جنوبی پنجاب کے تمام وسائل حکمرانوں کے شہر میں استعمال ہورہے ہیں اور یہاں کے کروڑوں عوام کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے ۔جنوبی پنجاب کے وسائل ہڑپ کرنے والے عوام کے اندر نفرتوں کے بیج بو رہے ہیں ۔اس سے بڑی بدیانتی کیا ہوسکتی ہے کہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اپنا شملہ اونچا کرلیا جائے ۔ سینیٹر سراج الحق کا مظفر گڑھ میں کسان کنونشن سے خطاب

ppp 

لاہور25مارچ2016ء
امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے جنوبی پنجاب کے تمام وسائل حکمرانوں کے شہر میں استعمال ہورہے ہیں اور یہاں کے کروڑوں عوام کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے ۔جنوبی پنجاب کے وسائل ہڑپ کرنے والے عوام کے اندر نفرتوں کے بیج بو رہے ہیں ۔اس سے بڑی بدیانتی کیا ہوسکتی ہے کہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اپنا شملہ اونچا کرلیا جائے ۔بڑے بھائی کی طرح چھوٹے بھائی کے کسان پیکیج سے بھی کسی کسان کے چہرے پر رونق نہیں آئی۔ حکمرانوں نے امریکہ و مغرب کو خوش کرنے کیلئے عاشق رسول غازی ممتاز قادری کو پھانسی دیکر قیامت تک کیلئے اپنے گلے میں لعنت کا طوق ڈال لیا ہے ۔بلاول غیر آئینی مطالبات سے پہلے اپنے نانا کے بنائے ہوئے آئین کو پڑھ لیتے تو اچھا تھا ۔عوام کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں امانت و دیانت کا بول بالا ہوگا اور چوروں اور لٹیروں کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔بھارت ماضی کی طرح آج بھی پاکستان کو توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہے اور ہمارے حکمران مودی سے دوستی کیلئے مرے جارہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفر گڑھ میں کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کنونشن سے کسان مزدور راج تحریک کے چیئرمین ارسلان خان خاکوانی ،چوہدری عزیر لطیف ،شیخ عثمان فاروق ، امیر العظیم اور ضلعی امیر رانا عمر دراز فاروقی نے بھی خطاب کیا۔کنونشن میں علاقہ کے ہزاروں کسانوں نے شرکت کی ۔قبل ازیں ہیڈ محمد پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں سینکڑوںگاڑیوں کے جلوس میں پرانی چونگی مظفر گڑھ جلسہ گاہ تک لایا گیا ۔
کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ حکمران دیانتداری کے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر جنوبی پنجاب کی بدحالی دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہاں سے حاصل ہونے والے وسائل بھی یہاں خرچ نہیں کئے جارہے ۔ہر طرف مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔حکمرانوں کے ظلم و جبر اور ناانصافیوں کے خلاف عوام میں شدید نفرت پائی جاتی ہے ۔حکمران آئے روزکسانوں کی قسمت بدلنے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں اور اربوں روپے کے کسان پیکیجز دیئے جاتے ہیں مگر کسی ایک کسان کو بھی ان دعوﺅں پر یقین نہیں ۔انہوں نے کہا کہ قوم کے اربوں روپے محض وڈیروں اور جاگیر داروں کو نوازنے کیلئے برباد کئے جارہے ہیں اگر حکمران واقعی کسانوں کی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں زرعی ادویات ،بیج ،کھادیںاور زرعی مشینری کے ساتھ ساتھ زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والی بجلی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کرنی چاہئے تاکہ غریب کاشتکاروں اور کسانوں کی حالت سدھر سکے ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں لاکھوں ایکڑ اراضی حکمرانوں کی عدم توجہی کی وجہ سے بنجر ہورہی ہے ،غیر آباد زمین کو آباد کرنے کیلئے حکومت کے پاس کوئی پروگرام نہیں ،اگر حکمران بنجر زمین کو آباد کرنے کیلئے کاشتکاروں کی سرپرستی کریں اور زمین آباد کرنے والوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں تو چند سال کے اندر لاکھوں ایکڑ بے آباد اراضی کو آباد کیا جاسکتا ہے جس سے زرعی پیداوار اور ملکی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کرپشن کو موذی مرض قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،عوام کی تمام پریشانیوں اور محرومیوں کے ذمہ دار کرپٹ حکمران ہیں جنہوں نے قومی دولت لوٹ کر 375ارب ڈالر بیرونی بنکوں میں رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پر 72ارب ڈالر بیرونی قرضہ ہے جس نے ملکی معیشت کو جکڑ رکھا ہے اور سود کی ادائیگی کے بعد عوام کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ممکن نہیں رہتی اگر بیرون ملک پڑی ہوئی قومی دولت ملک میں آجائے تو ناصرف تمام قرضے ادا ہوسکتے ہیں بلکہ عوام کو تعلیم صحت روز گار اور چھت کی سہولتیں بھی آسانی سے مل سکتی ہیں اور تیس سال تک ٹیکس فری بجٹ دیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والی 4380ارب روپے کی کرپشن پر قابو پاکر ہم ہزاروں تعلیمی ادارے ،ہسپتال اور دیہاتوں سے شہروں تک دو رویہ پختہ سڑکیں بنا سکتے ہیں اور عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں مفت مہیا کی جاسکتی ہیں ۔اس لئے عوام کو کرپشن کے خلاف تحریک میں شامل ہوکر حکمرانوں سے اپنی سابقہ محرومیوں کا حساب چکانا چاہئے ۔سراج الحق نے بھارت کے حاضر سروس کرنل کے پکڑے جانے پر کہا کہ اب حکمرانوں کو اپنی دوستی نبھانے کی بجائے ملک کی فکر کرنی چاہئے اور عالمی برادری کو بھارت کے ناپاک عزائم سے آگاہ کرنا چاہئے ۔

