جس ملک کا ایک وزیرقوم کے462ارب روپے ڈکار جاتا ہے ،وہاں کی حکومتیں قومی خزانے کے ساتھ کیا کھلواڑ کرتی ہونگی ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔اگر چھت صاف ہو تو پرنالے سے گندا پانی نہیں آسکتا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا لاہور میں اجتماع ارکان سے خطاب

pic ameer ji (1)

لاہور26فروری2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جس ملک کا ایک وزیرقوم کے462ارب روپے ڈکار جاتا ہے ،وہاں کی حکومتیں قومی خزانے کے ساتھ کیا کھلواڑ کرتی ہونگی ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔اگر چھت صاف ہو تو پرنالے سے گندا پانی نہیں آسکتا۔ دونوں بڑی پارٹیوں نے حکومت میں آنے کے لیے ایک دوسرے کی باریاں مقرر کر رکھی ہیں وہ ایک دوسرے کی کرپشن کو بھی تحفظ دیتی چلی آ رہی ہیں ۔احتساب کے اداروں کودونوں پارٹیوں کی حکومتوں نے ناکام بنایا ہے۔وزیر موصوف کی نیب کے ہاتھوںگرفتاری پرواویلا کرنے والے بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں۔سابق چیئرمین نیب نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھاکہ روزانہ 12ارب کی کرپشن ہوتی ہے اسے روک کر ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نجات دلائی جاسکتی ہے ۔عالمی استعمار امداد کے نام پر اپنے ایجنٹوں کو قرضوں کے جال میں پھنساتا ہے اور پھر ان کے ذریعے مقروض ممالک پر حکومت کرتا ہے ۔عوام کی محرومیوں کے ذمہ دار استعماری ایجنڈے پر کام کرنے والے حکمران ہیں ۔جب تک پاکستان کو کرپشن کے ناسور سے نجات نہیں دلالیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ مرکزی تربیت گاہ کے اختتامی سیشن اور بعد ازاں جامع مسجد میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 68سال سے قوم پر مسلط حکمران عالمی استعمار کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ،امریکہ اور مغرب نے اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کیلئے اپنے زرخرید غلاموں کوہمارے اقتدار کے اداروں پرمسلط کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے لوٹی گئی اربوں ڈالر ز کی رقم آئی ایم ایف ،ورلڈبنک سے لئے گئے قرضوں اور امریکہ سے امداد کے نام پرملنے والی بھیک کے مجموعی حجم سے کئی گنازیادہ ہے ۔سالانہ ہونے والی 4380ارب روپے کی کرپشن کو روک کر اور بیرونی بنکوں میں پڑی قومی دولت کو واپس لا کرہم نہ صرف تمام قرضے اتار سکتے ہیں بلکہ بڑے ڈیموں سمیت ملک میں درجنوںڈیم اور توانائی کے منصوبے مکمل کئے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور کرپٹ نظام کو زندگی اور بقا کرپٹ سیاستدانوں اور نوکر شاہی نے دی ہے۔ کرپشن کے خلاف بنائے گئے اداروں نے بھی ہمیشہ ان کو چھتری فراہم کی ہے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپشن” ام الخبائث “ہے ،اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ پھیلتی جائے گی اور ملک وقوم اسی طرح مصیبتوں اور پریشانیوں کے بھنور میں غوطے کھاتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کرپشن کے خلاف تحریک کو جہاد سمجھ کراس میں شامل ہوں ،منبر و محراب سے اس کے خلاف آواز بلند ہونی چاہئے اور علماءو صحافی برادری سمیت وکلائ،اساتذہ ،طلبائ، کسان اور مزدوراس تحریک میں شامل ہوجائیں ۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم کرپشن کے خلاف جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کردم لیں گے ،یہ پاکستان کے تحفظ کا مقدس مشن ہے جسے پورا کرنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور جب تک ملک سے کرپشن کے ناسور کا قلع قمع نہیں ہوجاتا ،عوام اس تحریک کو جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ انتخابی کرپشن کے خاتمہ کیلئے آئندہ انتخابات میں الیکشن کمیشن آئین کی دفعہ 62/63پر عمل درآمدکو یقینی بنائے تاکہ الیکشن میں دولت کے اس کھیل کو روکا اور عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا جاسکے ۔   
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s