دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے معاشر ے کو تقسیم کردیاہے ۔ جب تک یہ استحصالی نظام ختم نہیں ہو تا ، ہشتگردی اور بدامنی سے نجات نہیں ملے گی ۔ سینیٹر سراج الحق

uu

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ دہشتگردی کے خاتمہ اور ملک کو پرامن اور خوشحال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشی ناہمواریوں اور ظلم و جبر کے نظام کا خاتمہ کیا جائے ۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے معاشر ے کو تقسیم کردیاہے ۔ ایک طرف چند سیاسی پنڈت اور برہمن ہیں جو عیاشی کر رہے ہیں اور دوسری طرف بیس کروڑ عوام ہیں جو کیڑے مکوڑوں کی طرح رزق تلاش کرتے ہیں مگر انہیں زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم کر دیاگیاہے ۔ جب تک یہ استحصالی نظام ختم نہیں ہو تا ، ہشتگردی اور بدامنی سے نجات نہیں ملے گی ۔ جماعت اسلامی 2018 ء کے انتخابات میں کرپٹ اور لٹیروں کا راستہ روکنے کے لیے دیانتدار اور باصلاحیت ٹیم میدان میں اتارے گی ۔ عوام اپنا انتخابی رویہ تبدیل کریں اور بار بار آزمائے ہوئے ظالموں کو اپنی گردنوں پر سوار نہ کریں ۔ جب تک عوام ان ظالموں سے نجات کے لیے تیار نہیں ہوں گے ، ملک میں پائیدار تبدیلی نہیں آسکتی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی ، صوبائی اور ضلعی ذمہ داران جماعت کی تین روزہ لیڈر شپ ٹریننگ ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر نائب امراء حافظ محمد ادریس ، پروفیسر محمد ابراہیم ، راشد نسیم ، میاں محمد اسلم ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، اسد اللہ بھٹو اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سمیت چاروں صوبائی امرا اور ملک بھر کے ضلعی امراء بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ملک کا ہر فرد دہشتگردی ، بدامنی اور معاشی ناہمواریوں پر کڑھتاہے مگر اس استحصالی نظام کو بدلنے پر آمادہ نہیں کیونکہ ظلم و جبر کا یہ نظام ہی ان کی سیاسی زندگی کی بقا کا ضامن ہے جس دن عوام نے غلامانہ نظام کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا ، وہی ان کے لیے عزت و وقار اور حکمرانوں کی سیاسی موت کا دن ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ 70 سال میں جمہوریت کے نام پر عوام کا بدترین استحصال کیا گیا اور اقتدار پر مسلط ٹولے نے قومی دولت لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں جبکہ عوام بلوں اور ٹیکسوں کی صورت میں اپنے خون پسینے کی کمائی حکمرانوں کی عیش و عشرت کے لیے دیتے رہے ۔ اقتدار پر قابض مافیا نے اداروں کو یرغمال بنایا ، جاگیردار وں اور سرمایہ دار وں نے مزدوروں اور کسانوں کو اپنا غلام بنائے رکھا اوران کو مہنگائی کی چکی میں پیستے رہے ۔ درجنوں فیکٹریوں کا مالک کروڑوں اور اربوں کا بل معاف کروا لیتاہے جبکہ غریب مزدور کا ایک ہزار روپے کا بل نہ دینے پر بجلی کا میٹر کاٹ دیا جاتاہے ۔ حکمرانوں نے نہ صرف قومی خزانے کو لوٹا بلکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے سینکڑوں ارب ڈالر کے قرضے لے کر ہڑپ کیے اور قوم کو صہیونی اداروں کی غلامی کی ہتھکڑیاں پہنائیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی کی صوبائی اور ضلعی قیادت پر زور دیا کہ وہ عام آدمی اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بنیں اور جماعت اسلامی کو مظلوم عوام کی امیدوں کا مرکز بنائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں نفاذ شریعت کے لیے جب تک عوام بڑے پیمانے پر آپ کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہوتے ، استعمار کے غلام اور اسٹیٹس کو کی حامی قوتیں اقتدار پر قابض رہیں گی اور ملک میں عدل و انصاف کے نظام کے آگے رکاوٹ بنی رہیں گی۔