ملک میں کرپشن کے ناسوراور غریب وامیر کیلئے الگ الگ عدالتی نظام نے ملک کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے،مشرف نے بیماری کا بہانہ بناکر عدالت،حکومت ، عوام اور میڈیاکو دھوکہ دیا۔ملک سے باہر جاتے ہی ان کے تمام درد ختم اور وہ ہشاش بشاش ہوگئے۔امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا شہداد پور میں ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب

pic ameer ji

امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے ملک میں کرپشن کے ناسوراور غریب وامیر کیلئے الگ الگ عدالتی نظام نے ملک کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے،مشرف نے بیماری کا بہانہ بناکر عدالت،حکومت ، عوام اور میڈیاکو دھوکہ دیا۔ملک سے باہر جاتے ہی ان کے تمام درد ختم اور وہ ہشاش بشاش ہوگئے۔ ہیں اس وقت بھی ملک کی عدالتوں میں 150سے زائد میگاکرپشن اسکینڈل موجود ہیں لیکن طاقتور مجرموں پر نیب اور اورعدالتیں ہاتھ نہیں ڈالتیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ جس نے بھی کرپشن کر کے قومی دولت لوٹی ہے اس پر دہشتگردی کا مقدمہ چلایا جائے ۔ کرپشن کو ختم کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ، جماعت اسلامی اسی لیے ’’کرپشن فری پاکستان مہم‘‘چلارہی ہے،عوام اپنے مسائل کے حل اور دیانتدار قیادت کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج جماعت اسلامی کے تحت ہرداس پور چوک شہداد پور میں منعقدہ ’’ناموس رسالت ؐ کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ آئین میں غداری کی سزا موت ہے مگر آئین کو توڑنے والے کو باہر بھگادیا گیا ،اگر کسی غریب پر پانچ ہزار کا بجلی بل ہوتا ہے تو اس کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے اور کروڑوں کے نادہندگان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ملک سے یہ دہرا معیار اب ختم ہونا چاہئے۔باریاں لگانے والے حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کی بجائے اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے جس کی وجہ سے آج ملک اس نازک صورتحال پر پہنچا ہے کہ قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے۔ان حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ملک ترقی نہیں کرسکتا،اسلئے عوام میں انقلابی اورعوامی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔عوام کو بھی چاہئے کہ بڑے بڑے بنگلوں کا طواف کرنے کی بجائے اپنے ووٹ کی طاقت کے ایٹم بم کو کرپشن،ناانصافیوں اور نااہل قیادت کے خلاف استعمال کریں۔سانگھڑ ضلع تیل ،گیس اور دیگر قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود صحت،تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہے،روڈ راستے اکھڑے ہوئے اور شہر موئن جو داڑو کا منظر پیش کررہے ہیں۔تھر میں بچے بھوک سے مررہے تھے تو سندھ کے حکمران ’’سندھ فیسٹول‘‘کے نام پر قومی دولت کے اربوں روپے ناچ گانے پر خرچ کررہے تھے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر وسابق ایم این اے اسداللہ بھٹو نے کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ملک کا نہیں بلکہ ایک نظریہ اور فکر کا نام ہے،حکمران ٹولہ اپنی آنکھیں اور کان کھول کر دیکھ لیں، غازی ممتاز قادری کا جنازہ اور ناموس رسالت کے جلوسوں میں عوام کی بھرپور شرکت سے واضح ہوگیا ہے کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔ممتاز قادری مجرم نہیں بلکہ ہمارا ہیرو ہے اور رہے گا۔سلمان تاثیر،سلمان رشدی کا رشتے دار تھا جس نے ناموس رسالت قانون کو کالا قانون کہا تھا۔جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ممتاز قادری کو پھانسی دیکر قرارداد پاکستان سے غداری اور انگریز کے وائسرائے کا کردار ادا کیا ہے، اس وقت بھی آسیہ مسیح سمیت 26گستاخان رسولؐ جیلوں میں بند ہیں مگر ان کی سزائے موت پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔شاتمین رسول کیلئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے، ہر پاکستانی ناموس رسالت کی حفاظت کی خاطر ممتاز قادری بننے کیلئے تیار ہے۔ناموس رسالت کانفرنس میں جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر محمد حسین محنتی،ممتاز سہتو،عبدالوحید قریشی،عبدالحفیظ بجارانی،عظیم بلوچ اور مجاہد چنا بھی موجود تھے۔دریں اثناء سعید آباد میں درگاہ پیر جھنڈو شریف میں سجادہ نشین پیر قاسم شاہ راشدی کی جانب سے اسقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ۔امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مدینہ منورہ کے بعد پاکستان دنیا میں وہ پہلی ریاست ہے جو غلبہ اسلام کے نام پر وجود میں آئی، مگر آج 68سال گذرنے کے باوجود سیاست سے لیکر معیشت تک کسی بھی شعبے میں ایک دن کیلئے بھی اسلام نافذ نہیں ہوا۔ سراج الحق نے کہا کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے،حق وباطل کے معرکہ میں معاشرے کے اچھے لوگوں کو خاموش تماشائی بننے کی بجائے اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے لوگوں کا ساتھ دینا چاہئے۔پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ نے برسراقتدار آتے ہی ملک کو سیکولر بنانے کے ایجنڈا پر عمل شروع کر دیا ہے،کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں ناچ گانے اور فحاشی کی آزادی مگر اسلام اور ناموس رسالت کی بات کرنا جرم بن گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں امریکی سفیر جاکر طلباء سے خطاب کرتا ہے کہ وہ اپنے نام سے ’’محمدؐ‘‘ ختم کردیں کیوں کہ امریکہ میں کمپیوٹر اس نام کو قبول نہیں کرتا۔تمام غلامان امریکہ ناموس رسالت قانون کو ختم کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہیں لیکن غلامان مصطفیؐ خون کے آخری قطرے تک ناموس رسالت ؐ قانون کی حفاظت کرتے رہیں گے۔اللہ کے نظام کے ساتھ سیکولر،لبرل، کیپٹل ازم اور سوشل ازم کو شریک کرنا بھی شرک عظیم ہے۔اس موقع پر پیر جھنڈو شریف کے سجادہ نشین پیر قاسم شاہ راشدی،حافظ لطف اللہ بھٹو ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

ملک میں اصل مقابلہ غلامان مصطفے ٰ ﷺاور غلامان اوباما کے درمیان ہے جس میںآخری فتح ان شاء اللہ محمد مصطفی ﷺکے غلاموں کی ہوگی ۔ سینیٹر سراج الحق کا حیدر آباد میں ناموس رسالت ؐ مارچ سے خطاب

pic sirajul haq (13)

