صوابی موٹر وے کو وسطی ایشیائی ریاستوں اور چائنہ کے ساتھ ملا کر علاقے کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ پاک چےن اقتصادی راہداری کو گلگت ، چترال ، ہزارہ ، سوات اور پشاور سے گزارا جائے۔سینیٹر سراج الحق : سوات موٹر وے کے افتتاح پر خطاب 

pic1a

لاہور 25 اگست2016ء
امیر جما عت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملکی وسائل قوم کی امانت ہیں ، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں کہ وہ جسے چاہے تقسیم کرتا پھرے ۔ ملک کا ایک صوبہ خوشحال اور دوسرے محروم رہیں اس کو برداشت نہیں کریں گے ۔ وزیراعظم بیرون ملک دوروں میں اپنے بھائی کو ساتھ لےتے ہیں جبکہ دوسرے وزرائے اعلیٰ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر وزیراعظم کوتمام صوبوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھنا چاہیے ۔ صوبوں میں احساس محرومی بڑھے تو علیحدگی کی سوچ پروان چڑھتی ہے ۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے قومی یکجہتی کو فروغ ملتا اور باہمی اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے ۔ کے پی کے میں چالیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے ، مگر حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ۔ قوم کو 2 روپے کی بجائے 18روپے فی یونٹ بجلی خریدنا پڑ رہی ہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہوسکتا ۔ صوابی موٹر وے کو وسطی ایشیائی ریاستوں اور چائنہ کے ساتھ ملا کر علاقے کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ پاک چےن اقتصادی راہداری کو گلگت ، چترال ، ہزارہ ، سوات اور پشاور سے گزارا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی تا سوات موٹر وے کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور صوبائی وزیر مواصلات نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر ، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان اور وزیر بلدیات عنایت اللہ خان بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مخلوط صوبائی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں پہلی بار دنیا کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے ۔ صوابی موٹر وے کا افتتاح خیبر پختونخوا حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے جس سے چترال ، گلگت ، سکردو کے علاقے ترقی کی منازل طے کریں گے اور مالا کنڈ سے چین اور ایشیائی ریاستوں تک نقل و حمل اور تجارت کا راستہ کھل جائے گا جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا ۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پانچ مقامات کو ترقی د ے کر دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات بنائے جاسکتے ہیں جس سے سالانہ پانچ کروڑ سیاح پاکستان آئیں گے اور اربوں ڈالر کا زر مبادلہ حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ ان علاقوں کو ترقی دی جائے تو پاکستانیوں کو مزدوری کے لیے امریکہ مغرب اور خلیج نہیں جانا پڑے گا بلکہ بیرونی دنیا سے لوگ روزگار کے حصول کے لیے پاکستان کا رخ کریں گے ۔ ہم آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بھی بچ جائیں گے۔ قرضہ لینے کی بجائے قرضہ دینے والے بن جائیں گے اور غریب ممالک کو امداد دے سکیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ انقلاب یہ نہیں کہ باہر سے وسائل حاصل کر کے ملک میں لگائے جائیں بلکہ اصل انقلاب یہ ہے کہ ہم خود انحصاری کی منزل حاصل کرےں اور سہارا لینے کی بجائے دوسروں کو سہارا دینے والے بنیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ معدنی وسائل ، جنگلات اور محنتی اور جفاکش لوگوں سے نوازا ہے ۔ ہم اپنے وسائل کے بہتر استعمال سے معاشی ترقی کی منزل کو حاصل کرسکتے ہیں ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے وفاقی اور صوبائی حکومتو ں کو تجویز دی کہ پشاور سے چترال تک گلگت اور شندور کے علاقوں کو موٹر وے سے ملا کر تاجکستان تک ایک بڑا تجارتی راستہ بنایا جاسکتاہے جس سے ناصرف سیاچن کا علاقہ محفوظ ہو جائے گابلکہ تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ منسلک کر کے ہم پاکستان کو ایک بڑی تجارتی منڈی بناسکتے ہیں اور پاکستان پانچ دس سالوں میں ترقی و خوشحالی کے نئے ریکارڈ قائم کرسکتاہے ۔ انہوں نے کہاہمارے ہاں منصوبے بنتے ہیں مگر فائلوں میں دبے رہتے ہیں اور سالہا سال ان پر کام شروع نہیں ہوپاتا جس سے ان کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں پچاس سے زیادہ ایسے پراجیکٹس موجود ہیں جو دس سال قبل شروع ہوئے اور ابھی تک مکمل نہیں ہوسکے ، مگر ہم انشاءاللہ صوابی تا سوات موٹر وے کو ڈیڑھ سال میں مکمل کریں گے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ گزشتہ تین سال میں مخلوط حکومت کی کوششوں سے خیبر پختونخوا میں قانون کی بالادستی سے امن قائم ہوا ۔بچے بغیر کسی خوف کے سکول جاتے ہیں۔ کرپشن اور کمیشن میں بے انتہا کمی ہوئی اور وہ کام جو کئی سال سے رکے ہوئے تھے ، انہیں ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ قوم دیکھے گی کہ چند سال میں ہی خیبر پختونخوا کا پورا خطہ امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا ۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ڈی پیز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کے دوران تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کو بحال کیا جائے اور علاقے میں تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ۔