دہشت گردی سمیت تمام مسائل کا حل شریعت کے نفاذ میں ہے،استعماری قوتوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات پر عمل کریں ،تمام مسائل کا حل نکل آئے گا ۔ سینیٹر سراج الحق

yy

لاہور(بلاگ نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کہا ہے کہ امن و امان کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے مگر اب تک حکومت اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکا م رہی ہے ۔دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے وقتی انتظما ت اپنی جگہ مگر جب تک اس کی وجوہات کو دور نہیں کیا جاتا قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔دہشت گرد جب تک سینکڑوں معصوموں کے خون سے ہولی نہ کھیل لیں حکمرانوں کی آنکھ نہیں کھلتی۔انسان نما بھیڑیوںکوچن چن کر ختم کرنا ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جاری مرکزی ،صوبائی اور ضلعی ذمہ داران کے تین روزہ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کی نااہلی اور عدم توجہی کی وجہ سے ہر پاکستانی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے اورعوام امن و امان کی مخدوش صورتحال سے سخت پریشان ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔حکمرانوں نے معصوم شہریوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے ، اپنی اور اپنے تمام خاندانوں کے لیے سرکاری وسائل سے بیش بہا سیکورٹی انتظامات کر رکھے ہیں۔ قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا اور اسے محض دینی طبقات کی سرکوبی کیلئے استعمال نہ کیا جاتا تو اب تک دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی کیلئے اگر فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے تو اس کیلئے حکومت سیاسی جماعتوں اور قوم کو اعتماد میں لے ۔ حکومت کا فرض ہے کہ اس اہم مسئلے پر وسیع تر مشاورت اور قومی ہم اہنگی کے بعد فیصلہ کرے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بھارتی تخریب کار کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھی چپ سادھ رکھی ہے اورعالمی برادری کو بھارت کی پاکستان کے خلاف کھلی دہشت گردی سے آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا جبکہ کلبھوشن کے اعترافی بیان کے بعد ضروری تھا کہ حکومت دہشت گردی کے سدباب کیلئے فوری اور موثر اقدامات کرتی اور بین الاقوامی اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی کہ وہ بھارت کو پاکستان کے خلاف تخریب کاری سے روکے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی پسے ہوئے اور محرورم طبقہ کی ترجمان جماعت ہے ۔جن لوگوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں جماعت اسلامی کے کارکنان ان کا سہارابنیں ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی پالیسیوںسے عام آدمی پریشانیوں اور محرومیوںکا شکار ہے ،غربت مہنگائی بے روز گاری اور بدامنی نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں ،حکمران معیشت میں بہتری اور ترقی و خوشحالی کے دعوے کرتے نہیں تھکتھے جبکہ دوسری طرف لوگ غربت کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشیوں پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام ترقی کے حکومتی دعوﺅں پر اس وقت یقین کریں گے جب عوام کے مسائل حل ہوں گے اور ان کے بچوں کو بھی تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر ہونگی ۔انہوں نے کہا کہ دوکروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔،مریض ہسپتالوں میں بستر نہ ملنے کی وجہ سے فرش پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے ہیں ،لاہور جیسے شہر کے ہسپتالوں میں ایک ایک بستر پر تین تین مریض لیٹے ہیں ۔ دہشت گردی کے پے درپے واقعات نے عوام کو ہراساں کررکھا ہے ،ان حالات میں حکومت کی طرف سے معاشی خوشحالی کے دعوے غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے نظام مصطفی ﷺ کا نفاذ ضروری ہے ،حکمران سامراجی قوتوں اور عالمی استعمار کی غلامی چھوڑ کر حضرت محمد ﷺ کی غلامی پر راضی ہوجائیں تو تمام مسائل کا حل نکل آئے گا۔ 
  

