امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ مالی بدعنوانی کو دہشت گردی قرار دیکر کرپشن کرنے والوں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے ان کی تمام جائیدادیں بحق سرکار ضبط کی جائیں اور عوام کی لوٹی گئی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے ۔

pic sirajul haq (10)
لاہور10 مارچ 2016ئ-
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ مالی بدعنوانی کو دہشت گردی قرار دیکر کرپشن کرنے والوں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے ان کی تمام جائیدادیں بحق سرکار ضبط کی جائیں اور عوام کی لوٹی گئی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے ۔ایک ایک شخص قومی خزانے کے اربوں روپے لوٹ کر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہاہے ۔ حکومت میں شامل کرپٹ مافیا بڑے بڑے مگر مچھوں کو بچانے کے لیے تگ و دو کر رہاہے ۔ پنجاب کوئی جزیرہ نہیںجہاں نیب کاروائی نہیں کرسکتا، کرپٹ حکمرانوں اور وزیر وں مشیروں کو نہیں تو کیا نیب ریڑھی بانوں اور رکشہ والوں کو پکڑے گا۔جس نے بھی اس ملک کو لوٹا ہے نیب کواس کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی آزادی ہونی چاہئے ۔حکمرانوں کے آمرانہ رویے نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔جن پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں وہ جمہوریت کے نام پر ایک دھبہ ہیں اور ایسے لوگوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ۔جمہوریت کے نام پر 68سال سے ملک پر بدترین شخصی آمریت مسلط ہے ۔اربوں روپے خرچ کرکے اسمبلیوں میں پہنچنے والے غریب عوام کے نمائندے نہیں ہوسکتے ۔ ریمنڈ ڈیوس کو فرار کرانے اور ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکانے والے کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت کو اسلام سے دور کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمرا ہال لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ”اداروں کی خود مختاری “کے نام پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار سے صدر سپریم کورٹ بار سید علی ظفر ،قمر الزمان کائرہ ،عمر چیمہ ،سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ بار اسد منظور بٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک پر مسلط کرپٹ اشرافیہ نے عوام کی خوشیاں چھین لی ہیں ۔کرپشن کے اژدھے مسلسل عوام کو ڈس رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بے اختیار ادارے ملک میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے ،یہ ادارے حکمرانوں کے غلام ہیں اور انہی کے اشاروں پر ناچتے ہیں ،حیققت یہ ہے کہ کرپٹ عناصر نے اداروں کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا ۔جمہوریت ،سیاست اور معیشت کرپشن کی دلدل میں دھنس چکی ہے ،ملک میں مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ انتخابی اور اخلاقی کرپشن کا دور دورہ ہے اسی لئے کروڑوں عوام تعلیم صحت ،روز گار اور چھت سے محروم ہیں جبکہ آئین ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ تمام شہریوں کو بنیادی ضروریات اور زندگی گزارنے کے یکساں مواقع مہیا کرے ۔انہوں نے کہا کہ قومی دولت کے لوٹے گئے 375ارب ڈالر غیر ملکی بنکوں سے ملکی بنکوں میں منتقل ہوجائیں تو ہمیں کسی بیرونی قرضے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ ہم آسانی کے ساتھ آج تک لیئے گئے قرضے واپس کرکے آزادی اور خود مختاری سے زندگی گزارنے کے قابل ہوسکتے ہیں اور عوام کو بھی زندگی کی تمام سہولتیں مہیا کی جاسکتی ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ18 20ءکے انتخابات میں صرف انہی پارٹیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے جنہوں نے خود اپنے اندر انتخابات کروائے ہوں ، انہوں نے کہا کہ اداروں کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے ،یہاں سیاست اور جمہوریت افراد کے گرد گھومتی ہے ،سیاسی پارٹیوں کو خاندانی پراپرٹیاں بنانے والے عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اربوں روپے خرچ کرکے الیکشن جیتنے والے اقتدار کے ایوانوں میں عوام کی خدمت کیلئے نہیں بلکہ اپنے سرمائے کو کئی گنا بڑھانے کیلئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں دو بار صوبائی وزیر خزانہ رہا اور وزارت خزانہ سے فارغ ہوتے ہی میں نے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔انہوں نے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ جماعت اسلامی کے کسی ایک فرد پر بھی کرپشن یا کمیشن کا الزام نہیں ۔انہوں نے وکلاءبرادری اور عوام سے اپیل کی کہ جماعت اسلامی کی کرپشن فری تحریک کے دست و بازو بن کر ملک و قوم کو بحرانوں کی دلدل سے نکالنے کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s