صوابی موٹر وے کو وسطی ایشیائی ریاستوں اور چائنہ کے ساتھ ملا کر علاقے کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ پاک چےن اقتصادی راہداری کو گلگت ، چترال ، ہزارہ ، سوات اور پشاور سے گزارا جائے۔سینیٹر سراج الحق : سوات موٹر وے کے افتتاح پر خطاب 

pic1a

لاہور 25 اگست2016ء
امیر جما عت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملکی وسائل قوم کی امانت ہیں ، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں کہ وہ جسے چاہے تقسیم کرتا پھرے ۔ ملک کا ایک صوبہ خوشحال اور دوسرے محروم رہیں اس کو برداشت نہیں کریں گے ۔ وزیراعظم بیرون ملک دوروں میں اپنے بھائی کو ساتھ لےتے ہیں جبکہ دوسرے وزرائے اعلیٰ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر وزیراعظم کوتمام صوبوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھنا چاہیے ۔ صوبوں میں احساس محرومی بڑھے تو علیحدگی کی سوچ پروان چڑھتی ہے ۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے قومی یکجہتی کو فروغ ملتا اور باہمی اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے ۔ کے پی کے میں چالیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے ، مگر حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ۔ قوم کو 2 روپے کی بجائے 18روپے فی یونٹ بجلی خریدنا پڑ رہی ہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہوسکتا ۔ صوابی موٹر وے کو وسطی ایشیائی ریاستوں اور چائنہ کے ساتھ ملا کر علاقے کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ پاک چےن اقتصادی راہداری کو گلگت ، چترال ، ہزارہ ، سوات اور پشاور سے گزارا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی تا سوات موٹر وے کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور صوبائی وزیر مواصلات نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر ، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان اور وزیر بلدیات عنایت اللہ خان بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مخلوط صوبائی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں پہلی بار دنیا کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے ۔ صوابی موٹر وے کا افتتاح خیبر پختونخوا حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے جس سے چترال ، گلگت ، سکردو کے علاقے ترقی کی منازل طے کریں گے اور مالا کنڈ سے چین اور ایشیائی ریاستوں تک نقل و حمل اور تجارت کا راستہ کھل جائے گا جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا ۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پانچ مقامات کو ترقی د ے کر دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات بنائے جاسکتے ہیں جس سے سالانہ پانچ کروڑ سیاح پاکستان آئیں گے اور اربوں ڈالر کا زر مبادلہ حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ ان علاقوں کو ترقی دی جائے تو پاکستانیوں کو مزدوری کے لیے امریکہ مغرب اور خلیج نہیں جانا پڑے گا بلکہ بیرونی دنیا سے لوگ روزگار کے حصول کے لیے پاکستان کا رخ کریں گے ۔ ہم آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بھی بچ جائیں گے۔ قرضہ لینے کی بجائے قرضہ دینے والے بن جائیں گے اور غریب ممالک کو امداد دے سکیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ انقلاب یہ نہیں کہ باہر سے وسائل حاصل کر کے ملک میں لگائے جائیں بلکہ اصل انقلاب یہ ہے کہ ہم خود انحصاری کی منزل حاصل کرےں اور سہارا لینے کی بجائے دوسروں کو سہارا دینے والے بنیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ معدنی وسائل ، جنگلات اور محنتی اور جفاکش لوگوں سے نوازا ہے ۔ ہم اپنے وسائل کے بہتر استعمال سے معاشی ترقی کی منزل کو حاصل کرسکتے ہیں ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے وفاقی اور صوبائی حکومتو ں کو تجویز دی کہ پشاور سے چترال تک گلگت اور شندور کے علاقوں کو موٹر وے سے ملا کر تاجکستان تک ایک بڑا تجارتی راستہ بنایا جاسکتاہے جس سے ناصرف سیاچن کا علاقہ محفوظ ہو جائے گابلکہ تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ منسلک کر کے ہم پاکستان کو ایک بڑی تجارتی منڈی بناسکتے ہیں اور پاکستان پانچ دس سالوں میں ترقی و خوشحالی کے نئے ریکارڈ قائم کرسکتاہے ۔ انہوں نے کہاہمارے ہاں منصوبے بنتے ہیں مگر فائلوں میں دبے رہتے ہیں اور سالہا سال ان پر کام شروع نہیں ہوپاتا جس سے ان کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں پچاس سے زیادہ ایسے پراجیکٹس موجود ہیں جو دس سال قبل شروع ہوئے اور ابھی تک مکمل نہیں ہوسکے ، مگر ہم انشاءاللہ صوابی تا سوات موٹر وے کو ڈیڑھ سال میں مکمل کریں گے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ گزشتہ تین سال میں مخلوط حکومت کی کوششوں سے خیبر پختونخوا میں قانون کی بالادستی سے امن قائم ہوا ۔بچے بغیر کسی خوف کے سکول جاتے ہیں۔ کرپشن اور کمیشن میں بے انتہا کمی ہوئی اور وہ کام جو کئی سال سے رکے ہوئے تھے ، انہیں ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ قوم دیکھے گی کہ چند سال میں ہی خیبر پختونخوا کا پورا خطہ امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا ۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ڈی پیز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کے دوران تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کو بحال کیا جائے اور علاقے میں تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s