سینیٹرسراج الحق نے نئی مہم شروع کردی

pic-sirajul-haq-1
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت دہشتگردوں کے سامنے بے بس ہو گئی ہے ۔ اب عوام کو اپنی حفاظت کے لیے خود کچھ کرنا پڑے گا ۔ دہشتگردی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہر پاکستانی کو اپنے حصے کا پانی ڈالنا ہوگا ۔ نیشنل ایکشن پلان کا مقصد مساجد اور مدارس کا محاصرہ نہیں تھا ۔ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کو مذہب کی طرف موڑ کر اس کے مقاصد کو محدود اور اصل دہشتگردوں کو ریلیف دیا ۔ دہشتگرد ی کے خاتمہ اور امن و امان کی بحالی کے لیے اگر فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں تو حکومت سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر کے انہیں اعتماد میں لے ۔ پاکستان کو کرپشن فری خوشحال ملک بنانے کے لیے خوشحال پاکستان فنڈ قائم کیا گیاہے ۔ عوام دل کھول کر اس میں حصہ لیں ۔ ملک کے بیس کروڑ عوام عاشقان رسول، ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کردیں گے مگر 295/C میں ترمیم برداشت نہیں کریں گے ۔ قوم غازی علم الدین شہید ، عامر چیمہ شہید اور غاز ی ممتاز قادری شہید کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے ۔ یکم مارچ کو ملک بھر میں یوم غازی ممتاز قادری شہید منائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے منصورہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی ، صوبائی اور ضلعی ذمہ داران کی تین روزہ لیڈر شپ ٹریننگ ورکشاپ ، خوشحال پاکستان فنڈ مہم کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو اور جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ ، حافظ محمد ادریس ، میاں محمد اسلم ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، ناظم مالیات بشیر احمد عارف اور امیر العظیم بھی موجود تھے۔
سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ دہشتگردوں نے دو د نوں میں چاروں صوبوں میں دھماکے کر کے ثابت کردیاہے کہ دہشتگردی کے واقعات کو روکنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ دہشتگرد خود چھٹی پر تھے ۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کا سدباب کرنے اور انہیں عبرت کا نشان بنانے کے لیے فوجی عدالتوں کی توسیع سمیت حکومت سے جو کچھ بن پڑتاہے وہ کرے مگر کسی معاملے میں بھی حکومت کو ون ویلنگ نہیں کرنی چاہیے ۔ سیکورٹی اداروں کو وی آئی پیز کی سیکورٹی کی طرح عام آدمی کے تحفظ پر بھی توجہ دینی چاہیے جب تک حکومت اور سیکورٹی ادارے عام پاکستانی کی جان و مال کے تحفظ کو اہمیت نہیں دیں گے ، عوام اسی طرح دہشتگردوں کے ہاتھوں لقمہ ¿ اجل بنتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مودی بار بار پاکستان کو تباہ کرنے اور خون اور پانی اکٹھے نہ بہنے کی دھمکیاں دے رہاہے مگر ہماری حکومت نے بھارتی تخریب کار کلبھوشن کو مہمان بنا کر رکھاہواہے ۔ انہوں نے کہاکہ انڈیا کے بارے میں قومی پالیسی سے کوئی ادارہ انحراف نہیں کر سکتا ۔ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا ، بھارت کے ساتھ تعلقات کسی صورت بحال نہیں ہوسکتے ۔ مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت سے دوستی ہوسکتی ہے نہ تجارت ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھارتی دہشتگردی کی تفصیلات بتانے سے گریز کر رہی ہے ۔حکمرانوں کے رویہ سے پتہ چلتاہے کہ وہ جان بوجھ کر قوم کو بھارتی عزائم سے بے خبر رکھنا چاہتے ہیں ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے مغربی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لیے اگر ناموس رسالت کے قانون کو بدلنے کی کوئی جسارت کی تو بیس کروڑ عاشقان رسول حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور حکمرانوں کو کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی ۔ سراج الحق نے لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملہ کو پاکستان اور امت مسلمہ پر حملہ قرار دیا اور کہاکہ اولیاءاللہ محبت و اخوت کی علامت ہیں جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں اور انہیں کفر کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کی روشنی سے منور کیا ۔ لاکھوں عقیدت مند ہر سال ان مزاروں پر حاضری دیتے ہیں ۔ ہمارا دشمن گونگا بہرہ اور اندھاہے جو معصوم بچوں اور خواتین کا قتل عام کر رہاہے اور مساجد ، مدارس اور مزارات کو دہشتگردی کا نشانہ بنا رہاہے ۔
اس موقع پر خوشحال پاکستان فنڈ مہم کے انچارج نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم نے کہاکہ کرپٹ عناصر سے نجات کے لیے عوام دل کھول کر خوشحال پاکستان فنڈ میں حصہ ڈالیں ۔ عوام جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت کو سپورٹ اور ووٹ کے ساتھ ساتھ نوٹ بھی دیں تاکہ ارب پتی لٹیروں کے خلاف بھر پور مہم چلائی جاسکے اور آئندہ انتخابات میں ان کا بوریا بستر گول کیا جاسکے ۔

پاک فوج اور جماعت اسلامی مل کر فاٹا کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے،وزیر اعظم نے ظلم اور جبر کے نظام ایف سی آر کو ختم نہیں کیا تو ان کا گریبان ہوگا اور فاٹا کے عوام کا ہاتھ ہوگا۔

