جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ نواز شریف ٹیکس چرانے کا ملزم ہے ،ملزم کو کمیشن بنانے کا کوئی حق نہیں جس ایوان نے انھیں وزیر اعظم بنایا ہے اسی کے ارکان کا حق ہے کہ وہ کمیشن بنائے اور پاکستان کے پارلیمنٹ کے ارکان کا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے۔ سنیٹر سراج الحق کا پشاور میں اقلیتی کنونشن سے خطاب

0000

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ نواز شریف ٹیکس چرانے کا ملزم ہے ،ملزم کو کمیشن بنانے کا کوئی حق نہیں جس ایوان نے انھیں وزیر اعظم بنایا ہے اسی کے ارکان کا حق ہے کہ وہ کمیشن بنائے اور پاکستان کے پارلیمنٹ کے ارکان کا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے جو آف شور کمپنیاں بنا کر ٹیکس چرانے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات کی تحقیقات کرے اور ملزم کو سزا بھی دے۔ملزم کی جا نب سے اپنی مرضی کے ریٹائر جج کی سربراہی میں میں انھوں نے کہا کہ ہم کرپشن کمیشن کا قیام محض دھوکہ ہے عوام اس دھوکہ میںآنے والے نہیں۔وہ ہفتہ کے روزڈسٹرکٹ کونسل ہال پشاور میں جماعت اسلامی خیبر پختونخواکے زیر اہتمام اقلیتی کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔کنونشن سے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اسد اللہ بھٹو،صوبائی امیر مشتاق احمد خان،سینئر صوبائی وزیر برائے دیہی ترقی و بلدیات عنایت اللہ خان ،صوبائی نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال خلیل،جماعت اسلامی اقلیتی ونگ کے صوبائی صدر سابق ایم این اے پرویز مسیح اورجاوید گل نے بھی خطاب کیا۔کنونشن میں صوبہ بھر سے اقلیتی برادری کے سینکڑوں عمائدین نے شرکت کی۔جماعت اسلامی کے مرکزی امیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانامہ لیکس میں حکمرانوں اور اپوزیشن کے ارکان کے علاوہ پاکستان کے دو سو خاندانوں کے نام آئے ہیں۔ حکومت کے وزیر خزانہ لوگوں سے ٹیکس اور بجلی کے بل جمع کرنے کی اپیلیں کرتے نہیں تھکتے اور ان کے وزیر اعظم اربوں ڈالر ٹیکس ادائیگی سے چھپا کر بیرون ملک کاروبار میں لگاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے اپنی بیوی پر ٹیکس چرانے کا لزام لگنے کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تاکہ آزادانہ انکوائری میں رکاوٹ نہ بنیں اور ہمارے وزیر اعظم اپنے بیٹوں اور خاندان پر الزامات لگنے کے بعد اپنی مرضی کے ریٹائر جج کی سربراہی میں کمیشن بنا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ قرضوں کی جال میں پھنسا ہوا ہے۔لاکھوں لوگ راتوں کو بھوکے سوتے ہیں ۔نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں اور خود کشیاں کرتے ہیں ۔ہم نے پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ ایک ایساکمیشن بنایا جائے جس میں قوم کے با اعتماد لوگ شامل ہوں اور جو آزادانہ تحقیقات کرکے قومی خزانہ لوٹنے والوں کا تعین کریں اور ان کو قرار واقعی سزا دلائیں۔انھوں نے کہا کہ میں پاکستان میں جماعت اسلامی کے اب تک ایم این ایز سینیٹر اور ایم پی ایز رہنے والے لیڈروں کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں ۔میں دو بار خیبر پختونخوا کا سینئر وزیر رہا ہوں اوراپنے آپ کو ہر وقت احتساب کے لیے پیش کیا ہے ۔ہمارا دامن ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہے۔ہم ملک میں ظلم اور کرپشن سے پاک نظام قائم کریں گے۔