اسلامی نظریاتی کونسل ادارہ کو ختم کرنا قابل برداشت نہیں نہ اس کی اجازت دی جائے گی  کے پی کے حکومت کو افغان مہاجرین بارے مطالبات اور فیصلے جذباتی بنیاد پر نہیں کرنے چاہئیں لیاقت بلوچ کا فیصل ٹاﺅن میں افطار ڈنر سے خطاب

pic Liaqat Baloch (1)
لاہور29جون2016ء
جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے اسے ختم کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی ۔ خیبر پختونخوا حکومت کو افغان مہاجرین کے بارے میں جذباتی بنیادوں پر کوئی مطالبات اور فیصلے نہیں کرنے چاہئیں ۔ہمارا مطالبہ ہے پانامہ پیپرز لیکس پر عدالتی کمیشن بنایا جائے ۔ حکومت اور اپوزیشن ٹی او آرز پر اتفاق کریں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے فیصل ٹاﺅن لاہور میں عامر نثار کی جانب سے دی گئی افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وسیم اسلم قریشی ، چوہدری محمود الاحد ، فیض الباری اور احمد سلمان بلوچ نے بھی خطاب کیا ۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا خواتین پر تشدد کا ملبہ اسلامی نظریاتی کونسل پر ڈال دیناقرین انصاف نہیں ہے ۔ خواتین پر تشددکے کئی اسباب ہیں ۔ کونسل کو ختم کرنے کے لیے اس طرح کے بہانے ڈھونڈے جارہے ہیں یہ ایک آئینی ادارہ ہے ، اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو کا مطالبہ طویل مدت سے ہے لیکن حکومت اس کا جائزہ نہیں لے رہی ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل تو آئین میں اسلامی شقوں کی روح کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں سفارشات مرتب کرنے کا ادارہ ہے لیکن اس پر قانون سازی نہیں کی جارہی ۔ انہوں نے کہاکہ مٹھی بھر سیکولر ، لبرل طبقہ اسلامی نظریاتی کونسل کی آڑ میں شعائر اسلام پر حملہ آور ہونے کی کوشش کررہاہے ۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ابھی تک حکومت اور اپوزیشن عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے ٹی او آرز پر متفق نہیں ، دونوں طرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہاہے ۔ حکومت میاں نوازشریف کا احتساب نہیں چاہتی اسی لیے معاملہ کو لٹکایا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرسیاست اور جمہوریت کرپٹ عناصر کے ہاتھ میں رہی تو نقصان سراسر جمہوریت کا ہی ہوگا اور اس کی ذمہ دار حکومت کے ساتھ جمہوری قوتیں اور سیاسی پارٹیاں ہوں گی ۔ انہوں نے کہاکہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری غلط پالیسیوں اور واضح خارجہ پالیسی نہ ہونے سے پاکستان مخالف قوتیں افغان مہاجرین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں ۔ پاکستان افغان مہاجرین کی طویل مدت سے خدمت کررہاہے ۔ اگر افغان مہاجرین کو زبردستی اپنے ملک دھکیلا گیا تو نقصان پاکستان کا ہی ہوگا ۔ پہلے ہی افغانستان میں امریکہ نے بھارت کو پاکستان کے خلاف سرزمین دی ہے اور افغانستان بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہاہے ۔ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہے جس کے کئی ثبوت حکومت پاکستان کے پاس ہیں ،لہٰذا وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں اس معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور سوچ بچار کے بعد مثبت انداز میں فیصلے کریں ۔
Advertisements

صدر نے اپنے خطاب میں قومی مسائل پر اجاگر کرنے کی بجائے حکومت کی مدح سرائی کرتے ہوئے تصویر کا ایک رخ پیش کیا ۔سینیٹر سراج الحق

OLYMPUS DIGITAL CAMERA
OLYMPUS DIGITAL CAMERA
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پارلیمانی سال کے موقع پر پارلیمنٹ کے پہلے مشترکہ اجلاس سے صدر پاکستان کے خطاب پر اپنے تبصرہ میں کہا ہے کہ صدر نے اپنے خطاب میں قومی مسائل پر اجاگر کرنے کی بجائے حکومت کی مدح سرائی کرتے ہوئے تصویر کا ایک رخ پیش کیا ۔نئے پارلیمانی سال کے آغاز پرعوام کرپشن فری پاکستان کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ صدر پاکستان نے اپنے خطاب میں حکومتی کرپشن کا تذکرہ تک نہیں کیا اور نہ اس کے خاتمہ کی کوئی تجویز قوم کے سامنے رکھی ۔انہوں نے کہا کہ صدر کی تقریر میں قومی خود مختاری کے تحفظ کے حوالے سے بھی کوئی روڈ میپ تجویز نہیںکیا گیا اور نہ ہی امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی ، نجانے کس خوف سے صدر کو ڈرون حملوں پر پر اسرار خاموشی اختیارکرنے پر مجبور کیا ۔سراج الحق نے کہا کہ صدرمملکت، حکومت کا نہیں وفاق کا نمائندہ اور مملکت کا سربراہ ہوتا ہے لہذا اپنے اسی منصب کے مطابق بات کرتا ہے مگر صدر پاکستان جناب ممنون حسین کی آج کی تقریر میں حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر تبصرہ کی بجائے انہوں نے حکومتی کارکردگی کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے جس سے ارکان پارلیمنٹ سمیت پوری قوم کو مایوسی ہوئی ،ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے صدر مملکت کی تقریر بھی حکومتی ترجمان نے لکھی ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ صدر کی تقریر میں عام آدمی کی معاشی اور سماجی پریشانیوں کے خاتمہ کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا۔اسی طرح انہوں نے کسانوں مزدوروںاور خواتین سمیت قبائلی عوام اور آئی ڈی پیز کے مسائل کا اپنی تقریر میں سرے سے کوئی ذکر نہیں کیا ۔صدر نے حکومت کی خارجہ محاذ پر مسلسل ناکامیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جس نے ملک کی سا لمیت کو خطرے سے دو چار کردیا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مجموعی طور پر صدر کی تقریر حکومت کی تعریف و توصیف سے شروع ہوئی اور اسی پر ختم ہوگئی ۔