pic-3-1

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم نے ظلم اور جبر کے نظام ایف سی آر کو ختم نہیں کیا تو ان کا گریبان ہوگا اور فاٹا کے عوام کا ہاتھ ہوگا۔ فاٹا کے عوام مزید ایف سی آر کے سائے میں زندگی نہیں گزار سکتے ۔ کابینہ اجلاس سے فاٹا اصلاحات کو نکال کر وزیر اعظم نے قبائلی عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ چند کرپٹ اور کمیشن خور افراد کے فائدہ دینے کے لئے فاٹا اصلاحات کو کابینہ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا ، ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعظم بھی کرپٹ اور کمیشن خور ہیں۔ایف سی آر کے خلاف قبائل کے آواز اٹھانے سے اس طبقے کی دم پر پاؤں آگیا ہے۔ اس لئے فاٹا اصلاحات کو ایجنڈے سے نکال دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی اپیل پر پورے فاٹا میں ایف سی آر کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا۔ فاٹا پر ظلم کریسی اور جبر کریسی کی حکومت برداشت نہیں، ایف سی آر نے آتش فشاں کی صورت اختیار کرلی ہے،حکمران ہوش کے ناخن لیں، اگر انہوں نے ایف سی آر ختم نہیں کیا تو یہ آتش فشاں پھٹ جائے گا اور اس کے نتیجے میں حکمرانوں کے ایوان اور عشرت کدے جل کرخاک ہوجائیں گے۔ ایف سی آر کی وجہ سے قومی و صوبائی اسمبلیاں قبائل کے لئے قانون سازی نہیں کرسکتیں، ظلم اس کے نظام کے وجہ سے فاٹا کے لوگ اس کے خلاف سپریم کورٹ نہیں جاسکتے، پچھلے ستر سال فاٹا تعلیم ، صحت کی سہولتوں، صاف پانی اور سڑکوں سمیت دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، ستر سال سے یہاں کوئی یونیورسٹی نہیں، اب ایک یونیورسٹی بنی ہے جس میں صرف ستر طلباء ہیں، یہ قبائل کے ساتھ ظلم اور بھونڈا مذاق ہے۔ کچھ لوگ ایف سی آر کے کاتمے کے لئے ریفرنڈم کا مطالبہ کررہے ہیں ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ایف سی آر کے نفاذ کے لئے ریفرنڈم نہیں ہوا تو اس کے خاتمے کے لئے ریفرنڈم کیوں کیا جائے؟ اسلام آباد کی روشنیوں میں رہنے والوں نے اپنے مفاد کی خاطر فاٹا کے لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔ اگر ایف سی آر اتنا ہی اچھا نظام ہے تو اسے باقی ملک میں بھی لاگو کیا جائے یا پھر فاٹا سے بھی اسے ختم کیا جائے۔ وفاق فاٹا کو ان کے حقوق دے، سی پیک میں فاٹا کو حصہ دیا جائے، انجینئرنگ یونیورسٹیاں، میڈیکل کالجز ، ہسپتال اور سکول بنائے جائے جائیں۔ فاٹا میں سڑکوں کا جال بچھایا جائے اور قبائلیوں کو روزگار کے مواقع دئیے جائیں۔ ایک عشرے سے زائد عرصے سے جاری جنگ نے قبائل کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے، یہاں کے عوام کا روزگار چھن گیا ہے، جنگ کی وجہ سے ان کی دکانیں ، ان کے مکان اور فصلیں تباہ ہوگئیں ہیں اور وہ مقروض ہوگئے ہیں۔ حکومت ان کے حال پہ رحم کرے اور انہیں خصوصی پیکج دے۔ عجیب بات ہے کہ نیب باقی ملک میں تو کرپٹ افسران کو پکڑ رہی ہے لیکن فاٹا کے کرپٹ افسران انہیں نظر نہیں آرہے، یہاں لوٹ مار اور خون بہانے کی تو اجازت ہے لیکن حساب اور احتساب کی اجازت نہیں، فاٹا میں بیورو کریسی، ظلم کریسی اور جبر کریسی نے بہت بڑی کرپشن کی ہے۔ قبائلی علاقوں سے ایف سی آر ختم ہو ا اور انہیں قومی دھارے میں لایا گیا تو یہی قبائل پاکستان کا دفاع کریں گے اور اس کو ترقی دیں گے۔ ایف سی آر کے خاتمے اور فاٹا کے انضمام کے حق میں آرمی چیف کے بیان کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاک فوج اور جماعت اسلامی مل کر فاٹا کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری گیم چینجر منصوبہ ہے، فاٹا کو بھی اس منصوبے میں حصہ دیا جائے۔اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا جہاد ہے۔ مارچ تک ایف سی آر ختم نہ ہوا تو وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے ۔ اب یا تو ایف سی آر ختم ہوگا یا وزیر اعظم کی حکومت۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ احیاء العلوم خار باجوڑ میں جماعت اسلامی باجوڑ کے زیر اہتمام گو ایف سی آر گو تحریک کے سلسلے میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نائب امیر صاحبزادہ ہارون الرشید،صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ،صوبائی رہنما افتخار خان چمکنی، جماعت اسلامی فاٹا کے امیر حاجی سردار خان،نائب امیر مولانا وحید گل،شعبہ تعلقات عامہ فاٹا کے صدر سراج الدین خان، باجوڑ کے امیر قاری عبدالمجید، جے آئی یوتھ باجوڑ کے صدر قاری ثناء اللہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ فاٹا سے ایف سی آر اس لئے ختم نہیں کیا جارہا کہ یہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہے۔ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 118ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اسحاق ڈار سے پوچھتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان فاٹا کا ہوا، یہاں کا انفرسٹرکچر تباہ ہوگیا، ہزاروں بے گناہ قبائلیوں کا قتل عام ہوا جبکہ لاکھوں قبائلی بے گھر ہوئے لیکن آپ نے کیری لوگر بل اور کولیشن سپورٹ فنڈ کی صورت میں قبائلیوں کو ملنے والی امداد لاہور ، سیالکوٹ اور کراچی میں خرچ کردی۔ کیا یہ جنگ پنجاب یا کراچی میں ہوئی کہ آپ نے فاٹا کے لوگوں کو نظر انداز کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ کے دورے پر آرمی چیف کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ فاٹا کے انضمام اور ایف سی آر کے خلاف آرمی چیف کا بیان خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایف سی آر کے خلاف اور فاٹا اصلاحات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کی ہے، آج پورے فاٹا میں یوم سیاہ تھا، 26, 26, 28فروری کو پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ جماعت اسلامی 12مارچ کے آل پارٹیز دھرنے کی بھی حمایت کرتی ہے۔ اگر وزیر اعظم نے مارچ تک ایف سی آر ختم کرکے فاٹا کو صوبے میں ضم نہ کیا تو لاکھوں قبائلیوں کو لے کر اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کی جماعت ہے، ہم نے یوتھ انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے نوجوانوں کو منظم کیا۔ نوجوان قیادت ہی پاکستان کو ترقی کے راستے پر گامزن کرسکتی ہے۔ مستقبل جماعت اسلامی کا ہے۔

