کرپشن میں سیاستدان ،بیوروکریٹس ،ٹھیکیدار، لینڈ مافیا ،سرمایہ دارحتی کہ قوم کے محبوب ترین ادارے فوج کے بھی بعض سابق افسران شامل ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان یکم مارچ سے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کر رہی ہے ۔سینیٹر سراج الحق کی منصورہ میں پریس کانفرنس

pic sirajul haq (1)

لاہور23فروری 2016ء
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اور چاروں صوبائی امراءکے ہمراہ منصورہ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاشی ،سیاسی ،انتخابی اور اخلاقی کرپشن کے خاتمہ کیلئے ملک گیر ”کرپشن فری پاکستان تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کا ناسور قومی سلامتی ،جمہوریت ،انتخابی عمل اور پوری قوم کی اخلاقی قدروں کیلئے خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے ۔پاکستان میں 12ارب روپے روزانہ کرپشن ہورہی ہے گویا 4320ارب روپے سالانہ کی کرپشن ہورہی ہے ۔اس کرپشن کے باعث مہنگائی ،بے روزگاری ،بدامنی اور غربت قوم کی جان نہیں چھوڑ رہیں ۔ کرپشن میں سیاستدان ،بیوروکریٹس ،ٹھیکیدار، لینڈ مافیا ،سرمایہ دارحتی کہ قوم کے محبوب ترین ادارے فوج کے بھی بعض سابق افسران شامل ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان یکم مارچ سے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کر رہی ہے ۔ کرپشن اور کرپٹ نظام کو زندگی اور بقا کرپٹ سیاستدانوں اور نوکر شاہی نے دی ہے۔ کرپشن کے خلاف بنائے گئے اداروں نے بھی ہمیشہ ان کو چھتری فراہم کی ہے ۔ ملک میں بے انتہا غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کی ماں موجودہ کرپٹ سسٹم ہے۔ ہماری تحریک کا ہدف کرپٹ نظام اورکرپٹ اشرافیہ ہے۔یہ ایک قومی تحریک ہے جس کے لیے ہم تمام نیک نام اور باضمیر شخصیات اور جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس تحریک میں ہماری رہنمائی کریں اوراس تحریک کا حصہ بنیں ۔ کرپشن فری پاکستان قومی تحریک ملک سے ہر طرح کی کرپشن کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ انتخابی نظام وڈیروں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کا محافظ بنا ہوا ہے اور جو اربوں روپے خرچ کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے ہیں وہ کھربوں کی کرپشن کرتے ہیں ۔سیاسی جماعتیں پیسہ لگانے والے کرپٹ لوگوں کو ٹکٹیں بانٹتی ہیں ۔الیکشن سرمائے کا کھیل بن چکا ہے۔ انتخابی کرپشن کا حال یہ ہے کہ آئین کی دفعہ 62-63 کی سیاہی الیکشن کمیشن کا منہ چڑا رہی ہے ۔ حرام خوروں نے کھادوں سے لے کر ادویات تک میں ایسی گراوٹ کے ساتھ ملاوٹ کی ہے کہ پاکستانی دنیا میں سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے ۔ پہلے ہم دودھ میں پانی ملاتے تھے اور اب پانی سے دودھ بنانے کے گھٹیا ترین موجد بن گئے ہیں ۔اخلاقی کرپشن کا حال یہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے ادارے فحاشی روکنے کے بجائے فحاشی کی تعریف کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں جو ظاہر ہے کہ اللہ رب العزت کے غضب کو بھڑکا نے والی بات ہے ۔یہ قوم ناموس رسالت پر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتی ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کو خود پامال کر رہی ہے ” جو خون اور گوشت حرام رزق پر پرورش پائے گا وہ جنت میں نہ جائے گا “ کرپشن ختم کرنے کے لیے حکمرانوں کو اعلیٰ کردار کا نمونہ بننا پڑے گا کیونکہ حکومت ہی خرابیوں کی اصل جڑ ہوتی ہے ۔ اگر حکومتی اہلکار حج اور عمرے پر پیسے بنائیں گے تو بازار میں پکوڑے بیچنے والے سے خیر کی امید نہیں رکھ سکتے ، حتیٰ کہ زکوة و عشر فنڈ سے بھی اربوں روپے خورد برد ہوتے ہیں ۔ حکومتیں کس کس طرح لوٹ مار کرتی ہیں قوم کے لیے تو ناقابل تصور ہے لیکن اس کا بار بار مظاہرہ ہورہاہے ،حتیٰ کہ ماضی کی حکومت کے ایک وزیر نے اہم ٹاک شو میں بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اظہار کیا ” کرپشن پر ہماری پارٹی کا بھی حق ہے “۔ پیلی ٹیکسیاں ، روزگار سکیم، پڑھا لکھا پنجاب ، تیل ، گیس اور معدنی ذخائر جیسے منصوبوں میں سو سو ارب روپے ڈکار لیے جاتے ہیں۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستا ن کے قومی اثاثے مثلاً پی ٹی سی ایل اور بنکوں کو اس طرح فروخت کیا گیاہے جیسے کمہار بھی اپنے گدھے کو نہیں بیچتا ۔ ان اداروں پر پہلے غیر ترقیاتی اخراجات کا بوجھ ڈالا جاتاہے پھر اس کی بیلنس شیٹ میں اثاثوں کی قیمت کم کی جاتی ہے ۔ایوب خان سے لے کر میاں نوازشریف تک اقتدار میں آنے کے لیے اعلان کرتے ہیں کہ سب کا احتساب ہوگا اور سر عام ہوگا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد انسداد کرپشن کے لیے نت نئے ادارے بھی بناتے ہیں ۔ پولیس کے بعد اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے ، پروڈا (PRODA) ۔ پوڈو (PODO) ، ایبڈو (EBDO) ، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ، احتساب کمیشن اور نیب جیسے درجن بھر ادارے جن پر سرمایہ توقوم کا خرچ ہوتاہے لیکن یہ ادارے زیادہ تر مخالفین کو ڈرانے ، دبانے اور اپنے ساتھ ملانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ آج بھی منظور نظر لوگوں کے کیس کھولنے پر حکومت تلملا اٹھی ہے ۔ نیب کے پاس 150 میگا کرپشن کیس فائلوں میں بند پڑے ہیں ۔ ہر کرپٹ چاہتا ہے کہ اس کے بجائے دوسرے کا احتساب ہو۔آڈیٹر جنرل نے 4.2 ٹریلین روپے کے حسابات پر اعتراضات لگائے ہیں جو کئی سالوں سے غیر حل شدہ (Unsettelled) ہیں ۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قومی اثاثوں کی کرپشن کو قانونی طور پر دہشتگردی اور غداری قرار دے ۔
جنگ اور دہشتگردی کسی بھی ملک کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیتی ہے جبکہ کرپشن تو انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کو شروع ہی نہیں ہونے دیتی ۔ قومی خزانہ لوٹنے کے باعث تعلیم ، صحت ، قوانین اور دیگر میدانوں میں ہماری سماجی ترقی شروع ہی نہیں ہوسکی بلکہ نوبت تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان 145 کھرب روپے کا مقروض ہے ۔ وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ ملک اب قرضے کے بغیر نہیں چل سکتا اور اب تو قرضہ بھی اس لیے لیا جاتاہے کہ سابقہ قرضوں کی قسط ادا ہو سکے ۔جماعت اسلامی اس پوری صورتحال کو بدلنے کے لیے متواتر جدوجہد کرے گی ۔ ہم اس تحریک کے دوران عوام کو باشعور (Educate) کریں گے ۔ بڑے جلسے اور دھرنے دیے جائیں گے ۔ رابطہ عوام کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ اس تحریک کے دوران ہم کرپشن کے خلاف گلوبل آپریشن بھی شروع کریں گے ۔ لوٹی ہوئی دولت کا بڑا حصہ ترقی یافتہ ممالک میں موجود ہے ۔ بالخصوص سوئٹزرلینڈ ، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے لیے ٹھوس اقدامات شرو ع کرے ۔لوٹی ہوئی دولت کا سراغ لگانے اور ملک میں واپس لانے کے لیے جماعت اسلامی ممتاز اور باکردارلوگوں پر مشتمل ایک قومی جرگہ بنائے گی جو بیرونی ممالک میں پوشیدہ لوٹی ہوئی دولت کا پتہ لگائے گا اور اس کی واپسی کیلئے کوششیں کرےگا۔ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ اب حکومتوں کا کامیابی کا معیار ناپنے کا یہ پیمانہ بن گیا ہے کہ کونسی حکومت زیادہ قرضہ لیتی ہے ۔ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے نمائندے آکر اسلام آباد میں بیٹھ جاتے ہیں اور مزید قرضہ نہ دینے کے طعنے دیتے ہیں ۔عالمی مالیاتی اداروں کے اہلکار غربت کی ماری عوام پر ٹیکسوں اور بلوں کا بوجھ بڑھانے کی شرائط لگاتے ہیں جنہیں پورا کرنے کیلئے حکمران قوم کے تن مردہ سے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ ملک میں اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اور غلط کام کرنے والوں کی سرپرستی کی جاتی ہے اور انہیں تعریفی اسناد اور تمغوں سے نوازا جاتا ہے ۔ 
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s