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے مشرف کو نظریہ ضرورت کے تحت باہر جانے کی اجازت دیکر ثابت کردیا ہے کہ یہاں آئین و قانون کی نہیں نظریہ ضرورت کی حکمرانی ہے اور نظریہ ضرورت اقتدار کے ایوانوں سے لیکر گلی کوچوں میں اپنے آپ کو منوا رہا ہے ۔بلاول نے اسلامی جماعتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ نواز سیکولر پارٹیوں کو متحد ہونے کی تجویز دی ہے۔ملک میں اصل مقابلہ غلامان مصطفے ٰ ﷺاور غلامان اوباما کے درمیان ہے جس میںآخری فتح ان شاء اللہ محمد مصطفی ﷺکے غلاموں کی ہوگی ۔ عجیب تماشا ہے کسی کے ہاتھ میں جھنڈا اور کسی کے ہاتھ میں جھاڑودیا جارہا ہے،مگرجب تک ذہنوں میں موجود کچرا ختم نہیں ہوتا گلیوں بازاروں میں جھاڑو دینے سے گندگی صاف نہیں ہوگی۔ملک میں عدالتی نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے ۔احتساب کے ادارے اپنی ناکامیوں پر رو رہے ہیں۔نیب مچھروں کو پکڑتا اور مگر مچھوں کو چھوڑ دیتا ہے ۔اربوں لوٹنے والوں سے چند لاکھ لیکر چھوڑ دینا ہر کسی کو کرپشن کی دعوت دینے کے مترادف ہے ۔قومی خزانے کو لوٹنے والوں سے حساب برابر کرنے اور اسلامی و خوشحال پاکستان کیلئے عوام کرپشن فری پاکستان تحریک کا حصہ بن جائیں ۔ممتاز قادری شہید ؒ اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی قیامت کے دن نواز شریف کا گریبان ضرور پکڑیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدر آباد میں جماعت اسلامی ضلع حیدرآبادکے زیراہتمام تلک چاڑی سے کوہ نور چوک تک ناموس رسالت ؐ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الھدیٰ صدیقی ،محمد حسین محنتی،جماعت اسلامی ضلع حیدرآبادکے امیر حافظ طاہرمجید،جنرل سیکریٹری ڈاکٹرڈاکٹرسیف الرحمن ،نظریہ پاکستان کونسل کے صوبائی رہنمافیصل ندیم ،جمعیت علماء پاکستان نورانی کے ناظم علی آرائیں،جمعیت علماء اسلام کے رہنماخالدحسین دھامرہ ودیگر نے خطاب کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان اور پاکستانیت کواندر سے خطرہ ہے یہی وہی لابی ہے جس نے مشرقی پاکستان گنوایاتھااب لبرل ازم کی مالاجپ رہی ہے ۶۸ سال گزرگئے ملک میں اسلام کاقانون نافذنہیں ہوسکا،نسواں بل کے نام پر پنجاب اسمبلی میں خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالاگیاہے یہی وہی پرویزمشرف کانامکمل ایجنڈاہے جسے موجودہ حکمران پور اکرنے میں لگے ہوئے ہیں ملک میں کرپشن کے سمندربہ رہے ہیں کھربوں روپے بیرون ملک ہیں غریب کابچہ روٹی اورتعلیم سے محروم ہے نظریاتی کرپشن وبابنی ہوئی ہے کراچی میں جھاڑوپکڑ نے سے کچراختم نہیں ہوسکتاجب تک ذہنوں میں بیٹھاکچراختم نہیں ہوجاتا۔پرویزمشرف کے معاملے میں عدالت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور جووزراء پرویزمشرف کی رہائی پر مستعفی ہونے کی باتیں کرتے تھے اب انھیں اپنی زبان کاپاس رکھتے ہوئے مستعفی ہوجاناچاہیے احتساب کے نام پر مچھروں کوپکڑنے کی کوشش ہورہی ہے برائے نام احتساب ہورہاہے ۔صرف کرپشن کوکنٹرول کرلیں توہربچہ کوتعلیم ،ہرمریض کوعلاج وصحت ،ہربے روزگار نوجوان کوروزگار،ہرخاندان کومکان اور ہربجٹ ٹیکس فری بجٹ ہوسکتاہے جماعت اسلامی کے افرادوزارتوں میں رہے ہیں اسمبلیوں میں رہے ہیں کام کیاہے کسی قسم کی کرپشن نہیں ،کرپٹ نظام کوجڑ سے اکھاڑنے کے لیے نظریہ پاکستان ،تکمیل پاکستان کرپشن فری پاکستان مہم چلارہے ہیں رنگ ونسل سے بالاترہوکر ہم سب کواس کے لیے جدوجہدکرناچاہیے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستان میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کاقانون چلے گاعشق رسول مسلمانوں کی نبی مہربان ﷺ سے محبت کی معراج ہے امام حسینؓ پر فخر کرنے والے توہیں مگر یزیدکے نام لیواتک موجودنہیں کراچی کے بعدحیدرآبادنے بھی ثابت کردیاہے کہ غلامان مصطفیٰ ﷺ بیدارہیں ناموس رسالت ؐ اورنظریہ پاکستان کے لیے دینی جماعتوں کومنصورہ میں جمع کیاہے اب بلاول بھٹونے ہم غلامان مصطفیٰ ؐ کے خلاف غلامان امریکہ کومتحدہونے کی اپیل کی ہے ان شاء اللہ فتح غلامان رسول ؐ کی ہوگی ۔
امیرجماعت اسلامی سندھ ڈاکٹرمعراج الہدیٰ صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حیدرآبادکے تاریخی ناموس رسالت ؐ مارچ نے لبرل ازم اور سیکولرازم کاجنازہ نکال دیاہے اورثابت کردیاہے کہ غلامی رسول ؐ ہرمسلماں کی متاع حیات ہے ۔جس میڈیاکوانیس قائمخانی کی ۹ انچ کی چپل تونظرآگئی لیکن غازی ملک ممتازحسین قادری شہیدکاچالیس کلومیڑ طویل جنازہ نظر نہیں آیاہم اس میڈیاچینل اور اخبارات کاشکریہ اداکرتے ہیں جنھوں نے غازی ممتازقادری کے معاملے پر عوام کو کوریج دکھائی۔جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری ممتازحسین سہتونے کہاکہ پاکستان کے تمام دساتیر میں قراردادمقاصدشا مل کیاگیاہے جس میں ملک میں اللہ کی حاکمیت اور اقتداراعلیٰ کااقرارکیاگیاہے لیکن حکمرانوں نے ملکِ پاکستان میں کبھی اللہ کے اقتداراعلیٰ کوعملاًنافذنہیں ہونے دیا۔73ء کے دستورمیں ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کوخاتم النبیین نہیں مانتاوہ کافرہے پاکستان میں ہندوسکھ عیسائی یہودی سب کورہنے کی اجازت ہے لیکن گستاخ رسول کے لیے یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔نائب امیرجماعت اسلامی سندھ محمدحسین محنتی نے کہاکہ جن لوگوں نے اللہ کے رسول ؐ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں ان کاانجام عبرت ناک ہواہے نوازشریف کے لیے پہلے روضہ ء رسول پر زندہ بادکے نعرے لگتے تھے ممتازقادری کوپھانسی دینے کے بعدنوازشریف کی آمدپر مردہ بادکے نعرے لگے ہیں
ناموس رسالت ﷺ مارچ میں ممتازقادری شہیدکے واقعے کی بہترین کوریج پر ٹی وی چینل اور اخبارات کوناموس رسالت ﷺ ایوارڈ دیے گئے ۔