دھماکے کی مذمت ،جاں بحق ہونے والوں کیلئے مغفرت ، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا،آج ملک بھرمیں یوم سیاہ منانے کا اعلان

12237957_1084435108241664_6997985444150726340_o 

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سہون دھماکہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے دھماکہ میں
جاںبحق ہونے والوں کیلئے مغفرت ، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا اور متاثرہ خاندانوں سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیاہے۔دریں اثناءصد ر ملی یکجہتی کونسل ڈاکٹر ابو الخیر ذبیر اور سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ کا ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف آج بروز جمعتہ المبارک ملک بھرمیں یوم سیاہ منانے کے اعلان ۔سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا کہ علماء کرام مساجد میں دہشگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعائیں کروائیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا ناسور جڑسے ختم کرنا ہوگا۔ تمام سیاسی او رمذہبی جماعتیں ملک کی بقا کے لیے متحد ہیں ۔

پاکستان کی داخلی و خارجہ پالیسی ناکام ہے ۔ پاکستان تنہا ہورہاہے ۔ امریکہ کی اتنی زیادہ غلامی کرنے کے باوجود امریکہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ کھڑاہے ۔سینیٹر سراج الحق

ppp
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان مشکل دور سے گزررہاہے ۔ پاکستان کی داخلی و خارجہ پالیسی ناکام ہے ۔ پاکستان تنہا ہورہاہے ۔ امریکہ کی اتنی زیادہ غلامی کرنے کے باوجود امریکہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ کھڑاہے ۔ آج ہمارے سرکاری وفد کو بھی امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا ہے ۔ پرویز مشرف اور پاکستانی حکمرانوں نے ملکی مفاد کے بجائے ہمیشہ امریکی مفادات کا تحفظ کیا ہے ۔ موجودہ حکمرانوں نے مشرف کی پالیسی کا تسلسل جاری رکھا ہواہے ۔ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں نے آج عوام کو غربت کے گڑھوں میں دھکیل دیاہے ۔ پاکستان کا پاسپورٹ ان کی وجہ سے بدنام ہواہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی تربیت گاہ کے شرکاءسے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ہوئے کیا ۔ تربیت گاہ میں ملک بھر سے ایک ہزار کے قریب کارکنان شریک ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہماری حکومت آج کرپشن چھوڑنے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا اعلان کرے تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ حکمرانوں کی وجہ سے ملک معیشت تباہ ہے ۔ حکمرانوں کے اپنے کارخانے دن رات ترقی کررہے ہیں لیکن ہماری سٹیل مل ، پی آئی اے اور دوسرے ادارے تباہ اور خسارے میں جارہے ہیں ۔ حکمرانوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے برکت اٹھ گئی ہے ۔ ہمارے ملک میں معدنیات ، وسائل اور صحت مند نوجوانوں کی کمی نہیں ہے ۔ حکمران ملک کے مفادات کے بجائے اپنے مفادات کا سوچتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ ہم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے کہ وزیراعظم سے پوچھا جائے کہ ان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی ہے وہ اس کا جواب دینے کے بجائے قطری شہزادے کے خطوط پیش کرتے ہیں ۔ ان کے پاس خطوط بنانے کا کوئی کارخانہ ہے ۔ شہزاد ے کے خطوط ان کو نہیں بچا سکتے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام نے ان کو مینڈیٹ دیاہے وہ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ دولت کہاں سے آئی ہے ۔ حکمرانوں کا احتساب ضروری ہے اگر آج احتساب نہ ہوا تو کبھی نہیں ہوگا ۔ پہلے وزیراعظم کا احتساب ہو اس کے بعد پانامہ میں جن کے نام آئے ہیں ان سب کا احتساب ہو ۔ ہمارے بیرون ملک مقیم لوگ اپنی دولت پاکستان بھیجتے ہیں ، ان کی بھیجی ہوئی دولت حکمران اللے تللوں میں خرچ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران باہر جا کر پاکستان میں سرمایہ کاری کی اپیلیں کرتے ہیں لیکن ان کے اپنے کاروبار بیرون ملک ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان کا جو پیسہ باہر ہے اسے پاکستان لایا جائے تو ہمارے تمام مسائل ختم اور قرض ادا ٰہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اب احتساب اس قوم کا نعرہ ہے ۔ ہم اس مہم کو آخری حد تک لے کر جائیں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ عام اور غریب آدمی ٹیکس بھی دیتاہے ، سرخ بتی کا احترام بھی کرتاہے لیکن وی آئی پی نہ ٹیکس دیتے ہیں نہ سرخ بتی کا احترام کرتے ہیں ۔ ان کی پانی کی ٹینکیوں سے بھی کرپشن کے کروڑوں روپے برآمد ہوتے ہیں ۔ کرپٹ مافیا اور عوام کے درمیان لڑائی ہے ،انشاءاللہ اس میں کرپشن ہار جائے گی اور قوم جیت جائے گی ۔
ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ اگرماضی میں کہیں اتحاد ہواہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم حکمرانوں کی کرپشن کو چھوڑدیں گے ۔ ہم نے ن لیگ کے سپیکر کو ووٹ دیاتھا ، کرپشن کو نہیں دیا تھا۔ ہمیں بیماری سے نفرت ہے بیمار سے نہیں ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں تابوتوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا جو لوگ تابوت کی بات کرتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں امیر جماعت نے کہاکہ ججوں نے اپنے کمنٹس میں بھی ہماری تحسین کی ہے یہی پنچ فیصلہ کرے ۔ ججز نے اپنے کمنٹس میں کہاہے کہ وہ خود اس کیس کا فیصلہ کریں گے ۔ ہم ہر پیشی پر کورٹ جاتے ہیں اور سپریم کورٹ سے امید کرتے ہیں کہ وہ جلد فیصلہ کرے گی ۔ 