سراج الحق نے ملکی ترقی کا رازبتادیا

Pic1

لاہور 21اگست2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں نہ تعلیم شامل ہے نہ صحت،تعلیم و صحت کے لئے مختص پیسہ زیادہ تر کرپشن کی نظر ہو رہا ہے، روشن پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم کا بجٹ 5 فیصد کیا جائے ہم تعلیم کا بجٹ بڑھائے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ این ای ڈی کراچی کے تحت یونیورسٹی میں داخلے کے خواہش مند طلبہ و طالبا ت کے لئے خو د تشخیصی امتحان کے انعقاد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے جمعیت کی جانب سے ٹیسٹ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہاکہ میں جمعیت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ حصول تعلیم میں آسانی دینے کے لئے امتحان منعقد کیا ۔جمعیت کا مقصد طلباءکی خدمت اور رہنمائی ہے جمعیت نے ہمیشہ مثبت سرگرمیوں کے ذریعے طلباءکا تعلیم سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کی ہے ۔پاکستان بہت بڑا ملک ہے ،تعلیم کے لئے مختص 2 فیصدبجٹ بھی تعلیم پر خرچ نہیںہوتا جو بجٹ رکھا جاتا ہے وہ اشرافیہ کے تعلیمی اداروں پر خرچ ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا چاند اور مریخ پر پہنچ رہی ہے ہم کچرا صاف کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا پوری قوم کیساتھ وعدہ ہے کہ ہم تعلیم کومفت کریں گے، جب تک نوجوان کو اسکی تعلیمی قابلیت پر نوکری نہیں ملتی ہم اسے بیروزگاری الاو ¿نس دیں گے ۔اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی ہاشم یوسف کا کہنا تھا کہ جہاں حکومت کی ترجیح تعلیم کے بجائے فیسٹیول منعقد کرنا ہو ایسے میں اسلامی جمعیت طلبہ این ای ڈی یونیورسٹی نے خود تشخیصی امتحان کا انعقاد کر کے ایک روشن مثال قائم کی ہے ۔طلباءکی بڑی تعداد میں ٹیسٹ کے اندر شرکت جمعیت پر اعتماد کا مظہر ہے ۔ اس دوران سابق ممبر قومی اسمبلی میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ،نائب امیر جماعت کراچی اسامہ رضی بھی موجو دتھے۔ بعد ازاں شریک طلباءکا کہنا تھا کہ کراچی میں امن کے قیام سے تعلیمی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ ٹیسٹ کے موقع پروالدین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی

سیاسی جماعتوں کی اجتماعی رائے ہے کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ملایا جائے اور ان کی محرومیوں کے ازالے کے لیے ایک بڑا وفاقی پیکیج دیا جائے ۔سینیٹر سراج الحق کی پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو

ab wasi

اسلام آباد19اگست 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سیاسی جماعتوں کی اجتماعی رائے ہے کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ملایا جائے اور ان کی محرومیوں کے ازالے کے لیے ایک بڑا وفاقی پیکیج دیا جائے ۔ پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں نے قبائلی علاقوں کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔آپریشن ضرب عضب سے بڑی حد تک امن قائم ہواہے ،اس کی تحسین کی جانی چاہیے، مگر اس کے لیے مقامی آبادی کو جن مصائب سے گزرنا پڑا،ان کا اعتراف کرنا اور صلہ دینا بھی ضروری ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کو فاٹا میں ریفارمز کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں ۔ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا قومی ضرورت ہے ۔ فاٹا ریفارمز کے بغیر آپریشن ضرب عضب نامکمل ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی نظریں اب بھی قبائلی علاقوںپر لگی ہوئی ہیں اور وہ انتشار پھیلانے کا موقع تلاش کررہاہے ۔ ان حالات میں اسلام آباد سے ان پر کوئی چیز مسلط کرنا ان کے حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وہاں ایک منتخب باڈی ہونی چاہیے اور اس باڈی کو معاشی اختیارات بھی حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے انصاف کے دروازے بند ہیں وہا ں عدالتی نظام قائم کیا جائے ۔ قبائلی عوام نے ہمیشہ پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں مگر ان علاقوں کی ایک کروڑ آبادی کے لیے تعلیم ا ورصحت کی کوئی سہولت نہیں ۔ کوئی بڑا تعلیمی ادارہ ہے اور نہ ہسپتال ۔ خواتین کی شرح تعلیم صرف تین فیصد ہے اس لیے ضروری ہے کہ قبائلی علاقوں میں خواتین کے لیے علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہمیں نئی نسل کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب دینی چاہیے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں ۔ عالمی میڈیا نے قبائلی عوام کو دہشتگرد قرار دے کر بدنام کیاہے ۔ قبائلی عوام ہمیشہ پاک افغان بارڈر کے محافظ رہے ہیں ۔ عالمی سازشوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پرسکون بارڈر کو گرم بارڈر میں تبدیل کردیاہے جہاں ہماری دو لاکھ فوج مصروف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خطے کو پرامن بنانے کے لیے مقامی لوگوں سے مشاورت کی ضرورت ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے فاٹا میں بڑے تجارتی مراکز اور مارکیٹیں بند ہو گئی ہیں ۔ لاکھوں لوگوں کو علاقے سے ہجرت کرنا پڑی جس کے نتیجہ میں انہیں اربوں روپے کا نقصان اٹھاناپڑا مگر حکومت کی عدم توجہی سے یہ لوگ دو وقت کی روٹی سے تنگ ہیں۔ انہو ں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
دریں اثنا سینیٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ شمالی علاقہ جات میں چالیس ہزار اور کے پی کے کے دیگر علاقوں میں 21 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے مگر اس کے باوجود انڈونیشیا اور ملائیشیا سے مہنگا کوئلہ خرید کر بجلی بنائی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوا م کو بھی مہنگی بجلی خریدنا پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی پیداوار کے منصوبو ں کے لیے قومی اور ریاستی پالیسی بنائی جائے تاکہ حکومتوں کے آنے جانے سے بجلی کے پیداواری منصوبو ں پر اثر نہ پڑے ۔ انہوں نے کہاکہ مقامی وسائل سے پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کیوں نہیں لگائے جارہے ۔ہمیں عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے دیرپا منصوبہ سازی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے خلاف ماضی کی طرح عالمی سازشیں شروع ہو گئی ہیں ہمیں بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے وہاں آبپاشی اور پینے کے صاف پانی کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔

معاشی دہشت گردی کی وجہ سے ہی ملک میں مسلح دہشت گردی پروان چڑھی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ملک سے معاشی دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے تو مسلح دہشت گردی خود بخود ختم ہوجائیگی ۔ سینیٹر سراج الحق کا جماعت اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