سراج الحق نے کہا کہ ہم کرپشن میں ملوث ہر شخص کے گریبان میں ہاتھ ڈالین گے چاہے ،وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔جس نے عوام کو لوٹا ہے، خزانے کو لوٹا ہے بینکوں اور کارخانوں کو لوٹا ہے، سٹیل ملز کو تباہ کیا ۔اداروں کوبرباد کیا ۔پی آئی کو تباہ کیا ۔ان لوگوں کا چوکوں میں احتساب کریں گے۔اس نظام میں خان خوانین،ودیروں اور نوابوں کے کتے پلاؤ کھاتے ہیں اور غریبوں کے بچے گندگی کے ڈھیر میں رزق تلاش کرتے ہیں۔ہم نے کرپشن فری پاکستان کی جو تحریک شروع کر رکھی ہے اس میں مسلم اور غیر مسلم مل کر کرپشن کو جڑھ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ہمارا ماضی گواہ ہے کہ اس ملک میں کرپشن کو اگر کوئی ختم کر سکتا ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم اس عظیم الشان کنونش میں عہد کرتے ہیں کہ قومی دولت لوٹنے والوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالیں گے ان کا گھیراؤ کریں گے اور ان کا کڑا احتساب کریں گے۔کہ اس ملک میں ایسا نظام لائیں گے جس میں امیر و غریب اور حاکم و رعایا کی کوئی تمیز نہیں ہو گی۔ عام آدمی وزیر اعظم کے گریبان میں ہاتھ ڈال سکے گا۔ہمارے ملک میں ہر طرف دہشت گردی ہے،سیاسی دہشت گردی ہے حکومتی دہشت گردی ہے ،معاشی دہشت گردی ہے ،پیسے کے بل بوتے پر لوگ سیاست کرتے ہیں اور حکومتوں میں آتے ہیں۔ہم نے ان تمام دہشت گردیوں کے خلاف تحریک شروع کررکھی ہے۔عوام میں بیداری لا رہے ہیں ان کو کرپشن کے خلاف جگا رہے ہیں ۔ہماری جماعت میں ایسے لوگ اور کونسلر ہیں کہ جن کو ایک ووٹ کے بدلے میں پچاس ہزار روپے پیش کیے گئے لیکن انھوں نے ایمان کا سودا کرنے سے انکار کیا۔

آئندہ بجٹ میں مدارس اور اس میں پڑھنے پڑھانے والوں کیلئے بھی سکولوں اور یونیورسٹیوں کے برابرحصہ مختص کیا جائے،ملکی خزانے پر دینی مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کا بھی اتنا حق ہے جتنا دیگر شہریوں کا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے یہ بڑا کارنامہ سرانجام دیں ۔سینیٹر سراج الحق کامطالبہ

S06
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے وفاقی وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ بجٹ میں مدارس اور اس میں پڑھنے پڑھانے والوں کیلئے بھی سکولوں اور یونیورسٹیوں کے برابرحصہ مختص کردے ملکی خزانے پر دینی مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کا بھی اتنا حق ہے جتنا دیگر شہریوں کا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے یہ بڑا کارنامہ سرانجام دیں کیونکہ مساجد اور مدارس میں پڑھانے والے ہی قوم کے اصل خادم ہیں ۔علمائے کرام ممبر و محراب کو ملک میں فساد اور کرپشن کے خلاف استعمال کریں۔حقوق نسواں بل کو تباہی اور مغربی یلغار کا ایجنڈا سمجھتے ہیں اور بل کی سب سے زیادہ مخالفت پنجاب کی خواتین نے کی ہے۔ملک دشمن عناصر ہماری فوج اور ایٹمی طاقت سے نہیں ڈرتے اور نہ یہ اس کے ایجنڈے کے راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ دشمن ہمارے مدارس اور اسلامی نظام کے نفاذ سے خوفزدہ ہیں۔ ملک کی صورت حال نازک اور خراب ہے اور موجودہ حکمران پرویز مشرف کے نامکمل ایجنڈے کے تکمیل کے لیے کام کر رہے ہیں اور جو کام مغرب ایک ڈیکٹیٹر سے نہ لے سکے وہ نواز شریف سے لے رہے ہیں لیکن یہ بات ثابت ہے کہ جس حکمران نے بھی نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان سے غداری کی ہے وہ نشان عبرت بنا ہے ۔ وزیر اعظم نے لبرل ازم اور سیکولر ازم کی بات کر کے آئین پاکستان اور نظریہ پاکستان سے غداری کی ہے ۔