کرپٹ حکمرانوں سے قوم کی دین دنیا دونو ں خطرے میں ہیں اگر ملک کے اندر ہونے والی کرپشن روکی جائے اور بیرون ملک پڑے تین سو پچھترارب ڈالر واپس لائے جایہں تو پاکستان میں کوئی تعلیم صحت اور چھت کے بغیر نہیں رہیگااور20روپے فی لٹرپٹرول اور پانچ روپے فی یونٹ بجلی عوام کو میسر ہوگی۔ مشتا ق احمد

M2

امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتا ق احمد خان نے کہا ہے کہ کرپٹ حکمرانوں سے قوم کی دین دنیا دونو ں خطرے میں ہیں اگر ملک کے اندر ہونے والی کرپشن روکی جائے اور بیرون ملک پڑے تین سو پچھترارب ڈالر واپس لائے جایہں تو پاکستان میں کوئی تعلیم صحت اور چھت کے بغیر نہیں رہیگااور20روپے فی لٹرپٹرول اور پانچ روپے فی یونٹ بجلی عوام کو میسر ہوگی ،مہنگائی غربت اور تعلیم سے محرومی حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ہے ،کرپشن عسکریت پسندی اور امریکہ ہندوستان سے زیادہ ملکی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہے کرپشن کو بھی دہشت گردی کے برابر جرم قرار دیتے ہوئے اسکے خاتمے کیلئے فوجی عدالتیں قائم کیں جائیں،کرپشن کے ناسور نے ملکی سلامتی کو اندر سے کوکھلا کرکے رکھ دیا ہے،تحفظ خواتین بل خاندانی نظام کی تباہی کا بل ہے امریکی خوشنودی کیلئے تحفظ خواتین بل کے ذرئعے حکمران ملک میں طلاق عام کرکے خاندانی نظام کو تباہ کرکے خواتین کو پتھر کے زمانے میں بھیج رہے ہیں ،ہم خواتین کو وہی عزت و احترام کا مقام دیں گے جو اسلامی نظام نے خواتین کو دیا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان کے علاقے ساول ڈھیر میں جماعت اسلامی یوتھ کے کرپشن فری مہم فلوٹ کے افتتاح اور کرپشن کے خلاف دستخطی مہم کے آغاز پرساول ڈھیر عید گاہ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع مردان ڈاکٹر عطاؤالرحمان اور سابق تحصیل ناظم بخت بلند اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتا ق احمد خان نے کہا کہ کرپشن کرنے والوں نے ملکی سالمیت کو خطرے سے دوچار کررکھا ہے اور اسی کرپشن کی وجہ سے ملک کی بقاء خطرے میں ہے اسلئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح ملکی سالمیت کیلئے دہشت گردی کے مقدمات کیلئے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں ہیں اسی طرح کرپشن کرنے والوں کیلئے بھی فوجی عدالتیں قائم کیں جائیں اور اس کرپشن کو دہشت گردی سے زیادہ خطرناک قرار دیا جائے انہوں نے کہا کہ کرپشن کرنے والے اسی طرح ملک کے دشمن ہیں جس طرح امریکہ ،ہندوستان اور دھماکے کرنے والے ملک کے دشمن ہیں انہوں نے کہا کہ ان سب میں ملک کیلئے خطرناک ترین دشمن کرپشن ہے کیونکہ کرپشن کی وجہ سے عوام بھی ذلیل و خوا ر اور ملکی سالمیت و بقاء بھی خطرے میں ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرپشن کرنے والوں کو ملک دشمن عناصر قرار دیا جائے اور ان سے تمام ریاستی حقوق ضبط کرلی جائیں انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت پر پابندی ناقابل قبول ہے تبلیغ امت مسلمہ کا مشن ہے اور یہ مشن تاقیامت جاری رہیگا انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے پاس کراچی سے چترال تک ایسی قیادت موجود ہے جن کی دامن کرپشن سے پاک ہے کراچی سے چترال تک ہمارے ذمہ داران ناظمین سے لیکر وزراء تک کے عہدوں پر فائز رہے لیکن آج تک کسی بھی ناظم یا وزیر کے خلاف کوئی الزام تک نہیں لایا جاسکا انہوں نے کہا کہ ہمارے ناظمین اور وزراء کرپشن سے پاک رہے اس لئے ہمدعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس ملک کو کرپشن سے پاک کر سکتے ہیں اور چوروں کا احتساب بھی کرسکتے ہیں

پشاور،چترال تاجکستان ایکسپریس ووے اورپشاوربونیر،شانگلہ،تورغرتھاکوٹ ایکسپریس وے کے طرز پر تعمیر کرنے اور ملاکنڈ ڈویژن میں چارصنعتی زونز بنانے کا مطالبہ خواتین و انجینئرنگ یونیورسٹیز، میڈیکل کالج کا قیام ، ملاکنڈ ڈویژن کے ہر ضلع کو گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔سینیٹرسراج الحق کا پشاور میں پریس کانفرنس

