جس طرح کسی کا ناحق خون کرنے والا دہشت گرد ہے، اسی طرح کروڑوں انسانوں کو تعلیم، روزگار اور علاج معالجے سے محروم کرنے والا بھی دہشت گرد ہے۔سینیٹرسراج الحقاسلام آباد میں نیشنل یوتھ جرگےسےخطاب

ji 02

اسلام آباد30مئی 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر حکمران خود کرپشن میں ملوث نہیں تو اُن کے رشتے دار، اولادیں اس میں ملوث ہیں۔ اس لیے ملک کو کرپشن کی دلدل میں دھکیلنے والوں کا بلاامتیاز احتساب ہونا چاہیے۔ کرپشن کرنے والوں سے کسی قسم کی رعایت نہ برتنے کا فیصلہ کیا جائے ۔ ملک کو لسانیت اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک آزاد ملک میں مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا موقع دیا، لیکن حکمرانوں اور کرپٹ اشرافیہ نے اسے دہشت گردی، کرپشن، جہالت، غربت، مہنگائی اور بدامنی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ قوم پر جہالت ،غربت اور کرپشن مسلط کرنے والوں سے مزید رعایت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ جس طرح کسی کا ناحق خون کرنے والا دہشت گرد ہے، اسی طرح کروڑوں انسانوں کو تعلیم، روزگار اور علاج معالجے سے محروم کرنے والا بھی دہشت گرد ہے۔ملک بھر کے یہ نوجوان آج پاکستان کی خاطر یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، میں کوئی نیا پروگرام نہیں دے رہا، بلکہ آئین پاکستان کے تقاضے کے مطابق آپ سے تقاضا کرتا ہوں کہ اس ملک کو کرپشن کے ناسور سے پاک پاکستان، اسلامی پاکستان بنانے کے لیے میرا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ’’نیشنل یوتھ جرگے‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرگے میں ملک بھر سے آئے ہوئے دینی اور سیاسی جماعتوں کے نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمیں اس ملک میں مسلح دہشت گردی کے ساتھ ساتھ معاشی، اخلاقی اور انتخابی دہشت گردی کا بھی سامنا ہے۔ ظالم سرمایہ دار اور اشرافیہ قومی دولت لوٹ کر درجنوں کارخانوں کے مالک بن بیٹھے ہیں اور مزدور کا بیٹا آج بھی تعلیم صحت اور روز گار سے محروم ہے ۔ قوم کے ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان میرٹ کے قتل عام کی بدولت بے روز گار ، جبکہ حکمرانوں کے نااہل شہزادے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں۔ ملک سے اسٹیٹس کو ،اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ جماعتِ اسلامی کی ’’کرپشن فری پاکستان مہم‘‘ ہر پاکستانی کے دل کی آواز اور وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے ملک و قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا غلام بنادیا ہے ، جس کی وجہ سے قوم کا ہر بچہ اور نوجوان لاکھوں روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ حکمرانوں کے کرپشن کے اربوں ڈالر بیرونی بنکوں اور آف شور کمپنیوں میں پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت سے غداری کرکے انگریز سے جاگیریں حاصل کرنے والوں کی تیسری نسل عوام کی گردنوں پر سوار ہے ،انہیں صرف اپنے جاہ و جلال اور پروٹوکول سے غرض ہے ۔ وی آئی پی کلچرنے عام آدمی کی زندگی اجیرن کررکھی ہے ۔معصوم بچے سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں اور ملک کی ظالم اشرافیہ بے حسی کی آخری حد کراس کرچکی ہے لیکن ملک کے نوجوان اب بیدار ہوچکے ہیں، اور وہ اب مزید اس سٹیٹس کو کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عام آدمی پر نت نئے ٹیکسز عائد اور قومی اداروں کو اونے پونے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔ جب تک اس ظلم و جبر کا خاتمہ نہیں ہوجاتا ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بیش بہا قدرتی خزانوں سے مالا مال کررکھا ہے مگر حکمران قرض پر قرض لیے جارہے ہیں ۔ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک آزاد اور خودمختار، پُرامن اور کرپشن سے پاک ملک بنانے کے لیے نوجوان ہر اوّل دستے کا کردار ادا کریں ۔ جماعتِ اسلامی کی ’’کرپشن فری پاکستان‘‘ تحریک کسی ایک پارٹی یا فرد کی تحریک نہیں، بلکہ یہ پوری قوم کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب یہ ملک حقیقی معنوں میں قائد اعظم کا پاکستان اور اسلامی پاکستان بن کر اُبھرے گا۔
نیشنل یوتھ اسمبلی نے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سفارشات پیش کی ہیں کہ پورے ملک میں نوجوانوں کو کسی بھی پلیٹ فارم سے منظم کیا جائے اور ریاستی سطح پر کوئی کارآمد ادارے قائم کیے جائیں جو اس ملک کو ہر شعبہ میں قیادت فراہم کر سکے۔آج بہت سی جوان تنظیمات میرے سامنے موجود ہیں۔ان نوجوانوں سے مشورہ کیا جائے اس کا م کے لئے اظہار رائے کی آزادی کو مثبت انداز میں فروغ دیا جائے اور نسل نو کواظہار رائے کی آزادی کی صورت میں اصلاح معاشرہ کی طرف راغب کیا جائے ۔خاندان ایک بنیادی اکائی ہے۔ نوجوانوں کو خاندان سے جوڑا جائے ۔لڑکے اور لڑکیوں کو خاص طور پر خاندانی وراثت ملنی چاہیے ۔معاشرتی، معاشی، سیاسی اور ثقافتی امور میں نوجوانوں کی تربیت کا اہتمام ہو۔سماج کے تمام دائروں میں نوجوانوں کی شمولیت کے لئے اقدامات ہوں۔فیصلہ سازی کے عمل میں باصلاحیت، ہنر مند نوجوانوں کی شمولیت کے لئے قانونی طریقہ ترتیب دیا جائے۔مادیت پرستی کے مقابلہ میں نوجوانوں کارضاکارانہ زندگی کی جانب رخ کیا جائے۔ کسی سے مال چھین کر نہیں بلکہ کسی کی مدد کر کے خوشی کے تصورکو عام کیا جائے ۔نوجوانوں کو درپیش مسائل اور چیلینچز پر تحقیقی کا م کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے قابل عمل اقدامات مرتب ہوں۔تعلیم، صحت اور تفریح کے تصور کو عام کیا جائے ۔نفرت ، دہشت گردی ، بدعنوانی، کرپشن جیسی قباحتوں کے خلاف تیار کیا جائے۔تعلیم کے لئے وسائل کی فراہمی ، روزگار کے لئے امداد کے اقدامات ہوں۔عالمی دنیا میں پاکستانی نوجوان کے تائرثر کو بہتر کیا جائے۔نوجوانوں کی پالیسیاں تعلیم،صحت اور تفریح کے منسلک کی جائیں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s