جے آئی انٹرا یوتھ الیکشن،جماعت اسلامی کی تنظیمی صلاحیت

pic-ji-intra-youth-election

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ جے آئی انٹرا یوتھ الیکشن کو نوجوانوں نے یوم انقلاب بنادیا ہے۔ نوجوانوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ملکی سیاست اور قومی معاملات میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ انٹرا یوتھ الیکشن کے ذریعے جماعت اسلامی نے حقیقی جمہوریت کا ثبوت دیا ۔لاکھوں کی تعداد میں نوجوانوں نے386 یونین کونسلز کے 510پولنگ سٹیشنز پر اپنا ووٹ پول کیاہے۔ منظم اور شفاف ماحول میں انتخابات کا انعقاد جماعت اسلامی کی تنظیمی صلاحیتوں کا اظہار ہے۔ نوجوانوں نے پُرامن انداز میں اپنے لیڈر شپ کے انتخاب سے سیاسی بالغ پن اور پختہ جمہوری سوچ کے اظہار کا ثبوت دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں موروثیت ترک کرکے جمہوری انداز سے نوجوانوں کو قومی سیاست میں راستہ دیں۔ ثابت ہوگیا کہ جماعت اسلامی ہی نوجوانوں کی سب سے مقبول پارٹی ہے۔ نوجوانوں کی قوت سے 2018ء کے انتخاب کو انقلاب بنائیں گے۔ 2018ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی بڑی پارلیمانی پارٹی بنے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جے آئی یوتھ انٹرا پارٹی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں پشاور کے مختلف یونین کونسلوں میں پولنگ سٹیشنوں کے دورے کے دوران کارکنوں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جے آئی یوتھ کے مرکزی صدر زبیر احمد گوندل ، جنرل سیکرٹری میاں عثمان جاوید، جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر عبدالغفار خان ،سینئر نائب صدر حافظ حمید اللہ، ضلع پشاور کے صدر صدیق الرحمن پراچہ، انتخاب خان چمکنی ، سیکرٹری اطلاعات محمد اقبال، جماعت اسلامی ضلع پشاور کے امیر صابر حسین اعوان اور جے آئی یوتھ پاکستان کے سوشل میڈیا انچارج فرید رزاقی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے امیدواروں اور کارکنوں سے بھی ملاقات کی اور پولنگ کے پُر امن انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نوجوانوں کی سرپرستی جاری رکھیں گے، کامیاب انٹرا یوتھ الیکشن کے بعد اب یوتھ چارٹر آف ڈیمانڈ دیں گے اور قومی تعمیر نو ، ملکی ترقی اور عوامی خدمت کے لئے نوجوانوں کی اس قوت کو کام میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب انٹرا یوتھ الیکشن جماعت اسلامی پر نوجوانوں کے زبردست اعتماد کا اظہار ہے، سٹیٹس کو اور کرپٹ سیاسی جماعتوں کا یوم حساب قریب ہے۔ نوجوان اسلامی انقلاب کی فرنٹ لائن بن چکے ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے ضلعی ، زونل اور یوسی امراء کو بہترین انتظامات پر خراج تحسین اور کامیاب الیکشن کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بھر پور سیکورٹی انتظامات پر خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کی پولیس ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی ایڈمنسٹریشن کا شکریہ ادا کیا۔

ٹرمپ اور مودی کی خوشنودی کیلئے حافظ سعید کو نظر بند کرنے والے حکمران میر جعفر اور میر صادق کا انجام یاد رکھیں۔ سینیٹر سراج الحق

gggg