00
لاہور 18اگست2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے ہم پانامہ لیکس کے معاملے کو 22اگست کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں اورگلی کوچوں اور چوراہوں میں عوامی احتجاج کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی نے قانونی جنگ کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ اس قانونی جنگ کے نتیجے میں آنے والے وقت میں ملکی سیاست میں معاشی دہشت گردوں کیلئے کوئی جگہ نہیں رہے گی ۔ جماعت اسلامی آئندہ انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں نائب امراءمیاں محمد اسلم ،سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ،میاں مقصود احمد ،ڈاکٹر وسیم اختر و دیگر نے شرکت کی ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہماری جنگ کسی فردکے خلاف نہیں یہ جنگ ملک میں جاری کرپشن کے ناسور کے خلاف ہے یہی کرپشن ہے جس کی وجہ سے ملک کا بچہ بچہ مقروض ہے ،اسی کرپشن کی وجہ سے ملکی خزانے کے 375ارب ڈالر بیرونی ممالک میں پڑے ہیں اور ہمارا ملک ورلڈ بنک کے ذلت آمیز شرائط پر لئے گئے قرضوں پر چل رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 22اگست سے کرپشن کے خلاف شروع ہونے والی عدالتی جنگ معاشی دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور ملک سے لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس لانے میں مددگار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہی قانونی جنگ کرپشن کی روک تھام کیلئے دیرپااور بنیادی قانون سازی کیلئے اہم کردار ادا کرے گی ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ سیاستدانوں نے مختلف سیاسی جماعتوں میںپناہ لے رکھی ہے اور پارٹی قیادت بھی محض اسمبلیوں میں تعداد بڑھانے کیلئے قومی چوروں کا سہارا لے رہی ہے ،یہ المیہ ہے کہ جن لوگوں کو جیل میں ہونا چاہئے تھا کرپشن کے انہی بتوں کو پوجا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن ریفارمز کے بغیر انتخابات سیاستدانوں کا کھیل ہونگے ۔عوام پہلے لٹیروں کو ووٹ دیتے اور پھر پانچ سال تک روتے رہتے ہیں ۔ معاشی دہشت گردی مسلح دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، معاشی دہشت گردی کی وجہ سے ہی ملک میں مسلح دہشت گردی پروان چڑھی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ملک سے معاشی دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے تو مسلح دہشت گردی خود بخود ختم ہوجائیگی ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ان معاشی دہشت گردوں کے خلاف کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں قوم میں بیداری پیدا ہوئی،کرپشن کے خلاف ہماری تحریک اب عوامی تحریک بن چکی ہے اور یہ تحریک انشااللہ اپنے مقاصد ضرور حاصل کرے گی۔ 
  سینیٹر سراج الحق نے پنجاب میں بچوں کے اغوا ءکی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز اغواءکے واقعات نے والدین کی نیندےں حرام کردی ہے ،مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے ڈرتی ہیں اور پورے معاشرے کے اندر خوف کا پہرا ہے مگر حکمران آئے روز گڈ گورننس کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ۔انہوں نے کہا کہ والدین بچوں کی حفاظت کیلئے سارا دن تو سکول نہیں بیٹھ سکتے ،عوام کو جان و مال اور عزت کا تحفظ دینا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ریاست ہی کو نبھانا پڑے گی عام آدمی جو مشکل سے دووقت کی روٹی کماتا ہے وہ اپنی حفاظت کیلئے گارڈتو نہیں رکھ سکتا۔لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے میں حکمران بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ 

ہم پاکستان اور افغانستان میں برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں ،دونوں ممالک کے عوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہتے آرہے ہیں افغان مہاجرین کےمسائل کے حل کیلئے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں آواز بلند کریں گے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

WhatsApp Image 2016-08-16 at 6.16.12 PM (1)