S011

جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ملاکنڈ جرگہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے اس کے ارکان کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کا وعدہ کیا ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ آنے والے صوبائی اور مرکزی بجٹ میں ملاکنڈ کی ترقی کے لیے رقم مختص کی جائے جرگہ اس کے لیے مسلسل کوششیں کرے گا۔وہ جمعرات کے روز المرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان ،جنرل سیکرٹری عبدالواسع ، ممبرقومی اسمبلی صاحبزادہ یعقو ب خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔سراج الحق نے کہا کہ خیبر پختون خوا پچھلے کئی سال سے دہشت گردی اور پھر فوجی آپریشنوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے اور پورے ڈویژن میں 70ارب روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ مسلسل زلزلوں اور سیلابوں کی وجہ سے یہاں کا معاشی انفراسٹرکچر اور زرعی اراضی تباہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ان حالات میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بہت بڑی خوشخبری تھی لیکن ملاکنڈ ڈویژن کو اس بہت بڑے منصوبہ کے ثمرات سے محروم رکھا گیا۔انھوں نے کہا کہ ملاکنڈ دویژن کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے ہم نے سیاست سے بالا تر ہو کر تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی ،سینیٹ اور ضلعی و تحصیل ناظمین پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا ہے جس نے آج وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا سے ملاقات کی اور ان کو ڈویژن کے اضلاع کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہمارے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے جرگہ کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کا وعدہ کیا اور کہا کہ کہ مرکز سے وسائل حاصل کرکے ملاکنڈدویژن کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلی کو جن مطالبات کی فہرست پیش کی اور جن کو وزیر اعظم کے سامنے بھی پیش کریں گے ان میں ملاکنڈ ڈویژن میں انجنئیرنگ اور خواتین یونیورسٹیوں کے ساتھ ایک میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ شامل ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں ملاکنڈ دویژن بالعموم اور کالام بحرین بالخصوص سیاحت کے لیے موذون ترین علاقے ہیں ۔صوبائی حکومت نے سیاحت کے لیے جس منصوبے اور پالیسی کا اعلان کیا ہے اسی مناسبت سے ملاکنڈ ڈویژن میں منصوبے شروع کیے جائیں ۔انھوں نے کہا کہ ملاکنڈ دویژن میں اب تک سات ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں پر کام ہوا ہے۔ ان کو جلد سے جلد شروع کرکے مکمل کیا جائے جب کہ صوبہ میں 21ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے اس پر بھی کام کا آغاز کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن پورے ملک میں جنگلات میں سرفہرست ہے۔ان جنگلات کو کٹائی سے بچانے کے لیے ملاکنڈ ڈویژن کے ہر ضلع کو گیس فراہم کی جائے ۔جبکہ نئے علاقوں کو گیس کی ترسیل پر پابندی ختم کی جائے۔انھوں نے کہا کہ پشاور کو براستہ چترال تاجکستان سے ملانے کے لیے ایکسپریس وے تعمیر کی جائے جو اقتصادی راہداری کے منصوبے کا متبادل منصوبہ ہے ۔یہ پاکستان ،افغانستان اورتاجکستان تینوں کی ترقی کا منصوبہ ہے۔انھوں نے کہا کہ چکدرہ بشام روڈ اور پشاور بونیر، تورغر ، شانگلہ تھاکوٹ روڈ کو ایکسپریس وے کے طرز پر تعمیر کیا جائے اور ملاکنڈ ڈویژن میں چار اقتصادی زون قائم کیے جائیں ۔انھوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص بونیر کے ماربل کے وسائل اگر صحیح طور پر استعمال میں لائے جایں تو نہ صرف ملاکنڈ ڈویژن بلکہ پورے صوبے کی خوشحالی کا سبب بن سکتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ جرگہ خالصتاً علاقہ کی ترقی کے لیے بنایا گیا اور ہم احتجاج یا سیاست بازی کے بجائے مل جل کر چلنے اور اتحاد سے مسائل کا حل چاہتے ہیں ان مسائل کو لے کر جرگہ وزیر اعظم سے ملاقات کرے گا وزیر اعلیٰ خیبرپختونوا پرویز خٹک نے جرگہ سے مل کر وزیر اعظم سے ملاقات کا وعدہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مسائل کے حال اور ترقی کے لیے وسائل درکار ہیں۔صوبائی حکومت مرکز سے فنڈ لینے کے لیے کوششوں کا آغاز کرے جرگہ اس کے ساتھ ہوگا اور ہمیں امیدہے کہ مرکزی حکومت ہمارے ساتھ تعاون کرے گی۔انھوں نے کہا کہ جرگہ کے مطالبات میں ملاکنڈ ٹنل کی تعمیر اور لواری ٹنل کی تکمیل شامل ہیں انھوں نے کہا کہ لواری ٹنل کا منصوبہ کئی سالوں سے جاری ہے اس دوران متعدد حکومتیں آئیں اور ختم بھی ہوئیں لیکن بدقسمتی سے لواری ٹنل مکمل نہیں ہو رہا جو چترال کے عوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