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کہا ہے کہ ٹرمپ اور مودی کی خوشنودی کیلئے حافظ سعید کو نظر بند کرنے والے حکمران میر جعفر اور میر صادق کا انجام یاد رکھیں۔ حافظ سعید کو نظر بند کرکے حکمرانوں نے ٹرمپ کو یقین دلا دیا ہے کہ وہ اس کے احکامات پر آنکھیں بند کرکے عمل کریں گے ۔ ٹرمپ کے آنے سے مشرف ایک بار پھر متحریک ہوگئے ہیں اور دبئی میں لوگوں کو بلا کر ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کئے جارہے ہیں ۔وہ کونسا اختیار تھا جو مشرف کے پاس نہیں تھا مگر انہوں نے پاکستان کو امریکی اصطبل اوردنیا بھر کی سراغ رساںاور تخریب کار ایجنسیوں کیلئے خالہ جی کا گھر بنائے رکھا جس سے دہشت گردی اور بد امنی کے تحفے ملے ۔حکمرانوں نے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا خیال دل سے نہ نکالاتوبیس کروڑ عاشقان مصطفی ﷺ غازی علم دین اور غازی ممتاز قادری شہیدکے نقش قدم پر چلنے کیلئے تیار ہیں۔ پاکستانیوں اور قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو امریکہ کے ہاتھ فروخت کیا، لیکن اب بہت جلد امریکی غلاموں کا دور ختم اور محمد ﷺ کے غلاموں کا دور شروع ہونے والا ہے۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عالمی استعمار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحدہورہا ہے ،ٹرمپ نے حلف لینے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کو امریکہ اور مغرب کا دشمن قرار دیا اور دنیا سے” اسلامی دہشت گردی“کو ختم کرنے کواولین ترجیح قرار دیالیکن افسوس آج دنیا میں کوئی اسلامی حکومت یا شخصیت ایسی نہیں جو امت کی نمائندگی کرے ،دشمن ہماری مسجدوں کے میناروں سے ڈرتا اور منبر و محراب سے اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے دشمن ہمیں رنگ و نسل اور مسلکوں کی بنیا د پر تقسیم کرنے کے درپے ہے ۔ امریکہ کے ذہنی غلام قوم کو امریکہ اور بھارت سے ڈرانے اور بھارت کی بالا دستی قبول کرنے کے مشورے دے رہے ہیں ،دشمن کی کوشش ہے کہ مسلمان آپس میں لڑیں ،عالم اسلام انتشار کا شکار ہواور اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم رک جائیں مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے احتساب کے نام سے تھر تھر کانپ رہے ہیں ،جب بھی حقیقی احتساب ہوا ایوانوں میں بیٹھے بڑے بڑے مگر مچھ جیلوں میں ہونگے اور دولت کے بل بوتے پر عوام پر مسلط ہونے والے حکمران کٹہرے میں کھڑے ہونگے۔انہوں نے کہا کہ لٹیروں کا یہ ٹولہ خود کو احتساب سے بچا نہیں سکتا۔مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور نظریاتی کرپشن کے مجرموں کا یوم الحساب قریب ہے اوربہت جلد غربت اورمہنگائی کے ستائے عوام کے ہاتھ ان کے گریبانوں تک پہنچنے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن وہی ختم کرسکتا ہے جس کا اپنا دامن کرپشن سے پاک ہو۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران مغرب اور اس کے ڈالروں پر پلنے والی این جی اوز کی خواہش پر توہین رسالت ﷺ کے قانون میں ترمیم کیلئے پر تول رہے ہیں اور بہانہ بنایا جارہا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکا دینے کے بعد حکمرانوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں لیکن وہ یاد رکھیں ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی گئی تو بیس کروڑ عوام اسے برداشت نہیں کریں گے۔ گنہگار سے گنہگار مسلمان بھی ناموس رسالت پر مر مٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بتائیں پاکستان کے آئین کی وہ کونسی دفعہ ہے جس پر عمل ہورہا ہے یااس کا غلط استعمال نہیں ہورہا،تھانوں میں جھوٹے پرچے درج ہوتے ہیں اور کسی بے گناہ کے پھانسی پر لٹک جانے کے بعد عدالتیں اسے بری کرنے کا حکم سناتی ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ ملزم تو پہلے ہی موت کے گھاٹ اتارا جاچکاہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے آئین کی دفعہ 62/63پر عملدرآمدکرنے کی بجائے اسے مذاق بنا رکھا ہے۔