دیرپائین 17اگست2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کا عدم تعاون اور غیر سنجیدہ رویہ ملک سے کرپشن کے خاتمہ کی راہ میں حائل ہے۔حکومتی رویے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ حکمران ملک میں لوٹ کھسوٹ کے نظام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ قوم چاہتی ہے کہ کرپشن اور کرپٹ نظام کے خاتمہ کیلئے وزیر اعظم خود کو احتساب کیلئے پیش کردیں تاکہ دوسروں کا احتساب کرنے میں آسانی ہو۔جب تک کرپشن موجود ہے ملک کو ترقی و خوشحالی کی منزل تک لے جانے میں کوئی تدبیر کارگرنہیں ہوگی اور سب کام الٹے ہونگے ۔حکومت اور اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ قومی امانتوں کا مل کر تحفظ کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے آبائی علاقے ثمر باغ اور ضلع دیر کے عمائدین کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک کی اصل بیماری کرپشن کے علاج کیلئے سب سے پہلے تحریک شروع کی تاکہ 69سال سے مصیبتوں اور مشکلات میں مبتلا قوم کے مسائل حل کئے جاسکیں ۔کرپشن تمام مسائل کی ماں ہے اور اسی کی گود میں دہشت گردی ،بدامنی ،لاقانونیت،غربت اور جہالت جیسی بیماریاں پرورش پاتی ہیں ۔کرپشن پر قابو پاکرعام آدمی کو تعلیم ،صحت ،روز گار اور چھت جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوٹی گئی قومی دولت ملک میں واپس آجائے تو ظالمانہ ٹیکسوں اور ہوشربا بجلی و گیس کے بلوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے ۔روزانہ ہونے والی 10ارب سے زائد کرپشن نے پورے سسٹم کھوکھلا کردیا ہے ۔میرٹ کی پامالی نے نااہل شہزادوں کو اعلیٰ عہدوں پر پہنچا دیا ہے اور ذہین ترین غریب بچوں کو مزدوری کرنے پر مجبور کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ٹی او آرز پر کئی اجلاس ہوئے مگر سب بے نتیجہ رہے ،کچھ لوگ ٹی او آرز کے پورے معاملے کو ناقابل عمل بنانے پر تلے رہے جس کی وجہ سے قوم کے اندر ایک مایوسی اور بے چینی نے جنم لیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ حکومت عوامی مطالبے کے باوجود کرپشن کے خلاف اقدامات کرنے کو تیار نہیں ۔حکمرانوں کا اب تک کا رویہ ثابت کرتا ہے کہ وہ سرے سے احتساب نہیں چاہتے اور لوٹ ماراور کرپشن کے نظام کو اسی طرح جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
دریں اثنا ءافغان مہاجرین کے ایک نمائندہ جرگہ نے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کرکے انہیں اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا ۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے جرگہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان اور افغانستان میں برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں ،دونوں ممالک کے عوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہتے آرہے ہیں ،علاقے میں امن و امان دونوں ممالک کی ضرورت ہے ۔جس طرح پرامن افغانستان پاکستان کی ضرورت ہے اسی طرح پرامن اور خوشحال پاکستان افغانستان کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم افغان عوام کے ساتھ ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغانستان کے مختلف دھڑے مل بیٹھ کر اپنے مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں تاکہ دوسروں کو افغان عوام کے خلاف سازشوں کا موقع نہ مل سکے ۔انہوں نے جرگہ کو یقین دلایا کہ وہ ان کے مسائل کے حل کیلئے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں آواز بلند کریں گے ۔ 

کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی 22اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں رٹ پٹیشن دائر کرے گی جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل اسد منظور بٹ جماعت اسلامی کے وکیل ہوں گے۔سینیٹر سراج الحق کی پشاور میں پریس کانفرنس

a2

لاہور 16اگست 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی 22اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں رٹ پٹیشن دائر کرے گی جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل اسد منظور بٹ جماعت اسلامی کے وکیل ہوں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے  منگل کے روز المرکز اسلامی پشاور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خا اورافغان امور کے مشیر شبیر احمد خان بھی موجود تھے۔
سینیٹرسراج الحق نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان مہاجرین کے ساتھ نامناسب رویہ ترک کر دے ۔انہوں نے نے کہا کہ عوام کے سامنے اپنا منشور رکھنا اور اپنے مطالبات کے لیے جلسے جلوس کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے اور اگر پاکستان عوامی تحریک اپنے14شہید کارکنوں کے قاتلوں کو سزا دینے کے لیے تحریک چلاتی ہے تو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ سوئس بینکوں کی رپورٹ کے مطابق وہاں پر پاکستانیوں کے200ارب ڈالر پڑے ہیں اس کی تصدیق وہاں کے وزیر خزانہ نے کی ہے۔انھوں نے کہا حکومت پاکستان نے سوئٹزر لینڈ کی حکومت سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ 2017ءتک حکومت پاکستان کو وہاں کے بینکوں میں پاکستانیوں کے سرمایہ کی تفصیلات سے آگاہ کرے گا،آگے اس پر کیا عمل ہوتا ہے اس کے لیے قیامت تک انتظار کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پانامہ لیکس میں پوری دنیا کو معلوم ہوا کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان سمیت بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے قومی خزانے کے اربوں روپے بیرون ملک لگا رکھے ہیں۔یہ اتنااہم مسئلہ تھا کہ وزیر اعظم نے تین مرتبہ اس پر قوم سے خطاب کیا۔حکومت نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو1956ءکے ایکٹ کے تحت کمیشن کے قیام کی ہدایت کی جس کو سپریم کورٹ نے واپس کرکے کہا کہ56ءکا قانون دانتوں کے بغیر ہے اور اس کے تحت قائم کردہ کمیشن کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔سپریم کورٹ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اس ایکٹ میں ترمیم کرے اور واضح طور پر سپریم کورٹ کو افراد اور اداروں کے نام بتا کر کرپشن کے خلاف کارروائی کے لیے لکھے۔انھوںنے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایات اور اپوزیشن کے مطالبات اور اس کے تیار کردہ ٹی او آرز کو نظر انداز کیا اور مذاکرات کومحض وقت ٹالنے کا بہانہ بنایا جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب سپریم کورٹ میں اس کے خلاف رٹ دائر کریں گے۔ا نھوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف ہم 15ماہ سے ملک گیر تحریک چلا رہے ہیں۔ہم نے تین دن تک عظیم الشان ٹرین مارچ کیا،کئی مقامات پر عوام نے ہمارا استقبال کرکے کرپشن کے خلاف ہمارا ساتھ دیا انھوں نے کہا۔ کہ اب کرپشن کے خلاف یہ جنگ ہم ایوانوں ،چوکوں اور چوراہوں کے علاوہ عدالتوں میں بھی لڑیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ حکومت کو1956ءکے ایکٹ میں ترمیم کرنے کا حکم دے اور ایک ایسا کمیشن قائم کیا جائے جو پانامہ لیکس سمیت کرپشن میں ملوث تمام سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں کے خلاف تحقیقات اور ان کے خلاف مقدمات کے علاوہ سزا بھی دے ۔انھوں نے کہا ہمارے ارکان قومی اسمبلی نے قانونی بل پیش کیا ہے جس میں نیب قوانین میں ترمیم پیش کی گئی ہے انھوں نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ملکی خزانہ سے ایک ارب روپے لوٹنے والانیب کو دس کروڑ روپے واپس کر کے اپنے آپ کو صاف کر لیتا ہے۔انھوں نے کہا میں نے سینیٹ بھی تمام جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی سطح پر احتساب سے پہلے اپنے اندر سے کرپٹ عناصر کوباہر نکالیں۔ انھوں نے کہا کہ مالیات کے طالب علم کی حیثیت سے میں نے اس پر کام کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر ملک سے کرپشن کے موذی مرض کا خاتمہ ہو جائے تو یہاں پر لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔بے روزگار نوجوانوں کو روزگار الاﺅنس مل سکتا ہے۔علاج اور تعلیم مفت ہو سکتے ہیں بڑھاپا الاﺅنس دیے جا سکتے ہیں اور پاکستان خوشحال ملک بن سکتا ہے۔افغان مہاجرین کی جبری واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ خود اپنے ملک جانا چاہتے ہیں لیکن وفاقی ادارے اور صوبائی حکومت جس خراب انداز میں ان کو دھکیل رہے ہیں ےہ پاکستان کے مفاد میںنہیں اور اس کے نتائج پاکستان کے لیے اچھے نہیں نکلیں گے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح35سال تک پاکستان کی مہمان نوازی پر پانی پھر جائے گا انھوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کو زبردستی واپس نہ بھیجا جائے اور ان سے باعزت سلوک کیا جائے۔

