ کریں ، ہم پنجاب میں نیب کوکوئی کاروائی نہیں کرنے دیں گے ۔ وزیراعظم کے نزدیک قومی بنکوں کو لوٹ کر اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے والے معصوم لوگ ہیں تو پھر بتایا جائے مجرم کون ہیں ۔ نیب مرکزی ادارہ ہے جسے چاروں صوبوں میں آزادانہ کاروائی کا اختیار ملناچاہیے ۔ اگر ایک صوبے کے خلاف کاروائی ہوتی ہے اور دوسرے کو پوچھا نہیں جاتاتو اس کے تباہ کن انجام کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر ہوگی ۔ موجودہ اور سابقہ حکمران ہمیشہ ایک دوسرے کو تحفظ دیتے رہے ہیں اور اب بھی چاہتے ہیں کہ کسی کا احتساب نہ ہو ۔ قوم کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ہماری کرپشن فری پاکستان کی جدوجہد میں شامل ہو کر اپنی خوشیوں کے قاتلوں سے حساب برابر کرلیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت طلبا عربیہ کے زیر اہتمام ایوان اقبال میں منعقدہ ”نفاذ اسلام کانفرنس “سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس سے صدر اتحاد العلماءمولانا عبدالمالک، امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد ، مولانا امجد خان، جمعیت طلباءعربیہ کے منتظم اعلیٰ مولانا عبید الرحمن عباسی و دیگر جید علماءکرام نے بھی خطاب کیا ۔
سراج الحق نے کہاکہ ملک میں معاشی ، اخلاقی اور انتخابی کرپشن کا راج ہے ۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں کم ترین سطح پر آ گئی ہیں جبکہ ہمارے حکمران ایک لٹر میں 45 روپے عوام سے کما رہے ہیں ۔ دوائیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیاہے ۔ ملک کے مجبور و محروم عوام کو اس ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہوناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی گھیراﺅ جلاﺅ پر یقین نہیں رکھتا لیکن حکمرانوں نے حالات کو نہ پہچانا تو جھونپڑیوں سے نکلنے والے لاکھو ں عوام اقتدار کے ایوانوں کا گھیراﺅ کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بناناچاہتے ہیں ، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا ضامن اسلام اور نظریہ پاکستان ہے ۔ 
سراج الحق نے کہاکہ وزیر اعظم احتساب کے اداروں پر برس کر عوام کے اندر یہ تاثر پیدا نہ کریں کہ بڑے لوگ احتساب سے بالا تر ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور مگر مچھوں کو پکڑنا کسی کے بس میں نہیں ۔68سال سے غریبوں کا خون چوس کر اپنے محل اور بنگلے بنانے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے ۔موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے بیانات اشارہ دے رہے ہیں کہ ان کی کرپشن کا پردہ چاک کرنے والے حکومتی ادارے غیظ و غضب کا نشانہ بنیں گے ۔نیب کی طرف سے چند بڑوں کے خلاف صرف ثبوت اکٹھا کرنے پر اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ اقتدار میں رہنے والی پارٹیاں نیب کو متنازعہ بنا کراپنے خلاف ہونے والی کاروائی سے بچناچاہتی ہیں۔نیب کے چیئر مین کا تقرر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے باہمی اتفاق سے ہوا تھا،حکومت کا فرض ہے کہ وہ قوم کو اعتماد میں لے اور بتایا جائے کہ نیب کن بے گناہوں کے خلاف کاروائی کرنا چاہتی ہے اور وزیر اعظم مبہم بیان دینے کی بجائے دو اور دو چار کی طرح واضح کریں کہ وہ کون شریف لوگ ہیں جن کی پگڑی نیب اچھال رہا ہے ۔اگر کوئی ادارہ دیانتداری سے کام کرنا چاہتا ہے تواس کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی ہونی چاہئے نہ کہ اس پر کوئی قدغن لگائی جائے اور اسے دھمکایا جائے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سوئس بنکوں میں پڑے قوم کے 2سو ارب ڈالر ملک میں کیو ں نہیں لائے جارہے اس کا جواب حکومت کو دینا چاہئے ۔نیب اگر پلی بار گین جیسی پالیسی نہ اپناتا تو آج اسے شاباش مل رہی ہوتی اورعوام اس ادارے کی کارکردگی کی تعریف کررہے ہوتے ۔نیب کو یہ پوچھا جانا چاہئے تھا کہ اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والوں سے چند لاکھ روپے لیکر انہیں چھوڑنے کا اختیار کس نے دیا ہے ۔لٹیروں سے قوم کی ایک ایک پائی وصول کرنی چاہئے تھی ۔سابق چیئر مین نیب نے تسلیم کیا تھا کہ ملک میں روزانہ 10سے 12ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے ،نیب قوم کو بتائے کہ اتنی بڑی رقم کہاں جارہی ہے ،اس کے حصہ داروں کو بے نقاب کرے اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس کرپشن کو کس طرح روکا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیب کا کام صرف نشاندہی کرنا نہیں بلکہ کرپشن کو روکنا اور لوٹی گئی دولت کو واپس لانا بھی ہے ۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s