ملک میں کرپشن کے ناسوراور غریب وامیر کیلئے الگ الگ عدالتی نظام نے ملک کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے،مشرف نے بیماری کا بہانہ بناکر عدالت،حکومت ، عوام اور میڈیاکو دھوکہ دیا۔ملک سے باہر جاتے ہی ان کے تمام درد ختم اور وہ ہشاش بشاش ہوگئے۔امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا شہداد پور میں ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب

pic ameer ji

امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے ملک میں کرپشن کے ناسوراور غریب وامیر کیلئے الگ الگ عدالتی نظام نے ملک کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے،مشرف نے بیماری کا بہانہ بناکر عدالت،حکومت ، عوام اور میڈیاکو دھوکہ دیا۔ملک سے باہر جاتے ہی ان کے تمام درد ختم اور وہ ہشاش بشاش ہوگئے۔ ہیں اس وقت بھی ملک کی عدالتوں میں 150سے زائد میگاکرپشن اسکینڈل موجود ہیں لیکن طاقتور مجرموں پر نیب اور اورعدالتیں ہاتھ نہیں ڈالتیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ جس نے بھی کرپشن کر کے قومی دولت لوٹی ہے اس پر دہشتگردی کا مقدمہ چلایا جائے ۔ کرپشن کو ختم کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ، جماعت اسلامی اسی لیے ’’کرپشن فری پاکستان مہم‘‘چلارہی ہے،عوام اپنے مسائل کے حل اور دیانتدار قیادت کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج جماعت اسلامی کے تحت ہرداس پور چوک شہداد پور میں منعقدہ ’’ناموس رسالت ؐ کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ آئین میں غداری کی سزا موت ہے مگر آئین کو توڑنے والے کو باہر بھگادیا گیا ،اگر کسی غریب پر پانچ ہزار کا بجلی بل ہوتا ہے تو اس کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے اور کروڑوں کے نادہندگان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ملک سے یہ دہرا معیار اب ختم ہونا چاہئے۔باریاں لگانے والے حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کی بجائے اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے جس کی وجہ سے آج ملک اس نازک صورتحال پر پہنچا ہے کہ قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے۔ان حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ملک ترقی نہیں کرسکتا،اسلئے عوام میں انقلابی اورعوامی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔عوام کو بھی چاہئے کہ بڑے بڑے بنگلوں کا طواف کرنے کی بجائے اپنے ووٹ کی طاقت کے ایٹم بم کو کرپشن،ناانصافیوں اور نااہل قیادت کے خلاف استعمال کریں۔سانگھڑ ضلع تیل ،گیس اور دیگر قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود صحت،تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہے،روڈ راستے اکھڑے ہوئے اور شہر موئن جو داڑو کا منظر پیش کررہے ہیں۔تھر میں بچے بھوک سے مررہے تھے تو سندھ کے حکمران ’’سندھ فیسٹول‘‘کے نام پر قومی دولت کے اربوں روپے ناچ گانے پر خرچ کررہے تھے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر وسابق ایم این اے اسداللہ بھٹو نے کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ملک کا نہیں بلکہ ایک نظریہ اور فکر کا نام ہے،حکمران ٹولہ اپنی آنکھیں اور کان کھول کر دیکھ لیں، غازی ممتاز قادری کا جنازہ اور ناموس رسالت کے جلوسوں میں عوام کی بھرپور شرکت سے واضح ہوگیا ہے کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔ممتاز قادری مجرم نہیں بلکہ ہمارا ہیرو ہے اور رہے گا۔سلمان تاثیر،سلمان رشدی کا رشتے دار تھا جس نے ناموس رسالت قانون کو کالا قانون کہا تھا۔جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ممتاز قادری کو پھانسی دیکر قرارداد پاکستان سے غداری اور انگریز کے وائسرائے کا کردار ادا کیا ہے، اس وقت بھی آسیہ مسیح سمیت 26گستاخان رسولؐ جیلوں میں بند ہیں مگر ان کی سزائے موت پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔شاتمین رسول کیلئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے، ہر پاکستانی ناموس رسالت کی حفاظت کی خاطر ممتاز قادری بننے کیلئے تیار ہے۔ناموس رسالت کانفرنس میں جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر محمد حسین محنتی،ممتاز سہتو،عبدالوحید قریشی،عبدالحفیظ بجارانی،عظیم بلوچ اور مجاہد چنا بھی موجود تھے۔دریں اثناء سعید آباد میں درگاہ پیر جھنڈو شریف میں سجادہ نشین پیر قاسم شاہ راشدی کی جانب سے اسقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ۔امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مدینہ منورہ کے بعد پاکستان دنیا میں وہ پہلی ریاست ہے جو غلبہ اسلام کے نام پر وجود میں آئی، مگر آج 68سال گذرنے کے باوجود سیاست سے لیکر معیشت تک کسی بھی شعبے میں ایک دن کیلئے بھی اسلام نافذ نہیں ہوا۔ سراج الحق نے کہا کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے،حق وباطل کے معرکہ میں معاشرے کے اچھے لوگوں کو خاموش تماشائی بننے کی بجائے اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے لوگوں کا ساتھ دینا چاہئے۔پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ نے برسراقتدار آتے ہی ملک کو سیکولر بنانے کے ایجنڈا پر عمل شروع کر دیا ہے،کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں ناچ گانے اور فحاشی کی آزادی مگر اسلام اور ناموس رسالت کی بات کرنا جرم بن گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں امریکی سفیر جاکر طلباء سے خطاب کرتا ہے کہ وہ اپنے نام سے ’’محمدؐ‘‘ ختم کردیں کیوں کہ امریکہ میں کمپیوٹر اس نام کو قبول نہیں کرتا۔تمام غلامان امریکہ ناموس رسالت قانون کو ختم کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہیں لیکن غلامان مصطفیؐ خون کے آخری قطرے تک ناموس رسالت ؐ قانون کی حفاظت کرتے رہیں گے۔اللہ کے نظام کے ساتھ سیکولر،لبرل، کیپٹل ازم اور سوشل ازم کو شریک کرنا بھی شرک عظیم ہے۔اس موقع پر پیر جھنڈو شریف کے سجادہ نشین پیر قاسم شاہ راشدی،حافظ لطف اللہ بھٹو ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s