حکومتی بے حسی کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زائد اولڈ ایج ایمپلائز کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے،سراج الحق حکومت فوری طور پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔ اولڈ ایج ایمپلائز کی پنشن 10ہزار مقرر کرے،سابقہ بقایا جات ادا کئے جائیں اورسوشل سیکیورٹی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات دی جائیں ۔ سینیٹرسراج الحق

pic  (1)
لاہور16مارچ2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اولڈ ایج صنعتی مزدوروں کو فوری طور پر ان کے بقایا جات اداکئے جائیں ،حکومتی بے حسی اور عدم توجہی کی وجہ سے پانچ لاکھ عمر رسیدہ مزدوروں کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے اور مہنگائی کے جان لیوا دور میں بوڑھے مزدور کھانے کے ایک ایک لقمہ کو محتاج ہوگئے ہیں ۔حکومت نے اولڈ ایج پنشنروں کی پینشن میں اضافے کے سپریم کورٹ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اور قومی اسمبلی کی پاس کردہ قرار داد کو کاغذ کے ایک پرزے سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔حکومت نے فوری طور پر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہ کیا تو لاکھوں مزدور وں کے ہمراہ حکومتی ایوانوں کا گھیراﺅ کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صد راجہ مختار احمد اور سیکرٹری ملک محمد سعید اعوان کی قیادت میں اولڈ ایج ایمپلائزویلفیئر کے عہدیداروں کے وفد سے منصورہ میں ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفد میں محمد لطیف بٹ ،فیاض حسین نقوی ،انوار الحسن رانا ،محمد نواز بھٹہ سمیت ایسوسی ایشن کے دیگر ممبران شامل تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں جس سے عوام کے اندر ایک بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے ۔مزدوروں کے حقو ق کی ادائیگی کے حوالے سے حکمران عدالت عظمی کے فیصلوں کا بھی احترام نہیں کررہے ۔قومی اسمبلی کی اپنی پاس کردہ قرار داد سے انحراف کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی ہر ریاست اپنے بزرگ شہریوں کو معز ز مقام دیتی اور ان کا احترام کرتی ہے ،انہیں خوراک ،رہائش ،سفر اور علاج کی سہولتیں فراہم کرتی ہے مگر پاکستان کے حکمران بزرگ شہریوں پر ریاستی جبر کررہے ہیں جو اسلامی تعلیمات اورآئین پاکستان کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت بوڑھوں ،بیواﺅں یتیموں اور معذوروں کے حق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے اور صنعتی ملازمین کی تنخواہوں میں سے کاٹے گئے تین کھرب روپے انہیں واپس نہیں لوٹائے جارہے۔ 
سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت نے تین بجٹ پیش کئے ہیں جن میں سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا گیا مگرای او بی آئی کے رجسٹرڈ پنشنرز کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ای او بی آئی کی طرح دوران ملازمت یہ مزدورمعمولی تنخواہوں کے باوجود سوشل سیکیورٹی کو چند ہ دیتے رہے لیکن انہیں سوشل سیکیورٹی کے زیر انتظام ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں علاج کی سہولت نہیں۔حکومت نے لیبر پالیسی میں انہیں علاج معالجے کی سہولتیں دینے کا وعدہ کیا ہے مگر اس پر عمل نہیں کیا جارہا ۔جس کی وجہ سے پانچ لاکھ ضعیف و ناتواں مزدور شوگر ،ہیپا ٹائیٹس ،سانس اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خطرہ ہے مگر حکومت کو اپنے بزرگ شہریوں کی بے بسی پر ترس نہیں آرہا ۔ 
جاری ہے……………..
****************************
شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی پاکستان 
 منصورہ ملتان روڈ لاہور ۔ فون 5419520- 35252391 فیکس 35252311-5437941 
رابطہ نمبر:۔امیر العظیم، مرکزی سیکرٹری اطلاعات 0300-8450638. ۔قیصر شریف :ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات 0333-4555964- 
لاہور16مارچ 2016ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پشاور بس میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور کہاہے کہ معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نہیں درندے ہیں ۔انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کیلئے مغفرت ،زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعاکی ہے اورمتاثرہ خاندانوں سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیاہے ۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ مالی بدعنوانی کو دہشت گردی قرار دیکر کرپشن کرنے والوں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے ان کی تمام جائیدادیں بحق سرکار ضبط کی جائیں اور عوام کی لوٹی گئی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے ۔

pic sirajul haq (10)
لاہور10 مارچ 2016ئ-
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ مالی بدعنوانی کو دہشت گردی قرار دیکر کرپشن کرنے والوں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے ان کی تمام جائیدادیں بحق سرکار ضبط کی جائیں اور عوام کی لوٹی گئی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے ۔ایک ایک شخص قومی خزانے کے اربوں روپے لوٹ کر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہاہے ۔ حکومت میں شامل کرپٹ مافیا بڑے بڑے مگر مچھوں کو بچانے کے لیے تگ و دو کر رہاہے ۔ پنجاب کوئی جزیرہ نہیںجہاں نیب کاروائی نہیں کرسکتا، کرپٹ حکمرانوں اور وزیر وں مشیروں کو نہیں تو کیا نیب ریڑھی بانوں اور رکشہ والوں کو پکڑے گا۔جس نے بھی اس ملک کو لوٹا ہے نیب کواس کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی آزادی ہونی چاہئے ۔حکمرانوں کے آمرانہ رویے نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔جن پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں وہ جمہوریت کے نام پر ایک دھبہ ہیں اور ایسے لوگوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ۔جمہوریت کے نام پر 68سال سے ملک پر بدترین شخصی آمریت مسلط ہے ۔اربوں روپے خرچ کرکے اسمبلیوں میں پہنچنے والے غریب عوام کے نمائندے نہیں ہوسکتے ۔ ریمنڈ ڈیوس کو فرار کرانے اور ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکانے والے کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت کو اسلام سے دور کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمرا ہال لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ”اداروں کی خود مختاری “کے نام پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار سے صدر سپریم کورٹ بار سید علی ظفر ،قمر الزمان کائرہ ،عمر چیمہ ،سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ بار اسد منظور بٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک پر مسلط کرپٹ اشرافیہ نے عوام کی خوشیاں چھین لی ہیں ۔کرپشن کے اژدھے مسلسل عوام کو ڈس رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بے اختیار ادارے ملک میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے ،یہ ادارے حکمرانوں کے غلام ہیں اور انہی کے اشاروں پر ناچتے ہیں ،حیققت یہ ہے کہ کرپٹ عناصر نے اداروں کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا ۔جمہوریت ،سیاست اور معیشت کرپشن کی دلدل میں دھنس چکی ہے ،ملک میں مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ انتخابی اور اخلاقی کرپشن کا دور دورہ ہے اسی لئے کروڑوں عوام تعلیم صحت ،روز گار اور چھت سے محروم ہیں جبکہ آئین ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ تمام شہریوں کو بنیادی ضروریات اور زندگی گزارنے کے یکساں مواقع مہیا کرے ۔انہوں نے کہا کہ قومی دولت کے لوٹے گئے 375ارب ڈالر غیر ملکی بنکوں سے ملکی بنکوں میں منتقل ہوجائیں تو ہمیں کسی بیرونی قرضے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ ہم آسانی کے ساتھ آج تک لیئے گئے قرضے واپس کرکے آزادی اور خود مختاری سے زندگی گزارنے کے قابل ہوسکتے ہیں اور عوام کو بھی زندگی کی تمام سہولتیں مہیا کی جاسکتی ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ18 20ءکے انتخابات میں صرف انہی پارٹیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے جنہوں نے خود اپنے اندر انتخابات کروائے ہوں ، انہوں نے کہا کہ اداروں کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے ،یہاں سیاست اور جمہوریت افراد کے گرد گھومتی ہے ،سیاسی پارٹیوں کو خاندانی پراپرٹیاں بنانے والے عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اربوں روپے خرچ کرکے الیکشن جیتنے والے اقتدار کے ایوانوں میں عوام کی خدمت کیلئے نہیں بلکہ اپنے سرمائے کو کئی گنا بڑھانے کیلئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں دو بار صوبائی وزیر خزانہ رہا اور وزارت خزانہ سے فارغ ہوتے ہی میں نے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔انہوں نے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ جماعت اسلامی کے کسی ایک فرد پر بھی کرپشن یا کمیشن کا الزام نہیں ۔انہوں نے وکلاءبرادری اور عوام سے اپیل کی کہ جماعت اسلامی کی کرپشن فری تحریک کے دست و بازو بن کر ملک و قوم کو بحرانوں کی دلدل سے نکالنے کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں

بھارت مکمل سیکیورٹی کی ذمہ داری لیتا ہے تو قومی ٹیم کو ٹی 20ورلڈ کپ میں ضرور شریک ہونا چاہئے ۔انتہا پسندوں کی دھمکیوں سے ڈر کر ہم گھر میں تو نہیں بیٹھ سکتے ،البتہ جب تک بھارت کی طرف سے مکمل تحریری یقین دہانی نہیں کروادی جاتی احتیاط کے پہلوﺅں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔سراج الحق کی میڈیا سے گفتگو

ooo

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر بھارت مکمل سیکیورٹی کی ذمہ داری لیتا ہے تو قومی ٹیم کو ٹی 20ورلڈ کپ میں ضرور شریک ہونا چاہئے ۔انتہا پسندوں کی دھمکیوں سے ڈر کر ہم گھر میں تو نہیں بیٹھ سکتے ،البتہ جب تک بھارت کی طرف سے مکمل تحریری یقین دہانی نہیں کروادی جاتی احتیاط کے پہلوﺅں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔چور دروازے سے پی آئی اے کی نجکاری کی حکومتی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔قومی اداروں کی بندر بانٹ کے پیچھے کرپشن کی بڑی بڑی داستانیں ہیں ۔مصطفی کمال کے الزامات کی مکمل تحقیقات کرناحکومت اور اداروں کی آزمائش ہے ۔ان الزامات کے حوالے سے قوم کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو جلد دور ہونا چاہئے ،بلدیہ فیکٹری میں جلائے گئے تین سو مزدوروں کے خاندانوں کو جلد انصاف ملنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
شہباز تاثیر کی رہائی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ تاوان کیلئے اغواءکئے گئے ایک شہری کی بازیابی اچھی بات ہے لیکن ساتھ ساتھ حیرت بھی ہے کہ شہباز تاثیر کسی قبائلی علاقے یا بارڈر ایریا سے نہیں بلکہ بلوچستان کے دارالحکومت کے ایک پررونق علاقے سے بازیاب ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شہباز تاثیر کی رہائی بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت چاہے تو وہ نا صرف جرائم کو کنٹرول اور مجرموں کا قلع قمع کرسکتی ہے بلکہ حالات کو سدھارنے کی بھی پوری اہلیت رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہزاروں لاپتہ افراد کے کیس عدالتوں میں ہیں اور ان کے خاندان انتہائی اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو جلد بازیاب کروایا جائے تاکہ ان کے خاندانوں کی بھی اشک شوئی ہوسکے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپشن فری پاکستان تحریک بہت جلد ایک قومی تحریک بن کر ابھرے گی ۔ہم معاشرے کی دیانت و امانت کے اصولوں کے مطابق نئے سرے سے تشکیل کریں گے جس میں عوام ایک بدیانت اور کرپٹ شخص کا رہنا مشکل بنادیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگی اجیرن کرنے والے حکمران کرپشن کا خاتمہ نہیں چاہتے ۔حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے عام آدمی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ،عوام کو تعلیم ،صحت روز گار دستیاب ہے نہ رہنے کیلئے چھت ۔انہوں نے کہا کہ بیرونی بنکوں میں قومی دولت کے 375ارب ڈالر قومی بنکوں میں آجائیں تو ملک کو بحرانوں کی دلدل سے نکالا جاسکتا ہے اور سالانہ ہونے والی 4380ارب روپے کی کرپشن پر قابو پا کر عوام کو تعلیم ،صحت ،روز گار اور چھت جیسی بنیادی سہولتیں مفت فراہم کی جاسکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں لاقانونیت ،بدامنی اور دہشت گردی کے ناسور پر قابو پانے کیلئے بھی کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ۔ 

وزیر اعلیٰ پنجاب اسلام ، آئین پاکستان اور خواتین کے حقوق سے متعلق عالمی قوانین سے متصادم حقوق نسواں بل کو واپس لیں ۔ڈاکٹر دردانہ صدیقی کا مطالبہ