انتخاب کب ۔۔سراج الحق نے بتادیا

fff

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر راشد نسیم نے کہا ہے کہ2018انتخابات کا سال ہے اور تما م سیاسی جماعتیں انتخابی تیاریوں میں مصروف ہیں مگرنام نہاد سیکولر اور لبرل ابھی سے ان انتخابات کو ہائی جیک کرنے کے منصوبے بنارہے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کیلئے پرفریب نعرے دیئے جارہے ہیں۔ شریعت کا نفاذ ہی ملک و قوم کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتا ہے ۔جماعت اسلامی ملک میں نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے تاکہ عام آدمی کو بھی حکمرانوں کے برابر حقوق مل سکیں اور کوئی بڑے سے بڑا حکومتی عہدیدار بھی اپنے اختیارات کا ناجائزہ فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آتے ہی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب قومی خزانہ ان کی دسترس میں ہے جیسے چاہیں خرچ کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
راشد نسیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا روٹی کپڑا اور مکان ،مسلم لیگ کا خوشحالی اورایم کیو ایم کا مہاجر قومیت کا نعرہ پٹ چکا ہے ۔عوام اب ان کھوکھلے نعروں کے چنگل میں پھنسنے والے نہیں ۔ عوام نے بار بار ان پر فریب نعروں پر ووٹ دیئے مگر ان کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے رہے اور آج حالت یہ ہے کہ عوام سیاستدانوں سے تنگ آچکے ہیں اور انہیں سیاست دھوکے اور فریب کا کھیل نظر آتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ حق و صداقت اور امانت و دیانت کی سیاست کی ہے آج بھی عوام کے سامنے سرخروہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کردینے میں ہی عافیت اور امن و سکون ہے ،اسلام کے علاوہ کوئی دوسرانظام انسانیت کو امن و سکون اور اجتماعی عدل نہیں دے سکتا۔
راشد نسیم نے کہا کہ ٹرمپ کا انتخاب کرکے امریکی عوام نے اپنے پیٹ میں چھرا گھونپ لیاہے ۔ امریکہ اور یورپ میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف لاکھوں لوگ سراپا احتجاج ہیں ،ٹرمپ کا خیال تھا کہ اسلام دشمن پالیسیوں سے امریکہ و یورپ کے عوام اس کو ہیرو تسلیم کرلیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی کو اس کیلئے ذلت کا سبب بنا دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا میں غالب ہونے کیلئے آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کے غلبے کے آثار پیدا کردیئے ہیں کہ مغرب اور یورپ کے مسیحی اور یہودی بھی ٹرمپ کے خلاف اور مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کررہے ہیں۔