پاک فوج اور جماعت اسلامی مل کر فاٹا کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے،وزیر اعظم نے ظلم اور جبر کے نظام ایف سی آر کو ختم نہیں کیا تو ان کا گریبان ہوگا اور فاٹا کے عوام کا ہاتھ ہوگا۔

pic-3-1

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم نے ظلم اور جبر کے نظام ایف سی آر کو ختم نہیں کیا تو ان کا گریبان ہوگا اور فاٹا کے عوام کا ہاتھ ہوگا۔ فاٹا کے عوام مزید ایف سی آر کے سائے میں زندگی نہیں گزار سکتے ۔ کابینہ اجلاس سے فاٹا اصلاحات کو نکال کر وزیر اعظم نے قبائلی عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ چند کرپٹ اور کمیشن خور افراد کے فائدہ دینے کے لئے فاٹا اصلاحات کو کابینہ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا ، ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعظم بھی کرپٹ اور کمیشن خور ہیں۔ایف سی آر کے خلاف قبائل کے آواز اٹھانے سے اس طبقے کی دم پر پاؤں آگیا ہے۔ اس لئے فاٹا اصلاحات کو ایجنڈے سے نکال دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی اپیل پر پورے فاٹا میں ایف سی آر کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا۔ فاٹا پر ظلم کریسی اور جبر کریسی کی حکومت برداشت نہیں، ایف سی آر نے آتش فشاں کی صورت اختیار کرلی ہے،حکمران ہوش کے ناخن لیں، اگر انہوں نے ایف سی آر ختم نہیں کیا تو یہ آتش فشاں پھٹ جائے گا اور اس کے نتیجے میں حکمرانوں کے ایوان اور عشرت کدے جل کرخاک ہوجائیں گے۔ ایف سی آر کی وجہ سے قومی و صوبائی اسمبلیاں قبائل کے لئے قانون سازی نہیں کرسکتیں، ظلم اس کے نظام کے وجہ سے فاٹا کے لوگ اس کے خلاف سپریم کورٹ نہیں جاسکتے، پچھلے ستر سال فاٹا تعلیم ، صحت کی سہولتوں، صاف پانی اور سڑکوں سمیت دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، ستر سال سے یہاں کوئی یونیورسٹی نہیں، اب ایک یونیورسٹی بنی ہے جس میں صرف ستر طلباء ہیں، یہ قبائل کے ساتھ ظلم اور بھونڈا مذاق ہے۔ کچھ لوگ ایف سی آر کے کاتمے کے لئے ریفرنڈم کا مطالبہ کررہے ہیں ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ایف سی آر کے نفاذ کے لئے ریفرنڈم نہیں ہوا تو اس کے خاتمے کے لئے ریفرنڈم کیوں کیا جائے؟ اسلام آباد کی روشنیوں میں رہنے والوں نے اپنے مفاد کی خاطر فاٹا کے لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔ اگر ایف سی آر اتنا ہی اچھا نظام ہے تو اسے باقی ملک میں بھی لاگو کیا جائے یا پھر فاٹا سے بھی اسے ختم کیا جائے۔ وفاق فاٹا کو ان کے حقوق دے، سی پیک میں فاٹا کو حصہ دیا جائے، انجینئرنگ یونیورسٹیاں، میڈیکل کالجز ، ہسپتال اور سکول بنائے جائے جائیں۔ فاٹا میں سڑکوں کا جال بچھایا جائے اور قبائلیوں کو روزگار کے مواقع دئیے جائیں۔ ایک عشرے سے زائد عرصے سے جاری جنگ نے قبائل کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے، یہاں کے عوام کا روزگار چھن گیا ہے، جنگ کی وجہ سے ان کی دکانیں ، ان کے مکان اور فصلیں تباہ ہوگئیں ہیں اور وہ مقروض ہوگئے ہیں۔ حکومت ان کے حال پہ رحم کرے اور انہیں خصوصی پیکج دے۔ عجیب بات ہے کہ نیب باقی ملک میں تو کرپٹ افسران کو پکڑ رہی ہے لیکن فاٹا کے کرپٹ افسران انہیں نظر نہیں آرہے، یہاں لوٹ مار اور خون بہانے کی تو اجازت ہے لیکن حساب اور احتساب کی اجازت نہیں، فاٹا میں بیورو کریسی، ظلم کریسی اور جبر کریسی نے بہت بڑی کرپشن کی ہے۔ قبائلی علاقوں سے ایف سی آر ختم ہو ا اور انہیں قومی دھارے میں لایا گیا تو یہی قبائل پاکستان کا دفاع کریں گے اور اس کو ترقی دیں گے۔ ایف سی آر کے خاتمے اور فاٹا کے انضمام کے حق میں آرمی چیف کے بیان کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاک فوج اور جماعت اسلامی مل کر فاٹا کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری گیم چینجر منصوبہ ہے، فاٹا کو بھی اس منصوبے میں حصہ دیا جائے۔اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا جہاد ہے۔ مارچ تک ایف سی آر ختم نہ ہوا تو وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے ۔ اب یا تو ایف سی آر ختم ہوگا یا وزیر اعظم کی حکومت۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ احیاء العلوم خار باجوڑ میں جماعت اسلامی باجوڑ کے زیر اہتمام گو ایف سی آر گو تحریک کے سلسلے میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نائب امیر صاحبزادہ ہارون الرشید،صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ،صوبائی رہنما افتخار خان چمکنی، جماعت اسلامی فاٹا کے امیر حاجی سردار خان،نائب امیر مولانا وحید گل،شعبہ تعلقات عامہ فاٹا کے صدر سراج الدین خان، باجوڑ کے امیر قاری عبدالمجید، جے آئی یوتھ باجوڑ کے صدر قاری ثناء اللہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ فاٹا سے ایف سی آر اس لئے ختم نہیں کیا جارہا کہ یہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہے۔ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 118ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اسحاق ڈار سے پوچھتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان فاٹا کا ہوا، یہاں کا انفرسٹرکچر تباہ ہوگیا، ہزاروں بے گناہ قبائلیوں کا قتل عام ہوا جبکہ لاکھوں قبائلی بے گھر ہوئے لیکن آپ نے کیری لوگر بل اور کولیشن سپورٹ فنڈ کی صورت میں قبائلیوں کو ملنے والی امداد لاہور ، سیالکوٹ اور کراچی میں خرچ کردی۔ کیا یہ جنگ پنجاب یا کراچی میں ہوئی کہ آپ نے فاٹا کے لوگوں کو نظر انداز کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ کے دورے پر آرمی چیف کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ فاٹا کے انضمام اور ایف سی آر کے خلاف آرمی چیف کا بیان خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایف سی آر کے خلاف اور فاٹا اصلاحات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کی ہے، آج پورے فاٹا میں یوم سیاہ تھا، 26, 26, 28فروری کو پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ جماعت اسلامی 12مارچ کے آل پارٹیز دھرنے کی بھی حمایت کرتی ہے۔ اگر وزیر اعظم نے مارچ تک ایف سی آر ختم کرکے فاٹا کو صوبے میں ضم نہ کیا تو لاکھوں قبائلیوں کو لے کر اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کی جماعت ہے، ہم نے یوتھ انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے نوجوانوں کو منظم کیا۔ نوجوان قیادت ہی پاکستان کو ترقی کے راستے پر گامزن کرسکتی ہے۔ مستقبل جماعت اسلامی کا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s