pic ji women1

لاہور5مارچ 2016 ء
سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی حلقہ خواتین ڈاکٹر دردانہ صدیقی نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اسلام ، آئین پاکستان اور خواتین کے حقوق سے متعلق عالمی قوانین سے متصادم حقوق نسواں بل کو واپس لیں ۔ ہم قرآن و سنت ، آئین پاکستان اور عالمی انسانی حقوق کی روشنی میں خواتین کے تحفظ کا بہترین بل بنا کر ان کی خدمت میں پیش کر نے کے لیے تیار ہیں ۔ پنجاب اسمبلی کا پاس کردہ موجودہ بل اسلامی تہذیب و تمدن سے ٹکراؤ اور خاندان کو توڑنے کا بل ہے جو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ۔ ہم اس بل کے خلاف کورٹ میں بھی جائیں گے اور عوام کی آگاہی کے لیے بھر پور تحریک بھی چلائی جائے گی ۔ ان خیالات اظہار انہوں نے رکن قومی اسمبلی عائشہ سید ، اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ، ڈاکٹر عافیہ سرور ، ڈاکٹر رخسانہ جبیں ، ڈاکٹر حمیرا طارق کے ہمراہ منصورہ میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
ڈاکٹر دردانہ صدیقی نے کہاکہ حکمران قومی آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تو کسی نئے بل کی ضرورت نہ پڑے ۔ خواتین پر ہونے والے ظلم و جبر کا راستہ روکنے کے لیے ملکی آئین کی دفعات 8 تا 28 عورتوں کے تمام حقوق کا جامع چارٹر ہیں جن پر عملدرآمد کر کے معاشرے میں خواتین کو بہترین مقام دلایا جاسکتاہے مگر حکمران ان پر عمل کرنے کی بجائے مغرب کی ذہنی غلامی کے ہاتھوں مجبور ہو کر آئے روز کوئی نہ کوئی نیا ڈرامہ شروع کر دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عورت کو اسلام نے جو محترم مقام عطا فرمایا ہے ، وہ کسی دوسرے مذہب اور معاشرے میں نہیں ۔ اسلام نے ماں ، بہن ، بیٹی کے مقدس رشتوں کی صورت میں عورت کو محبت و مروت کا مرکز بنایا ہے اور شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے غمگسار قرار دے کر ان سے ایک خاندان کی بنیاد رکھی ہے ۔
عائشہ سید نے کہاکہ پاکستانی عورت کو تحفظ کی ضرورت ہے لیکن مغربی میڈیا جس طرح ہمارے معاشرے کی گھناؤنی تصویر پیش کررہاہے وہ اسلام سے تعصب اور دشمنی کی بنا پر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم سوسائٹی خاص طور پر پاکستانی معاشرے میں عورت کو جو مرکزی اور باوقار حیثیت حاصل ہے ، اس کا مغرب اور یورپ میں تصور نہیں ۔ مغرب نے عورت کو گھر سے نکال کر اور نام نہاد آزادی دے کر ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینک دیاہے ۔ عورتوں کے خلاف مغربی معاشرے میں جرائم کی شرح دنیا بھر سے زیادہ ہے جبکہ مسلم ممالک اور معاشرے میں عورت آج بھی زیادہ محفوظ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر پارلیمنٹ اپنا آئینی کردا ر پورا کرے تو معاشرے میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکتاہے ۔ انہوں نے تحفظ نسواں بل میں موجود دفعات کو صریحاً قرآن و سنت ، آئین پاکستان اور عالمی قوانین سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیاہے ۔
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ مولانا خان محمد شیرانی نے خواتین بل پیش کرنے والوں پر آئین کی دفعہ 6 لگانے کی بات کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بل پر گہرے غور و خوض اور دو دن کے بحث و مباحثہ کے بعد مسترد کیاہے ۔

منتخب ناظمین اور کونسلروں کی جماعت اسلامی میں مسلسل شمولیت سے ثابت ہو گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی چھا رہی ہے ۔ مشتا ق احمد خان

M01

چارسدہ کے ایک اور ناظم نے اپنے کونسلروںکےہمراہ جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔شرافت خان نے اپنے ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان المر کز الاسلامی میں صوبائی امیر مشتاق احمد خان کی موجودگی میں کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتا ق احمد خان نے کہا ہے کہ احتساب صرف وہ جماعت کرسکتی ہے جس کا اپنا دامن ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہو۔جماعت اسلامی کے سینکڑوں لوگ قومی و صوبائی اسمبلیوں ،بلدیاتی اداروں اور سینیٹ کے ممبر رہے اور پوری دیانتدار ی سے قوم کی خدمت کی ۔ہمارے دامن پر کرپشن کا ایک بھی داغ نہیں ۔ عوام ساتھ دیں تو ایک ایک لٹیرے کو گریبان سے پکڑ کر قومی دولت نکلوائی جاسکتی ہے اور ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نجات مل سکتی ہے ۔جماعت اسلامی کی کرپشن فری پاکستان کی تحریک دراصل پاکستان کے تحفظ ،سلامتی اور وحدت کی تحریک ہے ۔ اس تحریک میں ملک بھر سے عوام لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوکر اسٹیٹس کو کی قوتوں کو عبرت ناک شکست دینے میں ہمارا ساتھ دیں ۔ ہم کرپشن کے خلاف جنگ ملک دشمنوں کے خلاف آخری معرکہ سمجھ کر لڑ رہے ہیں ۔پورے صوبہ سے منتخب لوگ جوق درجوق جماعت اسلامی میں شامل ہورہے ہیں۔وہ ویلج کونسل میر ہ عمرزئی چارسدہ کے ناظم شرافت خان کا دیگر کونسلرز اور ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کے موقع پر خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی چارسدہ کے رہنماء ریاض خان نے بھی خطاب کیا۔ شرافت خان نے اپنے ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ مشتاق احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ منتخب ناظمین اور کونسلروں کی جماعت اسلامی میں مسلسل شمولیت سے ثابت ہو گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی چھا رہی ہے ۔ جماعت اسلامی کے منتخب کونسلر اور نئے شامل ہونے والے کونسلر خدمت کی ایسی اعلیٰ مثالیں قائم کریں گے کہ اگلے انتخابات میں ان کو مہم چلانے کی بھی ضرورت نہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں وسائل اور صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں لیکن ہمارے معاشرہ کو کرپشن نے دیمک کی طرح چھاٹ دیا ہے جماعت اسلامی نے سراج الحق کی قیادت میں کرپشن کو جڑھ سے اکھاڑنے کی تحریک شروع کر رکھی ہے اور ہمارے کونسلر شفافیت کے نمونے ثابت ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ کونسلروں کی شمولیت کے حوالے سے چارسدہ پہلے نمبر پر ہے اور ضلع چارسدہ میں بہت جلد جماعت اسلامی سب سے بڑی قوت کے طور پر ابھرے گی۔