وہ المرکز اسلامی حدیقۃ العلوم پشاور میں ختم بخاری شریف اور دستار بندی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتا ق احمد خان ، سابق صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ ادریس ، سابق ممبر قومی اسمبلی و مہتمم حدیقہ العلوم مولانا عبدالاکبر چترالی ، شیخ القرآن مولانا عبدالمالک ، شیخ القرآن والحدیث مفتی غلام الرحمان اور دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر فارغ التحصیل ہونے والے مفتیان اور طلباء میں اسناد تقسیم کیے گئے ۔ تقریب سے خطا ب کر تے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبہ کی کارکردگی پر ہمیں فخر ہیں اور پورے ملک میں دینی مدارس کا جا ل بچھائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ سب لوگ آئین و قانون کی حکمرانی کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے پہلا آئین تو قرآ ن و سنت ہے اور پھر آئین پاکستان ہے جو 1973 ء میں متفقہ طور پر بنایا گیا تھا ۔ پھر ہماری تہذیب وتمدن ہے جسے ہم نے ہر حال میں قائم رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1973 ء کے آئین پر عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ اگر اس پر عمل ہوتا تو اتنے بڑے پیمانے پر ملک میں کرپشن نہ ہوتی ۔ کرپشن سے ہی سارے نظام میں خرابیاں ہیں ۔ ملکی وسائل اور قومی خزانے کو حکمرانوں نے بری طرح لوٹا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن پر قابو پالیا جائے تو ہمارے تمام ادارے ٹھیک اور مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عوام میں سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اللہ اور رسول ﷺکے قانون اور آئین پاکستان پر پوری قوم متفق ہے اور دینی جماعتوں نے بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر اس عز م کا اظہار کیا ہے کہ نظریہ پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ بچے جمہورے نے ملک میں غیر مسلم صدر اور وزیر اعظم کا مطالبہ کیا ہے لیکن پہلے وہ اپنے پارٹی سے اس تجربہ کا آغا زکریں وہ تو کسی مسلمان کو بھی اپنے پارٹی کا صدر نہیں بننے دیتے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں خواتین بل پر سب سے زیادہ احتجاج خواتین کر رہی ہیں اور یہ بل خواتین کے مطالبے پر نہیں بلکہ مغرب کے مطالبے پر پیش کیا گیا ہے اور ہم اس کو مسترد کرتے ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ جب تک پاکستان میں خلافت کا نظام قائم نہیں ہوتا اس وقت تک نہ ملک کی معیشت ٹھیک ہوسکتی ہے اور نہ ہم سماجی طور پر ترقی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی ملک پر کڑا وقت آیا تو یہ حکمرانی کرنے والا کرپٹ اشرافیہ ملک سے بھاگ جائیگا اور یہ علماء کر ام اور دینی مدارس کے طلباء ملک کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ علماء کر ام اور دینی مدارس کے طلباء ملک کے حقیقی پاسبان ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کو اقتدار ملا تو ہم طبقاتی نظام تعلیم ختم کریں گے ۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات مفت فراہم کریں گے بے روزگاروں کو روزگار دیں گے اور علماء کر ام اور امام مسجد کو سرکاری تنخواہیں دیں گے ۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک کو کرپشن فری بنانے کے لیے تحریک چلارہی ہے اور سینٹ ، قومی اسمبلی اور چوک و چوراہوں میں کرپشن کے خلاف اپنا جدوجہد جاری رکھیں گے ۔