گلگت بلتستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق ہے ، کسی کو عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔سینیٹر سراج الحق کا گلگت بلتستان میں آزادی کشمیر کانفرنس سے خطاب

pic ameer Jip
گلگت 9اگست 2016ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق ہے ، کسی کو عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لیے دیامراور بھونجی ڈیم فوری تعمیر کیے جائیں اور پاک چائنہ کوری ڈور میں اس علاقے کو بھی شامل کیا جائے ۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو باہم مربوط کر کے آزادی کشمیر کا بیس کیمپ بنائیںگے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گلگت میں آزادی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی نے بھی خطا ب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کی پشت پر کھڑے ہیں ہم سید علی گیلانی سمیت حریت قیادت کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم آزادی کشمیر کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ رہے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اسلا م آباد میں آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں کو ایک ایجنڈے پر متفق کیاہے ، اور ہم اس ایجنڈے کی روشنی میں عالمی سطح پر کشمیر کاز کو اٹھائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر کشمیریوں کا ساتھ دینے کا عہد کیاہے ۔ کشمیر کی آزادی اب نوشتہ دیوار ہے ۔ بھارت طاقت اور بندوق کے زور پر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کر سکا ، کشمیری میں ہماری مائیں ، بہنیں بیٹیاں اور معصوم بچے شہادت پیش کررہے ہیں وہ ہمارے خاندان کا حصہ ہیں ہم ان کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کی آزادی کے راستے میں انگریز کا چھوڑا ہوا جاگیردارانہ نظام بڑی رکاوٹ ہے ۔ جماعت اسلامی، اسلامی و خوشحال پاکستان کے جس ایجنڈے کو لے کر چل رہی ہے اس میں جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور وڈیروں کاکوئی مستقبل نہیں ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کوئٹہ کو خون میں نہلانے والوں کا سراغ لگانا حکومت اور سیکورٹی اداروں کو اولین ترجیح بناناچاہیے ۔ دشمن ہمارے شہروں کو تباہ کر رہاہے ۔دہشتگردی کی اس گھناﺅنی واردات میں بھارت کا ہاتھ خارج از امکان نہیں بھارتی تخریب کاروں کا نیٹ ورک بلوچستان اور کراچی میں پہلے سے موجود ہے جس کی نشاندہی سیکورٹی ادارے کئی بار کرچکے ہیں مگر ہماری حکومت ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتی ہے اور امریکی دباﺅ پر بھارت کے خلاف زبان کھولنے کے لیے تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ قوم اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہے ۔ ہر روز دہشتگردی کے خاتمے کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں مگر تخریب کار دوبارہ کوئی بڑی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبے پر پور ی قوم متفق و متحد ہے اگر دشمن اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے معصوم شہریوں کا قتل عام کررہاہے تو ہمیں دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی کو فروغ دیناہوگا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبدالرشید ترابی نے کہاکہ جماعت اسلامی کشمیر کی آزادی کی تحریک میں پہلے دن سے پیش پیش رہی ہے ۔ ہم گلگت بلتستان کے حقوق کی جنگ بھی لڑیں گے اور عوام کو ان کے چھینے گئے حقوق واپس دلا کر رہیں گے ۔